WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير سورة الجاثية

(Al-Jathiya) • المصدر: UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ حم

📘 اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو ہدایت فرماتا ہے کہ وہ قدرت کی نشانیوں میں غور و فکر کریں۔ اللہ کی نعمتوں کو جانیں اور پہچانیں پھر ان کا شکر بجا لائیں دیکھیں کہ اللہ کتنی بڑی قدرتوں والا ہے جس نے آسمان و زمین اور مختلف قسم کی تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے فرشتے، جن، انسان، چوپائے، پرند، جنگلی جانور، درندے، کیڑے، پتنگے سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ سمندر کی بیشمار مخلوق کا خالق بھی وہی ایک ہے۔ دن کو رات کے بعد اور رات کو دن کے پیچھے وہی لا رہا ہے رات کا اندھیرا دن کا اجالا اسی کے قبضے کی چیزیں ہیں۔ حاجت کے وقت انداز کے مطابق بادلوں سے پانی وہی برساتا ہے رزق سے مراد بارش ہے اس لئے کہ اسی سے کھانے کی چیزیں اگتی ہیں۔ خشک بنجر زمین سبز و شاداب ہوجاتی ہے اور طرح طرح کی پیداوار اگاتی ہے۔ شمالی جنوبی پروا پچھوا ترو خشک کم و بیش رات اور دن کی ہوائیں وہی چلاتا ہے۔ بعض ہوائیں بارش کو لاتی ہیں بعض بادلوں کو پانی والا کردیتی ہیں۔ بعض روح کی غذا بنتی ہیں اور بعض ان کے سوا کاموں کے لئے چلتی ہیں۔ پہلے فرمایا کہ اس میں ایمان والوں کے لئے نشانیاں ہیں پھر یقین والوں کے لئے فرمایا پھر عقل والوں کے لئے فرمایا یہ ایک عزت والے کا حال سے دوسرے عزت والے حال کی طرف ترقی کرنا ہے۔ اسی کے مثل سورة بقرہ کی آیت (اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّھَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ01900ڌ) 3۔ آل عمران :190) ، ہے امام ابن ابی حاتم نے یہاں پر ایک طویل اثر وارد کیا ہے لیکن وہ غریب ہے اس میں انسان کو چار قسم کے اخلاط سے پیدا کرنا بھی ہے۔ واللہ اعلم۔

مِنْ وَرَائِهِمْ جَهَنَّمُ ۖ وَلَا يُغْنِي عَنْهُمْ مَا كَسَبُوا شَيْئًا وَلَا مَا اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ أَوْلِيَاءَ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ

📘 قرآن عظیم کی اہانت سے بچاؤ مطلب یہ ہے کہ قرآن جو حق کی طرف نہایت صفائی اور وضاحت سے نازل ہوا ہے۔ اس کی روشن آیتیں تجھ پر تلاوت کی جا رہی ہیں۔ جسے یہ سن رہے ہیں اور پھر بھی نہ ایمان لاتے ہیں نہ عمل کرتے ہیں تو پھر آخر ایمان کس چیز پر لائیں گے ؟ ان کے لئے ویل ہے اور ان پر افسوس ہے جو زبان کے جھوٹے کام کے گنہگار اور دل کے کافر ہیں اس کی باتیں سنتے ہوئے اپنے کفر انکار اور بد باطنی پر اڑے ہوئے ہیں گویا سنا ہی نہیں انہیں سنا دو کہ ان کے لئے اللہ کے ہاں دکھ کی مار ہے قرآن کی آیتیں ان کے مذاق کی چیز رہ گئی ہیں۔ تو جس طرح یہ میرے کلام کی آج اہانت کرتے ہیں کل میں انہیں ذلت کی سزا دوں گا۔ حدیث شریف میں ہے کہ قرآن لے کر دشمنوں کے ملک میں نہ جاؤ ایسا نہ ہو کہ وہ اس کی اہانت و بےقدری کریں پھر اس ذلیل کرنے والے کا عذاب کا بیان فرمایا کہ ان خصلتوں والے لوگ جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ ان کے مال و اولاد اور ان کے وہ جھوٹے معبود جنہیں یہ زندگی بھر پوجتے رہے انہیں کچھ کام نہ آئیں گے انہیں زبردست اور بہت بڑے عذاب بھگتنے پڑیں گے پھر ارشاد ہوا کہ یہ قرآن سراسر ہدایت ہے اور اس کی آیت سے جو منکر ہیں ان کے لئے سخت اور المناک عذاب ہیں۔ واللہ سبحان وتعالیٰ اعلم۔

هَٰذَا هُدًى ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِنْ رِجْزٍ أَلِيمٌ

📘 قرآن عظیم کی اہانت سے بچاؤ مطلب یہ ہے کہ قرآن جو حق کی طرف نہایت صفائی اور وضاحت سے نازل ہوا ہے۔ اس کی روشن آیتیں تجھ پر تلاوت کی جا رہی ہیں۔ جسے یہ سن رہے ہیں اور پھر بھی نہ ایمان لاتے ہیں نہ عمل کرتے ہیں تو پھر آخر ایمان کس چیز پر لائیں گے ؟ ان کے لئے ویل ہے اور ان پر افسوس ہے جو زبان کے جھوٹے کام کے گنہگار اور دل کے کافر ہیں اس کی باتیں سنتے ہوئے اپنے کفر انکار اور بد باطنی پر اڑے ہوئے ہیں گویا سنا ہی نہیں انہیں سنا دو کہ ان کے لئے اللہ کے ہاں دکھ کی مار ہے قرآن کی آیتیں ان کے مذاق کی چیز رہ گئی ہیں۔ تو جس طرح یہ میرے کلام کی آج اہانت کرتے ہیں کل میں انہیں ذلت کی سزا دوں گا۔ حدیث شریف میں ہے کہ قرآن لے کر دشمنوں کے ملک میں نہ جاؤ ایسا نہ ہو کہ وہ اس کی اہانت و بےقدری کریں پھر اس ذلیل کرنے والے کا عذاب کا بیان فرمایا کہ ان خصلتوں والے لوگ جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ ان کے مال و اولاد اور ان کے وہ جھوٹے معبود جنہیں یہ زندگی بھر پوجتے رہے انہیں کچھ کام نہ آئیں گے انہیں زبردست اور بہت بڑے عذاب بھگتنے پڑیں گے پھر ارشاد ہوا کہ یہ قرآن سراسر ہدایت ہے اور اس کی آیت سے جو منکر ہیں ان کے لئے سخت اور المناک عذاب ہیں۔ واللہ سبحان وتعالیٰ اعلم۔

۞ اللَّهُ الَّذِي سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِيَ الْفُلْكُ فِيهِ بِأَمْرِهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

📘 اللہ تعالیٰ کے ابن آدم پر احسانات اللہ تعالیٰ اپنی نعمتیں بیان فرما رہا ہے کہ اسی کے حکم سے سمندر میں اپنی مرضی کے مطابق سفر طے کرتے ہوئے بڑی بڑی کشتیاں مال اور سواریوں سے لدی ہوئی ادھر سے ادھر لے جاتے ہو تجارتیں اور کمائی کرتے ہو۔ یہ اس لئے بھی ہے کہ تم اللہ کا شکر بجا لاؤ نفع حاصل کر کے رب کا احسان مانو پھر اس نے آسمان کی چیز جیسے سورج چاند ستارے اور زمین کی چیز جیسے پہاڑ نہریں اور تمہارے فائدے کی بیشمار چیزیں تمہارے لئے مسخر کردی، یہ سب اس کا فضل و احسان انعام و اکرام ہے اور اسی ایک کی طرف سے ہے، جیسے ارشاد ہے آیت (وَمَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَيْهِ تَجْــــَٔــرُوْنَ 53؀ۚ) 16۔ النحل :53) ، یعنی تمہارے پاس جو نعمتیں ہیں سب اللہ کی دی ہوئی ہیں اور ابھی بھی سختی کے وقت تم اسی کی طرف گڑگڑاتے ہو۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ہر چیز اللہ ہی کی طرف سے ہے اور یہ نام اس میں نام ہے اس کے ناموں میں سے پس یہ سب اس کی جانب سے ہے کوئی نہیں جو اس سے چھینا چھپٹی یا جھگڑا کرسکے ہر ایک اس یقین پر ہے کہ وہ اسی طرح ہے ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر سے سوال کیا کہ مخلوق کس چیز سے بنائی گئی ہے ؟ آپ نے فرمایا نور سے اور آگ سے اور اندھیرے سے اور مٹی سے اور کہا جاؤ ابن عباس کو اگر دیکھو تو ان سے بھی دریافت کرلو۔ اس نے آپ سے بھی پوچھا یہی جواب پایا پھر فرمایا واپس ان کے پاس جاؤ اور پوچھا کہ یہ سب کس چیز سے پیدا کئے گئے ؟ وہ لوٹا اور سوال کیا تو آپ نے یہی سوال کیا تو آپ نے یہی آیت پڑھ کر سنائی۔ یہ اثر غریب ہے۔ اور ساتھ ہی منکر بھی ہے غور و فکر کی عادت رکھنے والوں کے لئے اس میں بھی بہت نشانیاں ہیں پھر فرماتا ہے کہ صبر و تحمل کی عادت ڈالو منکرین قیامت کی کڑوی کسیلی سن لیا کرو، مشرک اور اہل کتاب کی ایذاؤں کو برداشت کرلیا کرو۔ یہ حکم شروع اسلام میں تھا لیکن بعد میں جہاد اور جلا وطنی کے احکام نازل ہوئے۔ اللہ کے دنوں کی امید نہیں رکھتے یعنی اللہ کی نعمتوں کے حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ پھر فرمایا کہ ان سے تم چشم پوشی کرو ان کے اعمال کی سزا خود ہم انہیں دیں گے اسی لئے اس کے بعد ہی فرمایا کہ تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور ہر نیکی بدی کی جزا سزا پاؤ گے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔

وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ

📘 اللہ تعالیٰ کے ابن آدم پر احسانات اللہ تعالیٰ اپنی نعمتیں بیان فرما رہا ہے کہ اسی کے حکم سے سمندر میں اپنی مرضی کے مطابق سفر طے کرتے ہوئے بڑی بڑی کشتیاں مال اور سواریوں سے لدی ہوئی ادھر سے ادھر لے جاتے ہو تجارتیں اور کمائی کرتے ہو۔ یہ اس لئے بھی ہے کہ تم اللہ کا شکر بجا لاؤ نفع حاصل کر کے رب کا احسان مانو پھر اس نے آسمان کی چیز جیسے سورج چاند ستارے اور زمین کی چیز جیسے پہاڑ نہریں اور تمہارے فائدے کی بیشمار چیزیں تمہارے لئے مسخر کردی، یہ سب اس کا فضل و احسان انعام و اکرام ہے اور اسی ایک کی طرف سے ہے، جیسے ارشاد ہے آیت (وَمَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَيْهِ تَجْــــَٔــرُوْنَ 53؀ۚ) 16۔ النحل :53) ، یعنی تمہارے پاس جو نعمتیں ہیں سب اللہ کی دی ہوئی ہیں اور ابھی بھی سختی کے وقت تم اسی کی طرف گڑگڑاتے ہو۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ہر چیز اللہ ہی کی طرف سے ہے اور یہ نام اس میں نام ہے اس کے ناموں میں سے پس یہ سب اس کی جانب سے ہے کوئی نہیں جو اس سے چھینا چھپٹی یا جھگڑا کرسکے ہر ایک اس یقین پر ہے کہ وہ اسی طرح ہے ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر سے سوال کیا کہ مخلوق کس چیز سے بنائی گئی ہے ؟ آپ نے فرمایا نور سے اور آگ سے اور اندھیرے سے اور مٹی سے اور کہا جاؤ ابن عباس کو اگر دیکھو تو ان سے بھی دریافت کرلو۔ اس نے آپ سے بھی پوچھا یہی جواب پایا پھر فرمایا واپس ان کے پاس جاؤ اور پوچھا کہ یہ سب کس چیز سے پیدا کئے گئے ؟ وہ لوٹا اور سوال کیا تو آپ نے یہی سوال کیا تو آپ نے یہی آیت پڑھ کر سنائی۔ یہ اثر غریب ہے۔ اور ساتھ ہی منکر بھی ہے غور و فکر کی عادت رکھنے والوں کے لئے اس میں بھی بہت نشانیاں ہیں پھر فرماتا ہے کہ صبر و تحمل کی عادت ڈالو منکرین قیامت کی کڑوی کسیلی سن لیا کرو، مشرک اور اہل کتاب کی ایذاؤں کو برداشت کرلیا کرو۔ یہ حکم شروع اسلام میں تھا لیکن بعد میں جہاد اور جلا وطنی کے احکام نازل ہوئے۔ اللہ کے دنوں کی امید نہیں رکھتے یعنی اللہ کی نعمتوں کے حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ پھر فرمایا کہ ان سے تم چشم پوشی کرو ان کے اعمال کی سزا خود ہم انہیں دیں گے اسی لئے اس کے بعد ہی فرمایا کہ تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور ہر نیکی بدی کی جزا سزا پاؤ گے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔

قُلْ لِلَّذِينَ آمَنُوا يَغْفِرُوا لِلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ أَيَّامَ اللَّهِ لِيَجْزِيَ قَوْمًا بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ

📘 اللہ تعالیٰ کے ابن آدم پر احسانات اللہ تعالیٰ اپنی نعمتیں بیان فرما رہا ہے کہ اسی کے حکم سے سمندر میں اپنی مرضی کے مطابق سفر طے کرتے ہوئے بڑی بڑی کشتیاں مال اور سواریوں سے لدی ہوئی ادھر سے ادھر لے جاتے ہو تجارتیں اور کمائی کرتے ہو۔ یہ اس لئے بھی ہے کہ تم اللہ کا شکر بجا لاؤ نفع حاصل کر کے رب کا احسان مانو پھر اس نے آسمان کی چیز جیسے سورج چاند ستارے اور زمین کی چیز جیسے پہاڑ نہریں اور تمہارے فائدے کی بیشمار چیزیں تمہارے لئے مسخر کردی، یہ سب اس کا فضل و احسان انعام و اکرام ہے اور اسی ایک کی طرف سے ہے، جیسے ارشاد ہے آیت (وَمَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَيْهِ تَجْــــَٔــرُوْنَ 53؀ۚ) 16۔ النحل :53) ، یعنی تمہارے پاس جو نعمتیں ہیں سب اللہ کی دی ہوئی ہیں اور ابھی بھی سختی کے وقت تم اسی کی طرف گڑگڑاتے ہو۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ہر چیز اللہ ہی کی طرف سے ہے اور یہ نام اس میں نام ہے اس کے ناموں میں سے پس یہ سب اس کی جانب سے ہے کوئی نہیں جو اس سے چھینا چھپٹی یا جھگڑا کرسکے ہر ایک اس یقین پر ہے کہ وہ اسی طرح ہے ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر سے سوال کیا کہ مخلوق کس چیز سے بنائی گئی ہے ؟ آپ نے فرمایا نور سے اور آگ سے اور اندھیرے سے اور مٹی سے اور کہا جاؤ ابن عباس کو اگر دیکھو تو ان سے بھی دریافت کرلو۔ اس نے آپ سے بھی پوچھا یہی جواب پایا پھر فرمایا واپس ان کے پاس جاؤ اور پوچھا کہ یہ سب کس چیز سے پیدا کئے گئے ؟ وہ لوٹا اور سوال کیا تو آپ نے یہی سوال کیا تو آپ نے یہی آیت پڑھ کر سنائی۔ یہ اثر غریب ہے۔ اور ساتھ ہی منکر بھی ہے غور و فکر کی عادت رکھنے والوں کے لئے اس میں بھی بہت نشانیاں ہیں پھر فرماتا ہے کہ صبر و تحمل کی عادت ڈالو منکرین قیامت کی کڑوی کسیلی سن لیا کرو، مشرک اور اہل کتاب کی ایذاؤں کو برداشت کرلیا کرو۔ یہ حکم شروع اسلام میں تھا لیکن بعد میں جہاد اور جلا وطنی کے احکام نازل ہوئے۔ اللہ کے دنوں کی امید نہیں رکھتے یعنی اللہ کی نعمتوں کے حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ پھر فرمایا کہ ان سے تم چشم پوشی کرو ان کے اعمال کی سزا خود ہم انہیں دیں گے اسی لئے اس کے بعد ہی فرمایا کہ تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور ہر نیکی بدی کی جزا سزا پاؤ گے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهَا ۖ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ

📘 اللہ تعالیٰ کے ابن آدم پر احسانات اللہ تعالیٰ اپنی نعمتیں بیان فرما رہا ہے کہ اسی کے حکم سے سمندر میں اپنی مرضی کے مطابق سفر طے کرتے ہوئے بڑی بڑی کشتیاں مال اور سواریوں سے لدی ہوئی ادھر سے ادھر لے جاتے ہو تجارتیں اور کمائی کرتے ہو۔ یہ اس لئے بھی ہے کہ تم اللہ کا شکر بجا لاؤ نفع حاصل کر کے رب کا احسان مانو پھر اس نے آسمان کی چیز جیسے سورج چاند ستارے اور زمین کی چیز جیسے پہاڑ نہریں اور تمہارے فائدے کی بیشمار چیزیں تمہارے لئے مسخر کردی، یہ سب اس کا فضل و احسان انعام و اکرام ہے اور اسی ایک کی طرف سے ہے، جیسے ارشاد ہے آیت (وَمَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَيْهِ تَجْــــَٔــرُوْنَ 53؀ۚ) 16۔ النحل :53) ، یعنی تمہارے پاس جو نعمتیں ہیں سب اللہ کی دی ہوئی ہیں اور ابھی بھی سختی کے وقت تم اسی کی طرف گڑگڑاتے ہو۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ہر چیز اللہ ہی کی طرف سے ہے اور یہ نام اس میں نام ہے اس کے ناموں میں سے پس یہ سب اس کی جانب سے ہے کوئی نہیں جو اس سے چھینا چھپٹی یا جھگڑا کرسکے ہر ایک اس یقین پر ہے کہ وہ اسی طرح ہے ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر سے سوال کیا کہ مخلوق کس چیز سے بنائی گئی ہے ؟ آپ نے فرمایا نور سے اور آگ سے اور اندھیرے سے اور مٹی سے اور کہا جاؤ ابن عباس کو اگر دیکھو تو ان سے بھی دریافت کرلو۔ اس نے آپ سے بھی پوچھا یہی جواب پایا پھر فرمایا واپس ان کے پاس جاؤ اور پوچھا کہ یہ سب کس چیز سے پیدا کئے گئے ؟ وہ لوٹا اور سوال کیا تو آپ نے یہی سوال کیا تو آپ نے یہی آیت پڑھ کر سنائی۔ یہ اثر غریب ہے۔ اور ساتھ ہی منکر بھی ہے غور و فکر کی عادت رکھنے والوں کے لئے اس میں بھی بہت نشانیاں ہیں پھر فرماتا ہے کہ صبر و تحمل کی عادت ڈالو منکرین قیامت کی کڑوی کسیلی سن لیا کرو، مشرک اور اہل کتاب کی ایذاؤں کو برداشت کرلیا کرو۔ یہ حکم شروع اسلام میں تھا لیکن بعد میں جہاد اور جلا وطنی کے احکام نازل ہوئے۔ اللہ کے دنوں کی امید نہیں رکھتے یعنی اللہ کی نعمتوں کے حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ پھر فرمایا کہ ان سے تم چشم پوشی کرو ان کے اعمال کی سزا خود ہم انہیں دیں گے اسی لئے اس کے بعد ہی فرمایا کہ تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور ہر نیکی بدی کی جزا سزا پاؤ گے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔

وَلَقَدْ آتَيْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ

📘 بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کے خصوصی انعامات کا تذکرہ بنی اسرائیل پر جو نعمتیں رحیم و کریم اللہ نے انعام فرمائی تھیں ان کا ذکر فرما رہا ہے کہ کتابیں ان پر اتاریں رسول ان میں بھیجے حکومت انہیں دی۔ بہترین غذائیں اور ستھری صاف چیزیں انہیں عطا فرمائیں اور اس زمانے کے اور لوگوں پر انہیں برتری دی اور انہیں امر دین کی عمدہ اور کھلی ہوئی دلیلیں پہنچا دیں اور ان پر حجت اللہ قائم ہوگئی۔ پھر ان لوگوں نے پھوٹ ڈالی اور مختلف گروہ بن گئے اور اس کا باعث بجز نفسانیت اور خودی کے اور کچھ نہ تھا اے نبی تیرا رب ان کے ان اختلافات کا فیصلہ قیامت کے دن خود ہی کر دے گا اس میں اس امت کو چوکنا کیا گیا ہے کہ خبردار تم ان جیسے نہ ہونا ان کی چال نہ چلنا اسی لئے اللہ جل و علا نے فرمایا کہ تو اپنے رب کی وحی کا تابعدار بنا رہ مشرکوں سے کوئی مطلب نہ رکھ بےعلموں کی ریس نہ کر یہ تجھے اللہ کے ہاں کیا کام آئیں گے ؟ ان کی دوستیاں تو ان میں آپس میں ہی ہیں یہ تو اپنے ملنے والوں کو نقصان ہی پہنچایا کرتے ہیں۔ پرہیزگاروں کا ولی و ناصر رفیق و کار ساز پروردگار عالم ہے جو انہیں اندھیروں سے ہٹا کر نور کی طرف لے جاتا ہے اور کافروں کے دوست شیاطین ہیں جو انہیں روشنی سے ہٹا کر اندھیریوں میں جھونکتے ہیں یہ قرآن ان لوگوں کے لئے جو یقین رکھتے ہیں دلائل کے ساتھ ہی ہدایت و رحمت ہے۔

وَآتَيْنَاهُمْ بَيِّنَاتٍ مِنَ الْأَمْرِ ۖ فَمَا اخْتَلَفُوا إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ

📘 بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کے خصوصی انعامات کا تذکرہ بنی اسرائیل پر جو نعمتیں رحیم و کریم اللہ نے انعام فرمائی تھیں ان کا ذکر فرما رہا ہے کہ کتابیں ان پر اتاریں رسول ان میں بھیجے حکومت انہیں دی۔ بہترین غذائیں اور ستھری صاف چیزیں انہیں عطا فرمائیں اور اس زمانے کے اور لوگوں پر انہیں برتری دی اور انہیں امر دین کی عمدہ اور کھلی ہوئی دلیلیں پہنچا دیں اور ان پر حجت اللہ قائم ہوگئی۔ پھر ان لوگوں نے پھوٹ ڈالی اور مختلف گروہ بن گئے اور اس کا باعث بجز نفسانیت اور خودی کے اور کچھ نہ تھا اے نبی تیرا رب ان کے ان اختلافات کا فیصلہ قیامت کے دن خود ہی کر دے گا اس میں اس امت کو چوکنا کیا گیا ہے کہ خبردار تم ان جیسے نہ ہونا ان کی چال نہ چلنا اسی لئے اللہ جل و علا نے فرمایا کہ تو اپنے رب کی وحی کا تابعدار بنا رہ مشرکوں سے کوئی مطلب نہ رکھ بےعلموں کی ریس نہ کر یہ تجھے اللہ کے ہاں کیا کام آئیں گے ؟ ان کی دوستیاں تو ان میں آپس میں ہی ہیں یہ تو اپنے ملنے والوں کو نقصان ہی پہنچایا کرتے ہیں۔ پرہیزگاروں کا ولی و ناصر رفیق و کار ساز پروردگار عالم ہے جو انہیں اندھیروں سے ہٹا کر نور کی طرف لے جاتا ہے اور کافروں کے دوست شیاطین ہیں جو انہیں روشنی سے ہٹا کر اندھیریوں میں جھونکتے ہیں یہ قرآن ان لوگوں کے لئے جو یقین رکھتے ہیں دلائل کے ساتھ ہی ہدایت و رحمت ہے۔

ثُمَّ جَعَلْنَاكَ عَلَىٰ شَرِيعَةٍ مِنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ

📘 بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کے خصوصی انعامات کا تذکرہ بنی اسرائیل پر جو نعمتیں رحیم و کریم اللہ نے انعام فرمائی تھیں ان کا ذکر فرما رہا ہے کہ کتابیں ان پر اتاریں رسول ان میں بھیجے حکومت انہیں دی۔ بہترین غذائیں اور ستھری صاف چیزیں انہیں عطا فرمائیں اور اس زمانے کے اور لوگوں پر انہیں برتری دی اور انہیں امر دین کی عمدہ اور کھلی ہوئی دلیلیں پہنچا دیں اور ان پر حجت اللہ قائم ہوگئی۔ پھر ان لوگوں نے پھوٹ ڈالی اور مختلف گروہ بن گئے اور اس کا باعث بجز نفسانیت اور خودی کے اور کچھ نہ تھا اے نبی تیرا رب ان کے ان اختلافات کا فیصلہ قیامت کے دن خود ہی کر دے گا اس میں اس امت کو چوکنا کیا گیا ہے کہ خبردار تم ان جیسے نہ ہونا ان کی چال نہ چلنا اسی لئے اللہ جل و علا نے فرمایا کہ تو اپنے رب کی وحی کا تابعدار بنا رہ مشرکوں سے کوئی مطلب نہ رکھ بےعلموں کی ریس نہ کر یہ تجھے اللہ کے ہاں کیا کام آئیں گے ؟ ان کی دوستیاں تو ان میں آپس میں ہی ہیں یہ تو اپنے ملنے والوں کو نقصان ہی پہنچایا کرتے ہیں۔ پرہیزگاروں کا ولی و ناصر رفیق و کار ساز پروردگار عالم ہے جو انہیں اندھیروں سے ہٹا کر نور کی طرف لے جاتا ہے اور کافروں کے دوست شیاطین ہیں جو انہیں روشنی سے ہٹا کر اندھیریوں میں جھونکتے ہیں یہ قرآن ان لوگوں کے لئے جو یقین رکھتے ہیں دلائل کے ساتھ ہی ہدایت و رحمت ہے۔

إِنَّهُمْ لَنْ يُغْنُوا عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ۚ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۖ وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُتَّقِينَ

📘 بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کے خصوصی انعامات کا تذکرہ بنی اسرائیل پر جو نعمتیں رحیم و کریم اللہ نے انعام فرمائی تھیں ان کا ذکر فرما رہا ہے کہ کتابیں ان پر اتاریں رسول ان میں بھیجے حکومت انہیں دی۔ بہترین غذائیں اور ستھری صاف چیزیں انہیں عطا فرمائیں اور اس زمانے کے اور لوگوں پر انہیں برتری دی اور انہیں امر دین کی عمدہ اور کھلی ہوئی دلیلیں پہنچا دیں اور ان پر حجت اللہ قائم ہوگئی۔ پھر ان لوگوں نے پھوٹ ڈالی اور مختلف گروہ بن گئے اور اس کا باعث بجز نفسانیت اور خودی کے اور کچھ نہ تھا اے نبی تیرا رب ان کے ان اختلافات کا فیصلہ قیامت کے دن خود ہی کر دے گا اس میں اس امت کو چوکنا کیا گیا ہے کہ خبردار تم ان جیسے نہ ہونا ان کی چال نہ چلنا اسی لئے اللہ جل و علا نے فرمایا کہ تو اپنے رب کی وحی کا تابعدار بنا رہ مشرکوں سے کوئی مطلب نہ رکھ بےعلموں کی ریس نہ کر یہ تجھے اللہ کے ہاں کیا کام آئیں گے ؟ ان کی دوستیاں تو ان میں آپس میں ہی ہیں یہ تو اپنے ملنے والوں کو نقصان ہی پہنچایا کرتے ہیں۔ پرہیزگاروں کا ولی و ناصر رفیق و کار ساز پروردگار عالم ہے جو انہیں اندھیروں سے ہٹا کر نور کی طرف لے جاتا ہے اور کافروں کے دوست شیاطین ہیں جو انہیں روشنی سے ہٹا کر اندھیریوں میں جھونکتے ہیں یہ قرآن ان لوگوں کے لئے جو یقین رکھتے ہیں دلائل کے ساتھ ہی ہدایت و رحمت ہے۔

تَنْزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ

📘 اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو ہدایت فرماتا ہے کہ وہ قدرت کی نشانیوں میں غور و فکر کریں۔ اللہ کی نعمتوں کو جانیں اور پہچانیں پھر ان کا شکر بجا لائیں دیکھیں کہ اللہ کتنی بڑی قدرتوں والا ہے جس نے آسمان و زمین اور مختلف قسم کی تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے فرشتے، جن، انسان، چوپائے، پرند، جنگلی جانور، درندے، کیڑے، پتنگے سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ سمندر کی بیشمار مخلوق کا خالق بھی وہی ایک ہے۔ دن کو رات کے بعد اور رات کو دن کے پیچھے وہی لا رہا ہے رات کا اندھیرا دن کا اجالا اسی کے قبضے کی چیزیں ہیں۔ حاجت کے وقت انداز کے مطابق بادلوں سے پانی وہی برساتا ہے رزق سے مراد بارش ہے اس لئے کہ اسی سے کھانے کی چیزیں اگتی ہیں۔ خشک بنجر زمین سبز و شاداب ہوجاتی ہے اور طرح طرح کی پیداوار اگاتی ہے۔ شمالی جنوبی پروا پچھوا ترو خشک کم و بیش رات اور دن کی ہوائیں وہی چلاتا ہے۔ بعض ہوائیں بارش کو لاتی ہیں بعض بادلوں کو پانی والا کردیتی ہیں۔ بعض روح کی غذا بنتی ہیں اور بعض ان کے سوا کاموں کے لئے چلتی ہیں۔ پہلے فرمایا کہ اس میں ایمان والوں کے لئے نشانیاں ہیں پھر یقین والوں کے لئے فرمایا پھر عقل والوں کے لئے فرمایا یہ ایک عزت والے کا حال سے دوسرے عزت والے حال کی طرف ترقی کرنا ہے۔ اسی کے مثل سورة بقرہ کی آیت (اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّھَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ01900ڌ) 3۔ آل عمران :190) ، ہے امام ابن ابی حاتم نے یہاں پر ایک طویل اثر وارد کیا ہے لیکن وہ غریب ہے اس میں انسان کو چار قسم کے اخلاط سے پیدا کرنا بھی ہے۔ واللہ اعلم۔

هَٰذَا بَصَائِرُ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ

📘 بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کے خصوصی انعامات کا تذکرہ بنی اسرائیل پر جو نعمتیں رحیم و کریم اللہ نے انعام فرمائی تھیں ان کا ذکر فرما رہا ہے کہ کتابیں ان پر اتاریں رسول ان میں بھیجے حکومت انہیں دی۔ بہترین غذائیں اور ستھری صاف چیزیں انہیں عطا فرمائیں اور اس زمانے کے اور لوگوں پر انہیں برتری دی اور انہیں امر دین کی عمدہ اور کھلی ہوئی دلیلیں پہنچا دیں اور ان پر حجت اللہ قائم ہوگئی۔ پھر ان لوگوں نے پھوٹ ڈالی اور مختلف گروہ بن گئے اور اس کا باعث بجز نفسانیت اور خودی کے اور کچھ نہ تھا اے نبی تیرا رب ان کے ان اختلافات کا فیصلہ قیامت کے دن خود ہی کر دے گا اس میں اس امت کو چوکنا کیا گیا ہے کہ خبردار تم ان جیسے نہ ہونا ان کی چال نہ چلنا اسی لئے اللہ جل و علا نے فرمایا کہ تو اپنے رب کی وحی کا تابعدار بنا رہ مشرکوں سے کوئی مطلب نہ رکھ بےعلموں کی ریس نہ کر یہ تجھے اللہ کے ہاں کیا کام آئیں گے ؟ ان کی دوستیاں تو ان میں آپس میں ہی ہیں یہ تو اپنے ملنے والوں کو نقصان ہی پہنچایا کرتے ہیں۔ پرہیزگاروں کا ولی و ناصر رفیق و کار ساز پروردگار عالم ہے جو انہیں اندھیروں سے ہٹا کر نور کی طرف لے جاتا ہے اور کافروں کے دوست شیاطین ہیں جو انہیں روشنی سے ہٹا کر اندھیریوں میں جھونکتے ہیں یہ قرآن ان لوگوں کے لئے جو یقین رکھتے ہیں دلائل کے ساتھ ہی ہدایت و رحمت ہے۔

أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُوا السَّيِّئَاتِ أَنْ نَجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَاءً مَحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ ۚ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ

📘 اصل دین چار چیزیں ہیں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ مومن و کافر برابر نہیں جیسے اور آیت میں ہے کہ دوزخی اور جنتی برابر نہیں جنتی کامیاب ہیں یہاں بھی فرماتا ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ کفر و برائی والے اور ایمان و اچھائی والے موت و زیست میں دنیا و آخرت میں برابر ہوجائیں۔ یہ تو ہماری ذات اور ہماری صفت عدل کے ساتھ پرلے درجے کی بدگمانی ہے۔ مسند ابو یعلی میں ہے حضرت ابوذر فرماتے ہیں چار چیزوں پر اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی بنا رکھی ہے جو ان سے ہٹ جائے اور ان پر عامل نہ بنے وہ اللہ سے فاسق ہو کر ملاقات کرے گا پوچھا گیا کہ وہ چاروں چیزیں کیا ہیں ؟ فرمایا یہ کہ کامل عقیدہ رکھے کہ حلال حرام حکم اور ممانعت یہ چاروں صرف اللہ کی اختیار میں ہیں اس کے حلال کو حلال اس کے حرام بتائے ہوئے کو حرام ماننا، اس کے حکموں کو قابل تعمیل اور لائق تسلیم جاننا، اس کے منع کئے ہوئے کاموں سے باز آجانا اور حلال حرام امر و نہی کا مالک صرف اسی کو جاننا بس یہ دین کی اصل ہے۔ حضرت ابو القاسم ﷺ کا فرمان ہے کہ جس طرح ببول کے درخت سے انگور پیدا نہیں ہوسکتے اسی طرح بدکار لوگ نیک کاروں کا درجہ حاصل نہیں کرسکتے یہ حدیث غریب ہے۔ سیرۃ محمد بن اسحاق میں ہے کہ کعبتہ اللہ کی نیو میں سے ایک پتھر نکلا تھا جس پر لکھا ہوا تھا کہ تم برائیاں کرتے ہوئے نیکیوں کی امید رکھتے ہو یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی خاردار درخت میں سے انگور چننا چاہتا ہو۔ طبرانی میں ہے کہ حضرت تمیم داری رات بھر تہجد میں اسی آیت کو بار بار پڑھتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو عدل کے ساتھ پیدا کیا ہے وہ ہر ایک شخص کو اس کے کئے کا بدلہ دے گا اور کسی پر اس کی طرف سے ذرا سا بھی ظلم نہ کیا جائے گا پھر اللہ تعالیٰ جل و علا فرماتا ہے کہ تم نے انہیں بھی دیکھا جو اپنی خواہشوں کو اللہ بنائے ہوئے ہیں۔ جس کام کی طرف طبیعت جھکی کر ڈالا جس سے دل رکا چھوڑ دیا۔ یہ آیت معتزلہ کے اس اصول کو رد کرتی ہے کہ اچھائی برائی عقلی ہے۔ حضرت امام مالک اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں اس کے دل میں جس کی عبادت کا خیال گذرتا ہے اسی کو پوجنے لگتا ہے اس کے بعد کے جملے کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کی بناء پر اسے مستحق گمراہی جان کر گمراہ کردیا دوسرا معنی یہ کہ اس کے پاس علم و حجت دلیل و سند آگئی پھر اسے گمراہ کیا۔ یہ دوسری بات پہلی کو بھی مستلزم ہے اور پہلی دوسری کو مستلزم نہیں۔ اس کے کانوں پر مہر ہے نفع دینے والی شرعی بات سنتا ہی نہیں۔ اس کے دل پر مہر ہے ہدایت کی بات دل میں اترتی ہی نہیں اس کی آنکھوں پر پردہ ہے کوئی دلیل اسے دکھتی ہی نہیں بھلا اب اللہ کے بعد اسے کون راہ دکھائے ؟ کیا تم عبرت حاصل نہیں کرتے ؟ جیسے فرمایا آیت (مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ ۭ وَيَذَرُهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ01806) 7۔ الاعراف :186) جسے اللہ گمراہ کر دے اس کا ہادی کوئی نہیں وہ انہیں چھوڑ دیتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں۔

وَخَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ وَلِتُجْزَىٰ كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

📘 اصل دین چار چیزیں ہیں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ مومن و کافر برابر نہیں جیسے اور آیت میں ہے کہ دوزخی اور جنتی برابر نہیں جنتی کامیاب ہیں یہاں بھی فرماتا ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ کفر و برائی والے اور ایمان و اچھائی والے موت و زیست میں دنیا و آخرت میں برابر ہوجائیں۔ یہ تو ہماری ذات اور ہماری صفت عدل کے ساتھ پرلے درجے کی بدگمانی ہے۔ مسند ابو یعلی میں ہے حضرت ابوذر فرماتے ہیں چار چیزوں پر اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی بنا رکھی ہے جو ان سے ہٹ جائے اور ان پر عامل نہ بنے وہ اللہ سے فاسق ہو کر ملاقات کرے گا پوچھا گیا کہ وہ چاروں چیزیں کیا ہیں ؟ فرمایا یہ کہ کامل عقیدہ رکھے کہ حلال حرام حکم اور ممانعت یہ چاروں صرف اللہ کی اختیار میں ہیں اس کے حلال کو حلال اس کے حرام بتائے ہوئے کو حرام ماننا، اس کے حکموں کو قابل تعمیل اور لائق تسلیم جاننا، اس کے منع کئے ہوئے کاموں سے باز آجانا اور حلال حرام امر و نہی کا مالک صرف اسی کو جاننا بس یہ دین کی اصل ہے۔ حضرت ابو القاسم ﷺ کا فرمان ہے کہ جس طرح ببول کے درخت سے انگور پیدا نہیں ہوسکتے اسی طرح بدکار لوگ نیک کاروں کا درجہ حاصل نہیں کرسکتے یہ حدیث غریب ہے۔ سیرۃ محمد بن اسحاق میں ہے کہ کعبتہ اللہ کی نیو میں سے ایک پتھر نکلا تھا جس پر لکھا ہوا تھا کہ تم برائیاں کرتے ہوئے نیکیوں کی امید رکھتے ہو یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی خاردار درخت میں سے انگور چننا چاہتا ہو۔ طبرانی میں ہے کہ حضرت تمیم داری رات بھر تہجد میں اسی آیت کو بار بار پڑھتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو عدل کے ساتھ پیدا کیا ہے وہ ہر ایک شخص کو اس کے کئے کا بدلہ دے گا اور کسی پر اس کی طرف سے ذرا سا بھی ظلم نہ کیا جائے گا پھر اللہ تعالیٰ جل و علا فرماتا ہے کہ تم نے انہیں بھی دیکھا جو اپنی خواہشوں کو اللہ بنائے ہوئے ہیں۔ جس کام کی طرف طبیعت جھکی کر ڈالا جس سے دل رکا چھوڑ دیا۔ یہ آیت معتزلہ کے اس اصول کو رد کرتی ہے کہ اچھائی برائی عقلی ہے۔ حضرت امام مالک اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں اس کے دل میں جس کی عبادت کا خیال گذرتا ہے اسی کو پوجنے لگتا ہے اس کے بعد کے جملے کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کی بناء پر اسے مستحق گمراہی جان کر گمراہ کردیا دوسرا معنی یہ کہ اس کے پاس علم و حجت دلیل و سند آگئی پھر اسے گمراہ کیا۔ یہ دوسری بات پہلی کو بھی مستلزم ہے اور پہلی دوسری کو مستلزم نہیں۔ اس کے کانوں پر مہر ہے نفع دینے والی شرعی بات سنتا ہی نہیں۔ اس کے دل پر مہر ہے ہدایت کی بات دل میں اترتی ہی نہیں اس کی آنکھوں پر پردہ ہے کوئی دلیل اسے دکھتی ہی نہیں بھلا اب اللہ کے بعد اسے کون راہ دکھائے ؟ کیا تم عبرت حاصل نہیں کرتے ؟ جیسے فرمایا آیت (مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ ۭ وَيَذَرُهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ01806) 7۔ الاعراف :186) جسے اللہ گمراہ کر دے اس کا ہادی کوئی نہیں وہ انہیں چھوڑ دیتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں۔

أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَىٰ عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَىٰ سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَىٰ بَصَرِهِ غِشَاوَةً فَمَنْ يَهْدِيهِ مِنْ بَعْدِ اللَّهِ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ

📘 اصل دین چار چیزیں ہیں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ مومن و کافر برابر نہیں جیسے اور آیت میں ہے کہ دوزخی اور جنتی برابر نہیں جنتی کامیاب ہیں یہاں بھی فرماتا ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ کفر و برائی والے اور ایمان و اچھائی والے موت و زیست میں دنیا و آخرت میں برابر ہوجائیں۔ یہ تو ہماری ذات اور ہماری صفت عدل کے ساتھ پرلے درجے کی بدگمانی ہے۔ مسند ابو یعلی میں ہے حضرت ابوذر فرماتے ہیں چار چیزوں پر اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی بنا رکھی ہے جو ان سے ہٹ جائے اور ان پر عامل نہ بنے وہ اللہ سے فاسق ہو کر ملاقات کرے گا پوچھا گیا کہ وہ چاروں چیزیں کیا ہیں ؟ فرمایا یہ کہ کامل عقیدہ رکھے کہ حلال حرام حکم اور ممانعت یہ چاروں صرف اللہ کی اختیار میں ہیں اس کے حلال کو حلال اس کے حرام بتائے ہوئے کو حرام ماننا، اس کے حکموں کو قابل تعمیل اور لائق تسلیم جاننا، اس کے منع کئے ہوئے کاموں سے باز آجانا اور حلال حرام امر و نہی کا مالک صرف اسی کو جاننا بس یہ دین کی اصل ہے۔ حضرت ابو القاسم ﷺ کا فرمان ہے کہ جس طرح ببول کے درخت سے انگور پیدا نہیں ہوسکتے اسی طرح بدکار لوگ نیک کاروں کا درجہ حاصل نہیں کرسکتے یہ حدیث غریب ہے۔ سیرۃ محمد بن اسحاق میں ہے کہ کعبتہ اللہ کی نیو میں سے ایک پتھر نکلا تھا جس پر لکھا ہوا تھا کہ تم برائیاں کرتے ہوئے نیکیوں کی امید رکھتے ہو یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی خاردار درخت میں سے انگور چننا چاہتا ہو۔ طبرانی میں ہے کہ حضرت تمیم داری رات بھر تہجد میں اسی آیت کو بار بار پڑھتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو عدل کے ساتھ پیدا کیا ہے وہ ہر ایک شخص کو اس کے کئے کا بدلہ دے گا اور کسی پر اس کی طرف سے ذرا سا بھی ظلم نہ کیا جائے گا پھر اللہ تعالیٰ جل و علا فرماتا ہے کہ تم نے انہیں بھی دیکھا جو اپنی خواہشوں کو اللہ بنائے ہوئے ہیں۔ جس کام کی طرف طبیعت جھکی کر ڈالا جس سے دل رکا چھوڑ دیا۔ یہ آیت معتزلہ کے اس اصول کو رد کرتی ہے کہ اچھائی برائی عقلی ہے۔ حضرت امام مالک اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں اس کے دل میں جس کی عبادت کا خیال گذرتا ہے اسی کو پوجنے لگتا ہے اس کے بعد کے جملے کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کی بناء پر اسے مستحق گمراہی جان کر گمراہ کردیا دوسرا معنی یہ کہ اس کے پاس علم و حجت دلیل و سند آگئی پھر اسے گمراہ کیا۔ یہ دوسری بات پہلی کو بھی مستلزم ہے اور پہلی دوسری کو مستلزم نہیں۔ اس کے کانوں پر مہر ہے نفع دینے والی شرعی بات سنتا ہی نہیں۔ اس کے دل پر مہر ہے ہدایت کی بات دل میں اترتی ہی نہیں اس کی آنکھوں پر پردہ ہے کوئی دلیل اسے دکھتی ہی نہیں بھلا اب اللہ کے بعد اسے کون راہ دکھائے ؟ کیا تم عبرت حاصل نہیں کرتے ؟ جیسے فرمایا آیت (مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ ۭ وَيَذَرُهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ01806) 7۔ الاعراف :186) جسے اللہ گمراہ کر دے اس کا ہادی کوئی نہیں وہ انہیں چھوڑ دیتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں۔

وَقَالُوا مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ ۚ وَمَا لَهُمْ بِذَٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ ۖ إِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ

📘 زمانے کو گالی مت دو دہریہ کفار اور ان کے ہم عقیدہ مشرکین کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ دنیا ہی ابتداء اور انتہاء ہے کچھ جیتے ہیں کچھ مرتے ہیں قیامت کوئی چیز نہیں فلاسفہ اور علم کلام کے قائل یہی کہتے تھے یہ لوگ ابتداء اور انتہاء کے قائل نہ تھے اور فلاسفہ میں سے جو لوگ دھریہ اور دوریہ تھے وہ خالق کے بھی منکر تھے ان کا خیال تھا کہ ہر چھتیس ہزار سال کے بعد زمانے کا ایک دور ختم ہوتا ہے اور ہر چیز اپنی اصلی حالت پر آجاتی ہے اور ایسے کئی دور کے وہ قائل تھے دراصل یہ معقول سے بھی بیکار جھگڑتے تھے اور منقول سے بھی روگردانی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ گردش زمانہ ہی ہلاک کرنے والی ہے نہ کہ اللہ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں اور بجز و ہم و خیال کے کوئی سند وہ پیش نہیں کرسکتے۔ ابو داؤد وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے ابن آدم ایذاء دیتا ہے وہ دہر کو (یعنی زمانے کو) گالیاں دیتا ہے دراصل زمانہ میں ہی ہوں تمام کام میرے ہاتھ ہیں دن رات کا ہیر پھیر کرتا ہوں۔ ایک روایت میں ہے دہر (زمانہ) کو گالی نہ دو اللہ ہی زمانہ ہے۔ ابن جریر نے اسے ایک بالکل غریب سند سے وارد کیا ہے اس میں ہے اہل جاہلیت کا خیال تھا کہ ہمیں دن رات ہی ہلاک کرتے ہیں وہی ہمیں مارتے جلاتے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کریم میں اسے نقل فرمایا وہ زمانے کو برا کہتے تھے پس اللہ عزوجل نے فرمایا مجھے ابن آدم ایذاء پہنچاتا ہے وہ زمانے کو برا کہتا ہے اور زمانہ میں ہوں میرے ہاتھ میں سب کام ہیں میں دن رات کا لے آنے لے جانے والا ہوں۔ ابن ابی حاتم میں ہے ابن آدم زمانے کو گالیاں دیتا ہے میں زمانہ ہوں دن رات میرے ہاتھ میں ہیں۔ اور حدیث میں ہے میں نے اپنے بندے سے قرض طلب کیا اس نے مجھے نہ دیا مجھے میرے بندے گالیاں دیں وہ کہتا ہے ہائے ہائے زمانہ اور زمانہ میں ہوں۔ امام شافعی اور ابو عبیدہ وغیرہ ائمہ لغت و تفسیر اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ جاہلیت کے عربوں کو جب کوئی بلا اور شدت و تکلیف پہنچتی تو وہ اسے زمانے کی طرف نسبت کرتے اور زمانے کو برا کہتے دراصل زمانہ خود تو کچھ کرتا نہیں ہر کام کا کرتا دھرتا اللہ تعالیٰ ہی ہے اس لئے اس کا زمانے کا گالی دینا فی الواقع اسے برا کہنا تھا جس کی ہاتھ میں اور جس کے بس میں زمانہ ہے جو راحت و رنج کا مالک ہے اور وہ ذات باری تعالیٰ عزاسمہ ہے پس وہ گالی حقیقی فاعل یعنی اللہ تعالیٰ پر پڑتی ہے اس لئے اس حدیث میں اللہ کے نبی ﷺ نے یہ فرمایا اور لوگوں کو اس سے روک دیا یہی شرح بہت ٹھیک اور بالکل درست ہے امام ابن حزم وغیرہ نے اس حدیث سے جو یہ سمجھ لیا ہے کہ دہر اللہ کے اسماء حسنیٰ میں سے ایک نام ہے یہ بالکل غلط ہے واللہ اعلم پھر ان بےعلموں کی کج بخشی بیان ہو رہی ہے کہ قیامت قائم ہونے کی اور دوبارہ جلائے جانے کی بالکل صاف دلیلیں جب انہیں دی جاتی ہیں اور قائل معقول کردیا جاتا ہے تو چونکہ جب کچھ بن نہیں پڑتا جھٹ سے کہہ دیتے ہیں کہ اچھا پھر ہمارے مردہ باپ دادوں پردادوں کو زندہ کر کے ہمیں دکھا دو تو ہم مان لیں گے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم اپنا پیدا کیا جانا اور مرجانا تو اپنی آنکھ سے دیکھ رہے ہو کہ تم کچھ نہ تھے اور اس نے تمہیں موجود کردیا پھر وہ تمہیں مار ڈالتا ہے تو جو ابتدا پیدا کرنے پر قادر ہے وہ دوبارہ جی اٹھانے پر قادر کیسے نہ ہوگا ؟ بلکہ عقلًا ہدایت (واضح طور پر) کے ساتھ یہ بات ثابت ہے کہ جو شروع شروع کسی چیز کو بنا دے اس پر دوبارہ اس کا بنانا بہ نسبت پہلی دفعہ کے بہت آسان ہوتا ہے، پس یہاں فرمایا کہ پھر وہ تمہیں قیامت کے دن جس کے آنے میں کوئی شک نہیں جمع کرے گا۔ وہ دنیا میں تمہیں دوبارہ لانے کا نہیں جو تم کہہ رہے ہو کہ ہمارے باپ دادوں کو زندہ کر لاؤ۔ یہ تو دار عمل ہے دار جزا قیامت کا دن ہے یہاں تو ہر ایک کو تھوڑی بہت تاخیر مل جاتی ہے جس میں وہ اگر چاہے اس دوسرے گھر کے لئے تیاریاں کرسکتا ہے بس اپنی بےعلمی کی بناء پر تمہیں اس کا انکار نہ کرنا چاہیے تم گو اسے دور جان رہے ہو لیکن دراصل وہ قریب ہی ہے تم گو اس کا آنا محال سمجھ رہے ہو لیکن فی الواقع اس کا آنا یقینی ہے مومن باعلم اور ذی عقل ہیں کہ وہ اس پر یقین کامل رکھ کر عمل میں لگے ہوئے ہیں۔

وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ مَا كَانَ حُجَّتَهُمْ إِلَّا أَنْ قَالُوا ائْتُوا بِآبَائِنَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ

📘 زمانے کو گالی مت دو دہریہ کفار اور ان کے ہم عقیدہ مشرکین کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ دنیا ہی ابتداء اور انتہاء ہے کچھ جیتے ہیں کچھ مرتے ہیں قیامت کوئی چیز نہیں فلاسفہ اور علم کلام کے قائل یہی کہتے تھے یہ لوگ ابتداء اور انتہاء کے قائل نہ تھے اور فلاسفہ میں سے جو لوگ دھریہ اور دوریہ تھے وہ خالق کے بھی منکر تھے ان کا خیال تھا کہ ہر چھتیس ہزار سال کے بعد زمانے کا ایک دور ختم ہوتا ہے اور ہر چیز اپنی اصلی حالت پر آجاتی ہے اور ایسے کئی دور کے وہ قائل تھے دراصل یہ معقول سے بھی بیکار جھگڑتے تھے اور منقول سے بھی روگردانی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ گردش زمانہ ہی ہلاک کرنے والی ہے نہ کہ اللہ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں اور بجز و ہم و خیال کے کوئی سند وہ پیش نہیں کرسکتے۔ ابو داؤد وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے ابن آدم ایذاء دیتا ہے وہ دہر کو (یعنی زمانے کو) گالیاں دیتا ہے دراصل زمانہ میں ہی ہوں تمام کام میرے ہاتھ ہیں دن رات کا ہیر پھیر کرتا ہوں۔ ایک روایت میں ہے دہر (زمانہ) کو گالی نہ دو اللہ ہی زمانہ ہے۔ ابن جریر نے اسے ایک بالکل غریب سند سے وارد کیا ہے اس میں ہے اہل جاہلیت کا خیال تھا کہ ہمیں دن رات ہی ہلاک کرتے ہیں وہی ہمیں مارتے جلاتے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کریم میں اسے نقل فرمایا وہ زمانے کو برا کہتے تھے پس اللہ عزوجل نے فرمایا مجھے ابن آدم ایذاء پہنچاتا ہے وہ زمانے کو برا کہتا ہے اور زمانہ میں ہوں میرے ہاتھ میں سب کام ہیں میں دن رات کا لے آنے لے جانے والا ہوں۔ ابن ابی حاتم میں ہے ابن آدم زمانے کو گالیاں دیتا ہے میں زمانہ ہوں دن رات میرے ہاتھ میں ہیں۔ اور حدیث میں ہے میں نے اپنے بندے سے قرض طلب کیا اس نے مجھے نہ دیا مجھے میرے بندے گالیاں دیں وہ کہتا ہے ہائے ہائے زمانہ اور زمانہ میں ہوں۔ امام شافعی اور ابو عبیدہ وغیرہ ائمہ لغت و تفسیر اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ جاہلیت کے عربوں کو جب کوئی بلا اور شدت و تکلیف پہنچتی تو وہ اسے زمانے کی طرف نسبت کرتے اور زمانے کو برا کہتے دراصل زمانہ خود تو کچھ کرتا نہیں ہر کام کا کرتا دھرتا اللہ تعالیٰ ہی ہے اس لئے اس کا زمانے کا گالی دینا فی الواقع اسے برا کہنا تھا جس کی ہاتھ میں اور جس کے بس میں زمانہ ہے جو راحت و رنج کا مالک ہے اور وہ ذات باری تعالیٰ عزاسمہ ہے پس وہ گالی حقیقی فاعل یعنی اللہ تعالیٰ پر پڑتی ہے اس لئے اس حدیث میں اللہ کے نبی ﷺ نے یہ فرمایا اور لوگوں کو اس سے روک دیا یہی شرح بہت ٹھیک اور بالکل درست ہے امام ابن حزم وغیرہ نے اس حدیث سے جو یہ سمجھ لیا ہے کہ دہر اللہ کے اسماء حسنیٰ میں سے ایک نام ہے یہ بالکل غلط ہے واللہ اعلم پھر ان بےعلموں کی کج بخشی بیان ہو رہی ہے کہ قیامت قائم ہونے کی اور دوبارہ جلائے جانے کی بالکل صاف دلیلیں جب انہیں دی جاتی ہیں اور قائل معقول کردیا جاتا ہے تو چونکہ جب کچھ بن نہیں پڑتا جھٹ سے کہہ دیتے ہیں کہ اچھا پھر ہمارے مردہ باپ دادوں پردادوں کو زندہ کر کے ہمیں دکھا دو تو ہم مان لیں گے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم اپنا پیدا کیا جانا اور مرجانا تو اپنی آنکھ سے دیکھ رہے ہو کہ تم کچھ نہ تھے اور اس نے تمہیں موجود کردیا پھر وہ تمہیں مار ڈالتا ہے تو جو ابتدا پیدا کرنے پر قادر ہے وہ دوبارہ جی اٹھانے پر قادر کیسے نہ ہوگا ؟ بلکہ عقلًا ہدایت (واضح طور پر) کے ساتھ یہ بات ثابت ہے کہ جو شروع شروع کسی چیز کو بنا دے اس پر دوبارہ اس کا بنانا بہ نسبت پہلی دفعہ کے بہت آسان ہوتا ہے، پس یہاں فرمایا کہ پھر وہ تمہیں قیامت کے دن جس کے آنے میں کوئی شک نہیں جمع کرے گا۔ وہ دنیا میں تمہیں دوبارہ لانے کا نہیں جو تم کہہ رہے ہو کہ ہمارے باپ دادوں کو زندہ کر لاؤ۔ یہ تو دار عمل ہے دار جزا قیامت کا دن ہے یہاں تو ہر ایک کو تھوڑی بہت تاخیر مل جاتی ہے جس میں وہ اگر چاہے اس دوسرے گھر کے لئے تیاریاں کرسکتا ہے بس اپنی بےعلمی کی بناء پر تمہیں اس کا انکار نہ کرنا چاہیے تم گو اسے دور جان رہے ہو لیکن دراصل وہ قریب ہی ہے تم گو اس کا آنا محال سمجھ رہے ہو لیکن فی الواقع اس کا آنا یقینی ہے مومن باعلم اور ذی عقل ہیں کہ وہ اس پر یقین کامل رکھ کر عمل میں لگے ہوئے ہیں۔

قُلِ اللَّهُ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يَجْمَعُكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

📘 زمانے کو گالی مت دو دہریہ کفار اور ان کے ہم عقیدہ مشرکین کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ دنیا ہی ابتداء اور انتہاء ہے کچھ جیتے ہیں کچھ مرتے ہیں قیامت کوئی چیز نہیں فلاسفہ اور علم کلام کے قائل یہی کہتے تھے یہ لوگ ابتداء اور انتہاء کے قائل نہ تھے اور فلاسفہ میں سے جو لوگ دھریہ اور دوریہ تھے وہ خالق کے بھی منکر تھے ان کا خیال تھا کہ ہر چھتیس ہزار سال کے بعد زمانے کا ایک دور ختم ہوتا ہے اور ہر چیز اپنی اصلی حالت پر آجاتی ہے اور ایسے کئی دور کے وہ قائل تھے دراصل یہ معقول سے بھی بیکار جھگڑتے تھے اور منقول سے بھی روگردانی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ گردش زمانہ ہی ہلاک کرنے والی ہے نہ کہ اللہ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں اور بجز و ہم و خیال کے کوئی سند وہ پیش نہیں کرسکتے۔ ابو داؤد وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے ابن آدم ایذاء دیتا ہے وہ دہر کو (یعنی زمانے کو) گالیاں دیتا ہے دراصل زمانہ میں ہی ہوں تمام کام میرے ہاتھ ہیں دن رات کا ہیر پھیر کرتا ہوں۔ ایک روایت میں ہے دہر (زمانہ) کو گالی نہ دو اللہ ہی زمانہ ہے۔ ابن جریر نے اسے ایک بالکل غریب سند سے وارد کیا ہے اس میں ہے اہل جاہلیت کا خیال تھا کہ ہمیں دن رات ہی ہلاک کرتے ہیں وہی ہمیں مارتے جلاتے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کریم میں اسے نقل فرمایا وہ زمانے کو برا کہتے تھے پس اللہ عزوجل نے فرمایا مجھے ابن آدم ایذاء پہنچاتا ہے وہ زمانے کو برا کہتا ہے اور زمانہ میں ہوں میرے ہاتھ میں سب کام ہیں میں دن رات کا لے آنے لے جانے والا ہوں۔ ابن ابی حاتم میں ہے ابن آدم زمانے کو گالیاں دیتا ہے میں زمانہ ہوں دن رات میرے ہاتھ میں ہیں۔ اور حدیث میں ہے میں نے اپنے بندے سے قرض طلب کیا اس نے مجھے نہ دیا مجھے میرے بندے گالیاں دیں وہ کہتا ہے ہائے ہائے زمانہ اور زمانہ میں ہوں۔ امام شافعی اور ابو عبیدہ وغیرہ ائمہ لغت و تفسیر اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ جاہلیت کے عربوں کو جب کوئی بلا اور شدت و تکلیف پہنچتی تو وہ اسے زمانے کی طرف نسبت کرتے اور زمانے کو برا کہتے دراصل زمانہ خود تو کچھ کرتا نہیں ہر کام کا کرتا دھرتا اللہ تعالیٰ ہی ہے اس لئے اس کا زمانے کا گالی دینا فی الواقع اسے برا کہنا تھا جس کی ہاتھ میں اور جس کے بس میں زمانہ ہے جو راحت و رنج کا مالک ہے اور وہ ذات باری تعالیٰ عزاسمہ ہے پس وہ گالی حقیقی فاعل یعنی اللہ تعالیٰ پر پڑتی ہے اس لئے اس حدیث میں اللہ کے نبی ﷺ نے یہ فرمایا اور لوگوں کو اس سے روک دیا یہی شرح بہت ٹھیک اور بالکل درست ہے امام ابن حزم وغیرہ نے اس حدیث سے جو یہ سمجھ لیا ہے کہ دہر اللہ کے اسماء حسنیٰ میں سے ایک نام ہے یہ بالکل غلط ہے واللہ اعلم پھر ان بےعلموں کی کج بخشی بیان ہو رہی ہے کہ قیامت قائم ہونے کی اور دوبارہ جلائے جانے کی بالکل صاف دلیلیں جب انہیں دی جاتی ہیں اور قائل معقول کردیا جاتا ہے تو چونکہ جب کچھ بن نہیں پڑتا جھٹ سے کہہ دیتے ہیں کہ اچھا پھر ہمارے مردہ باپ دادوں پردادوں کو زندہ کر کے ہمیں دکھا دو تو ہم مان لیں گے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم اپنا پیدا کیا جانا اور مرجانا تو اپنی آنکھ سے دیکھ رہے ہو کہ تم کچھ نہ تھے اور اس نے تمہیں موجود کردیا پھر وہ تمہیں مار ڈالتا ہے تو جو ابتدا پیدا کرنے پر قادر ہے وہ دوبارہ جی اٹھانے پر قادر کیسے نہ ہوگا ؟ بلکہ عقلًا ہدایت (واضح طور پر) کے ساتھ یہ بات ثابت ہے کہ جو شروع شروع کسی چیز کو بنا دے اس پر دوبارہ اس کا بنانا بہ نسبت پہلی دفعہ کے بہت آسان ہوتا ہے، پس یہاں فرمایا کہ پھر وہ تمہیں قیامت کے دن جس کے آنے میں کوئی شک نہیں جمع کرے گا۔ وہ دنیا میں تمہیں دوبارہ لانے کا نہیں جو تم کہہ رہے ہو کہ ہمارے باپ دادوں کو زندہ کر لاؤ۔ یہ تو دار عمل ہے دار جزا قیامت کا دن ہے یہاں تو ہر ایک کو تھوڑی بہت تاخیر مل جاتی ہے جس میں وہ اگر چاہے اس دوسرے گھر کے لئے تیاریاں کرسکتا ہے بس اپنی بےعلمی کی بناء پر تمہیں اس کا انکار نہ کرنا چاہیے تم گو اسے دور جان رہے ہو لیکن دراصل وہ قریب ہی ہے تم گو اس کا آنا محال سمجھ رہے ہو لیکن فی الواقع اس کا آنا یقینی ہے مومن باعلم اور ذی عقل ہیں کہ وہ اس پر یقین کامل رکھ کر عمل میں لگے ہوئے ہیں۔

وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَخْسَرُ الْمُبْطِلُونَ

📘 اس دن ہر شخص گھٹنوں کے بل گرا ہو گا اب سے لے کر ہمیشہ تک اور آج سے پہلے بھی تمام آسمانوں کا کل زمینوں کا مالک بادشاہ سلطان اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اللہ کے اور اس کی کتابوں کے اور اس کے رسولوں کے منکر قیامت کے روز بڑے گھاٹے میں رہیں گے۔ حضرت سفیان ثوری جب مدینے شریف میں تشریف لائے تو آپ نے سنا کہ معافری ایک ظریف شخص ہیں لوگوں کو اپنے کلام سے ہنسایا کرتے ہیں تو آپ نے انہیں نصیحت کی اور فرمایا کیوں جناب کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ایک دن آئے گا جس میں باطل والے خسارے میں پڑیں گے۔ اس کا بہت اچھا اثر ہوا اور حضرت معافری مرتے دم تک اس نصیحت کو نہ بھولے (ابن ابی حاتم) وہ دن ایسا ہولناک اور سخت تر ہوگا کہ ہر شخص گھٹنوں پر گرجائے گا۔ یہاں تک کہ خلیل اللہ حضرت ابراہیم اور روح اللہ حضرت عیسیٰ بھی۔ ان کی زبان سے بھی اس وقت (نفسی نفسی نفسی) نکلے گا۔ صاف کہہ دیں گے کہ اللہ آج ہم تجھ سے اور کچھ نہیں مانگتے صرف اپنی سلامتی چاہتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ فرمائیں گے کہ آج میں اپنی والدہ کے لئے بھی تجھ سے کچھ عرض نہیں کرتا بس مجھے بچا لے۔ گو بعض مفسرین نے کہا ہے کہ مراد یہ ہے کہ ہر گروہ جداگانہ الگ الگ ہوگا لیکن اس سے اولیٰ اور بہتر وہی تفسیر ہے جو ہم نے کی یعنی ہر ایک اپنے زانو پر گرا ہوا ہوگا۔ ابن ابی حاتم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں گویا کہ میں تمہیں جہنم کے پاس زانو پر جھکے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ اور مرفوع حدیث میں جس میں صور وغیرہ کا بیان ہے یہ بھی ہے کہ پھر لوگ جدا جدا کر دئیے جائیں گے اور تمام امتیں زانو پر جھکیں پڑیں گی یہی اللہ کا فرمان ہے آیت (وَتَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً ۣ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰٓى اِلٰى كِتٰبِهَا ۭ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 28؀) 45۔ الجاثية :28) ، اس میں دونوں حالتیں جمع کردی ہیں پس دراصل دونوں تفسیروں میں ایک دوسرے کے خلاف نہیں واللہ اعلم، پھر فرمایا ہر گروہ اپنے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا۔ جیسے ارشاد ہے (وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْۗءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ 69؀) 39۔ الزمر :69) ، نامہ اعمال رکھا جائے گا اور نبیوں اور گواہوں کو لایا جائے گا۔ آج تمہیں تمہارے ہر ہر عمل کا بدلہ بھرپور دیا جائے گا جیسے فرمان ہے آیت (يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍۢ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ 13؀ۭ) 75۔ القیامة :13) ، انسان کو ہر اس چیز سے باخبر کردیا جائے گا جو اس نے آگے بھیجی اور پیچھے چھوڑی اس کے اگلے پچھلے تمام اعمال ہوں گے بلکہ خود انسان اپنے حال پر خوب مطلع ہوجائے گا گو اپنے تمام تر حیلے سامنے لا ڈالے۔ یہ اعمال نامہ جو ہمارے حکم سے ہمارے امین اور سچے فرشتوں نے لکھا ہے وہ تمہارے اعمال کو تمہارے سامنے پیش کردینے کے لئے کافی وافی ہیں جیسے ارشاد ہے (وَوُضِـعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مِمَّا فِيْهِ وَيَقُوْلُوْنَ يٰوَيْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيْرَةً وَّلَا كَبِيْرَةً اِلَّآ اَحْصٰىهَا 49؀) 18۔ الكهف :49) ، یعنی نامہ اعمال سامنے رکھ دیا جائے گا تو تو دیکھے گا کہ گنہگار اس سے خوفزدہ ہوجائیں گے اور کہیں گے ہائے ہماری کم بختی اور عمل نامے کی تو یہ صفت ہے کہ کسی چھوٹے بڑے عمل کو قلم بند کئے بغیر چھوڑا ہی نہیں ہے جو کچھ انہوں نے کیا تھا سب سامنے حاضر پالیں گے۔ تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ پھر فرماتا ہے کہ ہم نے محافظ فرشتوں کو حکم دے دیا تھا کہ وہ تمہارے اعمال لکھتے رہا کریں۔ حضرت ابن عباس وغیرہ فرماتے ہیں کہ فرشتے بندوں کے اعمال لکھتے ہیں پھر انہیں لے کر آسمان پر چڑھتے ہیں آسمان کے دیوان عمل کے رشتے اس نامہ اعمال کو لوح محفوظ میں لکھے ہوئے اعمال سے ملاتے ہیں جو ہر رات اس کی مقدار کے مطابق ان پر ظاہر ہوتا ہے جسے اللہ نے اپنی مخلوق کی پیدائش سے پہلے ہی لکھا ہے تو ایک حرف کی کمی زیادتی نہیں پاتے پھر آپ نے اسی آخری جملے کی تلاوت فرمائی۔

وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً ۚ كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَىٰ إِلَىٰ كِتَابِهَا الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ

📘 اس دن ہر شخص گھٹنوں کے بل گرا ہو گا اب سے لے کر ہمیشہ تک اور آج سے پہلے بھی تمام آسمانوں کا کل زمینوں کا مالک بادشاہ سلطان اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اللہ کے اور اس کی کتابوں کے اور اس کے رسولوں کے منکر قیامت کے روز بڑے گھاٹے میں رہیں گے۔ حضرت سفیان ثوری جب مدینے شریف میں تشریف لائے تو آپ نے سنا کہ معافری ایک ظریف شخص ہیں لوگوں کو اپنے کلام سے ہنسایا کرتے ہیں تو آپ نے انہیں نصیحت کی اور فرمایا کیوں جناب کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ایک دن آئے گا جس میں باطل والے خسارے میں پڑیں گے۔ اس کا بہت اچھا اثر ہوا اور حضرت معافری مرتے دم تک اس نصیحت کو نہ بھولے (ابن ابی حاتم) وہ دن ایسا ہولناک اور سخت تر ہوگا کہ ہر شخص گھٹنوں پر گرجائے گا۔ یہاں تک کہ خلیل اللہ حضرت ابراہیم اور روح اللہ حضرت عیسیٰ بھی۔ ان کی زبان سے بھی اس وقت (نفسی نفسی نفسی) نکلے گا۔ صاف کہہ دیں گے کہ اللہ آج ہم تجھ سے اور کچھ نہیں مانگتے صرف اپنی سلامتی چاہتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ فرمائیں گے کہ آج میں اپنی والدہ کے لئے بھی تجھ سے کچھ عرض نہیں کرتا بس مجھے بچا لے۔ گو بعض مفسرین نے کہا ہے کہ مراد یہ ہے کہ ہر گروہ جداگانہ الگ الگ ہوگا لیکن اس سے اولیٰ اور بہتر وہی تفسیر ہے جو ہم نے کی یعنی ہر ایک اپنے زانو پر گرا ہوا ہوگا۔ ابن ابی حاتم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں گویا کہ میں تمہیں جہنم کے پاس زانو پر جھکے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ اور مرفوع حدیث میں جس میں صور وغیرہ کا بیان ہے یہ بھی ہے کہ پھر لوگ جدا جدا کر دئیے جائیں گے اور تمام امتیں زانو پر جھکیں پڑیں گی یہی اللہ کا فرمان ہے آیت (وَتَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً ۣ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰٓى اِلٰى كِتٰبِهَا ۭ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 28؀) 45۔ الجاثية :28) ، اس میں دونوں حالتیں جمع کردی ہیں پس دراصل دونوں تفسیروں میں ایک دوسرے کے خلاف نہیں واللہ اعلم، پھر فرمایا ہر گروہ اپنے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا۔ جیسے ارشاد ہے (وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْۗءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ 69؀) 39۔ الزمر :69) ، نامہ اعمال رکھا جائے گا اور نبیوں اور گواہوں کو لایا جائے گا۔ آج تمہیں تمہارے ہر ہر عمل کا بدلہ بھرپور دیا جائے گا جیسے فرمان ہے آیت (يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍۢ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ 13؀ۭ) 75۔ القیامة :13) ، انسان کو ہر اس چیز سے باخبر کردیا جائے گا جو اس نے آگے بھیجی اور پیچھے چھوڑی اس کے اگلے پچھلے تمام اعمال ہوں گے بلکہ خود انسان اپنے حال پر خوب مطلع ہوجائے گا گو اپنے تمام تر حیلے سامنے لا ڈالے۔ یہ اعمال نامہ جو ہمارے حکم سے ہمارے امین اور سچے فرشتوں نے لکھا ہے وہ تمہارے اعمال کو تمہارے سامنے پیش کردینے کے لئے کافی وافی ہیں جیسے ارشاد ہے (وَوُضِـعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مِمَّا فِيْهِ وَيَقُوْلُوْنَ يٰوَيْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيْرَةً وَّلَا كَبِيْرَةً اِلَّآ اَحْصٰىهَا 49؀) 18۔ الكهف :49) ، یعنی نامہ اعمال سامنے رکھ دیا جائے گا تو تو دیکھے گا کہ گنہگار اس سے خوفزدہ ہوجائیں گے اور کہیں گے ہائے ہماری کم بختی اور عمل نامے کی تو یہ صفت ہے کہ کسی چھوٹے بڑے عمل کو قلم بند کئے بغیر چھوڑا ہی نہیں ہے جو کچھ انہوں نے کیا تھا سب سامنے حاضر پالیں گے۔ تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ پھر فرماتا ہے کہ ہم نے محافظ فرشتوں کو حکم دے دیا تھا کہ وہ تمہارے اعمال لکھتے رہا کریں۔ حضرت ابن عباس وغیرہ فرماتے ہیں کہ فرشتے بندوں کے اعمال لکھتے ہیں پھر انہیں لے کر آسمان پر چڑھتے ہیں آسمان کے دیوان عمل کے رشتے اس نامہ اعمال کو لوح محفوظ میں لکھے ہوئے اعمال سے ملاتے ہیں جو ہر رات اس کی مقدار کے مطابق ان پر ظاہر ہوتا ہے جسے اللہ نے اپنی مخلوق کی پیدائش سے پہلے ہی لکھا ہے تو ایک حرف کی کمی زیادتی نہیں پاتے پھر آپ نے اسی آخری جملے کی تلاوت فرمائی۔

هَٰذَا كِتَابُنَا يَنْطِقُ عَلَيْكُمْ بِالْحَقِّ ۚ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ

📘 اس دن ہر شخص گھٹنوں کے بل گرا ہو گا اب سے لے کر ہمیشہ تک اور آج سے پہلے بھی تمام آسمانوں کا کل زمینوں کا مالک بادشاہ سلطان اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اللہ کے اور اس کی کتابوں کے اور اس کے رسولوں کے منکر قیامت کے روز بڑے گھاٹے میں رہیں گے۔ حضرت سفیان ثوری جب مدینے شریف میں تشریف لائے تو آپ نے سنا کہ معافری ایک ظریف شخص ہیں لوگوں کو اپنے کلام سے ہنسایا کرتے ہیں تو آپ نے انہیں نصیحت کی اور فرمایا کیوں جناب کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ایک دن آئے گا جس میں باطل والے خسارے میں پڑیں گے۔ اس کا بہت اچھا اثر ہوا اور حضرت معافری مرتے دم تک اس نصیحت کو نہ بھولے (ابن ابی حاتم) وہ دن ایسا ہولناک اور سخت تر ہوگا کہ ہر شخص گھٹنوں پر گرجائے گا۔ یہاں تک کہ خلیل اللہ حضرت ابراہیم اور روح اللہ حضرت عیسیٰ بھی۔ ان کی زبان سے بھی اس وقت (نفسی نفسی نفسی) نکلے گا۔ صاف کہہ دیں گے کہ اللہ آج ہم تجھ سے اور کچھ نہیں مانگتے صرف اپنی سلامتی چاہتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ فرمائیں گے کہ آج میں اپنی والدہ کے لئے بھی تجھ سے کچھ عرض نہیں کرتا بس مجھے بچا لے۔ گو بعض مفسرین نے کہا ہے کہ مراد یہ ہے کہ ہر گروہ جداگانہ الگ الگ ہوگا لیکن اس سے اولیٰ اور بہتر وہی تفسیر ہے جو ہم نے کی یعنی ہر ایک اپنے زانو پر گرا ہوا ہوگا۔ ابن ابی حاتم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں گویا کہ میں تمہیں جہنم کے پاس زانو پر جھکے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ اور مرفوع حدیث میں جس میں صور وغیرہ کا بیان ہے یہ بھی ہے کہ پھر لوگ جدا جدا کر دئیے جائیں گے اور تمام امتیں زانو پر جھکیں پڑیں گی یہی اللہ کا فرمان ہے آیت (وَتَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً ۣ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰٓى اِلٰى كِتٰبِهَا ۭ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 28؀) 45۔ الجاثية :28) ، اس میں دونوں حالتیں جمع کردی ہیں پس دراصل دونوں تفسیروں میں ایک دوسرے کے خلاف نہیں واللہ اعلم، پھر فرمایا ہر گروہ اپنے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا۔ جیسے ارشاد ہے (وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْۗءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ 69؀) 39۔ الزمر :69) ، نامہ اعمال رکھا جائے گا اور نبیوں اور گواہوں کو لایا جائے گا۔ آج تمہیں تمہارے ہر ہر عمل کا بدلہ بھرپور دیا جائے گا جیسے فرمان ہے آیت (يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍۢ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ 13؀ۭ) 75۔ القیامة :13) ، انسان کو ہر اس چیز سے باخبر کردیا جائے گا جو اس نے آگے بھیجی اور پیچھے چھوڑی اس کے اگلے پچھلے تمام اعمال ہوں گے بلکہ خود انسان اپنے حال پر خوب مطلع ہوجائے گا گو اپنے تمام تر حیلے سامنے لا ڈالے۔ یہ اعمال نامہ جو ہمارے حکم سے ہمارے امین اور سچے فرشتوں نے لکھا ہے وہ تمہارے اعمال کو تمہارے سامنے پیش کردینے کے لئے کافی وافی ہیں جیسے ارشاد ہے (وَوُضِـعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مِمَّا فِيْهِ وَيَقُوْلُوْنَ يٰوَيْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيْرَةً وَّلَا كَبِيْرَةً اِلَّآ اَحْصٰىهَا 49؀) 18۔ الكهف :49) ، یعنی نامہ اعمال سامنے رکھ دیا جائے گا تو تو دیکھے گا کہ گنہگار اس سے خوفزدہ ہوجائیں گے اور کہیں گے ہائے ہماری کم بختی اور عمل نامے کی تو یہ صفت ہے کہ کسی چھوٹے بڑے عمل کو قلم بند کئے بغیر چھوڑا ہی نہیں ہے جو کچھ انہوں نے کیا تھا سب سامنے حاضر پالیں گے۔ تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ پھر فرماتا ہے کہ ہم نے محافظ فرشتوں کو حکم دے دیا تھا کہ وہ تمہارے اعمال لکھتے رہا کریں۔ حضرت ابن عباس وغیرہ فرماتے ہیں کہ فرشتے بندوں کے اعمال لکھتے ہیں پھر انہیں لے کر آسمان پر چڑھتے ہیں آسمان کے دیوان عمل کے رشتے اس نامہ اعمال کو لوح محفوظ میں لکھے ہوئے اعمال سے ملاتے ہیں جو ہر رات اس کی مقدار کے مطابق ان پر ظاہر ہوتا ہے جسے اللہ نے اپنی مخلوق کی پیدائش سے پہلے ہی لکھا ہے تو ایک حرف کی کمی زیادتی نہیں پاتے پھر آپ نے اسی آخری جملے کی تلاوت فرمائی۔

إِنَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِلْمُؤْمِنِينَ

📘 اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو ہدایت فرماتا ہے کہ وہ قدرت کی نشانیوں میں غور و فکر کریں۔ اللہ کی نعمتوں کو جانیں اور پہچانیں پھر ان کا شکر بجا لائیں دیکھیں کہ اللہ کتنی بڑی قدرتوں والا ہے جس نے آسمان و زمین اور مختلف قسم کی تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے فرشتے، جن، انسان، چوپائے، پرند، جنگلی جانور، درندے، کیڑے، پتنگے سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ سمندر کی بیشمار مخلوق کا خالق بھی وہی ایک ہے۔ دن کو رات کے بعد اور رات کو دن کے پیچھے وہی لا رہا ہے رات کا اندھیرا دن کا اجالا اسی کے قبضے کی چیزیں ہیں۔ حاجت کے وقت انداز کے مطابق بادلوں سے پانی وہی برساتا ہے رزق سے مراد بارش ہے اس لئے کہ اسی سے کھانے کی چیزیں اگتی ہیں۔ خشک بنجر زمین سبز و شاداب ہوجاتی ہے اور طرح طرح کی پیداوار اگاتی ہے۔ شمالی جنوبی پروا پچھوا ترو خشک کم و بیش رات اور دن کی ہوائیں وہی چلاتا ہے۔ بعض ہوائیں بارش کو لاتی ہیں بعض بادلوں کو پانی والا کردیتی ہیں۔ بعض روح کی غذا بنتی ہیں اور بعض ان کے سوا کاموں کے لئے چلتی ہیں۔ پہلے فرمایا کہ اس میں ایمان والوں کے لئے نشانیاں ہیں پھر یقین والوں کے لئے فرمایا پھر عقل والوں کے لئے فرمایا یہ ایک عزت والے کا حال سے دوسرے عزت والے حال کی طرف ترقی کرنا ہے۔ اسی کے مثل سورة بقرہ کی آیت (اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّھَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ01900ڌ) 3۔ آل عمران :190) ، ہے امام ابن ابی حاتم نے یہاں پر ایک طویل اثر وارد کیا ہے لیکن وہ غریب ہے اس میں انسان کو چار قسم کے اخلاط سے پیدا کرنا بھی ہے۔ واللہ اعلم۔

فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَيُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِي رَحْمَتِهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِينُ

📘 کبریائی اللہ عزوجل کی چادر ہے ان آیتوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے اس فیصلے کی خبر دیتا ہے جو وہ آخرت کے دن اپنے بندوں کے درمیان کرے گا۔ جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے اور اپنے ہاتھ پاؤں سے مطابق شرع نیک نیتی کے ساتھ اچھے عمل کئے انہیں اپنے کرم و رحم سے جنت عطا فرمائے گا رحمت سے مراد جنت ہے۔ جیسے صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے جسے میں چاہوں گا تجھے عطا فرماؤں گا، کھلی کامیابی اور حقیقی مراد کو حاصل کرلینا یہی ہے اور جو لوگ ایمان سے رک گئے بلکہ کفر کیا ان سے قیامت کے دن بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ کیا اللہ تعالیٰ کی آیتیں تمہارے سامنے نہیں پڑھی جاتی تھیں ؟ یعنی یقینا پڑھی جاتی تھیں اور تمہیں سنائی جاتی تھیں پھر بھی تم نے غرور و نخوت میں آکر ان کی اتباع نہ کی۔ بلکہ ان سے منہ پھیرے رہے اپنے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کی تکذیب لئے ہوئے تم نے ظاہرا اپنے افعال میں بھی اس کی نافرمانی کی گناہوں پر گناہ دلیری سے کرتے چلے گئے اور قیامت ضرور قائم ہوگی اس کے آنے میں کوئی شک نہیں تو تم پلٹ کر جواب دے دیا کرتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کسے کہتے ہیں ؟ ہمیں اگرچہ کچھ یوں ہی سا وہم ہوتا ہے لیکن ہرگز یقین نہیں کہ قیامت ضرور آئے گی ہی اب ان کی بد اعمالیوں کی سزا ان کے سامنے آگئی اپنی آنکھوں اپنے کرتوت کا بدلہ دیکھ چکے اور جس عذاب و سزا کا انکار کرتے تھے، جسے مذاق میں اڑاتے تھے جس کا ہونا ناممکن سمجھ رہے تھے ان عذابوں نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا اور انہیں ہر قسم کی بھلائی سے مایوس کرنے کے لئے کہہ دیا گیا کہ ہم تمہارے ساتھ وہی معاملہ کریں گے جیسے کوئی کسی کو بھول جاتا ہے یعنی جہنم میں جھونک کر پھر تمہیں کبھی اچھائی سے یاد بھی نہ کریں گے۔ یہ بدلہ ہے اس کا کہ تم اس دن کی ملاقات کو بھلائے ہوئے تھے، اس کے لئے تم نے کوئی عمل نہ کیا، کیونکہ تم اس کے آنے کی صداقت کے قائل ہی نہ تھے۔ اب تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے اور کوئی نہیں جو تمہاری کسی قسم کی مدد کرسکے۔ صحیح حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں سے قیامت کے دن فرمائے گا کیا میں نے تجھے بال بچے نہیں دئیے تھے ؟ کیا میں نے تجھ پر دنیا میں انعام و اکرام نازل نہیں فرمائے تھے ؟ کیا میں نے تیرے لئے اونٹوں اور گھوڑوں کو مطیع اور فرمانبردار نہیں کیا تھا ؟ اور تجھے چھوڑ دیا تھا کہ سرور و خوشی کے ساتھ اپنے مکانات اور حویلیوں میں آزادی کی زندگی بسر کرے ؟ یہ جواب دے گا کہ میرے پروردگار یہ سب سچ ہے بیشک تیرے یہ تمام احسانات مجھ پر تھے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا پس آج میں تجھے اس طرح بھلا دوں گا جس طرح تو مجھے بھول گیا تھا پھر فرماتا ہے کہ یہ سزائیں تمہیں اسلئے دی گئی ہیں کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا خوب مذاق اڑایا تھا۔ اور دنیا کی زندگی نے تمہیں دھوکے میں ڈال رکھا تھا تم اسی پر مطمئن تھے اور اس قدر تم نے بےفکری برتی کہ آخر آج نقصان اور خسارے میں پڑگئے۔ اب تم دوزخ سے نکالے نہ جاؤ گے اور نہ تم سے ہماری خفگی کے دور کرنے کی کوئی وجہ طلب کی جائے گی یعنی اس عذاب سے تمہارا چھٹکارا بھی محال اور اب میری رضامندی کا تمہیں حاصل ہونا بھی ناممکن۔ جیسے کہ مومن بغیر عذاب و حساب کے جنت میں جائیں گے۔ ایسے ہی تم بےحساب عذاب کئے جاؤ گے اور تمہاری توبہ بےسود رہے گی اپنے اس فیصلے کو جو مومنوں اور کافروں میں ہوگیا بیان فرما کر اب ارشاد فرماتا ہے کہ تمام حمد زمین و آسمان اور ہر چیز کے مالک اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے۔ جو کل جہان کا پالنہار ہے اسی کو کبریائی یعنی سلطنت اور بڑائی آسمانوں اور زمینوں میں ہے وہ بڑی عظمت اور بزرگی والا ہے۔ ہر چیز اس کے سامنے پست ہے ہر ایک اس کا محتاج ہے صحیح مسلم شریف کی حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ جل و علا فرماتا ہے عظمت میرا تہبند ہے اور کبریائی میری چادر ہے جو شخص ان میں سے کسی کو بھی مجھ سے لینا چاہے گا میں اسے جہنم رسید کر دونگا۔ یعنی بڑائی اور تکبر کرنے والا دوزخی ہے۔ وہ عزیز ہے یعنی غالب ہے جو کبھی کسی سے مغلوب نہیں ہونے کا کوئی نہیں جو اس پر روک ٹوک کرسکے۔ اس کے سامنے پڑ سکے وہ حکیم ہے۔ اس کا کوئی قول کوئی فعل اس کی شریعت کا کوئی مسئلہ اس کی لکھی ہوئی تقدیر کا کوئی حرف حکمت سے خالی نہیں نہ اس کے سوا کوئی مسجود۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے سورة جاثیہ کی تفسیر ختم ہوئی اور اسی کے ساتھ پچیسویں پارے کی تفسیر ختم ہوئی۔ فالحمدللہ

وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا أَفَلَمْ تَكُنْ آيَاتِي تُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَكُنْتُمْ قَوْمًا مُجْرِمِينَ

📘 کبریائی اللہ عزوجل کی چادر ہے ان آیتوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے اس فیصلے کی خبر دیتا ہے جو وہ آخرت کے دن اپنے بندوں کے درمیان کرے گا۔ جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے اور اپنے ہاتھ پاؤں سے مطابق شرع نیک نیتی کے ساتھ اچھے عمل کئے انہیں اپنے کرم و رحم سے جنت عطا فرمائے گا رحمت سے مراد جنت ہے۔ جیسے صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے جسے میں چاہوں گا تجھے عطا فرماؤں گا، کھلی کامیابی اور حقیقی مراد کو حاصل کرلینا یہی ہے اور جو لوگ ایمان سے رک گئے بلکہ کفر کیا ان سے قیامت کے دن بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ کیا اللہ تعالیٰ کی آیتیں تمہارے سامنے نہیں پڑھی جاتی تھیں ؟ یعنی یقینا پڑھی جاتی تھیں اور تمہیں سنائی جاتی تھیں پھر بھی تم نے غرور و نخوت میں آکر ان کی اتباع نہ کی۔ بلکہ ان سے منہ پھیرے رہے اپنے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کی تکذیب لئے ہوئے تم نے ظاہرا اپنے افعال میں بھی اس کی نافرمانی کی گناہوں پر گناہ دلیری سے کرتے چلے گئے اور قیامت ضرور قائم ہوگی اس کے آنے میں کوئی شک نہیں تو تم پلٹ کر جواب دے دیا کرتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کسے کہتے ہیں ؟ ہمیں اگرچہ کچھ یوں ہی سا وہم ہوتا ہے لیکن ہرگز یقین نہیں کہ قیامت ضرور آئے گی ہی اب ان کی بد اعمالیوں کی سزا ان کے سامنے آگئی اپنی آنکھوں اپنے کرتوت کا بدلہ دیکھ چکے اور جس عذاب و سزا کا انکار کرتے تھے، جسے مذاق میں اڑاتے تھے جس کا ہونا ناممکن سمجھ رہے تھے ان عذابوں نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا اور انہیں ہر قسم کی بھلائی سے مایوس کرنے کے لئے کہہ دیا گیا کہ ہم تمہارے ساتھ وہی معاملہ کریں گے جیسے کوئی کسی کو بھول جاتا ہے یعنی جہنم میں جھونک کر پھر تمہیں کبھی اچھائی سے یاد بھی نہ کریں گے۔ یہ بدلہ ہے اس کا کہ تم اس دن کی ملاقات کو بھلائے ہوئے تھے، اس کے لئے تم نے کوئی عمل نہ کیا، کیونکہ تم اس کے آنے کی صداقت کے قائل ہی نہ تھے۔ اب تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے اور کوئی نہیں جو تمہاری کسی قسم کی مدد کرسکے۔ صحیح حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں سے قیامت کے دن فرمائے گا کیا میں نے تجھے بال بچے نہیں دئیے تھے ؟ کیا میں نے تجھ پر دنیا میں انعام و اکرام نازل نہیں فرمائے تھے ؟ کیا میں نے تیرے لئے اونٹوں اور گھوڑوں کو مطیع اور فرمانبردار نہیں کیا تھا ؟ اور تجھے چھوڑ دیا تھا کہ سرور و خوشی کے ساتھ اپنے مکانات اور حویلیوں میں آزادی کی زندگی بسر کرے ؟ یہ جواب دے گا کہ میرے پروردگار یہ سب سچ ہے بیشک تیرے یہ تمام احسانات مجھ پر تھے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا پس آج میں تجھے اس طرح بھلا دوں گا جس طرح تو مجھے بھول گیا تھا پھر فرماتا ہے کہ یہ سزائیں تمہیں اسلئے دی گئی ہیں کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا خوب مذاق اڑایا تھا۔ اور دنیا کی زندگی نے تمہیں دھوکے میں ڈال رکھا تھا تم اسی پر مطمئن تھے اور اس قدر تم نے بےفکری برتی کہ آخر آج نقصان اور خسارے میں پڑگئے۔ اب تم دوزخ سے نکالے نہ جاؤ گے اور نہ تم سے ہماری خفگی کے دور کرنے کی کوئی وجہ طلب کی جائے گی یعنی اس عذاب سے تمہارا چھٹکارا بھی محال اور اب میری رضامندی کا تمہیں حاصل ہونا بھی ناممکن۔ جیسے کہ مومن بغیر عذاب و حساب کے جنت میں جائیں گے۔ ایسے ہی تم بےحساب عذاب کئے جاؤ گے اور تمہاری توبہ بےسود رہے گی اپنے اس فیصلے کو جو مومنوں اور کافروں میں ہوگیا بیان فرما کر اب ارشاد فرماتا ہے کہ تمام حمد زمین و آسمان اور ہر چیز کے مالک اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے۔ جو کل جہان کا پالنہار ہے اسی کو کبریائی یعنی سلطنت اور بڑائی آسمانوں اور زمینوں میں ہے وہ بڑی عظمت اور بزرگی والا ہے۔ ہر چیز اس کے سامنے پست ہے ہر ایک اس کا محتاج ہے صحیح مسلم شریف کی حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ جل و علا فرماتا ہے عظمت میرا تہبند ہے اور کبریائی میری چادر ہے جو شخص ان میں سے کسی کو بھی مجھ سے لینا چاہے گا میں اسے جہنم رسید کر دونگا۔ یعنی بڑائی اور تکبر کرنے والا دوزخی ہے۔ وہ عزیز ہے یعنی غالب ہے جو کبھی کسی سے مغلوب نہیں ہونے کا کوئی نہیں جو اس پر روک ٹوک کرسکے۔ اس کے سامنے پڑ سکے وہ حکیم ہے۔ اس کا کوئی قول کوئی فعل اس کی شریعت کا کوئی مسئلہ اس کی لکھی ہوئی تقدیر کا کوئی حرف حکمت سے خالی نہیں نہ اس کے سوا کوئی مسجود۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے سورة جاثیہ کی تفسیر ختم ہوئی اور اسی کے ساتھ پچیسویں پارے کی تفسیر ختم ہوئی۔ فالحمدللہ

وَإِذَا قِيلَ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ لَا رَيْبَ فِيهَا قُلْتُمْ مَا نَدْرِي مَا السَّاعَةُ إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا وَمَا نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِينَ

📘 کبریائی اللہ عزوجل کی چادر ہے ان آیتوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے اس فیصلے کی خبر دیتا ہے جو وہ آخرت کے دن اپنے بندوں کے درمیان کرے گا۔ جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے اور اپنے ہاتھ پاؤں سے مطابق شرع نیک نیتی کے ساتھ اچھے عمل کئے انہیں اپنے کرم و رحم سے جنت عطا فرمائے گا رحمت سے مراد جنت ہے۔ جیسے صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے جسے میں چاہوں گا تجھے عطا فرماؤں گا، کھلی کامیابی اور حقیقی مراد کو حاصل کرلینا یہی ہے اور جو لوگ ایمان سے رک گئے بلکہ کفر کیا ان سے قیامت کے دن بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ کیا اللہ تعالیٰ کی آیتیں تمہارے سامنے نہیں پڑھی جاتی تھیں ؟ یعنی یقینا پڑھی جاتی تھیں اور تمہیں سنائی جاتی تھیں پھر بھی تم نے غرور و نخوت میں آکر ان کی اتباع نہ کی۔ بلکہ ان سے منہ پھیرے رہے اپنے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کی تکذیب لئے ہوئے تم نے ظاہرا اپنے افعال میں بھی اس کی نافرمانی کی گناہوں پر گناہ دلیری سے کرتے چلے گئے اور قیامت ضرور قائم ہوگی اس کے آنے میں کوئی شک نہیں تو تم پلٹ کر جواب دے دیا کرتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کسے کہتے ہیں ؟ ہمیں اگرچہ کچھ یوں ہی سا وہم ہوتا ہے لیکن ہرگز یقین نہیں کہ قیامت ضرور آئے گی ہی اب ان کی بد اعمالیوں کی سزا ان کے سامنے آگئی اپنی آنکھوں اپنے کرتوت کا بدلہ دیکھ چکے اور جس عذاب و سزا کا انکار کرتے تھے، جسے مذاق میں اڑاتے تھے جس کا ہونا ناممکن سمجھ رہے تھے ان عذابوں نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا اور انہیں ہر قسم کی بھلائی سے مایوس کرنے کے لئے کہہ دیا گیا کہ ہم تمہارے ساتھ وہی معاملہ کریں گے جیسے کوئی کسی کو بھول جاتا ہے یعنی جہنم میں جھونک کر پھر تمہیں کبھی اچھائی سے یاد بھی نہ کریں گے۔ یہ بدلہ ہے اس کا کہ تم اس دن کی ملاقات کو بھلائے ہوئے تھے، اس کے لئے تم نے کوئی عمل نہ کیا، کیونکہ تم اس کے آنے کی صداقت کے قائل ہی نہ تھے۔ اب تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے اور کوئی نہیں جو تمہاری کسی قسم کی مدد کرسکے۔ صحیح حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں سے قیامت کے دن فرمائے گا کیا میں نے تجھے بال بچے نہیں دئیے تھے ؟ کیا میں نے تجھ پر دنیا میں انعام و اکرام نازل نہیں فرمائے تھے ؟ کیا میں نے تیرے لئے اونٹوں اور گھوڑوں کو مطیع اور فرمانبردار نہیں کیا تھا ؟ اور تجھے چھوڑ دیا تھا کہ سرور و خوشی کے ساتھ اپنے مکانات اور حویلیوں میں آزادی کی زندگی بسر کرے ؟ یہ جواب دے گا کہ میرے پروردگار یہ سب سچ ہے بیشک تیرے یہ تمام احسانات مجھ پر تھے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا پس آج میں تجھے اس طرح بھلا دوں گا جس طرح تو مجھے بھول گیا تھا پھر فرماتا ہے کہ یہ سزائیں تمہیں اسلئے دی گئی ہیں کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا خوب مذاق اڑایا تھا۔ اور دنیا کی زندگی نے تمہیں دھوکے میں ڈال رکھا تھا تم اسی پر مطمئن تھے اور اس قدر تم نے بےفکری برتی کہ آخر آج نقصان اور خسارے میں پڑگئے۔ اب تم دوزخ سے نکالے نہ جاؤ گے اور نہ تم سے ہماری خفگی کے دور کرنے کی کوئی وجہ طلب کی جائے گی یعنی اس عذاب سے تمہارا چھٹکارا بھی محال اور اب میری رضامندی کا تمہیں حاصل ہونا بھی ناممکن۔ جیسے کہ مومن بغیر عذاب و حساب کے جنت میں جائیں گے۔ ایسے ہی تم بےحساب عذاب کئے جاؤ گے اور تمہاری توبہ بےسود رہے گی اپنے اس فیصلے کو جو مومنوں اور کافروں میں ہوگیا بیان فرما کر اب ارشاد فرماتا ہے کہ تمام حمد زمین و آسمان اور ہر چیز کے مالک اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے۔ جو کل جہان کا پالنہار ہے اسی کو کبریائی یعنی سلطنت اور بڑائی آسمانوں اور زمینوں میں ہے وہ بڑی عظمت اور بزرگی والا ہے۔ ہر چیز اس کے سامنے پست ہے ہر ایک اس کا محتاج ہے صحیح مسلم شریف کی حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ جل و علا فرماتا ہے عظمت میرا تہبند ہے اور کبریائی میری چادر ہے جو شخص ان میں سے کسی کو بھی مجھ سے لینا چاہے گا میں اسے جہنم رسید کر دونگا۔ یعنی بڑائی اور تکبر کرنے والا دوزخی ہے۔ وہ عزیز ہے یعنی غالب ہے جو کبھی کسی سے مغلوب نہیں ہونے کا کوئی نہیں جو اس پر روک ٹوک کرسکے۔ اس کے سامنے پڑ سکے وہ حکیم ہے۔ اس کا کوئی قول کوئی فعل اس کی شریعت کا کوئی مسئلہ اس کی لکھی ہوئی تقدیر کا کوئی حرف حکمت سے خالی نہیں نہ اس کے سوا کوئی مسجود۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے سورة جاثیہ کی تفسیر ختم ہوئی اور اسی کے ساتھ پچیسویں پارے کی تفسیر ختم ہوئی۔ فالحمدللہ

وَبَدَا لَهُمْ سَيِّئَاتُ مَا عَمِلُوا وَحَاقَ بِهِمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ

📘 کبریائی اللہ عزوجل کی چادر ہے ان آیتوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے اس فیصلے کی خبر دیتا ہے جو وہ آخرت کے دن اپنے بندوں کے درمیان کرے گا۔ جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے اور اپنے ہاتھ پاؤں سے مطابق شرع نیک نیتی کے ساتھ اچھے عمل کئے انہیں اپنے کرم و رحم سے جنت عطا فرمائے گا رحمت سے مراد جنت ہے۔ جیسے صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے جسے میں چاہوں گا تجھے عطا فرماؤں گا، کھلی کامیابی اور حقیقی مراد کو حاصل کرلینا یہی ہے اور جو لوگ ایمان سے رک گئے بلکہ کفر کیا ان سے قیامت کے دن بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ کیا اللہ تعالیٰ کی آیتیں تمہارے سامنے نہیں پڑھی جاتی تھیں ؟ یعنی یقینا پڑھی جاتی تھیں اور تمہیں سنائی جاتی تھیں پھر بھی تم نے غرور و نخوت میں آکر ان کی اتباع نہ کی۔ بلکہ ان سے منہ پھیرے رہے اپنے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کی تکذیب لئے ہوئے تم نے ظاہرا اپنے افعال میں بھی اس کی نافرمانی کی گناہوں پر گناہ دلیری سے کرتے چلے گئے اور قیامت ضرور قائم ہوگی اس کے آنے میں کوئی شک نہیں تو تم پلٹ کر جواب دے دیا کرتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کسے کہتے ہیں ؟ ہمیں اگرچہ کچھ یوں ہی سا وہم ہوتا ہے لیکن ہرگز یقین نہیں کہ قیامت ضرور آئے گی ہی اب ان کی بد اعمالیوں کی سزا ان کے سامنے آگئی اپنی آنکھوں اپنے کرتوت کا بدلہ دیکھ چکے اور جس عذاب و سزا کا انکار کرتے تھے، جسے مذاق میں اڑاتے تھے جس کا ہونا ناممکن سمجھ رہے تھے ان عذابوں نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا اور انہیں ہر قسم کی بھلائی سے مایوس کرنے کے لئے کہہ دیا گیا کہ ہم تمہارے ساتھ وہی معاملہ کریں گے جیسے کوئی کسی کو بھول جاتا ہے یعنی جہنم میں جھونک کر پھر تمہیں کبھی اچھائی سے یاد بھی نہ کریں گے۔ یہ بدلہ ہے اس کا کہ تم اس دن کی ملاقات کو بھلائے ہوئے تھے، اس کے لئے تم نے کوئی عمل نہ کیا، کیونکہ تم اس کے آنے کی صداقت کے قائل ہی نہ تھے۔ اب تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے اور کوئی نہیں جو تمہاری کسی قسم کی مدد کرسکے۔ صحیح حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں سے قیامت کے دن فرمائے گا کیا میں نے تجھے بال بچے نہیں دئیے تھے ؟ کیا میں نے تجھ پر دنیا میں انعام و اکرام نازل نہیں فرمائے تھے ؟ کیا میں نے تیرے لئے اونٹوں اور گھوڑوں کو مطیع اور فرمانبردار نہیں کیا تھا ؟ اور تجھے چھوڑ دیا تھا کہ سرور و خوشی کے ساتھ اپنے مکانات اور حویلیوں میں آزادی کی زندگی بسر کرے ؟ یہ جواب دے گا کہ میرے پروردگار یہ سب سچ ہے بیشک تیرے یہ تمام احسانات مجھ پر تھے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا پس آج میں تجھے اس طرح بھلا دوں گا جس طرح تو مجھے بھول گیا تھا پھر فرماتا ہے کہ یہ سزائیں تمہیں اسلئے دی گئی ہیں کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا خوب مذاق اڑایا تھا۔ اور دنیا کی زندگی نے تمہیں دھوکے میں ڈال رکھا تھا تم اسی پر مطمئن تھے اور اس قدر تم نے بےفکری برتی کہ آخر آج نقصان اور خسارے میں پڑگئے۔ اب تم دوزخ سے نکالے نہ جاؤ گے اور نہ تم سے ہماری خفگی کے دور کرنے کی کوئی وجہ طلب کی جائے گی یعنی اس عذاب سے تمہارا چھٹکارا بھی محال اور اب میری رضامندی کا تمہیں حاصل ہونا بھی ناممکن۔ جیسے کہ مومن بغیر عذاب و حساب کے جنت میں جائیں گے۔ ایسے ہی تم بےحساب عذاب کئے جاؤ گے اور تمہاری توبہ بےسود رہے گی اپنے اس فیصلے کو جو مومنوں اور کافروں میں ہوگیا بیان فرما کر اب ارشاد فرماتا ہے کہ تمام حمد زمین و آسمان اور ہر چیز کے مالک اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے۔ جو کل جہان کا پالنہار ہے اسی کو کبریائی یعنی سلطنت اور بڑائی آسمانوں اور زمینوں میں ہے وہ بڑی عظمت اور بزرگی والا ہے۔ ہر چیز اس کے سامنے پست ہے ہر ایک اس کا محتاج ہے صحیح مسلم شریف کی حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ جل و علا فرماتا ہے عظمت میرا تہبند ہے اور کبریائی میری چادر ہے جو شخص ان میں سے کسی کو بھی مجھ سے لینا چاہے گا میں اسے جہنم رسید کر دونگا۔ یعنی بڑائی اور تکبر کرنے والا دوزخی ہے۔ وہ عزیز ہے یعنی غالب ہے جو کبھی کسی سے مغلوب نہیں ہونے کا کوئی نہیں جو اس پر روک ٹوک کرسکے۔ اس کے سامنے پڑ سکے وہ حکیم ہے۔ اس کا کوئی قول کوئی فعل اس کی شریعت کا کوئی مسئلہ اس کی لکھی ہوئی تقدیر کا کوئی حرف حکمت سے خالی نہیں نہ اس کے سوا کوئی مسجود۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے سورة جاثیہ کی تفسیر ختم ہوئی اور اسی کے ساتھ پچیسویں پارے کی تفسیر ختم ہوئی۔ فالحمدللہ

وَقِيلَ الْيَوْمَ نَنْسَاكُمْ كَمَا نَسِيتُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَٰذَا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِنْ نَاصِرِينَ

📘 کبریائی اللہ عزوجل کی چادر ہے ان آیتوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے اس فیصلے کی خبر دیتا ہے جو وہ آخرت کے دن اپنے بندوں کے درمیان کرے گا۔ جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے اور اپنے ہاتھ پاؤں سے مطابق شرع نیک نیتی کے ساتھ اچھے عمل کئے انہیں اپنے کرم و رحم سے جنت عطا فرمائے گا رحمت سے مراد جنت ہے۔ جیسے صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے جسے میں چاہوں گا تجھے عطا فرماؤں گا، کھلی کامیابی اور حقیقی مراد کو حاصل کرلینا یہی ہے اور جو لوگ ایمان سے رک گئے بلکہ کفر کیا ان سے قیامت کے دن بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ کیا اللہ تعالیٰ کی آیتیں تمہارے سامنے نہیں پڑھی جاتی تھیں ؟ یعنی یقینا پڑھی جاتی تھیں اور تمہیں سنائی جاتی تھیں پھر بھی تم نے غرور و نخوت میں آکر ان کی اتباع نہ کی۔ بلکہ ان سے منہ پھیرے رہے اپنے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کی تکذیب لئے ہوئے تم نے ظاہرا اپنے افعال میں بھی اس کی نافرمانی کی گناہوں پر گناہ دلیری سے کرتے چلے گئے اور قیامت ضرور قائم ہوگی اس کے آنے میں کوئی شک نہیں تو تم پلٹ کر جواب دے دیا کرتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کسے کہتے ہیں ؟ ہمیں اگرچہ کچھ یوں ہی سا وہم ہوتا ہے لیکن ہرگز یقین نہیں کہ قیامت ضرور آئے گی ہی اب ان کی بد اعمالیوں کی سزا ان کے سامنے آگئی اپنی آنکھوں اپنے کرتوت کا بدلہ دیکھ چکے اور جس عذاب و سزا کا انکار کرتے تھے، جسے مذاق میں اڑاتے تھے جس کا ہونا ناممکن سمجھ رہے تھے ان عذابوں نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا اور انہیں ہر قسم کی بھلائی سے مایوس کرنے کے لئے کہہ دیا گیا کہ ہم تمہارے ساتھ وہی معاملہ کریں گے جیسے کوئی کسی کو بھول جاتا ہے یعنی جہنم میں جھونک کر پھر تمہیں کبھی اچھائی سے یاد بھی نہ کریں گے۔ یہ بدلہ ہے اس کا کہ تم اس دن کی ملاقات کو بھلائے ہوئے تھے، اس کے لئے تم نے کوئی عمل نہ کیا، کیونکہ تم اس کے آنے کی صداقت کے قائل ہی نہ تھے۔ اب تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے اور کوئی نہیں جو تمہاری کسی قسم کی مدد کرسکے۔ صحیح حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں سے قیامت کے دن فرمائے گا کیا میں نے تجھے بال بچے نہیں دئیے تھے ؟ کیا میں نے تجھ پر دنیا میں انعام و اکرام نازل نہیں فرمائے تھے ؟ کیا میں نے تیرے لئے اونٹوں اور گھوڑوں کو مطیع اور فرمانبردار نہیں کیا تھا ؟ اور تجھے چھوڑ دیا تھا کہ سرور و خوشی کے ساتھ اپنے مکانات اور حویلیوں میں آزادی کی زندگی بسر کرے ؟ یہ جواب دے گا کہ میرے پروردگار یہ سب سچ ہے بیشک تیرے یہ تمام احسانات مجھ پر تھے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا پس آج میں تجھے اس طرح بھلا دوں گا جس طرح تو مجھے بھول گیا تھا پھر فرماتا ہے کہ یہ سزائیں تمہیں اسلئے دی گئی ہیں کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا خوب مذاق اڑایا تھا۔ اور دنیا کی زندگی نے تمہیں دھوکے میں ڈال رکھا تھا تم اسی پر مطمئن تھے اور اس قدر تم نے بےفکری برتی کہ آخر آج نقصان اور خسارے میں پڑگئے۔ اب تم دوزخ سے نکالے نہ جاؤ گے اور نہ تم سے ہماری خفگی کے دور کرنے کی کوئی وجہ طلب کی جائے گی یعنی اس عذاب سے تمہارا چھٹکارا بھی محال اور اب میری رضامندی کا تمہیں حاصل ہونا بھی ناممکن۔ جیسے کہ مومن بغیر عذاب و حساب کے جنت میں جائیں گے۔ ایسے ہی تم بےحساب عذاب کئے جاؤ گے اور تمہاری توبہ بےسود رہے گی اپنے اس فیصلے کو جو مومنوں اور کافروں میں ہوگیا بیان فرما کر اب ارشاد فرماتا ہے کہ تمام حمد زمین و آسمان اور ہر چیز کے مالک اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے۔ جو کل جہان کا پالنہار ہے اسی کو کبریائی یعنی سلطنت اور بڑائی آسمانوں اور زمینوں میں ہے وہ بڑی عظمت اور بزرگی والا ہے۔ ہر چیز اس کے سامنے پست ہے ہر ایک اس کا محتاج ہے صحیح مسلم شریف کی حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ جل و علا فرماتا ہے عظمت میرا تہبند ہے اور کبریائی میری چادر ہے جو شخص ان میں سے کسی کو بھی مجھ سے لینا چاہے گا میں اسے جہنم رسید کر دونگا۔ یعنی بڑائی اور تکبر کرنے والا دوزخی ہے۔ وہ عزیز ہے یعنی غالب ہے جو کبھی کسی سے مغلوب نہیں ہونے کا کوئی نہیں جو اس پر روک ٹوک کرسکے۔ اس کے سامنے پڑ سکے وہ حکیم ہے۔ اس کا کوئی قول کوئی فعل اس کی شریعت کا کوئی مسئلہ اس کی لکھی ہوئی تقدیر کا کوئی حرف حکمت سے خالی نہیں نہ اس کے سوا کوئی مسجود۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے سورة جاثیہ کی تفسیر ختم ہوئی اور اسی کے ساتھ پچیسویں پارے کی تفسیر ختم ہوئی۔ فالحمدللہ

ذَٰلِكُمْ بِأَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا وَغَرَّتْكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ۚ فَالْيَوْمَ لَا يُخْرَجُونَ مِنْهَا وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ

📘 کبریائی اللہ عزوجل کی چادر ہے ان آیتوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے اس فیصلے کی خبر دیتا ہے جو وہ آخرت کے دن اپنے بندوں کے درمیان کرے گا۔ جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے اور اپنے ہاتھ پاؤں سے مطابق شرع نیک نیتی کے ساتھ اچھے عمل کئے انہیں اپنے کرم و رحم سے جنت عطا فرمائے گا رحمت سے مراد جنت ہے۔ جیسے صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے جسے میں چاہوں گا تجھے عطا فرماؤں گا، کھلی کامیابی اور حقیقی مراد کو حاصل کرلینا یہی ہے اور جو لوگ ایمان سے رک گئے بلکہ کفر کیا ان سے قیامت کے دن بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ کیا اللہ تعالیٰ کی آیتیں تمہارے سامنے نہیں پڑھی جاتی تھیں ؟ یعنی یقینا پڑھی جاتی تھیں اور تمہیں سنائی جاتی تھیں پھر بھی تم نے غرور و نخوت میں آکر ان کی اتباع نہ کی۔ بلکہ ان سے منہ پھیرے رہے اپنے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کی تکذیب لئے ہوئے تم نے ظاہرا اپنے افعال میں بھی اس کی نافرمانی کی گناہوں پر گناہ دلیری سے کرتے چلے گئے اور قیامت ضرور قائم ہوگی اس کے آنے میں کوئی شک نہیں تو تم پلٹ کر جواب دے دیا کرتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کسے کہتے ہیں ؟ ہمیں اگرچہ کچھ یوں ہی سا وہم ہوتا ہے لیکن ہرگز یقین نہیں کہ قیامت ضرور آئے گی ہی اب ان کی بد اعمالیوں کی سزا ان کے سامنے آگئی اپنی آنکھوں اپنے کرتوت کا بدلہ دیکھ چکے اور جس عذاب و سزا کا انکار کرتے تھے، جسے مذاق میں اڑاتے تھے جس کا ہونا ناممکن سمجھ رہے تھے ان عذابوں نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا اور انہیں ہر قسم کی بھلائی سے مایوس کرنے کے لئے کہہ دیا گیا کہ ہم تمہارے ساتھ وہی معاملہ کریں گے جیسے کوئی کسی کو بھول جاتا ہے یعنی جہنم میں جھونک کر پھر تمہیں کبھی اچھائی سے یاد بھی نہ کریں گے۔ یہ بدلہ ہے اس کا کہ تم اس دن کی ملاقات کو بھلائے ہوئے تھے، اس کے لئے تم نے کوئی عمل نہ کیا، کیونکہ تم اس کے آنے کی صداقت کے قائل ہی نہ تھے۔ اب تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے اور کوئی نہیں جو تمہاری کسی قسم کی مدد کرسکے۔ صحیح حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں سے قیامت کے دن فرمائے گا کیا میں نے تجھے بال بچے نہیں دئیے تھے ؟ کیا میں نے تجھ پر دنیا میں انعام و اکرام نازل نہیں فرمائے تھے ؟ کیا میں نے تیرے لئے اونٹوں اور گھوڑوں کو مطیع اور فرمانبردار نہیں کیا تھا ؟ اور تجھے چھوڑ دیا تھا کہ سرور و خوشی کے ساتھ اپنے مکانات اور حویلیوں میں آزادی کی زندگی بسر کرے ؟ یہ جواب دے گا کہ میرے پروردگار یہ سب سچ ہے بیشک تیرے یہ تمام احسانات مجھ پر تھے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا پس آج میں تجھے اس طرح بھلا دوں گا جس طرح تو مجھے بھول گیا تھا پھر فرماتا ہے کہ یہ سزائیں تمہیں اسلئے دی گئی ہیں کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا خوب مذاق اڑایا تھا۔ اور دنیا کی زندگی نے تمہیں دھوکے میں ڈال رکھا تھا تم اسی پر مطمئن تھے اور اس قدر تم نے بےفکری برتی کہ آخر آج نقصان اور خسارے میں پڑگئے۔ اب تم دوزخ سے نکالے نہ جاؤ گے اور نہ تم سے ہماری خفگی کے دور کرنے کی کوئی وجہ طلب کی جائے گی یعنی اس عذاب سے تمہارا چھٹکارا بھی محال اور اب میری رضامندی کا تمہیں حاصل ہونا بھی ناممکن۔ جیسے کہ مومن بغیر عذاب و حساب کے جنت میں جائیں گے۔ ایسے ہی تم بےحساب عذاب کئے جاؤ گے اور تمہاری توبہ بےسود رہے گی اپنے اس فیصلے کو جو مومنوں اور کافروں میں ہوگیا بیان فرما کر اب ارشاد فرماتا ہے کہ تمام حمد زمین و آسمان اور ہر چیز کے مالک اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے۔ جو کل جہان کا پالنہار ہے اسی کو کبریائی یعنی سلطنت اور بڑائی آسمانوں اور زمینوں میں ہے وہ بڑی عظمت اور بزرگی والا ہے۔ ہر چیز اس کے سامنے پست ہے ہر ایک اس کا محتاج ہے صحیح مسلم شریف کی حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ جل و علا فرماتا ہے عظمت میرا تہبند ہے اور کبریائی میری چادر ہے جو شخص ان میں سے کسی کو بھی مجھ سے لینا چاہے گا میں اسے جہنم رسید کر دونگا۔ یعنی بڑائی اور تکبر کرنے والا دوزخی ہے۔ وہ عزیز ہے یعنی غالب ہے جو کبھی کسی سے مغلوب نہیں ہونے کا کوئی نہیں جو اس پر روک ٹوک کرسکے۔ اس کے سامنے پڑ سکے وہ حکیم ہے۔ اس کا کوئی قول کوئی فعل اس کی شریعت کا کوئی مسئلہ اس کی لکھی ہوئی تقدیر کا کوئی حرف حکمت سے خالی نہیں نہ اس کے سوا کوئی مسجود۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے سورة جاثیہ کی تفسیر ختم ہوئی اور اسی کے ساتھ پچیسویں پارے کی تفسیر ختم ہوئی۔ فالحمدللہ

فَلِلَّهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَرَبِّ الْأَرْضِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

📘 کبریائی اللہ عزوجل کی چادر ہے ان آیتوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے اس فیصلے کی خبر دیتا ہے جو وہ آخرت کے دن اپنے بندوں کے درمیان کرے گا۔ جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے اور اپنے ہاتھ پاؤں سے مطابق شرع نیک نیتی کے ساتھ اچھے عمل کئے انہیں اپنے کرم و رحم سے جنت عطا فرمائے گا رحمت سے مراد جنت ہے۔ جیسے صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے جسے میں چاہوں گا تجھے عطا فرماؤں گا، کھلی کامیابی اور حقیقی مراد کو حاصل کرلینا یہی ہے اور جو لوگ ایمان سے رک گئے بلکہ کفر کیا ان سے قیامت کے دن بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ کیا اللہ تعالیٰ کی آیتیں تمہارے سامنے نہیں پڑھی جاتی تھیں ؟ یعنی یقینا پڑھی جاتی تھیں اور تمہیں سنائی جاتی تھیں پھر بھی تم نے غرور و نخوت میں آکر ان کی اتباع نہ کی۔ بلکہ ان سے منہ پھیرے رہے اپنے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کی تکذیب لئے ہوئے تم نے ظاہرا اپنے افعال میں بھی اس کی نافرمانی کی گناہوں پر گناہ دلیری سے کرتے چلے گئے اور قیامت ضرور قائم ہوگی اس کے آنے میں کوئی شک نہیں تو تم پلٹ کر جواب دے دیا کرتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کسے کہتے ہیں ؟ ہمیں اگرچہ کچھ یوں ہی سا وہم ہوتا ہے لیکن ہرگز یقین نہیں کہ قیامت ضرور آئے گی ہی اب ان کی بد اعمالیوں کی سزا ان کے سامنے آگئی اپنی آنکھوں اپنے کرتوت کا بدلہ دیکھ چکے اور جس عذاب و سزا کا انکار کرتے تھے، جسے مذاق میں اڑاتے تھے جس کا ہونا ناممکن سمجھ رہے تھے ان عذابوں نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا اور انہیں ہر قسم کی بھلائی سے مایوس کرنے کے لئے کہہ دیا گیا کہ ہم تمہارے ساتھ وہی معاملہ کریں گے جیسے کوئی کسی کو بھول جاتا ہے یعنی جہنم میں جھونک کر پھر تمہیں کبھی اچھائی سے یاد بھی نہ کریں گے۔ یہ بدلہ ہے اس کا کہ تم اس دن کی ملاقات کو بھلائے ہوئے تھے، اس کے لئے تم نے کوئی عمل نہ کیا، کیونکہ تم اس کے آنے کی صداقت کے قائل ہی نہ تھے۔ اب تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے اور کوئی نہیں جو تمہاری کسی قسم کی مدد کرسکے۔ صحیح حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں سے قیامت کے دن فرمائے گا کیا میں نے تجھے بال بچے نہیں دئیے تھے ؟ کیا میں نے تجھ پر دنیا میں انعام و اکرام نازل نہیں فرمائے تھے ؟ کیا میں نے تیرے لئے اونٹوں اور گھوڑوں کو مطیع اور فرمانبردار نہیں کیا تھا ؟ اور تجھے چھوڑ دیا تھا کہ سرور و خوشی کے ساتھ اپنے مکانات اور حویلیوں میں آزادی کی زندگی بسر کرے ؟ یہ جواب دے گا کہ میرے پروردگار یہ سب سچ ہے بیشک تیرے یہ تمام احسانات مجھ پر تھے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا پس آج میں تجھے اس طرح بھلا دوں گا جس طرح تو مجھے بھول گیا تھا پھر فرماتا ہے کہ یہ سزائیں تمہیں اسلئے دی گئی ہیں کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا خوب مذاق اڑایا تھا۔ اور دنیا کی زندگی نے تمہیں دھوکے میں ڈال رکھا تھا تم اسی پر مطمئن تھے اور اس قدر تم نے بےفکری برتی کہ آخر آج نقصان اور خسارے میں پڑگئے۔ اب تم دوزخ سے نکالے نہ جاؤ گے اور نہ تم سے ہماری خفگی کے دور کرنے کی کوئی وجہ طلب کی جائے گی یعنی اس عذاب سے تمہارا چھٹکارا بھی محال اور اب میری رضامندی کا تمہیں حاصل ہونا بھی ناممکن۔ جیسے کہ مومن بغیر عذاب و حساب کے جنت میں جائیں گے۔ ایسے ہی تم بےحساب عذاب کئے جاؤ گے اور تمہاری توبہ بےسود رہے گی اپنے اس فیصلے کو جو مومنوں اور کافروں میں ہوگیا بیان فرما کر اب ارشاد فرماتا ہے کہ تمام حمد زمین و آسمان اور ہر چیز کے مالک اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے۔ جو کل جہان کا پالنہار ہے اسی کو کبریائی یعنی سلطنت اور بڑائی آسمانوں اور زمینوں میں ہے وہ بڑی عظمت اور بزرگی والا ہے۔ ہر چیز اس کے سامنے پست ہے ہر ایک اس کا محتاج ہے صحیح مسلم شریف کی حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ جل و علا فرماتا ہے عظمت میرا تہبند ہے اور کبریائی میری چادر ہے جو شخص ان میں سے کسی کو بھی مجھ سے لینا چاہے گا میں اسے جہنم رسید کر دونگا۔ یعنی بڑائی اور تکبر کرنے والا دوزخی ہے۔ وہ عزیز ہے یعنی غالب ہے جو کبھی کسی سے مغلوب نہیں ہونے کا کوئی نہیں جو اس پر روک ٹوک کرسکے۔ اس کے سامنے پڑ سکے وہ حکیم ہے۔ اس کا کوئی قول کوئی فعل اس کی شریعت کا کوئی مسئلہ اس کی لکھی ہوئی تقدیر کا کوئی حرف حکمت سے خالی نہیں نہ اس کے سوا کوئی مسجود۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے سورة جاثیہ کی تفسیر ختم ہوئی اور اسی کے ساتھ پچیسویں پارے کی تفسیر ختم ہوئی۔ فالحمدللہ

وَلَهُ الْكِبْرِيَاءُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

📘 کبریائی اللہ عزوجل کی چادر ہے ان آیتوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے اس فیصلے کی خبر دیتا ہے جو وہ آخرت کے دن اپنے بندوں کے درمیان کرے گا۔ جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے اور اپنے ہاتھ پاؤں سے مطابق شرع نیک نیتی کے ساتھ اچھے عمل کئے انہیں اپنے کرم و رحم سے جنت عطا فرمائے گا رحمت سے مراد جنت ہے۔ جیسے صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے جسے میں چاہوں گا تجھے عطا فرماؤں گا، کھلی کامیابی اور حقیقی مراد کو حاصل کرلینا یہی ہے اور جو لوگ ایمان سے رک گئے بلکہ کفر کیا ان سے قیامت کے دن بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ کیا اللہ تعالیٰ کی آیتیں تمہارے سامنے نہیں پڑھی جاتی تھیں ؟ یعنی یقینا پڑھی جاتی تھیں اور تمہیں سنائی جاتی تھیں پھر بھی تم نے غرور و نخوت میں آکر ان کی اتباع نہ کی۔ بلکہ ان سے منہ پھیرے رہے اپنے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کی تکذیب لئے ہوئے تم نے ظاہرا اپنے افعال میں بھی اس کی نافرمانی کی گناہوں پر گناہ دلیری سے کرتے چلے گئے اور قیامت ضرور قائم ہوگی اس کے آنے میں کوئی شک نہیں تو تم پلٹ کر جواب دے دیا کرتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کسے کہتے ہیں ؟ ہمیں اگرچہ کچھ یوں ہی سا وہم ہوتا ہے لیکن ہرگز یقین نہیں کہ قیامت ضرور آئے گی ہی اب ان کی بد اعمالیوں کی سزا ان کے سامنے آگئی اپنی آنکھوں اپنے کرتوت کا بدلہ دیکھ چکے اور جس عذاب و سزا کا انکار کرتے تھے، جسے مذاق میں اڑاتے تھے جس کا ہونا ناممکن سمجھ رہے تھے ان عذابوں نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا اور انہیں ہر قسم کی بھلائی سے مایوس کرنے کے لئے کہہ دیا گیا کہ ہم تمہارے ساتھ وہی معاملہ کریں گے جیسے کوئی کسی کو بھول جاتا ہے یعنی جہنم میں جھونک کر پھر تمہیں کبھی اچھائی سے یاد بھی نہ کریں گے۔ یہ بدلہ ہے اس کا کہ تم اس دن کی ملاقات کو بھلائے ہوئے تھے، اس کے لئے تم نے کوئی عمل نہ کیا، کیونکہ تم اس کے آنے کی صداقت کے قائل ہی نہ تھے۔ اب تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے اور کوئی نہیں جو تمہاری کسی قسم کی مدد کرسکے۔ صحیح حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں سے قیامت کے دن فرمائے گا کیا میں نے تجھے بال بچے نہیں دئیے تھے ؟ کیا میں نے تجھ پر دنیا میں انعام و اکرام نازل نہیں فرمائے تھے ؟ کیا میں نے تیرے لئے اونٹوں اور گھوڑوں کو مطیع اور فرمانبردار نہیں کیا تھا ؟ اور تجھے چھوڑ دیا تھا کہ سرور و خوشی کے ساتھ اپنے مکانات اور حویلیوں میں آزادی کی زندگی بسر کرے ؟ یہ جواب دے گا کہ میرے پروردگار یہ سب سچ ہے بیشک تیرے یہ تمام احسانات مجھ پر تھے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا پس آج میں تجھے اس طرح بھلا دوں گا جس طرح تو مجھے بھول گیا تھا پھر فرماتا ہے کہ یہ سزائیں تمہیں اسلئے دی گئی ہیں کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا خوب مذاق اڑایا تھا۔ اور دنیا کی زندگی نے تمہیں دھوکے میں ڈال رکھا تھا تم اسی پر مطمئن تھے اور اس قدر تم نے بےفکری برتی کہ آخر آج نقصان اور خسارے میں پڑگئے۔ اب تم دوزخ سے نکالے نہ جاؤ گے اور نہ تم سے ہماری خفگی کے دور کرنے کی کوئی وجہ طلب کی جائے گی یعنی اس عذاب سے تمہارا چھٹکارا بھی محال اور اب میری رضامندی کا تمہیں حاصل ہونا بھی ناممکن۔ جیسے کہ مومن بغیر عذاب و حساب کے جنت میں جائیں گے۔ ایسے ہی تم بےحساب عذاب کئے جاؤ گے اور تمہاری توبہ بےسود رہے گی اپنے اس فیصلے کو جو مومنوں اور کافروں میں ہوگیا بیان فرما کر اب ارشاد فرماتا ہے کہ تمام حمد زمین و آسمان اور ہر چیز کے مالک اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے۔ جو کل جہان کا پالنہار ہے اسی کو کبریائی یعنی سلطنت اور بڑائی آسمانوں اور زمینوں میں ہے وہ بڑی عظمت اور بزرگی والا ہے۔ ہر چیز اس کے سامنے پست ہے ہر ایک اس کا محتاج ہے صحیح مسلم شریف کی حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ جل و علا فرماتا ہے عظمت میرا تہبند ہے اور کبریائی میری چادر ہے جو شخص ان میں سے کسی کو بھی مجھ سے لینا چاہے گا میں اسے جہنم رسید کر دونگا۔ یعنی بڑائی اور تکبر کرنے والا دوزخی ہے۔ وہ عزیز ہے یعنی غالب ہے جو کبھی کسی سے مغلوب نہیں ہونے کا کوئی نہیں جو اس پر روک ٹوک کرسکے۔ اس کے سامنے پڑ سکے وہ حکیم ہے۔ اس کا کوئی قول کوئی فعل اس کی شریعت کا کوئی مسئلہ اس کی لکھی ہوئی تقدیر کا کوئی حرف حکمت سے خالی نہیں نہ اس کے سوا کوئی مسجود۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے سورة جاثیہ کی تفسیر ختم ہوئی اور اسی کے ساتھ پچیسویں پارے کی تفسیر ختم ہوئی۔ فالحمدللہ

وَفِي خَلْقِكُمْ وَمَا يَبُثُّ مِنْ دَابَّةٍ آيَاتٌ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ

📘 اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو ہدایت فرماتا ہے کہ وہ قدرت کی نشانیوں میں غور و فکر کریں۔ اللہ کی نعمتوں کو جانیں اور پہچانیں پھر ان کا شکر بجا لائیں دیکھیں کہ اللہ کتنی بڑی قدرتوں والا ہے جس نے آسمان و زمین اور مختلف قسم کی تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے فرشتے، جن، انسان، چوپائے، پرند، جنگلی جانور، درندے، کیڑے، پتنگے سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ سمندر کی بیشمار مخلوق کا خالق بھی وہی ایک ہے۔ دن کو رات کے بعد اور رات کو دن کے پیچھے وہی لا رہا ہے رات کا اندھیرا دن کا اجالا اسی کے قبضے کی چیزیں ہیں۔ حاجت کے وقت انداز کے مطابق بادلوں سے پانی وہی برساتا ہے رزق سے مراد بارش ہے اس لئے کہ اسی سے کھانے کی چیزیں اگتی ہیں۔ خشک بنجر زمین سبز و شاداب ہوجاتی ہے اور طرح طرح کی پیداوار اگاتی ہے۔ شمالی جنوبی پروا پچھوا ترو خشک کم و بیش رات اور دن کی ہوائیں وہی چلاتا ہے۔ بعض ہوائیں بارش کو لاتی ہیں بعض بادلوں کو پانی والا کردیتی ہیں۔ بعض روح کی غذا بنتی ہیں اور بعض ان کے سوا کاموں کے لئے چلتی ہیں۔ پہلے فرمایا کہ اس میں ایمان والوں کے لئے نشانیاں ہیں پھر یقین والوں کے لئے فرمایا پھر عقل والوں کے لئے فرمایا یہ ایک عزت والے کا حال سے دوسرے عزت والے حال کی طرف ترقی کرنا ہے۔ اسی کے مثل سورة بقرہ کی آیت (اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّھَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ01900ڌ) 3۔ آل عمران :190) ، ہے امام ابن ابی حاتم نے یہاں پر ایک طویل اثر وارد کیا ہے لیکن وہ غریب ہے اس میں انسان کو چار قسم کے اخلاط سے پیدا کرنا بھی ہے۔ واللہ اعلم۔

وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ رِزْقٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ آيَاتٌ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ

📘 اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو ہدایت فرماتا ہے کہ وہ قدرت کی نشانیوں میں غور و فکر کریں۔ اللہ کی نعمتوں کو جانیں اور پہچانیں پھر ان کا شکر بجا لائیں دیکھیں کہ اللہ کتنی بڑی قدرتوں والا ہے جس نے آسمان و زمین اور مختلف قسم کی تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے فرشتے، جن، انسان، چوپائے، پرند، جنگلی جانور، درندے، کیڑے، پتنگے سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ سمندر کی بیشمار مخلوق کا خالق بھی وہی ایک ہے۔ دن کو رات کے بعد اور رات کو دن کے پیچھے وہی لا رہا ہے رات کا اندھیرا دن کا اجالا اسی کے قبضے کی چیزیں ہیں۔ حاجت کے وقت انداز کے مطابق بادلوں سے پانی وہی برساتا ہے رزق سے مراد بارش ہے اس لئے کہ اسی سے کھانے کی چیزیں اگتی ہیں۔ خشک بنجر زمین سبز و شاداب ہوجاتی ہے اور طرح طرح کی پیداوار اگاتی ہے۔ شمالی جنوبی پروا پچھوا ترو خشک کم و بیش رات اور دن کی ہوائیں وہی چلاتا ہے۔ بعض ہوائیں بارش کو لاتی ہیں بعض بادلوں کو پانی والا کردیتی ہیں۔ بعض روح کی غذا بنتی ہیں اور بعض ان کے سوا کاموں کے لئے چلتی ہیں۔ پہلے فرمایا کہ اس میں ایمان والوں کے لئے نشانیاں ہیں پھر یقین والوں کے لئے فرمایا پھر عقل والوں کے لئے فرمایا یہ ایک عزت والے کا حال سے دوسرے عزت والے حال کی طرف ترقی کرنا ہے۔ اسی کے مثل سورة بقرہ کی آیت (اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّھَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ01900ڌ) 3۔ آل عمران :190) ، ہے امام ابن ابی حاتم نے یہاں پر ایک طویل اثر وارد کیا ہے لیکن وہ غریب ہے اس میں انسان کو چار قسم کے اخلاط سے پیدا کرنا بھی ہے۔ واللہ اعلم۔

تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۖ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ

📘 قرآن عظیم کی اہانت سے بچاؤ مطلب یہ ہے کہ قرآن جو حق کی طرف نہایت صفائی اور وضاحت سے نازل ہوا ہے۔ اس کی روشن آیتیں تجھ پر تلاوت کی جا رہی ہیں۔ جسے یہ سن رہے ہیں اور پھر بھی نہ ایمان لاتے ہیں نہ عمل کرتے ہیں تو پھر آخر ایمان کس چیز پر لائیں گے ؟ ان کے لئے ویل ہے اور ان پر افسوس ہے جو زبان کے جھوٹے کام کے گنہگار اور دل کے کافر ہیں اس کی باتیں سنتے ہوئے اپنے کفر انکار اور بد باطنی پر اڑے ہوئے ہیں گویا سنا ہی نہیں انہیں سنا دو کہ ان کے لئے اللہ کے ہاں دکھ کی مار ہے قرآن کی آیتیں ان کے مذاق کی چیز رہ گئی ہیں۔ تو جس طرح یہ میرے کلام کی آج اہانت کرتے ہیں کل میں انہیں ذلت کی سزا دوں گا۔ حدیث شریف میں ہے کہ قرآن لے کر دشمنوں کے ملک میں نہ جاؤ ایسا نہ ہو کہ وہ اس کی اہانت و بےقدری کریں پھر اس ذلیل کرنے والے کا عذاب کا بیان فرمایا کہ ان خصلتوں والے لوگ جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ ان کے مال و اولاد اور ان کے وہ جھوٹے معبود جنہیں یہ زندگی بھر پوجتے رہے انہیں کچھ کام نہ آئیں گے انہیں زبردست اور بہت بڑے عذاب بھگتنے پڑیں گے پھر ارشاد ہوا کہ یہ قرآن سراسر ہدایت ہے اور اس کی آیت سے جو منکر ہیں ان کے لئے سخت اور المناک عذاب ہیں۔ واللہ سبحان وتعالیٰ اعلم۔

وَيْلٌ لِكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ

📘 قرآن عظیم کی اہانت سے بچاؤ مطلب یہ ہے کہ قرآن جو حق کی طرف نہایت صفائی اور وضاحت سے نازل ہوا ہے۔ اس کی روشن آیتیں تجھ پر تلاوت کی جا رہی ہیں۔ جسے یہ سن رہے ہیں اور پھر بھی نہ ایمان لاتے ہیں نہ عمل کرتے ہیں تو پھر آخر ایمان کس چیز پر لائیں گے ؟ ان کے لئے ویل ہے اور ان پر افسوس ہے جو زبان کے جھوٹے کام کے گنہگار اور دل کے کافر ہیں اس کی باتیں سنتے ہوئے اپنے کفر انکار اور بد باطنی پر اڑے ہوئے ہیں گویا سنا ہی نہیں انہیں سنا دو کہ ان کے لئے اللہ کے ہاں دکھ کی مار ہے قرآن کی آیتیں ان کے مذاق کی چیز رہ گئی ہیں۔ تو جس طرح یہ میرے کلام کی آج اہانت کرتے ہیں کل میں انہیں ذلت کی سزا دوں گا۔ حدیث شریف میں ہے کہ قرآن لے کر دشمنوں کے ملک میں نہ جاؤ ایسا نہ ہو کہ وہ اس کی اہانت و بےقدری کریں پھر اس ذلیل کرنے والے کا عذاب کا بیان فرمایا کہ ان خصلتوں والے لوگ جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ ان کے مال و اولاد اور ان کے وہ جھوٹے معبود جنہیں یہ زندگی بھر پوجتے رہے انہیں کچھ کام نہ آئیں گے انہیں زبردست اور بہت بڑے عذاب بھگتنے پڑیں گے پھر ارشاد ہوا کہ یہ قرآن سراسر ہدایت ہے اور اس کی آیت سے جو منکر ہیں ان کے لئے سخت اور المناک عذاب ہیں۔ واللہ سبحان وتعالیٰ اعلم۔

يَسْمَعُ آيَاتِ اللَّهِ تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَأَنْ لَمْ يَسْمَعْهَا ۖ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ

📘 قرآن عظیم کی اہانت سے بچاؤ مطلب یہ ہے کہ قرآن جو حق کی طرف نہایت صفائی اور وضاحت سے نازل ہوا ہے۔ اس کی روشن آیتیں تجھ پر تلاوت کی جا رہی ہیں۔ جسے یہ سن رہے ہیں اور پھر بھی نہ ایمان لاتے ہیں نہ عمل کرتے ہیں تو پھر آخر ایمان کس چیز پر لائیں گے ؟ ان کے لئے ویل ہے اور ان پر افسوس ہے جو زبان کے جھوٹے کام کے گنہگار اور دل کے کافر ہیں اس کی باتیں سنتے ہوئے اپنے کفر انکار اور بد باطنی پر اڑے ہوئے ہیں گویا سنا ہی نہیں انہیں سنا دو کہ ان کے لئے اللہ کے ہاں دکھ کی مار ہے قرآن کی آیتیں ان کے مذاق کی چیز رہ گئی ہیں۔ تو جس طرح یہ میرے کلام کی آج اہانت کرتے ہیں کل میں انہیں ذلت کی سزا دوں گا۔ حدیث شریف میں ہے کہ قرآن لے کر دشمنوں کے ملک میں نہ جاؤ ایسا نہ ہو کہ وہ اس کی اہانت و بےقدری کریں پھر اس ذلیل کرنے والے کا عذاب کا بیان فرمایا کہ ان خصلتوں والے لوگ جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ ان کے مال و اولاد اور ان کے وہ جھوٹے معبود جنہیں یہ زندگی بھر پوجتے رہے انہیں کچھ کام نہ آئیں گے انہیں زبردست اور بہت بڑے عذاب بھگتنے پڑیں گے پھر ارشاد ہوا کہ یہ قرآن سراسر ہدایت ہے اور اس کی آیت سے جو منکر ہیں ان کے لئے سخت اور المناک عذاب ہیں۔ واللہ سبحان وتعالیٰ اعلم۔

وَإِذَا عَلِمَ مِنْ آيَاتِنَا شَيْئًا اتَّخَذَهَا هُزُوًا ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ

📘 قرآن عظیم کی اہانت سے بچاؤ مطلب یہ ہے کہ قرآن جو حق کی طرف نہایت صفائی اور وضاحت سے نازل ہوا ہے۔ اس کی روشن آیتیں تجھ پر تلاوت کی جا رہی ہیں۔ جسے یہ سن رہے ہیں اور پھر بھی نہ ایمان لاتے ہیں نہ عمل کرتے ہیں تو پھر آخر ایمان کس چیز پر لائیں گے ؟ ان کے لئے ویل ہے اور ان پر افسوس ہے جو زبان کے جھوٹے کام کے گنہگار اور دل کے کافر ہیں اس کی باتیں سنتے ہوئے اپنے کفر انکار اور بد باطنی پر اڑے ہوئے ہیں گویا سنا ہی نہیں انہیں سنا دو کہ ان کے لئے اللہ کے ہاں دکھ کی مار ہے قرآن کی آیتیں ان کے مذاق کی چیز رہ گئی ہیں۔ تو جس طرح یہ میرے کلام کی آج اہانت کرتے ہیں کل میں انہیں ذلت کی سزا دوں گا۔ حدیث شریف میں ہے کہ قرآن لے کر دشمنوں کے ملک میں نہ جاؤ ایسا نہ ہو کہ وہ اس کی اہانت و بےقدری کریں پھر اس ذلیل کرنے والے کا عذاب کا بیان فرمایا کہ ان خصلتوں والے لوگ جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ ان کے مال و اولاد اور ان کے وہ جھوٹے معبود جنہیں یہ زندگی بھر پوجتے رہے انہیں کچھ کام نہ آئیں گے انہیں زبردست اور بہت بڑے عذاب بھگتنے پڑیں گے پھر ارشاد ہوا کہ یہ قرآن سراسر ہدایت ہے اور اس کی آیت سے جو منکر ہیں ان کے لئے سخت اور المناک عذاب ہیں۔ واللہ سبحان وتعالیٰ اعلم۔