WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 43 من سورة سُورَةُ فُصِّلَتۡ

Fussilat • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER

﴿ مَّا يُقَالُ لَكَ إِلَّا مَا قَدْ قِيلَ لِلرُّسُلِ مِن قَبْلِكَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍۢ وَذُو عِقَابٍ أَلِيمٍۢ ﴾

“[And as for thee, O Prophet,] nothing is being said to thee but what was said to all [of God’s] apostles before thy time. Behold, thy Sustainer is indeed full of forgiveness - but He has also the power to requite most grie­vously!”

📝 التفسير:

عذاب وثواب نہ ہوتا تو عمل نہ ہوتا۔ الحاد کے معنی ابن عباس سے کلام کو اس کی جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھنے کے مروی ہیں اور قتادہ وغیرہ سے الحاد کے معنی کفر وعناد ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ملحد لوگ ہم سے مخفی نہیں۔ ہمارے اسماء وصفات کو ادھر ادھر کردینے والے ہماری نگاہوں میں ہیں۔ انہیں ہم بدترین سزائیں دیں گے۔ سمجھ لو کہ کیا جہنم واصل ہونے والا اور تمام خطروں سے بچ رہنے والا برابر ہیں ؟ ہرگز نہیں۔ بدکار کافرو ! جو چاہو عمل کرتے چلے جاؤ۔ مجھ سے تمہارا کوئی عمل پوشیدہ نہیں۔ باریک سے باریک چیز بھی میری نگاہوں سے اوجھل نہیں، ذکر سے مراد بقول ضحاک سدی اور قتادہ قرآن ہے، وہ باعزت باتوقیر ہے اس کے مثل کسی کا کلام نہیں اس کے آگے پیچھے سے یعنی کسی طرف سے اس سے باطل مل نہیں سکتا، یہ رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ جو اپنے اقوال و افعال میں حکیم ہے۔ اس کے تمام تر احکام بہترین انجام والے ہیں، تجھ سے جو کچھ تیرے زمانے کے کفار کہتے ہیں یہی تجھ سے اگلے نبیوں کو ان کی کافر امتوں نے کہا تھا۔ پس جیسے ان پیغمبروں نے صبر کیا تم بھی صبر کرو۔ جو بھی تیرے رب کی طرف رجوع کرے وہ اس کے لئے بڑی بخششوں والا ہے اور جو اپنے کفر و ضد پر اڑا رہے مخالفت حق اور تکذیب رسول ﷺ سے باز نہ آئے اس پر وہ سخت درد ناک سزائیں کرنے والا ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ کی بخشش اور معافی نہ ہوتی تو دنیا میں ایک متنفس جی نہیں سکتا تھا اور اگر اس کی پکڑ دکڑ عذاب سزا نہ ہوتی تو ہر شخص مطمئن ہو کر ٹیک لگا کر بےخوف ہوجاتا۔