Al-Qasas • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER
﴿ وَجَآءَ رَجُلٌۭ مِّنْ أَقْصَا ٱلْمَدِينَةِ يَسْعَىٰ قَالَ يَٰمُوسَىٰٓ إِنَّ ٱلْمَلَأَ يَأْتَمِرُونَ بِكَ لِيَقْتُلُوكَ فَٱخْرُجْ إِنِّى لَكَ مِنَ ٱلنَّٰصِحِينَ ﴾
“And [then and there] a man came running from the farthermost end of the city, and said: “O Moses! Behold, the great ones [of the kingdom] are deliberating upon thy case with a view to killing thee! Begone, then: verily, I am of those who wish thee well!””
گمنام ہمدر اس آنے والے کو رجل کہا گیا۔ عربی میں رجل کہتے ہیں قدموں کو۔ اس نے جب دیکھا کہ سپاہ حضرت موسیٰ کے تعاقب میں جارہی ہے تو یہ اپنے پاؤں پر تیزی سے دوڑا اور ایک قریب کے راستے سے نکل کر جھٹ سے آپ کو اطلاع دے دی کہ یہاں کے امیر امراء آپ کے قتل کے ارادے کرچکے ہیں آپ شہر چھوڑ دیجئے۔ میں آپ کا بہی خواہ ہوں میری مان لیجئے۔