https://nabtah.net/ https://devrumaroof.techarea.co.id/ https://siami.uki.ac.id/ https://www.ir-webdesign.com/ https://matedu.matabacus.ac.ug/ https://www.banglatutorials.com/products https://www.kingdom-theology.id/ https://apdesign.cz/aktuality https://www.ir-webdesign.com/kontakt
| uswah-academy
WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 145 من سورة سُورَةُ الشُّعَرَاءِ

Ash-Shu'araa • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER

﴿ وَمَآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ ﴾

““And no reward whatever do I ask of you for it: my reward rests with none but the Sustainer of all the worlds.”

📝 التفسير:

صالح ؑ اور قوم ثمود اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول حضرت صالح ؑ کا واقعہ بیان ہو رہا کہ آپ اپنی قوم ثمود کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یہ لوگ عرب حجر نامی شہر میں رہتے تھے جو وادی القری اور ملک شام کے درمیان ہے۔ یہ عادیوں کے بعد اور ابراہمیوں سے پہلے تھے شام کی طرف جاتے ہوئے آپ کا اس جگہ سے گزرنے کا بیان سورة اعراف کی تفسیر میں پہلے گزرچکا ہے۔ انہیں ان کے نبی نے اللہ کی طرف بلایا کہ یہ اللہ کی توحید کو مانیں اور حضرت صالح ؑ کی رسالت کا اقرار کریں لیکن انہوں نے بھی انکار کردیا اور اپنے کفر پر جمے رہے اللہ کے پیغمبر کو جھوٹا کہا۔ باوجود اللہ سے ڈرتے رہنے کی نصیحت سننے کی پرہیزگاری اختیار نہ کی۔ باوجود رسول امین کی موجودگی کے راہ ہدایت اختیار نہ کی۔ حالانکہ نبی کا صاف اعلان تھا کہ میں اپنا کوئی بوجھ تم پر ڈال نہیں رہا میں تو رسالت کی تبلیغ کے اجرا کا صرف اللہ تعالیٰ سے خواہاں ہوں۔ اس کے بعد اللہ کی نعمتیں انہیں یاد دلائیں۔