Taa-Haa • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER
﴿ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى مَنْ أَسْرَفَ وَلَمْ يُؤْمِنۢ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِۦ ۚ وَلَعَذَابُ ٱلْءَاخِرَةِ أَشَدُّ وَأَبْقَىٰٓ ﴾
“For, thus shall We recompense him who wastes his own self and does not believe in his Sustainer's messages: and, indeed, the suffering [of such sinners] in the life to come shall be most severe and most enduring!”
دنیا کی سزائیں۔جو حدود الٰہی کی پرواہ نہ کریں، اللہ کی آیتوں کو جھٹلائیں، انہیں ہم اسی طرح دنیا آخرت کے عذاب میں مبتلا کرتے ہیں خصوصا آخرت کا عذاب تو بہت ہی بھاری ہے اور وہاں کوئی نہ ہوگا جو بچا سکے۔ دنیا کے عذاب نہ تو سختی میں اس کے مقابلے کے ہیں نہ مدت میں دائمی اور نہایت المناک ہیں۔ ملاعنہ کرنے والوں کو سمجھاتے ہوئے رسول مقبول ﷺ نے یہی فرمایا تھا کہ دنیا کی سزا آخرت کے عذابوں کے مقابلے میں بہت ہی ہلکی اور ناچیز ہے۔