WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 118 من سورة سُورَةُ المُؤۡمِنُونَ

Al-Muminoon • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER

﴿ وَقُل رَّبِّ ٱغْفِرْ وَٱرْحَمْ وَأَنتَ خَيْرُ ٱلرَّٰحِمِينَ ﴾

“Hence, [O believer,] say: “O my Sustainer! Grant [me] forgiveness and bestow Thy mercy [upon me]: for Thou art the truest bestower of mercy!””

📝 التفسير:

دلائل کے ساتھ مشرک کا موحد ہونا مشرکوں کو اللہ واحد ڈرا رہا ہے اور بیان فرما رہا ہے کہ ان کے پاس ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں۔ یہ جملہ معترضہ ہے اور جواب شرط فانما والے جملے کے ضمن میں ہے یعنی اس کا حساب اللہ کے ہاں ہے۔ کافر اس کے پاس کامیاب نہیں ہوسکتے۔ وہ نجات سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ایک شخص سے رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تو کس کس کو پوجتا ہے ؟ اس نے کہا صرف اللہ تعالیٰ جل شانہ کو آپ ﷺ نے فرمایا جب کام آنے والا وہی ہے تو پھر اس کے ساتھ ان دوسروں کی عبادت کی کیا ضرورت ہے ؟ کیا تیرا خیال ہے کہ وہ اکیلا تجھے کافی نہ ہوگا ؟ جب اس نے کہا یہ تو نہیں کہہ سکتا، البتہ ارادہ یہ ہے کہ اوروں کی عبادت کرکے اس کا پورا شکر بجا لاسکوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا، سبحان اللہ ! علم کے ساتھ یہ بےعلمی ؟ جانتے ہو اور پھر انجان بنے جاتے ہو ؟ اب کوئی جواب بن نہ پڑا۔ چناچہ وہ مسلمان ہوجانے کے بعد کہا کرتے تھے مجھے حضور ﷺ نے قائل کرلیا۔ یہ حدیث مرسل ہے ترمذی میں سنداً بھی مروی ہے۔ پھر ایک دعا تعلیم فرمائی گئی۔ غفر کے معنی جب وہ مطلق ہو تو گناہوں کو مٹا دینے اور انہیں لوگوں سے چھپا دینے کے آتے ہیں۔ اور رحمت کے معنی صحیح راہ پر قائم رکھنے اور اچھے اقوال و افعال کی توفیق دینے کے ہوتے ہیں۔ الحمدللہ سورة مومنون کی تفسیر ختم ہوئی۔