Hud • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER
﴿ فَٱسْتَقِمْ كَمَآ أُمِرْتَ وَمَن تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا۟ ۚ إِنَّهُۥ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌۭ ﴾
“Pursue, then, the right course, as thou hast been bidden [by God], together with all who, with thee, have turned unto Him; and let none of you behave in an overweening manner: for, verily, He sees all that you do.”
استقامت کی ہدایت استقامت اور سیدھی راہ پر دوام، ہمیشگی اور ثابت قدمی کی ہدایت اللہ تعالیٰ اپنے نبی اور تمام مسلمانوں کو کر رہا ہے۔ یہی سب سے بڑی چیز ہے۔ ساتھ ہی سرکشی سے روکا ہے کیونکہ یہی توبہ کرنے والی چیز ہے گو کسی مشرک ہی پر کی گئی ہو۔ پروردگار بندوں کے ہر عمل سے آگاہ ہے مداہنت اور دین کے کاموں میں سستی نہ کرو۔ شرک کی طرف نہ جھکو۔ مشرکین کے اعمال پر رضامندی کا اظہار نہ کرو۔ ظالموں کی طرف نہ جھکو۔ ورنہ آگ تمہیں پکڑ لے گی۔ ظالموں کی طرف داری ان کے ظلم پر مدد ہے یہ ہرگز نہ کرو۔ اگر ایسا کیا تو کون ہے جو تم سے عذاب اللہ ہٹائے ؟ اور کون ہے جو تمہیں اس سے بچائے۔