Al-Kahf • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER
﴿ أُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمْ جَنَّٰتُ عَدْنٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهِمُ ٱلْأَنْهَٰرُ يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِن ذَهَبٍۢ وَيَلْبَسُونَ ثِيَابًا خُضْرًۭا مِّن سُندُسٍۢ وَإِسْتَبْرَقٍۢ مُّتَّكِـِٔينَ فِيهَا عَلَى ٱلْأَرَآئِكِ ۚ نِعْمَ ٱلثَّوَابُ وَحَسُنَتْ مُرْتَفَقًۭا ﴾
“theirs shall be gardens of perpetual bliss - [gardens] through which running waters flow - wherein they will be adorned with bracelets of gold and will wear green garments of silk and brocade, [and] wherein upon couches they will recline:" how excellent a recompense, and how goodly a place to rest!”
سونے کے کنگن اور ریشمی لباس اوپر برے لوگوں کا حال اور انجام بیان فرمایا، اب نیکوں کا آغاز و انجام بیان ہو رہا ہے۔ یہ اللہ، رسول اور کتاب کے ماننے والے نیک عمل کرنے والے ہوتے ہیں ان کے لئے ہمیشہ والی دائمی جنتیں ہیں، ان کے بالاخانوں کے اور باغات کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہیں۔ انہیں زیورات خصوصا سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے ان کا لباس وہاں خالص ریشم کا ہوگا، نرم باریک اور نرم موٹے ریشم کا لباس ہوگا، یہ باآرام، شاہانہ شان سے مسندوں پر جو تختوں پر ہوں گے، تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ کہا گیا ہے کہ لیٹنے اور چار زانوں بیٹھنے کا نام بھی یہی قول ہیں ار ایک جمع ہے اریکہ کی تخت چھپر کھٹ وغیرہ کو کہتے ہیں۔ کیا ہی اچھا بدلہ ہے اور کتنی ہی اچھی اور آرام دہ جگہ ہے برخلاف دوزخیوں کے کہ ان کے لیے بری سزا اور بری جگہ ہے۔ سورة فرقان میں بھی انہیں دونوں گروہ کا اسی طرح مقابلہ کا بیان ہے۔