WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 55 من سورة سُورَةُ يُوسُفَ

Yusuf • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER

﴿ قَالَ ٱجْعَلْنِى عَلَىٰ خَزَآئِنِ ٱلْأَرْضِ ۖ إِنِّى حَفِيظٌ عَلِيمٌۭ ﴾

“[Joseph] replied: "Place in my charge the store-houses of the land; behold, I shall be a good and knowing keeper.”

📝 التفسير:

جب بادشاہ کے سامنے حضرت یوسف ؑ کی بےگناہی کھل گئی تو خوش ہو کر کہا کہ انہیں میرے پاس بلا لاؤ کہ میں انہیں اپنے خاص مشیروں میں کرلوں۔ چانچہ آپ تشریف لائے۔ جب وہ آپ سے ملا، آپ کی صورت دیکھی۔ آپ کی باتیں سنیں، آپ کے اخلاق دیکھے تو دل سے گرویدہ ہوگیا اور بےساختہ اس کی زبان سے نکل گیا کہ آج سے آپ ہمارے ہاں معزز اور معتبر ہیں۔ اس وقت آپ نے ایک خدمت اپنے لئے پسند فرمائی اور اس کی اہلیت ظاہر کی۔ انسان کو یہ جائز بھی ہے کہ جب وہ انجان لوگوں میں ہو تو اپنی قابلیت بوقت ضرورت بیان کر دے۔ اس خواب کی بنا پر جس کی تعبیر آپ نے دی تھی۔ آپ نے یہی آرزو کی کہ زمین کی پیداوار غلہ وغیرہ جو جمع کیا جاتا ہے اس پر مجھے مقرر کیا جائے تاکہ میں محافظت کروں نیز اپنے علم کے مطابق عمل کرسکوں تاکہ رعایا کو قحط سالی کی مصیبت کے وقت قدرے عافیت مل سکے۔ بادشاہ کے دل پر تو آپ کی امانت داری، سچائی، سلیقہ مندی اور کامل علم کا سکہ بیٹھ چکا تھا اسی وقت اس نے اس درخواست کو منظور کرلیا۔