WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 93 من سورة سُورَةُ البَقَرَةِ

Al-Baqara • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER

﴿ وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَٰقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ ٱلطُّورَ خُذُوا۟ مَآ ءَاتَيْنَٰكُم بِقُوَّةٍۢ وَٱسْمَعُوا۟ ۖ قَالُوا۟ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَأُشْرِبُوا۟ فِى قُلُوبِهِمُ ٱلْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ ۚ قُلْ بِئْسَمَا يَأْمُرُكُم بِهِۦٓ إِيمَٰنُكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴾

“And, lo, We accepted your solemn pledge, raising Mount Sinai high above you, [saying,] "Hold fast with [all your] strength unto what We have vouchsafed you, and hearken unto it!" [But] they say, "We have heard, but we disobey" - for their hearts are filled to overflowing with love of the [golden] calf because of their refusal to acknowledge the truth. Say: "Vile is what this [false] belief of yours enjoins upon you-if indeed you are believers!"”

📝 التفسير:

صدائے باز گشت اللہ تبارک و تعالیٰ بنی اسرائیل کی خطائیں مخالفتیں سرکشی اور حق سے روگردانی بیان فرما رہا ہے کہ طور پہاڑ جب سروں پر دیکھا تو اقرار کرلیا جب وہ ہٹ گیا تو پھر منکر ہوگئے۔ اس کی تفسیر بیان ہوچکی ہے بچھڑے کی محبت ان کے دلوں میں رچ گئی۔ جیسے کہ حدیث میں ہے کہ کسی چیز کی محبت انسان کو اندھا بہرا بنا دیتی ہے حضرت موسیٰ ؑ نے اس بچھڑے کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے جلا کر اس کی راکھ کو ہوا میں اڑا کر دریا میں ڈال دیا تھا جس پانی کو بنی اسرائیل نے پی لیا اور اس کا اثر ان پر ظاہر ہوا گو بچھڑا نیست و نابود کردیا گیا لیکن ان کے دلوں کا تعلق اب بھی اس معبود باطل سے لگا رہا دوسری آیت کا مطلب یہ ہے کہ تم ایمان کا دعویٰ کس طرح کرتے ہو ؟ اپنے ایمان پر نظر نہیں ڈالتے ؟ بار بار کی عہد شکنیاں کئی بار کے کفر بھول گئے ؟ حضرت موسیٰ کے سامنے تم نے کفر کیا ان کے بعد کے پیغمبروں کے ساتھ تم نے سرکشی کی یہاں تک کہ افضل الانبیاء ختم المرسلین حضرت محمد مصطفے ٰ ﷺ کی نبوت کو بھی نہ مانا جو سب سے بڑا کفر ہے۔