WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 43 من سورة سُورَةُ النُّورِ

An-Noor • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER

﴿ أَلَمْ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يُزْجِى سَحَابًۭا ثُمَّ يُؤَلِّفُ بَيْنَهُۥ ثُمَّ يَجْعَلُهُۥ رُكَامًۭا فَتَرَى ٱلْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَٰلِهِۦ وَيُنَزِّلُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مِن جِبَالٍۢ فِيهَا مِنۢ بَرَدٍۢ فَيُصِيبُ بِهِۦ مَن يَشَآءُ وَيَصْرِفُهُۥ عَن مَّن يَشَآءُ ۖ يَكَادُ سَنَا بَرْقِهِۦ يَذْهَبُ بِٱلْأَبْصَٰرِ ﴾

“Art thou not aware that it is God who causes the clouds to move onward, then joins them together, then piles them up in masses, until thou can see rain come forth from their midst? And He it is who sends down from the skies, by degrees, mountainous masses [of clouds] charged with hail, striking therewith whomever He wills and averting it from whomever He wills, [the while] the flash of His lightning well-nigh deprives [men of their] sight!”

📝 التفسير:

بادل مرحلہ وار پتلے دھوئیں جیسے بادل اول اول تو قدرت الہٰی سے اٹھتے ہیں پھر مل جل کر وہ جسیم ہوجاتے ہیں اور ایک دوسرے کے اوپر جم جاتے ہیں پھر ان میں سے بارش برستی ہے۔ ہوائیں چلتی ہیں، زمین کو قابل بناتی ہیں، پھر ابر کو اٹھاتی ہیں، پھر انہیں ملاتی ہیں، پھر وہ پانی سے بھر جاتے ہیں، پھر برس پڑتے ہیں۔ پھر آسمان سے اولوں کو برسانے کا ذکر ہے اس جملے میں پہلا من ابتداء غایت کا ہے۔ دوسرا تبعیض کا ہے۔ تیسرا بیان جنس کا ہے۔ یہ اس تفسیر کی بنا پر ہے کہ آیت کے معنی یہ کئے جائیں کہ اولوں کے پہاڑ آسمان پر ہیں۔ اور جن کے نزدیک یہاں پہاڑ کا لفظ ابر کے لئے بطور کنایہ ہے ان کے نزدیک من ثانیہ بھی ابتدا غایت کے لئے ہے لیکن وہ پہلے کا بدل ہے واللہ اعلم۔ اس کے بعد کے جملے کا یہ مطلب ہے کہ بارش اور اولے جہاں اللہ برسانا چاہے، وہاں اس کی رحمت سے برستے ہیں اور جہاں نہ چاہے نہیں برستے۔ یا یہ مطلب ہے کہ اولوں سے جن کی چاہے، کھیتیاں اور باغات خراب کردیتا ہے اور جن پر مہربانی فرمائے انہیں بچالیتا ہے۔ پھر بجلی کی چمک کی قوت بیان ہو رہی ہے کہ قریب ہے وہ آنکھوں کی روشنی کھودے۔ دن رات کا تصرف بھی اسی کے قبضے میں ہے، جب چاہتا ہے دن کو چھوٹا اور رات کو بڑی کردیتا ہے اور جب چاہتا ہے رات کو بڑی کر کے دن کو چھوٹا کردیتا ہے۔ یہ تمام نشانیاں ہیں جو قدرت قادر کو ظاہر کرتی ہیں، اللہ کی عظمت کو آشکارا کرتی ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ آسمان و زمین کی پیدائش، رات دن کے اختلاف میں عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔