WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 91 من سورة سُورَةُ الأَنبِيَاءِ

Al-Anbiyaa • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER

﴿ وَٱلَّتِىٓ أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا وَجَعَلْنَٰهَا وَٱبْنَهَآ ءَايَةًۭ لِّلْعَٰلَمِينَ ﴾

“AND [remember] her who guarded her chastity, whereupon We breathed into her of Our spirit and caused her, together with her son, to become a symbol [of Our grace] unto all people.”

📝 التفسير:

بلا شوہر اولاد حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ ؑ کا قصہ بیان ہو رہا ہے۔ قرآن میں کریم میں عموما حضرت زکریا ؑ اور حضرت یحییٰ ؑ کے قصے کے ساتھ ہی ان کا قصہ بیان ہوتا رہا ہے۔ اس لئے کہ ان لوگوں میں پورا رابط ہے۔ حضرت زکریا ؑ پورے بڑھاپے کے عالم میں آپ کی بیوی صاحبہ جوانی سے گزری ہوئی اور پوری عمر کی بےاولاد ان کے ہاں اولاد عطا فرمائی۔ اس قدرت کو دکھا کر پھر محض عورت بغیر شوہر کے اولاد کا عطا فرمانا یہ اور قدرت کا کمال ظاہر کرتا ہے۔ سورة آل عمران اور سورة مریم میں بھی یہی ترتیب ہے مراد عصمت والی عورت سے حضرت مریم ہیں جیسے فرمان ہے۔ آیت (وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِيْٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهٖ وَكَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِيْنَ 12ۧ) 66۔ التحریم :12) یعنی عمران کی لڑکی مریم جو پاک دامن تھیں انہیں اور ان کے لڑکے اور حضرت عیسیٰ ؑ کو اپنی بےنظیر قدرت کا نشان بنایا کہ مخلوق کو اللہ کی ہر طرح کی قدرت اور اس کے پیدائش وسیع اختیارات اور صرف اپنا ارادے سے چیزوں کا بنانا معلوم ہوجائے۔ عیسیٰ ؑ اللہ کی قدرت کی ایک علامت تھے جنات کے لئے بھی اور انسانوں کے لئے بھی