Ar-Ra'd • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER
﴿ وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ ءَايَةٌۭ مِّن رَّبِّهِۦٓ ۗ إِنَّمَآ أَنتَ مُنذِرٌۭ ۖ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ ﴾
“However, they who are bent on denying the truth [refuse to believe and] say, "Why has no miraculous sign ever been bestowed on him from on high by his Sustainer?" [But] thou art only a warmer; and [in God] all people have a guide.”
اعتراض برائے اعتراض کافر لوگ ازروئے اعتراض کہا کرتے تھے کہ جس طرح اگلے پیغمبر معجزے لے کر آئے، یہ پیغمبر کیوں نہیں لائے ؟ مثلا صفا پہاڑ سونے کا بنا دیتے یا مثلا عرب کے پہاڑ یہاں سے ہٹ جاتے اور یہاں سبزہ اور نہریں ہوجاتیں۔ پس ان کے جواب میں اور جگہ ہے کہ ہم یہ معجزے بھی دکھا دیتے مگر اگلوں کی طرح ان کی جھٹلانے پر پھر اگلوں جیسے ہی عذاب ان پر آجاتے۔ تو ان کی باتوں سے مغموم و متفکر نہ ہوجایا کر، تیرے ذمے تو صرف تبلیغ ہی ہے تو ہادی نہیں، ان کے نہ ماننے سے تیری پکڑ نہ ہوگی۔ ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، یہ تیرے بس کی بات نہیں۔ ہر قوم کے لئے رہبر اور داعی ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہادی میں ہوں تو تو ڈرانے والا ہے۔ اور آیت میں (وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ 24 ) 35۔ فاطر :24) وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ 24 ) 35۔ فاطر :24) ہر امت میں ڈرانے والا گزرا ہے اور مراد یہاں ہادی سے پیغمبر ہے۔ پس پیشوا رہبر ہر گروہ میں ہوتا ہے، جس کے علم وعمل سے دوسرے راہ پاسکیں، اس امت کے پیشوا آنحضرت محمد ﷺ ہیں۔ ایک نہایت ہی منکر واہی روایت میں ہے کہ اس آیت کے اترنے کے وقت آپ نے اپنے سینہ پر ہاتھ رکھ کے فرمایا منذر تو میں ہوں اور حضرت علی ؓ کے کندھے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اے علی تو ہادی ہے، میرے بعد ہدایات پانے والے تجھ سے ہدایت پائیں گے۔ حضرت علی ؓ سے منقول ہے کہ اس جگہ ہادی سے مراد قریش کا ایک شخص ہے۔ جنید کہتے ہیں وہ حضرت علی ؓ خود ہیں۔ ابن جریر ؒ نے حضرت علی ؓ کے ہادی ہونے کی روایت کی ہے لیکن اس میں سخت نکارت ہے۔