WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 46 من سورة سُورَةُ الرُّومِ

Ar-Room • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER

﴿ وَمِنْ ءَايَٰتِهِۦٓ أَن يُرْسِلَ ٱلرِّيَاحَ مُبَشِّرَٰتٍۢ وَلِيُذِيقَكُم مِّن رَّحْمَتِهِۦ وَلِتَجْرِىَ ٱلْفُلْكُ بِأَمْرِهِۦ وَلِتَبْتَغُوا۟ مِن فَضْلِهِۦ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴾

“for among His wonders is this: He sends forth [His messages as He sends forth] the winds that bear glad tidings, so that He might give you a taste of His grace [through life-giving rains], and that ships might sail at His behest, and that you might go about in quest of some of His bounties, and that you might have cause to be grateful.”

📝 التفسير:

مسلمان بھائی کی اعانت پر جہنم سے نجات کا وعدہ بارش کے آنے سے پہلے بھینی بھینی ہواؤں کا چلنا اور لوگوں کو بارش کی امید دلانا۔ اس کے بعد مینہ برسانا تاکہ بستیاں آباد ہیں اور جاندار زندہ رہیں سمندروں اور دریاؤں میں جہاز اور کشتیاں چلیں۔ کیونکہ کشتیوں کا چلنا بھی ہوا پر موقوف ہے۔ اب تم اپنی تجارت اور کمائی دھندے کے لئے ادھر سے ادھر، ادھر سے ادھر جاسکو۔ پس تمہیں چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی ان بیشمار ان گنت تعمتوں پر اس کا شکریہ ادا کرو۔ پھر اپنے نبی کو تسکین اور تسلی دینے کے لئے فرماتا ہے کہ اگر آپ کو لوگ جھٹلاتے ہیں تو آپ اسے کوئی انوکھی بات نہ سمجھیں۔ آپ سے پہلے کے رسولوں کو بھی ان کی امتوں نے ایسے ہی ٹیڑھے ترچھے فقرے سنائے ہیں۔ وہ بھی صاف روشن اور واضح دلیلیں معجزے اور احکام لائے تھے بالآخر جھٹلانے والے عذاب کے شنکجے میں کس دئیے گئے اور مومنوں کو اس وقت ہر قسم کی برائی سے نجات ملی۔ اپنے فضل سے اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اپنے نفس کریم پر یہ بات لازم کرلی ہے کہ وہ اپنے باایمان بندوں کو مدد دے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت (كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ 54؀) 6۔ الانعام :54) ابن ابی حاتم میں حدیث ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی آبرو بچالے اللہ پر حق ہے کہ وہ اس سے جہنم کی آگ کو ہٹالے۔ پھر آپ نے پڑھا آیت (وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ 47؀) 30۔ الروم :47)