WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 35 من سورة سُورَةُ الإِسۡرَاءِ

Al-Israa • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER

﴿ وَأَوْفُوا۟ ٱلْكَيْلَ إِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوا۟ بِٱلْقِسْطَاسِ ٱلْمُسْتَقِيمِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌۭ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًۭا ﴾

“And give full measure whenever you measure, and weigh with a balance that is true: this will be [for your own] good, and best in the end.”

📝 التفسير:

یتیم کا مال یتیم کے مال میں بدنیتی سے ہیر پھیر نہ کرو، ان کے مال ان کی بلوغت سے پہلے صاف ڈالنے کے ناپاک ارادوں سے بچو۔ جس کی پرورش میں یہ یتیم بچے ہوں اگر وہ خود مالدار ہے تب تو اسے ان یتیموں کے مال سے بالکل الگ رہنا چاہئے اور اگر وہ فقیر محتاج ہے تو خیر بقدر معروف کھالے۔ صحیح مسلم شریف میں ہے حضور ﷺ نے ابوذر ؓ سے فرمایا میں تو تجھے بہت کمزور دیکھ رہا ہوں اور تیرے لئے وہی پسند فرماتا ہوں، جو خود اپنے لئے چاہتا ہوں۔ خبردار کبھی دو شخصوں کا والی نہ بننا اور نہ کبھی یتیم کے مال کا متولی بننا۔ پھر فرماتا ہے وعدہ وفائی کیا کرو جو وعدے وعید جو لین دین ہوجائے اس کی پاسبانی کرو اس کی بابت قیامت کے دن جواب دہی ہوگی۔ ناپ پیمانہ پورا پورا کردیا لوگوں کو ان کی چیز گھٹا کر کم نہ دو۔ قسطاس کی دوسری قرأت قسطاس بھی ہے پھر حکم ہوتا ہے بغیر پاسنگ کی صحیح وزن بتانے والی سیدھی ترازو سے بغیر ڈنڈی مارے تولا کرو، دونوں جہان میں تم سب کے لئے یہی بہتری ہے دنیا میں بھی یہ تمہارے لین دین کی رونق ہے اور آخرت میں بھی یہ تمہارے چھٹکارے کی دلیل ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اے تاجرو تمہیں ان دو چیزوں کو سونپا گیا ہے جن کی وجہ سے تم سے پہلے کے لوگ برباد ہوگئے یعنی ناپ تول نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی حرام پر قدرت رکھتے ہوئے صرف خوف اللہ سے اسے چھوڑ دے تو اللہ تعالیٰ اسی دنیا میں اسے اس سے بہتر چیز عطا فرمائے گا۔