Taa-Haa • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER
﴿ إِذْ رَءَا نَارًۭا فَقَالَ لِأَهْلِهِ ٱمْكُثُوٓا۟ إِنِّىٓ ءَانَسْتُ نَارًۭا لَّعَلِّىٓ ءَاتِيكُم مِّنْهَا بِقَبَسٍ أَوْ أَجِدُ عَلَى ٱلنَّارِ هُدًۭى ﴾
“Lo! he saw a fire [in the desert]; and so he said to his family: "Wait here! Behold, I perceive a fire [far away]: perhaps I can bring you a brand there from, or find at the fire some guidance."”
آگ کی تلاش۔ یہاں سے حضرت موسیٰ ؑ کا قصہ شروع ہوتا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب کہ آپ اس مدت کو پوری کرچکے تھے جو آپ کے اور آپ کے خسر صاحب کے درمیان طے ہوئی تھی اور آپ اپنے اہل و عیال کو لے کر دس سال سے زیادہ عرصے کے بعد اپنے وطن مصر کی طرف جا رہے تھے سردی کی رات تھی راستہ بھول گئے تھے پہاڑوں کی گھاٹیوں کے درمیان اندھیرا تھا ابر چھایا ہوا تھا ہرچند چقماق سے آگ نکالنا چاہی لیکن اس سے بالکل آگ نہ نکلی ادھر ادھر نظریں دوڑائیں تو دائیں جانب کے پہاڑ پر کچھ آگ دکھائی دی تو بیوی صاحبہ سے فرمایا اس طرف آگ سی نظر آرہی ہے میں جاتا ہوں کہ وہاں سے کچھ انگارے لے آؤں تاکہ تم سینک تاپ کرلو اور کچھ روشنی بھی ہوجائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہاں کوئی آدمی مل جائے جو راستہ بھی بتادے۔ بہر صورت راستے کا پتہ یا آگ مل ہی جائے گی۔