WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 38 من سورة سُورَةُ الأَنبِيَاءِ

Al-Anbiyaa • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER

﴿ وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ ﴾

“But they [who reject My messages are wont to] ask, “When is that promise [of God’s judgment] to be fulfilled? [Answer this, O you who believe in it,] if you are men of truth!””

📝 التفسير:

خود عذاب کے طالب لوگ عذاب الٰہی کو، قیامت کے آنے کو یہ لوگ چونکہ محال جانتے تھے اس لئے جرات سے کہتے تھے کہ بتاؤ تو سہی تمہارے یہ ڈراوے کب پورے ہوں گے ؟ انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ تم اگر سمجھ دار ہوتے اور اس دن کی ہولناکیوں سے آگاہ ہوتے تو جلدی نہ مچاتے اس وقت عذاب الٰہی اوپر تلے سے اوڑھنا بچھونا بنے ہوئے ہونگے، طاقت نہ ہوگی کہ آگے پیچھے سے اللہ کا عذاب ہٹاسکو۔ گندھک کا لباس ہوگا جس میں آگ لگی ہوئی ہوگی اور کھڑے جل رہے ہوں گے، ہر طرف سے جہنم گھیرے ہوئے ہوگی۔ کوئی نہ ہوگا جو مدد کو اٹھے جہنم اچانک دبوچ لے گی اس وقت حیران وششدر رہ جاؤ گے مبہوت اور بیہوش ہوجاؤ گے، کوئی حیلہ نہ ملے گا کہ اسے دفعہ کرو، اس سے بچ جاؤ اور نہ ایک ساعت کی ڈھیل اور مہلت ملے گی۔