WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 16 من سورة سُورَةُ القَصَصِ

Al-Qasas • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER

﴿ قَالَ رَبِّ إِنِّى ظَلَمْتُ نَفْسِى فَٱغْفِرْ لِى فَغَفَرَ لَهُۥٓ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ ﴾

“[And] he prayed: O my Sustainer! Verily, I have sinned against myself! Grant me, then, Thy forgiveness!” And He forgave him - for, verily, He alone is truly forgiving, a dispenser of grace.”

📝 التفسير:

گھونسے سے موت حضرت موسیٰ کے لڑکپن کا ذکر کیا اب ان کی جوانی کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ اللہ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا۔ یعنی نبوت دی۔ نیک لوگ ایسا ہی بدلہ پاتے ہیں، پھر اس واقعہ کا ذکر ہو رہا ہے جو حضرت موسیٰ ؑ کے مصر چھوڑنے کا باعث بنا اور جس کے بعد اللہ کی رحمت نے ان کار خ کیا یہ مصر چھوڑ کر مدین کی طرف چل دئیے۔ آپ ایک مرتبہ شہر میں آتے ہیں یا تو مغرب کے بعد یا ظہر کے وقت کہ لوگ کھانے پینے میں یا سونے میں مشغول ہیں راستوں پر آمد ورفت نہیں تھی تو دیکھتے ہیں کہ دو شخص لڑ جھگڑ رہے ہیں۔ ایک اسرائیلی ہے دوسرا قبطی ہے۔ اسرائیلی نے حضرت موسیٰ سے قبطی کی شکایت کی اور اس کا زور ظلم بیان کیا جس پر آپ کو غصہ آگیا اور ایک گھونسہ اسے کھینچ مارا جس سے وہ اسی وقت مرگیا۔ موسیٰ گھبراگئے اور کہنے لگے یہ تو شیطانی کام ہے اور شیطان دشمن اور گمراہ ہے اور اس کا دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہونا بھی ظاہر ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرنے لگے اور استغفار کرنے لگے۔ اللہ نے بھی بخشش دیا وہ بخشنے والا مہربان ہی ہے۔ اب کہنے لگے اے اللہ تو نے جو جاہ وعزت بزرگی اور نعمت مجھے عطا فرمائی ہے میں اسے سامنے رکھ کر وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی کسی نافرمان کی کسی امر میں موافقت اور امداد نہیں کرونگا۔