An-Nahl • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER
﴿ تَٱللَّهِ لَقَدْ أَرْسَلْنَآ إِلَىٰٓ أُمَمٍۢ مِّن قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ أَعْمَٰلَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ ٱلْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ ﴾
“By God, [O Prophet,] even before thy time have We sent apostles unto [various] communities: but [those who were bent on denying the truth have always refused to listen to Our messages because] Satan has made all their own doings seem goodly to them: and he is [as] close to them today [as he was to the sinners of yore]; hence, grievous suffering awaits them.”
شیطان کے دوست اے نبی ﷺ آپ تسلی رکھیں۔ آپ کو آپ کی قوم کا جھٹلانا کوئی انوکھی بات نہیں کون سا نبی آیا جو جھٹلایا نہ گیا ؟ باقی رہے جھٹلانے والے وہ شیطان کے مرید ہیں۔ برائیاں انہیں شیطانی وسو اس سے بھلائیاں دکھائی دیتی ہیں۔ ان کا ولی شیطان ہے وہ انہیں کوئی نفع پہنچانے والا نہیں۔ ہمیشہ کے لئے مصیبت افزا عذابوں میں چھوڑ کر ان سے الگ ہوجائے گا۔ قرآن حق و باطل میں سچ جھوٹ میں تمیز کرانے والی کتاب ہے، ہر جھگڑا اور ہر اختلاف کا فیصلہ اس میں موجود ہے۔ یہ دلوں کے لئے ہدایت ہے اور ایماندار جو اس پر عامل ہیں، ان کے لئے رحمت ہے۔ اس قرآن سے کس طرح مردہ دل جی اٹھتے ہیں، اس کی مثال مردہ زمین اور بارش کی ہے جو لوگ بات کو سنیں، سمجھیں وہ تو اس سے بہت کچھ عبرت حاصل کرسکتے ہیں۔