Al-Baqara • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER
﴿ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَنفِقُوا۟ مِمَّا رَزَقْنَٰكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ يَوْمٌۭ لَّا بَيْعٌۭ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌۭ وَلَا شَفَٰعَةٌۭ ۗ وَٱلْكَٰفِرُونَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ ﴾
“O YOU who have attained to faith! Spend [in Our way] out of what We have granted you as sustenance ere there come a Day when there will be no bargaining, and no friendship, and no intercession. And they who deny the truth -it is they who are evildoers!”
آج کے صدقات قیامت کے دن شریک غم ہوں گے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم کرتا ہے کہ وہ بھلائی کی راہ میں اپنا مال خرچ کریں تاکہ اللہ تعالیٰ کے پاس ان کا ثواب جمع رہے، اور پھر فرماتا ہے کہ اپنی زندگی میں ہی خیرات و صدقات کرلو، قیامت کے دن نہ تو خریدو فروخت ہوگی نہ زمین بھر کر سونا دینے سے جان چھوٹ سکتی ہے، نہ کسی کا نسب اور دوستی و محبت کچھ کام آسکتی ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت (فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاۗءَلُوْنَ) 23۔ المؤمنون :101) یعنی جب صور پھونکا جائے گا اس دن نہ تو نسب رہے گا نہ کوئی کسی کا پرسان حال ہوگا، اور اس دن سفارشیوں کی سفارش بھی کچھ نفع نہ دیگی۔ پھر فرمایا کافر ہی ظالم ہیں یعنی پورے اور پکے ظالم ہیں وہ جو کفر کی حالت ہی میں اللہ سے ملیں، عطا بن دینار کہتے ہیں شکر ہے اللہ نے کافروں کو ظالم فرمایا لیکن ظالموں کو کافر نہیں فرمایا۔