WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 68 من سورة سُورَةُ المَائـِدَةِ

Al-Maaida • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER

﴿ قُلْ يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لَسْتُمْ عَلَىٰ شَىْءٍ حَتَّىٰ تُقِيمُوا۟ ٱلتَّوْرَىٰةَ وَٱلْإِنجِيلَ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ ۗ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًۭا مِّنْهُم مَّآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ طُغْيَٰنًۭا وَكُفْرًۭا ۖ فَلَا تَأْسَ عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْكَٰفِرِينَ ﴾

“Say: "O followers of the Bible! You have no valid ground for your beliefs -unless you [truly] observe the Torah and the Gospel, and all that has been bestowed from on high upon you by your Sustainer!" Yet all that has been bestowed from on high upon thee [O Prophet] by thy Sustainer is bound to make many of them yet more stubborn in their overweening arrogance and in their denial of the truth. But sorrow not over people who deny the truth:”

📝 التفسير:

آخری رسول پر ایمان اولین شرط ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہود و نصاریٰ کسی دین پر نہیں، جب تک کہ اپنی کتابوں پر اور اللہ کی اس کتاب پر ایمان لائیں لیکن ان کی حالت تو یہ ہے کہ جیسے جیسے قرآن اترتا ہے یہ لوگ سرکشی اور کفر میں بڑھتے جاتے ہیں۔ پس اے نبی ﷺ تو ان کافروں کیلئے حسرت و افسوس کر کے کیوں اپنی جان کو روگ لگاتا ہے۔ صابی، نصرانیوں اور مجوسیوں کی بےدین جماعت کو کہتے ہیں اور صرف مجوسیوں کو بھی علاوہ ازیں ایک اور گروہ تھا، یہود اور نصاریٰ دونوں مثل مجوسیوں کے تھے۔ قتادہ کہتے ہیں یہ زبور پڑھتے تھے غیر قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے تھے اور فرشتوں کو پوجتے تھے۔ وہب فرماتے ہیں اللہ کو پہچانتے تھے، اپنی شریعت کے حامل تھے، ان میں کفر کی ایجاد نہیں ہوئی تھی، یہ عراق کے متصل آباد تھے، یلوثا کہے جاتے تھے، نبیوں کو مانتے تھے، ہر سال میں تیس روزے رکھتے تھے اور یمن کی طرف منہ کر کے دن بھر میں پانچ نمازیں بھی پڑھتے تھے اس کے سوا اور قول بھی ہیں چونکہ پہلے دو جملوں کے بعد انکا ذکر آیا تھا، اس لئے رفع کے ساتھ عطف ڈالا۔ ان تمام لوگوں سے جناب باری فرماتا ہے کہ " امن وامان والے بےڈر اور بےخوف وہ ہیں جو اللہ پر اور قیامت پر سچا ایمان رکھیں اور نیک اعمال کریں اور یہ ناممکن ہے، جب تک اس آخری رسول ﷺ پر ایمان نہ ہو جو کہ تمام جن و انس کی طرف اللہ کے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ پس آپ پر ایمان لانے والے آنے والی زندگی کے خطرات سے بےخوف ہیں اور یہاں چھوڑ کر جانے والی چیزوں کو انہیں کوئی تمنا اور حسرت نہیں "۔ سورة بقرہ کی تفسیر میں اس جملے کے مفصل معنی بیان کردیئے گئے ہیں۔