WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 39 من سورة سُورَةُ الإِسۡرَاءِ

Al-Israa • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER

﴿ ذَٰلِكَ مِمَّآ أَوْحَىٰٓ إِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ ٱلْحِكْمَةِ ۗ وَلَا تَجْعَلْ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ فَتُلْقَىٰ فِى جَهَنَّمَ مَلُومًۭا مَّدْحُورًا ﴾

“this is part of that knowledge of right and wrong with which thy Sustainer has inspired thee. Hence, do not set up any other deity side by side with God, lest thou be cast into hell, blamed [by thyself] and rejected [by Him]!”

📝 التفسير:

ذلیل کی عادتیں یہ احکام ہم نے دئیے ہیں۔ سب بہترین اوصاف ہیں اور جن باتوں سے ہم نے روکا ہے وہ بڑی ذلیل خصلتیں ہیں ہم یہ سب باتیں تیری طرف بذریعہ وحی کے نازل فرما رہے ہیں کہ تو لوگوں کو حکم دے اور منع کرے۔ دیکھ میرے ساتھ کسی کو معبود نہ ٹھیرانا ورنہ وہ وقت آئے گا کہ خود اپنے آپ کو ملامت کرنے لگے گا اور اللہ کی طرف سے بھی ملامت ہوگی بلکہ تمام اور مخلوق کی طرف سے بھی۔ اور تو ہر بھلائی سے دور کردیا جائے گا۔ اس آیت میں بواسطہ رسول اللہ ﷺ آپ کی امت سے خطاب ہے کیونکہ حضور ﷺ تو معصوم ہیں۔