WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 62 من سورة سُورَةُ هُودٍ

Hud • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER

﴿ قَالُوا۟ يَٰصَٰلِحُ قَدْ كُنتَ فِينَا مَرْجُوًّۭا قَبْلَ هَٰذَآ ۖ أَتَنْهَىٰنَآ أَن نَّعْبُدَ مَا يَعْبُدُ ءَابَآؤُنَا وَإِنَّنَا لَفِى شَكٍّۢ مِّمَّا تَدْعُونَآ إِلَيْهِ مُرِيبٍۢ ﴾

“They answered: "O Salih! Great hopes did we place in thee ere this! Wouldst thou forbid us to worship what our forefathers were wont to worship? Because [of this], behold, we are in grave doubt, amounting to suspicion, about [the meaning of] thy call to us!"”

📝 التفسير:

باپ دادا کے معبود ہی ہم کو پیارے ہیں حضرت صالح ؑ اور آپ کی قوم کے درمیان جو بات چیت ہوئی اس کا بیان ہو رہا ہے وہ کہتے ہیں کہ تو یہ بات زبان سے نکال۔ اس سے پہلے تو ہماری بہت کچھ امیدیں تجھ سے وابستہ تھیں، لیکن تو نے ان سے سب پر پانی پھر دیا۔ ہمیں پرانی روش اور باپ دادا کے طریقے اور پوجا پاٹ سے ہٹانے لگا۔ ہمیں تو تیری اس نئی رہبری میں بہت بڑا شک شبہ ہے۔ آپ نے فرمایا سنو میں اعلیٰ دلیل پر ہوں۔ میرے پاس رب کی نشانی ہے، مجھے اپنی سچائی پر دلی اطمینان ہے میرے پاس اللہ کی رسالت کی رحمت ہے۔ اب اگر میں تمہیں اس کی دعوت نہ دوں اور اللہ کی نافرمانی کرو اور اس کی عبادت کی طرف تمہیں نہ بلاؤں تو کون ہے جو میری مدد کرسکے اور اللہ کے عذاب سے مجھے بچا سکے ؟ میرا ایمان ہے کہ مخلوق میرے کام نہیں آسکتی تم میرے لیے محض بےسود ہو۔ سوائے میرے نقصان کے تم مجھے اور کیا دے سکتے ہو۔