WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 90 من سورة سُورَةُ طه

Taa-Haa • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER

﴿ وَلَقَدْ قَالَ لَهُمْ هَٰرُونُ مِن قَبْلُ يَٰقَوْمِ إِنَّمَا فُتِنتُم بِهِۦ ۖ وَإِنَّ رَبَّكُمُ ٱلرَّحْمَٰنُ فَٱتَّبِعُونِى وَأَطِيعُوٓا۟ أَمْرِى ﴾

“And, indeed, even before [the return of Moses] had Aaron said unto them: "O my people! You are but being tempted to evil by this [idol] -for, behold, your [only] Sustainer is the Most Gracious! Follow me, then, and obey my bidding!"”

📝 التفسير:

بنی اسرائیل اور ہارون ؑ۔حضرت موسیٰ ؑ کے آنے سے پہلے حضرت ہارون ؑ نے انہیں ہرچند سمجھایا بجھایا کہ دیکھو فتنے میں نہ پڑو اللہ رحمان کے سوا اور کسی کے سامنے نہ جھکو۔ وہ ہر چیز کا خالق مالک ہے سب کا اندازہ مقرر کرنے والا وہی ہے وہی عرش مجید کا مالک ہے وہی جو چاہے کر گزرنے والا ہے۔ تم میری تابعداری اور حکم برداری کرتے رہو جو میں کہوں وہ بجا لاؤ جس سے روکوں رک جاؤ۔ لیکن ان سرکشوں نے جواب دیا کہ موسیٰ ؑ کی سن کر تو خیر ہم مان لیں گے تب تک تو ہم اس کی پرستش نہیں چھوڑیں گے۔ چناچہ لڑنے اور مرنے مارنے کے واسطے تیار ہوگئے۔