WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 74 من سورة سُورَةُ الكَهۡفِ

Al-Kahf • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER

﴿ فَٱنطَلَقَا حَتَّىٰٓ إِذَا لَقِيَا غُلَٰمًۭا فَقَتَلَهُۥ قَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًۭا زَكِيَّةًۢ بِغَيْرِ نَفْسٍۢ لَّقَدْ جِئْتَ شَيْـًۭٔا نُّكْرًۭا ﴾

“And so the two went on, till, when they met a young man, [the sage] slew him -(whereupon Moses] exclaimed: "Hast thou slain an innocent human being without [his having taken] another man's life? Indeed, thou hast done a terrible thing!"”

📝 التفسير:

حکمت الہی کے مظاہر فرمان ہے کہ اس واقعہ کے بعد دونوں صاحب ایک ساتھ چلے ایک بستی میں چند بچے کھیلتے ہوئے ملے ان میں سے ایک بہت ہی تیز طرار نہایت خوبصورت چالاک اور بھلا لڑکا تھا۔ اس کو پکڑ کر حضرت خضر نے اس کا سر توڑ دیا یا تو پتھر سے یا ہاتھ سے ہی گردن مروڑ دی بچہ اسی وقت مرگیا۔ حضرت موسیٰ ؑ کانپ اٹھے اور بڑے سخت لہجے میں کہا یہ کیا واہیات ہے ؟ چھوٹے بےگناہ بچے کو بغیر کسی شرعی سبب کے مار ڈالنا یہ کون سی بھلائی ہے ؟ بیشک تم نہایت منکر کام کرتے ہو۔ الحمد للہ تفسیر محمدی کا پندرھواں پارہ ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے۔ آمین۔ ثم آمین