WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 33 من سورة سُورَةُ النَّحۡلِ

An-Nahl • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER

﴿ هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّآ أَن تَأْتِيَهُمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ أَوْ يَأْتِىَ أَمْرُ رَبِّكَ ۚ كَذَٰلِكَ فَعَلَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ وَمَا ظَلَمَهُمُ ٱللَّهُ وَلَٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ﴾

“ARE THEY [who deny the truth] but waiting for the angels to appear unto them, or for God's judgment to become manifest? Even thus did behave those [stubborn sinners] who lived before their time; and [when they were destroyed,] it was not God who wronged them, but it was they who had wronged themselves:”

📝 التفسير:

فرشتوں کا انتظار اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکوں کو ڈانٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ انہیں تو ان فرشتوں کا انتظار ہے جو ان کی روح قبض کرنے کے لئے آئیں گے تاقیامت کا انتظار ہے اور اس کے افعال و احوال کا۔ ان جیسے ان سے پہلے کے مشرکین کا بھی یہی وطیرہ رہا یہاں تک کہ ان پر عذاب الہٰی آپڑے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حجت پوری کر کے، ان کے عذر ختم کر کے، کتابیں اتار کر، و بال میں گھر گئے۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ خود انہوں نے اپنا بگاڑ لیا۔ اسی لئے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ آگ جسے تم جھٹلاتے رہے۔