Az-Zumar • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER
﴿ وَٱلَّذِينَ ٱجْتَنَبُوا۟ ٱلطَّٰغُوتَ أَن يَعْبُدُوهَا وَأَنَابُوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ لَهُمُ ٱلْبُشْرَىٰ ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِ ﴾
“seeing that for those who shun the powers of evil lest they [be tempted to] worship them, and turn unto God instead, there is the glad tiding [of happiness in the life to come]. Give, then, this glad tiding to [those of] My servants”
مروی ہے کہ یہ آیت زید بن عمر بن نفیل، ابوذر اور سلمان فارسی ؓ کے بارے میں اتری ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ آیت جس طرح ان بزرگوں پر مشتمل ہے اسی طرح ہر اس شخص کو شامل کرتی ہے جس میں یہ پاک اوصاف ہوں یعنی بتوں سے بیزاری اور اللہ کی فرمانبرداری۔ یہ ہیں جن کے لئے دونوں جہان میں خوشیاں ہیں۔ بات سمجھ کر سن کر جب وہ اچھی ہو تو اس پر عمل کرنے والے مستحق مبارک باد ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم پیغمبر حضرت موسیٰ ؑ سے تورات کے عطا فرمانے کے وقت فرمایا تھا اسے مضبوطی سے تھامو اور اپنی قوم کو حکم کرو کہ اس کی اچھائی کو مضبوط تھام لیں۔ عقلمند اور نیک راہ لوگوں میں بھلی باتوں کے قبول کرنے کا صحیح مادہ ضرور ہوتا ہے۔