WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 110 من سورة سُورَةُ هُودٍ

Hud • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER

﴿ وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَٰبَ فَٱخْتُلِفَ فِيهِ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةٌۭ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِىَ بَيْنَهُمْ ۚ وَإِنَّهُمْ لَفِى شَكٍّۢ مِّنْهُ مُرِيبٍۢ ﴾

“And, indeed, [similar was the case when] We vouchsafed the divine writ unto Moses, and some of his people set their own views against it; and had it not been for a decree that had already gone forth from thy Sustainer, judgment would indeed have been passed on them [then and there]: for, behold, they were in grave doubt, amounting to suspicion, about him [who called them unto God].”

📝 التفسير:

مشرکوں کا حشر مشرکوں کے شرک کے باطل ہونے میں ہرگز شبہ تک نہ کرنا۔ ان کے پاس سوائے باپ دادا کی بھونڈی تقلید کے اور دلیل ہی کیا ہے ؟ ان کی نیکیاں انہیں دنیا میں ہی مل جائیں گی آخرت میں عذاب ہی عذاب ہوگا۔ جو خیر و شکر کے وعدے ہیں سب پورے ہونے والے ہیں۔ ان کا عاب کا مقررہ حصہ انہیں ضرور پہنچے گا۔ موسیٰ ؑ کو ہم نے کتاب دی لیکن لوگوں نے تفرقہ ڈالا۔ کسی نے اقرار کیا تو کسی نے انکار کردیا۔ پس انہی نبیوں جیسا حال آپ کا بھی ہے کوئی مانے گا کوئی ٹالے گا۔ چونکہ ہم وقت مقرر کرچکے ہیں چونکہ ہم بغیر حجت پوری کئے عذاب نہیں کیا کرتے اس لیے یہ تاخیر ہے ورنہ ابھی انہیں ان کے گناہوں کا مزہ یاد آجاتا ہے۔ کافروں کو اللہ اور اس کے رسول کی باتیں غلط ہی معلوم ہوتی ہیں۔ ان کا شک و شبہ زائل نہیں ہوتا۔ سب کو اللہ جمع کرے گا اور ان کے کئے ہوئے اعمال کا بدلہ دے گا۔ اس قرآۃ کا بھی معنی اس ہمارے ذکر کردہ معنی کی طرف ہی لوٹنا ہے۔