WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 75 من سورة سُورَةُ الحَجِّ

Al-Hajj • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER

﴿ ٱللَّهُ يَصْطَفِى مِنَ ٱلْمَلَٰٓئِكَةِ رُسُلًۭا وَمِنَ ٱلنَّاسِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌۢ بَصِيرٌۭ ﴾

“[In His almightiness,] God chooses message-bearers from among the angels as well as from among men. But, behold, God [alone] is all-hearing, all-see­ing:”

📝 التفسير:

منصب نبوت کا حقدار کون ؟اپنی مقرر کردہ تقدیر کے جاری کرنے اور اپنی مقرر کردہ شریعت کو اپنے رسول ﷺ تک پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ جس فرشتے کو چاہتا ہے، مقرر کرلیتا ہے اسی طرح لوگوں میں سے بھی پیغمبری کی خلعت سے جسے چاہتا ہے نوازتا ہے۔ بندوں کے سب اقوال سنتا ہے ایک ایک بندہ اور اس کے اعمال اس کی نگاہ میں ہیں وہ بخوبی جانتا ہے کہ منصب نبوت کا مستحق کون ہے ؟ جیسے فرمایا آیت (اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ ۭسَيُصِيْبُ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعَذَابٌ شَدِيْدٌۢ بِمَا كَانُوْا يَمْكُرُوْنَ01204) 6۔ الانعام :124) رب ہی کو علم ہے کہ منصب رسالت کا صحیح طور اہل کون ہے ؟ رسولوں کے آگے پیچھے کا اللہ کو علم ہے، کیا اس تک پہنچا، کیا اس نے پہنچایا، سب اس پر ظاہر وباہر ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (عٰلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰي غَيْبِهٖٓ اَحَدًا 26؀ۙ) 72۔ الجن :26) ، یعنی وہ غیب کا جاننے والا ہے اپنے غیب کا کسی پر اظہار نہیں کرتا۔ ہاں جس پیغمبر کو وہ پسند فرمائے اس کے آگے پیچھے پہرے مقرر کردیتا ہے۔ تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغام پہنچادئے اور اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے جو ان کے پاس ہے اور ہر چیز کی گنتی تک اس کے پاس شمار ہوچکی ہے۔ پس اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے رسولوں کا نگہبان ہے جو انہیں کہا سنا جاتا ہے اس پر خود گواہ ہے خود ہی ان کا حافظ ہے اور ان کا مددگار بھی ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ 67؀) 5۔ المآئدہ :67) ، اے رسول ﷺ جو کچھ تیرے پاس تیرے رب کے طرف سے اترا ہے، پہنچادے اگر ایسا نہ کیا تو حق رسالت ادا نہ ہوگا تیرا بچاؤ اللہ کے ذمے ہے، الخ۔