Ash-Shura • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER
﴿ لِّلَّهِ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ۚ يَهَبُ لِمَن يَشَآءُ إِنَٰثًۭا وَيَهَبُ لِمَن يَشَآءُ ٱلذُّكُورَ ﴾
“God’s alone is the dominion over the heavens and the earth. He creates whatever He wills: He bestows the gift of female offspring on whomever He wills, and the gift of male offspring on whomever He wills;”
اولاد کا اختیار اللہ کے پاس ہے فرماتا ہے کہ خالق مالک اور متصرف زمین و آسمان کا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا جسے چاہے دے جسے چاہے نہ دے جو چاہے پیدا کرے اور بنائے جسے چاہے صرف لڑکیاں دے جیسے حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام۔ اور جسے چاہے صرف لڑکے ہی عطا فرماتا ہے جیسے ابراہیم خلیل علیہ الصلوۃ والسلام۔ اور جسے چاہے لڑکے لڑکیاں سب کچھ دیتا ہے جیسے حضرت محمد ﷺ اور جسے چاہے لا ولد رکھتا ہے جیسے حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ۔ پس یہ چار قسمیں ہوئیں۔ لڑکیوں والے لڑکوں والے دونوں والے اور دونوں سے خالی ہاتھ۔ وہ علیم ہے ہر مستحق کو جانتا ہے۔ قادر ہے جس طرح چاہے تفاوت رکھتا ہے پس یہ مقام بھی مثل اس فرمان الٰہی کے ہے۔ جو حضرت عیسیٰ کے بارے میں ہے کہ تاکہ کہ ہم اسے لوگوں کے لئے نشان بنائیں یعنی دلیل قدرت بنائیں اور دکھا دیں کہ ہم نے مخلوق کو چار طور پر پیدا کیا حضرت آدم صرف مٹی سے پیدا ہوئے نہ ماں نہ باپ۔ حضرت حوا صرف مرد سے پیدا ہوئیں باقی کل انسان مرد عورت دونوں سے سوائے حضرت عیسیٰ کے کہ وہ صرف عورت سے بغیر مرد کے پیدا کئے گئے۔ پس آپ کی پیدائش سے یہ چاروں قسمیں ہوگئیں۔ پس یہ مقام ماں باپ کے بارے میں تھا اور وہ مقام اولاد کے بارے میں اس کی بھی چار قسمیں اور اسکی بھی چار قسمیں سبحان اللہ یہ ہے اس اللہ کے علم وقدرت کی نشانی۔