Taa-Haa • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER
﴿ فَلَنَأْتِيَنَّكَ بِسِحْرٍۢ مِّثْلِهِۦ فَٱجْعَلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ مَوْعِدًۭا لَّا نُخْلِفُهُۥ نَحْنُ وَلَآ أَنتَ مَكَانًۭا سُوًۭى ﴾
“In that case, we shall most certainly produce before thee the like thereof! Appoint, then, a tryst between us and thee - which we shall not fail to keep, nor [mayest] thou -at a suitable place!"”
فرعون کے ساحر اور موسیٰ ؑ۔ حضرت موسیٰ ؑ کا معجزہ لکڑی کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا روشن ہوجانا وغیرہ دیکھ کر فرعون نے کہا کہ یہ تو جادو ہے اور تو جادو کے زور سے ہمارا ملک چھیننا چاہتا ہے۔ تو مغرور نہ ہوجا ہم بھی اس جادو میں تیرا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ دن اور جگہ مقرر ہوجائے اور مقابلہ ہوجائے۔ ہم بھی اس دن اس جگہ آجائیں اور تو بھی ایسا نہ ہو کہ کوئی نہ آئے۔ کھلے میدان میں سب کے سامنے ہار جیت کھل جائے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا مجھے منظور ہے اور میرے خیال سے تو اس کے لئے تمہاری عید کا دن مناسب ہے۔ کیونکہ وہ فرصت کا دن ہوتا ہے سب آجائیں گے اور دیکھ کر حق و باطل میں تمیز کرلیں گے۔ معجزے اور جادو کا فرق سب پر ظاہر ہوجائے گا۔ وقت دن چڑھے کا رکھنا چاہئے تاکہ جو کچھ میدان میں آئے سب دیکھ سکیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ان کی زینت اور عید کا دن عاشورے کا دن تھا۔ یہ یاد رہے کہ انبیاء ؑ ایسے موقعوں پر کبھی پیچھے نہیں رہتے ایسا کام کرتے ہیں جس سے حق صاف واضح ہوجائے اور ہر ایک پرکھ لے۔ اسی لئے آپ نے ان کی عید کا دن مقرر کیا اور وقت دن چڑھے کا بتایا اور صاف ہموار میدان مقرر کیا کہ جہاں سے ہر ایک دیکھ سکے اور جو باتیں ہوں وہ بھی سن سکے۔ وہب بن منبہ فرماتے ہیں کہ فرعون نے مہلت چاہی حضرت موسیٰ ؑ نے انکار کیا اس پر وحی اتری کہ مدت مقرر کرلو فرعون نے چالیس دن کی مہلت مانگی جو منظور کی گئی۔