WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 36 من سورة سُورَةُ القَصَصِ

Al-Qasas • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER

﴿ فَلَمَّا جَآءَهُم مُّوسَىٰ بِـَٔايَٰتِنَا بَيِّنَٰتٍۢ قَالُوا۟ مَا هَٰذَآ إِلَّا سِحْرٌۭ مُّفْتَرًۭى وَمَا سَمِعْنَا بِهَٰذَا فِىٓ ءَابَآئِنَا ٱلْأَوَّلِينَ ﴾

“But as soon as Moses came unto them with Our clear messages [Pharaoh and his great ones] said: “All this is nothing but spellbinding eloquence devised [by man]: and never did we hear [the like of] this, [nor has it ever been heard of] in the time of our forebears of old!””

📝 التفسير:

فرعونی قوم کا رویہ حضرت موسیٰ ؑ خلعت نبوت سے اور کلام الٰہی سے ممتاز ہو کر بحکم اللہ مصر میں پہنچے اور فرعون اور فرعونیوں کو اللہ کی وحدت اور اپنی رسالت کی تلقین کے ساتھ ہی جو معجزے اللہ نے دئیے تھے انہیں دکھایا۔ سب کو مع فرعون کے یقین کامل ہوگیا کہ بیشک حضرت موسیٰ اللہ کے رسول ہیں۔ لیکن مدتوں کا غرور اور پرانا کفر سر اٹھائے بغیر نہ رہا اور زبانیں دل کے خلاف کر کے کہنے لگے یہ تو صرف مصنوعی جادو ہے۔ اب فرعونی اپنے دبدے اور قوت وطاقت سے حق کے مقابلے پر جم گئے اور اللہ کے نبیوں کا سامنا کرنے پر تل گئے اور کہنے لگے کبھی ہم نے تو نہیں سنا کہ اللہ ایک ہے اور ہم تو کیا ہمارے اگلے باپ دادوں کے کان بھی آشنا نہیں تھے۔ ہم سب کے سب مع اپنے بڑے چھوٹوں کے بہت سے معبودوں کو پوجتے رہے۔ یہ نئی باتیں لے کر کہاں سے آگیا ؟ کلیم اللہ حضرت موسیٰ نے جواب دیا کہ مجھے اور تم کو اللہ خوب جانتا ہے وہی ہم تم میں فیصلہ کرے گا ہم میں سے ہدایت پر کون ہے ؟ اور کون نیک انجام پر ہے ؟ اس کا علم بھی اللہ ہی کو ہے وہ فیصلہ کردے گا اور تم عنقریب دیکھ لوگے کہ اللہ کی تائید کس کا ساتھ دیتی ہے ؟ ظالم یعنی مشرک کبھی خوش انجام اور شاد کام نہیں ہوئے وہ نجات سے محروم ہیں۔