Hud • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER
﴿ فَلَا تَكُ فِى مِرْيَةٍۢ مِّمَّا يَعْبُدُ هَٰٓؤُلَآءِ ۚ مَا يَعْبُدُونَ إِلَّا كَمَا يَعْبُدُ ءَابَآؤُهُم مِّن قَبْلُ ۚ وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنقُوصٍۢ ﴾
“AND SO, [O Prophet,] be not in doubt about anything that those [misguided people] worship: they but [thoughtlessly] worship as their forefathers worshipped aforetime; and, behold, We shall most certainly give them their full due [for whatever good or evil they have earned], without diminishing aught thereof.”
مشرکوں کا حشر مشرکوں کے شرک کے باطل ہونے میں ہرگز شبہ تک نہ کرنا۔ ان کے پاس سوائے باپ دادا کی بھونڈی تقلید کے اور دلیل ہی کیا ہے ؟ ان کی نیکیاں انہیں دنیا میں ہی مل جائیں گی آخرت میں عذاب ہی عذاب ہوگا۔ جو خیر و شکر کے وعدے ہیں سب پورے ہونے والے ہیں۔ ان کا عاب کا مقررہ حصہ انہیں ضرور پہنچے گا۔ موسیٰ ؑ کو ہم نے کتاب دی لیکن لوگوں نے تفرقہ ڈالا۔ کسی نے اقرار کیا تو کسی نے انکار کردیا۔ پس انہی نبیوں جیسا حال آپ کا بھی ہے کوئی مانے گا کوئی ٹالے گا۔ چونکہ ہم وقت مقرر کرچکے ہیں چونکہ ہم بغیر حجت پوری کئے عذاب نہیں کیا کرتے اس لیے یہ تاخیر ہے ورنہ ابھی انہیں ان کے گناہوں کا مزہ یاد آجاتا ہے۔ کافروں کو اللہ اور اس کے رسول کی باتیں غلط ہی معلوم ہوتی ہیں۔ ان کا شک و شبہ زائل نہیں ہوتا۔ سب کو اللہ جمع کرے گا اور ان کے کئے ہوئے اعمال کا بدلہ دے گا۔ اس قرآۃ کا بھی معنی اس ہمارے ذکر کردہ معنی کی طرف ہی لوٹنا ہے۔