WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 82 من سورة سُورَةُ المَائـِدَةِ

Al-Maaida • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER

﴿ ۞ لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ ٱلنَّاسِ عَدَٰوَةًۭ لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱلْيَهُودَ وَٱلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ ۖ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةًۭ لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّا نَصَٰرَىٰ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًۭا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ ﴾

“Thou wilt surely find that, of all people, the most hostile to those who believe [in this divine writ] are the Jews as well as those who are bent on ascribing divinity to aught beside God; and thou wilt surely find that, of all people, they who say, "Behold, we are Christians," come closest to feeling affection for those who believe [in this divine writ]: this is so because there are priests and monks among them, and because these are not given to arrogance.”

📝 التفسير:

یہودیوں کا تاریخی کردار یہ آیت اور اس کے بعد کی چار آیتیں نجاشی اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہیں۔ جب ان کے سامنے حبشہ کے ملک میں حضرت جعفر بن ابو طالب نے قرآن کریم پڑھا تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور ان کی داڑھیاں تر ہوگئیں۔ یہ خیال رہے کہ یہ آیتیں مدینے میں اتری ہیں اور حضرت جعفر کا یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ آیتیں اس وفد کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جسے نجاشی نے حضور ﷺ کی خدمت میں بھیجا تھا کہ وہ آپ سے ملیں، حاضر خدمت ہو کر آپ کے حالات وصفات دیکھیں اور آپ کا کلام سنیں۔ جب یہ آئے آپ سے ملے اور آپ کی زبان مبارک سے قرآن کریم سنا تو ان کے دل نرم ہوگئے بہت روئے دھوئے اور اسلام قبول کیا اور واپس جاکر نجاشی سے سب حال کہا نجاشی اپنی سلطنت چھوڑ کر حضور ﷺ کی طرف ہجرت کر کے آنے لگے لیکن راستے میں ہی انتقال ہوگیا۔ یہاں بھی یہ خیال رہے کہ یہ بیان صرف سدی کا ہے اور صحیح روایات سے یہ ثابت ہے کہ وہ حبشہ میں ہی سلطنت کرتے ہوئے فوت ہوئے ان کے انتقال والے دن ہی حضور ﷺ نے صحابہ کو ان کے انتقال کی خبر دی اور ان کی نماز جنازہ غائبانہ ادا کی۔ بعض تو کہتے ہیں اس وفد میں سات تو علماء تھے اور پانچ زاہد تھے یا پانچ علماء اور سات زاہد تھے۔ بعض کہتے ہیں یہ کل پچاس آدمی تھے اور کہا گیا ہے کہ ساٹھ سے کچھ اوپر تھے ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ ستر تھے۔ فاللہ اعلم۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں جن کے اوصاف آیت میں بیان کئے گئے ہیں یہ اہل حبشہ ہیں۔ مسلمان مہاجرین حبشہ جب ان کے پاس پہنچے تو یہ سب مسلمان ہوگئے تھے۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں پہلے یہ دین عیسوی پر قائم تھے لیکن جب انہوں نے مسلمانوں کو دیکھا اور قرآن کریم کو سنا تو فوراً سب مسلمان ہوگئے۔ امام ابن جریر کا فیصلہ ان سب اقوال کو ٹھیک کردیتا ہے اور فرماتے ہیں کہ یہ آیتیں ان لوگوں کے بارے میں ہیں جن میں یہ اوصاف ہوں خواہ وہ حبشہ کے ہوں یا کہیں کے۔ یہودیوں کو مسلمانوں سے جو سخت دشمنی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سرکشی اور انکار کا مادہ زیادہ ہے اور جان بوجھ کر کفر کرتے ہیں اور ضد سے ناحق پر اڑتے ہیں، حق کے مقابلہ میں بگڑ بیٹھتے ہیں حق والوں پر حقارت کی نظریں ڈالتے ہیں ان سے بغض و بیر رکھتے ہیں۔ علم سے کورے ہیں علماء کی تعداد ان میں بہت ہی کم ہے اور علم اور ذی علم لوگوں کی کوئی وقعت ان کے دل میں نہیں یہی تھے جنہوں نے بہت سے انبیاء کو قتل کیا خود پیغمبر الزمان احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے قتل کا ارادہ بھی کیا اور ایک دفعہ نہیں بلکہ بار بار۔ آپ کو زہر دیا، آپ پر جادو کیا اور اپنے جیسے بدباطن لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر حضور ﷺ پر حملے کئے لیکن اللہ نے ہر مرتبہ انہیں نامراد اور ناکام کیا۔ ابن مردویہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب کبھی کوئی یہودی کسی مسلمانوں کو تنہائی میں پاتا ہے اس کے دل میں اس کے قتل کا قصد پیدا ہوتا ہے ایک دوسری سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن ہے بہت ہی غریب ہاں مسلمانوں سے دوستی میں زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو اپنے تئیں نصاریٰ کہتے ہیں حضرت مسیح کے تابعدار ہیں انجیل کے اصلی اور صحیح طریقے پر قائم ہیں ان میں ایک حد تک فی الجملہ مسلمانوں اور اسلام کی محبت ہے یہ اس لئے کہ ان میں نرم دلی ہے جیسے ارشاد باری آیت (وَجَعَلْنَا فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّرَحْمَةً) 57۔ الحدید :27) یعنی حضرت عیسیٰ کے تابعداروں کے دلوں میں ہم نے نرمی اور رحم ڈال دیا ہے۔ ان کی کتاب میں حکم ہے کہ جو تیرے داہنے کلے پر تھپڑ مارے تو اس کے سامنے بیاں کلہ بھی پیش کر دے۔ ان کی شریعت میں لڑائی ہے ہی نہیں۔ یہاں ان کی اس دوستی کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ ان میں خطیب اور واعظ ہیں قسسین اور قس کی جمع قسیسین ہے قسوس بھی اس کی جمع آتی ہے رھبان جمع ہے راہب کی، راہب کہتے ہیں عابد کو۔ یہ لفظ مشتق ہے رہب سے اور رہبت کے معنی ہیں خوف اور ڈر کے۔ جیسے راکب کی جمع رکبان ہے اور فرسان ہے امام ابن جریر فرماتے ہیں کبھی رہبان واحد کیلئے بھی آتا ہے اور اس کی جمع رہابین آتی ہے جیسے قربان اور قرابین اور جوازن اور جوازین اور کبھی اس کی جمع رہابنۃ بھی آتی ہے۔ عرب کے اشعار میں بھی لفظ رہبان واحد کیلئے آیا۔ حضرت سلمان سے ایک شخص (قسیسین و رھبانا) پڑھ کر اس کے معنی دریافت کرتا ہے تو آپ فرماتے ہیں قسیسین کو خانقاہوں اور غیر آباد جگہوں میں چھوڑ مجھے تو رسول اللہ ﷺ نے صدیقین و رھبانا پڑھایا (بزار اور ابن مردویہ) الغرض ان کے تین اوصاف یہاں بیان ہوئے ہیں ان میں عالموں کا ہونا۔ ان میں عابدوں کا ہونا۔ ان میں تواضع فروتنی اور عاجزی کا ہونا۔