As-Sajda • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER
﴿ تَنزِيلُ ٱلْكِتَٰبِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِن رَّبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ ﴾
“The bestowal from on high of this divine writ issues, beyond any doubt, from the Sustainer of all the worlds:”
سورتوں کے شروع میں جو حروف مقطعات ہیں ان کی پوری بحث ہم سورة بقرہ کے شروع میں کرچکے ہیں۔ یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ کتاب قرآن حکیم بیشک وشبہ اللہ رب العلمین کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ مشرکین کا یہ قول غلط ہے کہ حضور ﷺ نے خود اسے گھڑلیا ہے۔ نہیں یہ تو یقینا اللہ کی طرف سے ہے اس لئے اترا ہے کہ حضور ﷺ اس قوم کو ڈراوے کے ساتھ آگاہ کردیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی اور پیغمبر نہیں آیا۔ تاکہ وہ حق کی اتباع کرکے نجات حاصل کرلیں۔