Ar-Ra'd • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER
﴿ بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ الٓمٓر ۚ تِلْكَ ءَايَٰتُ ٱلْكِتَٰبِ ۗ وَٱلَّذِىٓ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ٱلْحَقُّ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ ﴾
“Alif. Lam. Mim. Ra. THESE ARE MESSAGES of revelation: and what has been bestowed upon thee from on high by thy Sustainer is the truth-yet most people will not believe [in it]?”
سورتوں کے شروع میں جو حروف مقطعات آتے ہیں ان کی پوری تشریح سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں لکھ آئے ہیں۔ اور یہ بھی ہم کہہ آئے ہیں کہ جس سورت کے اول میں یہ حروف آئے ہیں وہاں عموما یہی بیان ہوتا ہے کہ قرآن کلام اللہ ہے اس میں کوئی شک و شبہ نیہں۔ چناچہ یہاں بھی ان حروف کے بعد فرمایا یہ کتاب کی یعنی قرآن کی آیتیں ہیں۔ بعض نے کہا مراد کتاب سے توراۃ انجیل ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں۔ پہر اسی پر عطف ڈال کر اور صفتیں اس پاک کتاب کی بیان فرمائیں کہ یہ سراسر حق ہے اور اللہ کی طرف سے تجھ پر اتارا گیا ہے۔ الحق خبر ہے اس کا مبتدا پہلے بیان ہوا ہے یعنی الذی انزل الیک لیکن ابن جریر ؒ کا پسندیدہ قول لائے ہیں۔ پھر فرمایا کہ باوجود حق ہونے کے پھر بھی اکثر لوگ ایمان سے محروم ہیں اس سے پہلے گزرا ہے کہ گو تو حرص کرے لیکن اکثر لوگ ایمان قبول کرنے والے نہیں۔ یعنی اس کی حقانیت واضح ہے لیکن ان کی ضد، ہٹ دھری اور سرکشی انہیں ایمان کی طرف متوجہ نہ ہونے دے گی۔