WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 53 من سورة سُورَةُ الإِسۡرَاءِ

Al-Israa • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER

﴿ وَقُل لِّعِبَادِى يَقُولُوا۟ ٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ ٱلشَّيْطَٰنَ يَنزَغُ بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّ ٱلشَّيْطَٰنَ كَانَ لِلْإِنسَٰنِ عَدُوًّۭا مُّبِينًۭا ﴾

“AND TELL My servants that they should speak in the most kindly manner [unto those who do not share their beliefs]: verily, Satan is always ready to stir up discord between men - for, verily, Satan is man's open foe!”

📝 التفسير:

مسلمانو ایک دوسرے کا احترام کرو اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ آپ مومن بندوں سے فرما دیں کہ وہ اچھے الفاظ، بہتر فقروں اور تہذیب سے کلام کرتے رہیں، ورنہ شیطان ان کے آپس میں سر پھٹول اور برائی ڈلوا دے گا، لڑائی جھگڑے شروع ہوجائیں گے۔ وہ انسان کا دشمن ہے گھات میں لگا رہتا ہے، اسی لئے حدیث میں مسلمان بھائی کی طرف کسی ہتھیار سے اشارہ کرنا بھی حرام ہے کہ کہیں شیطان اسے لگا نہ دے اور یہ جہنمی نہ بن جائے۔ ملاحظہ ہو مسند احمد۔ حضور ﷺ نے لوگوں کے ایک مجمع میں فرمایا کہ سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں کوئی کسی پر ظلم و ستم نہ کرے کوئی کسی کو بےعزت نہ کرے پھر آپ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا تقوی یہاں ہے جو دو شخص آپس میں دینی دوست ہوں پھر ان میں جدائی ہوجائے اسے ان میں سے جو بیان کرے وہ بیان کرنے والا برا ہے وہ بدتر ہے وہ نہایت شریر ہے (مسند)