WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 14 من سورة سُورَةُ الرَّعۡدِ

Ar-Ra'd • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER

﴿ لَهُۥ دَعْوَةُ ٱلْحَقِّ ۖ وَٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَسْتَجِيبُونَ لَهُم بِشَىْءٍ إِلَّا كَبَٰسِطِ كَفَّيْهِ إِلَى ٱلْمَآءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَٰلِغِهِۦ ۚ وَمَا دُعَآءُ ٱلْكَٰفِرِينَ إِلَّا فِى ضَلَٰلٍۢ ﴾

“Unto Him [alone] is due all prayer aiming at the Ultimate Truth, since those [other beings or powers] whom men invoke instead of God cannot respond to them in any way - [so that he who invokes them is] but like one who stretches his open hands towards water, [hoping] that it will reach his mouth, the while it never reaches him. Hence, the prayer of those who deny the truth amounts to no more than losing oneself in grievous error.”

📝 التفسير:

دعوت حق حضرت علی بن ابو طالب ؓ فرماتے ہیں اللہ کے لئے دعوت حق ہے، اس سے مراد توحید ہے۔ محمد بن منکدر کہتے ہیں مراد لا الہ الا اللہ ہے۔ پھر مشرکوں کافروں کی مثال بیان ہوئی کہ جیسے کوئی شخص پانی کی طرف ہاتھ پھیلائے ہوئے ہو کہ اس کے منہ میں خود بخود پہنچ جائے تو ایسا نہیں ہونے کا۔ اسی طرح یہ کفار جنہیں پکارتے ہیں اور جن سے امیدیں رکھتے ہیں، وہ ان کی امیدیں پوری نہیں کرنے کے۔ اور یہ مطلب بھی ہے کہ جیسے کوئی اپنی مٹھیوں میں پانی بند کرلے تو وہ رہنے کا نہیں۔ پس باسط قابض کے معنی میں ہے۔ عربی شعر میں بھی قابض ماء آیا ہے پس جیسے پانی مٹھی میں روکنے والا اور جیسے پانی کی طرف ہاتھ پھیلانے والا پانی سے محروم ہے، ایسے ہی یہ مشرک اللہ کے سوا دوسروں کو گو پکاریں لیکن رہیں گے محروم ہی دین دنیا کا کوئی فائدہ انہیں نہ پہنچے گا۔ ان کی پکار بےسود ہے۔