WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 70 من سورة سُورَةُ النَّحۡلِ

An-Nahl • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER

﴿ وَٱللَّهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَفَّىٰكُمْ ۚ وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلَىٰٓ أَرْذَلِ ٱلْعُمُرِ لِكَىْ لَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍۢ شَيْـًٔا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۭ قَدِيرٌۭ ﴾

“AND GOD has created you, and in time will cause you to die; and many a one of you is reduced in old age to a most abject state, ceasing to know anything of what he once knew so well. Verily, God is all-knowing, infinite in His power!”

📝 التفسير:

بہترین دعا تمام بندوں پر قبضہ اللہ تعالیٰ کا ہے، وہی انہیں عدم وجود میں لایا ہے، وہی انہیں پھر فوت کرے گا بعض لوگوں کو بہت بڑی عمر تک پہنچاتا ہے کہ وہ پھر سے بچوں جیسے ناتواں بن جاتے ہیں۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں پچھتر سال کی عمر میں عموما انسان ایسا ہی ہوجاتا ہے طاقت ختم ہوجاتی ہے حافظہ جاتا رہتا ہے۔ علم کی کمی ہوجاتی ہے عالم ہونے کے بعد بےعلم ہوجاتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ آنحضرت ﷺ اپنی دعا میں فرماتے تھے (اللھم انی اعوذبک من البخل والکسل والھرم وارذل العمر و عذاب القبر وفتنتہ الدجال وفتنتہ المحیا و الممات) یعنی اے اللہ میں بخیلی سے، عاجزی سے، بڑھاپے سے، ذلیل عمر سے، قبر کے عذاب سے، دجال کے فتنے سے، زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔ زہیر بن ابو سلمہ نے بھی اپنے مشہور قصیدہ معلقہ میں اس عمر کو رنج و غم کا مخزن و منبع بتایا ہے۔