WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 68 من سورة سُورَةُ الإِسۡرَاءِ

Al-Israa • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER

﴿ أَفَأَمِنتُمْ أَن يَخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ ٱلْبَرِّ أَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًۭا ثُمَّ لَا تَجِدُوا۟ لَكُمْ وَكِيلًا ﴾

“Can you, then, ever feel sure that He will not cause a tract of dry land to swallow you up, or let loose upon you a deadly storm-wind, whereupon you would find none to be your protector?”

📝 التفسير:

اظہار قدرت و اختیار رب العالمین لوگوں کو ڈرا رہا ہے کہ جو تری میں تمہیں ڈبو سکتا تھا، وہ خشکی میں دھنسانے کی قدرت بھی رکھتا ہے پھر وہاں تو صرف اسی کو پکارنا اور یہاں اس کے ساتھ اوروں کو شریک کرنا یہ کس قدر ناانصافی ہے ؟ وہ تو تم پر پتھروں کی بارش بھی برسا کر ہلاک کرسکتا ہے جیسے لوطیوں پر ہوئی تھے۔ جس کا بیان خود قرآن میں کئی جگہ ہے۔ سورة تبارک میں فرمایا کہ کیا تمہیں اس اللہ کا ڈر نہیں جو آسمانوں میں ہے کہ کہیں وہ تمہیں زمین میں نہ دھنسا دے کہ یکایک زمین جنبش کرنے لگے۔ کیا تمہیں آسمانوں والے اللہ کا خوف نہیں کہ کہیں وہ تم پر پتھر نہ برسا دے پھر جان لو کہ ڈرانے کا انجام کیا ہوتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اس وقت تم نہ اپنا مددگار پاؤ گے، نہ دستگیر، نہ وکیل نہ کار ساز، نہ نگہبان، نہ پاسبان۔