Al-Hujuraat • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER
﴿ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا يَسْخَرْ قَوْمٌۭ مِّن قَوْمٍ عَسَىٰٓ أَن يَكُونُوا۟ خَيْرًۭا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَآءٌۭ مِّن نِّسَآءٍ عَسَىٰٓ أَن يَكُنَّ خَيْرًۭا مِّنْهُنَّ ۖ وَلَا تَلْمِزُوٓا۟ أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا۟ بِٱلْأَلْقَٰبِ ۖ بِئْسَ ٱلِٱسْمُ ٱلْفُسُوقُ بَعْدَ ٱلْإِيمَٰنِ ۚ وَمَن لَّمْ يَتُبْ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ ﴾
“O YOU who have attained to faith! No men shall deride [other] men: it may well be that those [whom they deride] are better than themselves; and no women [shall deride other] women: it may well be that those [whom they deride] are better than themselves. And neither shall you defame one another, nor insult one another by [opprobrious] epithets: evil is all imputation of iniquity after [one has attained to] faith; and they who [become guilty thereof and] do not repent - it is they, they who are evildoers!”
ہر طعنہ باز عیب جو مجرم ہے اللہ تبارک وتعالیٰ لوگوں کو حقیر و ذلیل کرنے اور ان کا مذاق اڑانے سے روک رہا ہے حدیث شریف میں ہے تکبر حق سے منہ موڑ لینے اور لوگوں کو ذلیل و خوار سمجھنے کا نام ہے۔ اس کی وجہ قرآن کریم نے یہ بیان فرمائی کہ جسے تم ذلیل کر رہے ہو جس کا تم مذاق اڑا رہے ہو ممکن ہے کہ اللہ کے نزدیک وہ تم سے زیادہ باوقعت ہو مردوں کو منع کر کے پھر خاصتہ عورتوں کو بھی اس سے روکا اور اس ملعون خصلت کو حرام قرار دیا چناچہ قرآن کریم کا ارشاد ہے آیت (وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِۨ ۙ) 104۔ الهمزة :1) یعنی ہر طعنہ باز عیب جو کے لئے خرابی ہے ہمز فعل سے ہوتا ہے اور لمز قول سے ایک اور آیت میں ہے (ھماز مشاء بنمیم) الخ، یعنی وہ جو لوگوں کو حقیر گنتا ہو ان پر چڑھا چلا جا رہا ہو اور لگانے بجھانے والا ہو غرض ان تمام کاموں کو ہماری شریعت نے حرام قرار دیا۔ یہاں لفظ تو یہ ہیں کہ اپنے آپ کو عیب نہ لگاؤ مطلب یہ ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ جیسے فرمایا آیت (وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا 29) 4۔ النسآء :29) یعنی ایک دوسرے کو قتل نہ کرو۔ حضرت ابن عباس، مجاہد، سعید بن جبیر، قتادہ، مقاتل، بن حیان فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک دوسرے کو طعنے نہ دے پھر فرمایا کسی کو چڑاؤ مت ! جس لقب سے وہ ناراض ہوتا ہو اس لقب سے اسے نہ پکارو نہ اس کو برا نام دو۔ مسند احمد میں ہے کہ یہ حکم بنو سلمہ کے بارے میں نازل ہوا ہے۔ حضور ﷺ جب مدینے میں آئے تو یہاں ہر شخص کے دو دو تین تین نام تھے حضور ﷺ ان میں سے کسی کو کسی نام سے پکارتے تو لوگ کہتے یا رسول اللہ ﷺ یہ اس سے چڑتا ہے۔ اس پر یہ آیت اتری (ابو داؤد) پھر فرمان ہے کہ ایمان کی حالت میں فاسقانہ القاب سے آپس میں ایک دوسرے کو نامزد کرنا نہایت بری بات ہے اب تمہیں اس سے توبہ کرنی چاہئے ورنہ ظالم گنے جاؤ گے۔