Al-Maaida • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER
﴿ وَقَفَّيْنَا عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِم بِعِيسَى ٱبْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًۭا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ ٱلتَّوْرَىٰةِ ۖ وَءَاتَيْنَٰهُ ٱلْإِنجِيلَ فِيهِ هُدًۭى وَنُورٌۭ وَمُصَدِّقًۭا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ ٱلتَّوْرَىٰةِ وَهُدًۭى وَمَوْعِظَةًۭ لِّلْمُتَّقِينَ ﴾
“And We caused Jesus, the son of Mary, to follow in the footsteps of those [earlier prophets], confirming the truth of whatever there still remained of the Torah; and We vouchsafed unto him the Gospel, wherein there was guidance and light, confirming the truth of whatever there still remained of the Torah, and as a guidance and admonition unto the God-conscious.”
باطل کے غلام لوگ انبیاء بنی اسرائیل کے پیچھے ہم عیسیٰ نبی کو لائے جو توراۃ پر ایمان رکھتے تھے، اس کے احکام کے مطابق لوگوں میں فیصلے کرتے تھے، ہم نے انہیں بھی اپنی کتاب انجیل دی، جس میں حق کی ہدایت تھی اور شبہات اور مشکلات کی توضیح تھی اور پہلی الہامی کتابوں کی تصدیق تھی، ہاں چند مسائل جن میں یہودی اختلاف کرتے تھے، ان کے صاف فیصلے اس میں موجود تھے۔ جیسے قرآن میں اور جگہ ہے کہ " حضرت عیسیٰ نے فرمایا، میں تمہارے لئے بعض وہ چیزیں حلال کروں گا جو تم پر حرام کردی گئی ہیں "۔ اسی لئے علماء کا مشہور مقولہ ہے کہ انجیل نے تورات کے بعض احکام منسوخ کردیئے ہیں۔ انجیل سے پارسا لوگوں کی رہنمائی اور وعظ وپند ہوتی تھی کہ وہ نیکی کی طرف رغبت کریں اور برائی سے بچیں۔ اھل الانجیل بھی پڑھا گیا ہے اس صورت میں (والیحکم) میں لام کے معنی میں ہوگا۔ مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے حضرت عیسیٰ کو انجیل اس لئے دی تھی کہ وہ اپنے زمانے کے اپنے ماننے والوں کو اسی کے مطابق چلائیں اور اس لام کو امر کا لام سمجھا جائے اور مشہور قراۃ (ولیحکم) پڑھی جائے تو معنی یہ ہوں گے کہ انہیں چاہئے کہ انجیل کے کل احکام پر ایمان لائیں اور اسی کے مطابق فیصلہ کریں۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت (قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰي شَيْءٍ حَتّٰي تُقِيْمُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ) 5۔ المائدہ :68) یعنی اے اہل کتاب جب تک تم تورات و انجیل پر اور جو کچھ اللہ کی طرف سے اترا ہے، اگر اس پر قائم ہو تو تم کسی چیز پر نہیں ہوا۔ اور آیت میں ہے آیت (اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ) 7۔ الاعراف :157) جو لوگ اس رسول نبی ﷺ کی تابعداری کرتے ہیں، جس کی صفت اپنے ہاں توراۃ میں لکھی ہوئی پاتے ہیں وہ لوگ جو کتاب اللہ اور اپنے نبی کے فرمان کے مطابق حکم نہ کریں وہ اللہ کی اطاعت سے خارج، حق کے تارک اور باطل کے عامل ہیں، یہ آیت نصرانیوں کے حق میں ہے۔ روش آیت سے بھی یہ ظاہر ہے اور پہلے بیان بھی گزر چکا ہے۔