WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير سورة النجم

(An-Najm) • المصدر: UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَىٰ

📘 حضرت شعبی فرماتے ہیں خالق تو اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم کھالے لیکن مخلوق سوائے اپنے خالق کے کسی اور کی قسم نہیں کھا سکتی (ابن ابی حاتم) ستارے کے جھکنے سے مراد فجر کے وقت ثریا کے ستارے کا غائب ہونا ہے۔ بعض کہتے ہیں مراد زہرہ نامی ستارہ ہے۔ حضرت ضحاک فرماتے ہیں مراد اس کا جھڑ کر شیطان کی طرف لپکنا ہے اس قول کی اچھی توجیہ ہوسکتی ہے مجاہد فرماتے ہیں اس جملے کی تفسیر یہ ہے کہ قسم ہے قرآن کی جب وہ اترے۔ اس آیت جیسی ہی آیت (فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ 75 ۙ) 56۔ الواقعة :75) ہے۔ پھر جس بات پر قسم کھا رہا ہے اس کا بیان ہے کہ آنحضرت ﷺ نیکی اور رشد و ہدایت اور تابع حق ہیں وہ بےعلمی کے ساتھ کسی غلط راہ لگے ہوئے یا باوجود علم کے ٹیڑھا راستہ اختیار کئے ہوئے نہیں ہیں۔ آپ گمراہ نصرانیوں اور جان بوجھ کر خلاف حق کرنے والے یہودیوں کی طرح نہیں۔ آپ کا علم کامل آپ کا عمل مطابق علم آپکا راستہ سیدھا آپ عظیم الشان شریعت کے شارع، آپ اعتدال والی راہ حق پر قائم۔ آپ کا کوئی قول کوئی فرمان اپنے نفس کی خواہش اور ذاتی غرض سے نہیں ہوتا بلکہ جس چیز کی تبلیغ کا آپکو حکم الہٰی ہوتا ہے آپ اسے ہی زبان سے نکالتے ہیں جو وہاں سے کہا جائے وہی آپ کی زبان سے ادا ہوتا ہے کمی بیشی زیادتی نقصان سے آپ کا کلام پاک ہوتا ہے، مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک شخص کی شفاعت سے جو نبی نہیں ہیں مثل دو قبیلوں کے یا دو میں سے ایک قبیلے کی گنتی کے برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ قبیلہ ربیعہ اور قبیلہ مضر اس پر ایک شخص نے کہا کیا ربیعہ مضر میں سے نہیں ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں تو وہی کہتا ہوں جو کہتا ہوں۔ مسند کی اور حدیث میں ہے حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں میں حضور ﷺ سے جو کچھ سنتا تھا اسے حفظ کرنے کے لئے لکھ لیا کرتا تھا پس بعض قریشیوں نے مجھے اس سے روکا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ ایک انسان ہیں کبھی کبھی غصے اور غضب میں بھی کچھ فرما دیا کرتے ہیں چناچہ میں لکھنے سے رک گیا پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا لکھ لیا کرو اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری زبان سے سوائے حق بات کے اور کوئی کلمہ نہیں نکلتا یہ حدیث ابو داؤد اور ابن ابی شیبہ میں بھی ہے بزار میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تمہیں جس امر کی خبر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا مسند احمد میں ہے کہ آپ نے فرمایا میں سوائے حق کے اور کچھ نہیں کہتا۔ اس پر بعض صحابہ نے کہا حضور ﷺ کبھی کبھی ہم سے خوش طبعی بھی کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اس وقت بھی میری زبان سے ناحق نہیں نکلتا۔

فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ

📘 تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40؀ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ کو لے کر حضرت جبرائیل اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) کا امام ابن جریر نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل اور آنحضرت ﷺ دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے امام ابن جریر کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہوسکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لئے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے آپ کی طرف جبرائیل اترے تھے اور قریب ہوگئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اسکے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہی کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔ یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) کی چند آیتیں آپ پر نازل ہوچکی تھیں پھر وحی بند ہوگئی تھی جس کا حضور ﷺ کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے حضرت جبرائیل کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد ﷺ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ کا غم غلط ہوجاتا دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہوجاتا واپس چلے آتے۔ لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامنگیر ہوتا اور وحی الہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح حضرت جبرائیل تسکین و تسلی کردیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں حضرت جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوگئے چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لئے تھے اب آپ سے قریب آگئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ کو پہنچائی اس وقت حضور ﷺ کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔ مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر کے قول کی تائید میں پیش ہوسکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں، امام احمد فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابو حاتم رازی کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جاسکتی ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو اس میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں ایک میں تو حضرت جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا میں نے دیکھا کہ حضرت جبرائیل اس وقت ہیبت الہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے جبرائیل ﷺ سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں حضرت جبرائیل نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے آپ نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ بیہوش ہوگئے جبرائیل فوراً آئے اور آپ کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو لہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد ﷺ کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چناچہ یہ آیا اور کہا اے محمد جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آگیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بےادب تھا اور بار بار گستاخی سے پیش آتا تھا) حضور ﷺ کی زبان سے اس کے لئے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے، یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہوگیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سرزمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا راہب نے ان سے کہا یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آگئے ؟ ابو لہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لئے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو لوگوں نے اسے منظور کرلیا یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابو لہب کہنے لگا اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد ﷺ کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ پھر فرماتا ہے کہ حضرت جبرائیل آنحضرت ﷺ سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ حضور ﷺ کے اور حضرت جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہوگئی یہاں لفظ (او) جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لئے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لئے جیسے اور جگہ ہے پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74؀) 2۔ البقرة :74) بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت یعنی پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں ایک اور فرمان ہے وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77؀) 4۔ النسآء :77) بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور جگہ ہے ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردد کے لئے نہیں خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہوسکتا۔ یہ قریب آنے والے حضرت جبرائیل تھے جیسے ام المومنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) میں ہے۔ حضرت انس والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لئے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہوجائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہوگی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جاسکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا ہے پس یہ سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں نبی ﷺ کی ابتداء نبوت کے وقت آپ نے خواب میں حضرت جبرائیل کو دیکھا پھر آپ اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لئے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہرچند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ نے اوپر کی طرف دیکھا تو دیکھا کہ حضرت جبرائیل اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ حضور دہشت زدہ ہوجائیں کہ فرشتے نے کہا میں جبرائیل ہوں میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں لیکن حضور ﷺ سے ضبط نہ ہوسکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر حضرت جبرائیل اسی طرح نظر آئے آپ پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آگئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل پر دو ریشمی حلے تھے پھر فرمایا اس نے وحی کی اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ حضرت جبرائیل نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت (اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى ۠) 93۔ الضحی :6) اور آیت (وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ۭ) 94۔ الشرح :4) تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی۔ کہ نبیوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ آپ اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہوجائے، ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے حضرت ابن مسعود نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ نے اپنے دل سے دیکھا جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے اس لئے کہ صحابہ سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں، امام بغوی فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جیسے حضرت انس، حضرت حسن اور حضرت عکرمہ ان کے اس قول میں نظر ہے واللہ اعلم۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں میں نے یہ سن کر کہا پھر یہ آیت کہاں جائے گا جس میں فرمان ہے آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) اسے کوئی نگاہ نہیں پاسکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ یہ حدیث غریب ہے ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ ابن عباس کی ملاقات حضرت کعب سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گذرا ابن عباس نے فرمایا ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو حضرت کعب نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ کے درمیان تقسیم کردیا حضرت موسیٰ سے دو مرتبہ باتیں کیں اور آنحضرت کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ حضرت مسروق حضرت عائشہ کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میں نے کہا مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ نے فرمایا کہاں جا رہے ہو ؟ سنو اس سے مراد حضرت جبرائیل کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد نے اپنے رب کو دیکھا یا حضور ﷺ نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپالیا یا آپ ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہوگی ؟ بارش کب اور کتنی برسے گی ؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ ؟ کون کل کیا کرے گا ؟ کون کہاں مرے گا ؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا بات یہ ہے کہ آپ نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین کو دیکھا تھا آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہی کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت حضرت ابراہیم کے لئے تھی اور کلام حضرت موسیٰ کے لئے اور دیدار حضرت محمد ﷺ کے لئے صحیح مسلم میں حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا وہ سراسر نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ؟ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ کے اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ؀) 53۔ النجم :11) پڑھی۔ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) پڑھی حضرت عکرمہ سے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ؀) 53۔ النجم :11) کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ہاں آپ نے دیکھا اور پھر دیکھا سائل نے پھر حضرت حسن سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ حضور ﷺ سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا یہ حدیث بھی بہت غریب ہے ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے چناچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا اے محمد ﷺ جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہوگئی پھر مجھ سے وہی سوال کیا میں نے کہا اب مجھے معلوم ہوگیا وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا اچھا پھر تم بھی بتاؤ کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں مسجدوں میں رکے رہنا جماعت کے لئے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گذرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گذارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہوگا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہوجائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا اے محمد ﷺ جب نماز پڑھو یہ کہو (اللھم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین واذا اردت بعبادک فتنۃ ان تقبضنی الیک غیر مفتون) یعنی یا اللہ میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں کھانا کھلانا سلام پھیلانا لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا اسی کی مثل روایت سورة ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گذر چکی ہے ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لئے پیدل چلنے کے قدم ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار میں نے کہا یا اللہ تو نے حضرت ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا اور حضرت موسیٰ کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا ؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے ؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کردیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ اس کی اسناد ضعیف ہے اوپر عتبہ بن ابو لہب کا یہ کہنا کہ میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا اور پھر حضور ﷺ کا اس کے لئے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہوچکا ہے یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہوگا۔ پھر آنحضرت ﷺ کا حضرت جبرائیل کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورة سبحٰن کی شروع آیت کی تفسیر میں گذر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں یہ بھی بیان گذر چکا ہے کہ حضرت ابن عباس معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دورے بھی اس کے خلاف ہیں حضور ﷺ کا جبرائیل کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گذر چکی ہیں حضرت عائشہ سے حضرت مسروق کا پوچھنا اور آپ کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ صدیقہ اپنے اس جواب کے بعد آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) ، کی تلاوت کی اور آیت (مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ للنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ 79؀ۙ) 3۔ آل عمران :79) کی بھی تلاوت فرمائی یعنی کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ آنحضرت ﷺ کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا پھر آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ 34؀) 31۔ لقمان :34) آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ حضور ﷺ نے اللہ کی کسی بات کو چھپالیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت (یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) پڑھی یعنی اے رسول ﷺ جو تمہاری جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ہاں آپ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسروق نے حضرت عائشہ کے سامنے سورة نجم کی آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) اور (وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى 13 ۙ) 53۔ النجم :13) پڑھیں اس کے جواب میں ام المومنین حضرت عائشہ نے فرمایا اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی ﷺ سے میں نے سوال کیا تھا آپ نے فرمایا اس سے مراد میرا حضرت جبرائیل کو دیکھنا ہے آپ نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن شفیق نے حضرت ابوذر سے کہا کہ اگر میں حضور ﷺ کو دیکھتا تو آپ سے ایک بات ضرور پوچھتا حضرت ابوذر نے کہا کیا پوچھتے ؟ کہا یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے ؟ حضرت ابوذر نے فرمایا یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب سے کیا تھا آپ نے جواب دیا کہ میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا، صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ حضرت امام احمد فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں ابن ابی حاتم میں حضرت ابوذر سے منقول ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق اور حضرت ابوذر کے درمیان انقطاع ہے اور امام ابن جوزی فرماتے ہیں ممکن ہے حضرت ابوذر کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور حضور ﷺ نے اس وقت یہ جواب دیا ہو اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لئے کہ حضرت عائشہ کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چناچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے واللہ اعلم، حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں حضرت جبرائیل کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہی پر اس وقت فرشتے بہ کثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں معراج والی رات آنحضرت ﷺ سدرۃ المنتہی تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، حضور ﷺ کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورة بقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش (مسلم) ابوہریرہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہی پر فرشتے چھا رہے تھے وہاں جب حضور ﷺ پہنچے تو آپ سے کہا گیا کہ جو مانگنا ہو مانگو۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید یاقوت اور زبرجد کی تھیں آنحضرت ﷺ نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ ابن زید فرماتے ہیں حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا ؟ آپ نے فرمایا اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔ آپ کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے اسی کو ایک نظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے آیت (لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى 23؀ۚ) 20۔ طه :23) اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ حضور ﷺ نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا ابن مسعود کا قول گذر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل کو آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہی کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ

📘 تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40؀ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ کو لے کر حضرت جبرائیل اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) کا امام ابن جریر نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل اور آنحضرت ﷺ دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے امام ابن جریر کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہوسکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لئے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے آپ کی طرف جبرائیل اترے تھے اور قریب ہوگئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اسکے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہی کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔ یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) کی چند آیتیں آپ پر نازل ہوچکی تھیں پھر وحی بند ہوگئی تھی جس کا حضور ﷺ کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے حضرت جبرائیل کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد ﷺ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ کا غم غلط ہوجاتا دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہوجاتا واپس چلے آتے۔ لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامنگیر ہوتا اور وحی الہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح حضرت جبرائیل تسکین و تسلی کردیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں حضرت جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوگئے چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لئے تھے اب آپ سے قریب آگئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ کو پہنچائی اس وقت حضور ﷺ کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔ مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر کے قول کی تائید میں پیش ہوسکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں، امام احمد فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابو حاتم رازی کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جاسکتی ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو اس میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں ایک میں تو حضرت جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا میں نے دیکھا کہ حضرت جبرائیل اس وقت ہیبت الہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے جبرائیل ﷺ سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں حضرت جبرائیل نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے آپ نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ بیہوش ہوگئے جبرائیل فوراً آئے اور آپ کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو لہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد ﷺ کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چناچہ یہ آیا اور کہا اے محمد جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آگیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بےادب تھا اور بار بار گستاخی سے پیش آتا تھا) حضور ﷺ کی زبان سے اس کے لئے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے، یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہوگیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سرزمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا راہب نے ان سے کہا یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آگئے ؟ ابو لہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لئے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو لوگوں نے اسے منظور کرلیا یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابو لہب کہنے لگا اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد ﷺ کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ پھر فرماتا ہے کہ حضرت جبرائیل آنحضرت ﷺ سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ حضور ﷺ کے اور حضرت جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہوگئی یہاں لفظ (او) جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لئے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لئے جیسے اور جگہ ہے پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74؀) 2۔ البقرة :74) بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت یعنی پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں ایک اور فرمان ہے وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77؀) 4۔ النسآء :77) بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور جگہ ہے ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردد کے لئے نہیں خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہوسکتا۔ یہ قریب آنے والے حضرت جبرائیل تھے جیسے ام المومنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) میں ہے۔ حضرت انس والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لئے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہوجائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہوگی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جاسکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا ہے پس یہ سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں نبی ﷺ کی ابتداء نبوت کے وقت آپ نے خواب میں حضرت جبرائیل کو دیکھا پھر آپ اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لئے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہرچند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ نے اوپر کی طرف دیکھا تو دیکھا کہ حضرت جبرائیل اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ حضور دہشت زدہ ہوجائیں کہ فرشتے نے کہا میں جبرائیل ہوں میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں لیکن حضور ﷺ سے ضبط نہ ہوسکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر حضرت جبرائیل اسی طرح نظر آئے آپ پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آگئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل پر دو ریشمی حلے تھے پھر فرمایا اس نے وحی کی اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ حضرت جبرائیل نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت (اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى ۠) 93۔ الضحی :6) اور آیت (وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ۭ) 94۔ الشرح :4) تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی۔ کہ نبیوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ آپ اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہوجائے، ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے حضرت ابن مسعود نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ نے اپنے دل سے دیکھا جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے اس لئے کہ صحابہ سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں، امام بغوی فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جیسے حضرت انس، حضرت حسن اور حضرت عکرمہ ان کے اس قول میں نظر ہے واللہ اعلم۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں میں نے یہ سن کر کہا پھر یہ آیت کہاں جائے گا جس میں فرمان ہے آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) اسے کوئی نگاہ نہیں پاسکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ یہ حدیث غریب ہے ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ ابن عباس کی ملاقات حضرت کعب سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گذرا ابن عباس نے فرمایا ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو حضرت کعب نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ کے درمیان تقسیم کردیا حضرت موسیٰ سے دو مرتبہ باتیں کیں اور آنحضرت کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ حضرت مسروق حضرت عائشہ کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میں نے کہا مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ نے فرمایا کہاں جا رہے ہو ؟ سنو اس سے مراد حضرت جبرائیل کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد نے اپنے رب کو دیکھا یا حضور ﷺ نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپالیا یا آپ ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہوگی ؟ بارش کب اور کتنی برسے گی ؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ ؟ کون کل کیا کرے گا ؟ کون کہاں مرے گا ؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا بات یہ ہے کہ آپ نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین کو دیکھا تھا آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہی کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت حضرت ابراہیم کے لئے تھی اور کلام حضرت موسیٰ کے لئے اور دیدار حضرت محمد ﷺ کے لئے صحیح مسلم میں حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا وہ سراسر نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ؟ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ کے اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ؀) 53۔ النجم :11) پڑھی۔ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) پڑھی حضرت عکرمہ سے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ؀) 53۔ النجم :11) کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ہاں آپ نے دیکھا اور پھر دیکھا سائل نے پھر حضرت حسن سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ حضور ﷺ سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا یہ حدیث بھی بہت غریب ہے ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے چناچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا اے محمد ﷺ جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہوگئی پھر مجھ سے وہی سوال کیا میں نے کہا اب مجھے معلوم ہوگیا وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا اچھا پھر تم بھی بتاؤ کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں مسجدوں میں رکے رہنا جماعت کے لئے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گذرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گذارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہوگا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہوجائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا اے محمد ﷺ جب نماز پڑھو یہ کہو (اللھم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین واذا اردت بعبادک فتنۃ ان تقبضنی الیک غیر مفتون) یعنی یا اللہ میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں کھانا کھلانا سلام پھیلانا لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا اسی کی مثل روایت سورة ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گذر چکی ہے ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لئے پیدل چلنے کے قدم ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار میں نے کہا یا اللہ تو نے حضرت ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا اور حضرت موسیٰ کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا ؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے ؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کردیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ اس کی اسناد ضعیف ہے اوپر عتبہ بن ابو لہب کا یہ کہنا کہ میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا اور پھر حضور ﷺ کا اس کے لئے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہوچکا ہے یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہوگا۔ پھر آنحضرت ﷺ کا حضرت جبرائیل کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورة سبحٰن کی شروع آیت کی تفسیر میں گذر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں یہ بھی بیان گذر چکا ہے کہ حضرت ابن عباس معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دورے بھی اس کے خلاف ہیں حضور ﷺ کا جبرائیل کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گذر چکی ہیں حضرت عائشہ سے حضرت مسروق کا پوچھنا اور آپ کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ صدیقہ اپنے اس جواب کے بعد آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) ، کی تلاوت کی اور آیت (مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ للنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ 79؀ۙ) 3۔ آل عمران :79) کی بھی تلاوت فرمائی یعنی کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ آنحضرت ﷺ کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا پھر آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ 34؀) 31۔ لقمان :34) آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ حضور ﷺ نے اللہ کی کسی بات کو چھپالیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت (یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) پڑھی یعنی اے رسول ﷺ جو تمہاری جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ہاں آپ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسروق نے حضرت عائشہ کے سامنے سورة نجم کی آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) اور (وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى 13 ۙ) 53۔ النجم :13) پڑھیں اس کے جواب میں ام المومنین حضرت عائشہ نے فرمایا اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی ﷺ سے میں نے سوال کیا تھا آپ نے فرمایا اس سے مراد میرا حضرت جبرائیل کو دیکھنا ہے آپ نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن شفیق نے حضرت ابوذر سے کہا کہ اگر میں حضور ﷺ کو دیکھتا تو آپ سے ایک بات ضرور پوچھتا حضرت ابوذر نے کہا کیا پوچھتے ؟ کہا یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے ؟ حضرت ابوذر نے فرمایا یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب سے کیا تھا آپ نے جواب دیا کہ میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا، صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ حضرت امام احمد فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں ابن ابی حاتم میں حضرت ابوذر سے منقول ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق اور حضرت ابوذر کے درمیان انقطاع ہے اور امام ابن جوزی فرماتے ہیں ممکن ہے حضرت ابوذر کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور حضور ﷺ نے اس وقت یہ جواب دیا ہو اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لئے کہ حضرت عائشہ کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چناچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے واللہ اعلم، حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں حضرت جبرائیل کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہی پر اس وقت فرشتے بہ کثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں معراج والی رات آنحضرت ﷺ سدرۃ المنتہی تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، حضور ﷺ کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورة بقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش (مسلم) ابوہریرہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہی پر فرشتے چھا رہے تھے وہاں جب حضور ﷺ پہنچے تو آپ سے کہا گیا کہ جو مانگنا ہو مانگو۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید یاقوت اور زبرجد کی تھیں آنحضرت ﷺ نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ ابن زید فرماتے ہیں حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا ؟ آپ نے فرمایا اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔ آپ کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے اسی کو ایک نظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے آیت (لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى 23؀ۚ) 20۔ طه :23) اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ حضور ﷺ نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا ابن مسعود کا قول گذر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل کو آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہی کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔

أَفَتُمَارُونَهُ عَلَىٰ مَا يَرَىٰ

📘 تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40؀ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ کو لے کر حضرت جبرائیل اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) کا امام ابن جریر نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل اور آنحضرت ﷺ دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے امام ابن جریر کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہوسکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لئے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے آپ کی طرف جبرائیل اترے تھے اور قریب ہوگئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اسکے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہی کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔ یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) کی چند آیتیں آپ پر نازل ہوچکی تھیں پھر وحی بند ہوگئی تھی جس کا حضور ﷺ کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے حضرت جبرائیل کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد ﷺ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ کا غم غلط ہوجاتا دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہوجاتا واپس چلے آتے۔ لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامنگیر ہوتا اور وحی الہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح حضرت جبرائیل تسکین و تسلی کردیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں حضرت جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوگئے چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لئے تھے اب آپ سے قریب آگئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ کو پہنچائی اس وقت حضور ﷺ کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔ مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر کے قول کی تائید میں پیش ہوسکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں، امام احمد فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابو حاتم رازی کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جاسکتی ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو اس میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں ایک میں تو حضرت جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا میں نے دیکھا کہ حضرت جبرائیل اس وقت ہیبت الہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے جبرائیل ﷺ سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں حضرت جبرائیل نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے آپ نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ بیہوش ہوگئے جبرائیل فوراً آئے اور آپ کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو لہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد ﷺ کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چناچہ یہ آیا اور کہا اے محمد جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آگیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بےادب تھا اور بار بار گستاخی سے پیش آتا تھا) حضور ﷺ کی زبان سے اس کے لئے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے، یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہوگیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سرزمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا راہب نے ان سے کہا یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آگئے ؟ ابو لہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لئے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو لوگوں نے اسے منظور کرلیا یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابو لہب کہنے لگا اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد ﷺ کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ پھر فرماتا ہے کہ حضرت جبرائیل آنحضرت ﷺ سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ حضور ﷺ کے اور حضرت جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہوگئی یہاں لفظ (او) جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لئے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لئے جیسے اور جگہ ہے پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74؀) 2۔ البقرة :74) بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت یعنی پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں ایک اور فرمان ہے وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77؀) 4۔ النسآء :77) بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور جگہ ہے ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردد کے لئے نہیں خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہوسکتا۔ یہ قریب آنے والے حضرت جبرائیل تھے جیسے ام المومنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) میں ہے۔ حضرت انس والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لئے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہوجائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہوگی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جاسکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا ہے پس یہ سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں نبی ﷺ کی ابتداء نبوت کے وقت آپ نے خواب میں حضرت جبرائیل کو دیکھا پھر آپ اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لئے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہرچند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ نے اوپر کی طرف دیکھا تو دیکھا کہ حضرت جبرائیل اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ حضور دہشت زدہ ہوجائیں کہ فرشتے نے کہا میں جبرائیل ہوں میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں لیکن حضور ﷺ سے ضبط نہ ہوسکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر حضرت جبرائیل اسی طرح نظر آئے آپ پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آگئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل پر دو ریشمی حلے تھے پھر فرمایا اس نے وحی کی اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ حضرت جبرائیل نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت (اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى ۠) 93۔ الضحی :6) اور آیت (وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ۭ) 94۔ الشرح :4) تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی۔ کہ نبیوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ آپ اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہوجائے، ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے حضرت ابن مسعود نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ نے اپنے دل سے دیکھا جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے اس لئے کہ صحابہ سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں، امام بغوی فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جیسے حضرت انس، حضرت حسن اور حضرت عکرمہ ان کے اس قول میں نظر ہے واللہ اعلم۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں میں نے یہ سن کر کہا پھر یہ آیت کہاں جائے گا جس میں فرمان ہے آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) اسے کوئی نگاہ نہیں پاسکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ یہ حدیث غریب ہے ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ ابن عباس کی ملاقات حضرت کعب سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گذرا ابن عباس نے فرمایا ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو حضرت کعب نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ کے درمیان تقسیم کردیا حضرت موسیٰ سے دو مرتبہ باتیں کیں اور آنحضرت کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ حضرت مسروق حضرت عائشہ کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میں نے کہا مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ نے فرمایا کہاں جا رہے ہو ؟ سنو اس سے مراد حضرت جبرائیل کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد نے اپنے رب کو دیکھا یا حضور ﷺ نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپالیا یا آپ ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہوگی ؟ بارش کب اور کتنی برسے گی ؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ ؟ کون کل کیا کرے گا ؟ کون کہاں مرے گا ؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا بات یہ ہے کہ آپ نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین کو دیکھا تھا آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہی کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت حضرت ابراہیم کے لئے تھی اور کلام حضرت موسیٰ کے لئے اور دیدار حضرت محمد ﷺ کے لئے صحیح مسلم میں حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا وہ سراسر نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ؟ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ کے اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ؀) 53۔ النجم :11) پڑھی۔ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) پڑھی حضرت عکرمہ سے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ؀) 53۔ النجم :11) کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ہاں آپ نے دیکھا اور پھر دیکھا سائل نے پھر حضرت حسن سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ حضور ﷺ سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا یہ حدیث بھی بہت غریب ہے ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے چناچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا اے محمد ﷺ جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہوگئی پھر مجھ سے وہی سوال کیا میں نے کہا اب مجھے معلوم ہوگیا وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا اچھا پھر تم بھی بتاؤ کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں مسجدوں میں رکے رہنا جماعت کے لئے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گذرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گذارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہوگا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہوجائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا اے محمد ﷺ جب نماز پڑھو یہ کہو (اللھم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین واذا اردت بعبادک فتنۃ ان تقبضنی الیک غیر مفتون) یعنی یا اللہ میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں کھانا کھلانا سلام پھیلانا لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا اسی کی مثل روایت سورة ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گذر چکی ہے ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لئے پیدل چلنے کے قدم ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار میں نے کہا یا اللہ تو نے حضرت ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا اور حضرت موسیٰ کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا ؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے ؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کردیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ اس کی اسناد ضعیف ہے اوپر عتبہ بن ابو لہب کا یہ کہنا کہ میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا اور پھر حضور ﷺ کا اس کے لئے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہوچکا ہے یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہوگا۔ پھر آنحضرت ﷺ کا حضرت جبرائیل کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورة سبحٰن کی شروع آیت کی تفسیر میں گذر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں یہ بھی بیان گذر چکا ہے کہ حضرت ابن عباس معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دورے بھی اس کے خلاف ہیں حضور ﷺ کا جبرائیل کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گذر چکی ہیں حضرت عائشہ سے حضرت مسروق کا پوچھنا اور آپ کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ صدیقہ اپنے اس جواب کے بعد آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) ، کی تلاوت کی اور آیت (مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ للنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ 79؀ۙ) 3۔ آل عمران :79) کی بھی تلاوت فرمائی یعنی کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ آنحضرت ﷺ کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا پھر آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ 34؀) 31۔ لقمان :34) آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ حضور ﷺ نے اللہ کی کسی بات کو چھپالیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت (یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) پڑھی یعنی اے رسول ﷺ جو تمہاری جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ہاں آپ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسروق نے حضرت عائشہ کے سامنے سورة نجم کی آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) اور (وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى 13 ۙ) 53۔ النجم :13) پڑھیں اس کے جواب میں ام المومنین حضرت عائشہ نے فرمایا اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی ﷺ سے میں نے سوال کیا تھا آپ نے فرمایا اس سے مراد میرا حضرت جبرائیل کو دیکھنا ہے آپ نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن شفیق نے حضرت ابوذر سے کہا کہ اگر میں حضور ﷺ کو دیکھتا تو آپ سے ایک بات ضرور پوچھتا حضرت ابوذر نے کہا کیا پوچھتے ؟ کہا یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے ؟ حضرت ابوذر نے فرمایا یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب سے کیا تھا آپ نے جواب دیا کہ میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا، صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ حضرت امام احمد فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں ابن ابی حاتم میں حضرت ابوذر سے منقول ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق اور حضرت ابوذر کے درمیان انقطاع ہے اور امام ابن جوزی فرماتے ہیں ممکن ہے حضرت ابوذر کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور حضور ﷺ نے اس وقت یہ جواب دیا ہو اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لئے کہ حضرت عائشہ کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چناچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے واللہ اعلم، حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں حضرت جبرائیل کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہی پر اس وقت فرشتے بہ کثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں معراج والی رات آنحضرت ﷺ سدرۃ المنتہی تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، حضور ﷺ کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورة بقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش (مسلم) ابوہریرہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہی پر فرشتے چھا رہے تھے وہاں جب حضور ﷺ پہنچے تو آپ سے کہا گیا کہ جو مانگنا ہو مانگو۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید یاقوت اور زبرجد کی تھیں آنحضرت ﷺ نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ ابن زید فرماتے ہیں حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا ؟ آپ نے فرمایا اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔ آپ کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے اسی کو ایک نظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے آیت (لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى 23؀ۚ) 20۔ طه :23) اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ حضور ﷺ نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا ابن مسعود کا قول گذر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل کو آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہی کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔

وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ

📘 تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40؀ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ کو لے کر حضرت جبرائیل اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) کا امام ابن جریر نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل اور آنحضرت ﷺ دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے امام ابن جریر کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہوسکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لئے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے آپ کی طرف جبرائیل اترے تھے اور قریب ہوگئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اسکے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہی کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔ یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) کی چند آیتیں آپ پر نازل ہوچکی تھیں پھر وحی بند ہوگئی تھی جس کا حضور ﷺ کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے حضرت جبرائیل کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد ﷺ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ کا غم غلط ہوجاتا دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہوجاتا واپس چلے آتے۔ لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامنگیر ہوتا اور وحی الہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح حضرت جبرائیل تسکین و تسلی کردیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں حضرت جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوگئے چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لئے تھے اب آپ سے قریب آگئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ کو پہنچائی اس وقت حضور ﷺ کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔ مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر کے قول کی تائید میں پیش ہوسکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں، امام احمد فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابو حاتم رازی کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جاسکتی ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو اس میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں ایک میں تو حضرت جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا میں نے دیکھا کہ حضرت جبرائیل اس وقت ہیبت الہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے جبرائیل ﷺ سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں حضرت جبرائیل نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے آپ نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ بیہوش ہوگئے جبرائیل فوراً آئے اور آپ کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو لہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد ﷺ کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چناچہ یہ آیا اور کہا اے محمد جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آگیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بےادب تھا اور بار بار گستاخی سے پیش آتا تھا) حضور ﷺ کی زبان سے اس کے لئے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے، یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہوگیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سرزمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا راہب نے ان سے کہا یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آگئے ؟ ابو لہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لئے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو لوگوں نے اسے منظور کرلیا یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابو لہب کہنے لگا اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد ﷺ کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ پھر فرماتا ہے کہ حضرت جبرائیل آنحضرت ﷺ سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ حضور ﷺ کے اور حضرت جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہوگئی یہاں لفظ (او) جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لئے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لئے جیسے اور جگہ ہے پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74؀) 2۔ البقرة :74) بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت یعنی پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں ایک اور فرمان ہے وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77؀) 4۔ النسآء :77) بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور جگہ ہے ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردد کے لئے نہیں خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہوسکتا۔ یہ قریب آنے والے حضرت جبرائیل تھے جیسے ام المومنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) میں ہے۔ حضرت انس والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لئے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہوجائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہوگی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جاسکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا ہے پس یہ سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں نبی ﷺ کی ابتداء نبوت کے وقت آپ نے خواب میں حضرت جبرائیل کو دیکھا پھر آپ اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لئے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہرچند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ نے اوپر کی طرف دیکھا تو دیکھا کہ حضرت جبرائیل اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ حضور دہشت زدہ ہوجائیں کہ فرشتے نے کہا میں جبرائیل ہوں میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں لیکن حضور ﷺ سے ضبط نہ ہوسکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر حضرت جبرائیل اسی طرح نظر آئے آپ پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آگئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل پر دو ریشمی حلے تھے پھر فرمایا اس نے وحی کی اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ حضرت جبرائیل نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت (اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى ۠) 93۔ الضحی :6) اور آیت (وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ۭ) 94۔ الشرح :4) تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی۔ کہ نبیوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ آپ اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہوجائے، ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے حضرت ابن مسعود نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ نے اپنے دل سے دیکھا جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے اس لئے کہ صحابہ سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں، امام بغوی فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جیسے حضرت انس، حضرت حسن اور حضرت عکرمہ ان کے اس قول میں نظر ہے واللہ اعلم۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں میں نے یہ سن کر کہا پھر یہ آیت کہاں جائے گا جس میں فرمان ہے آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) اسے کوئی نگاہ نہیں پاسکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ یہ حدیث غریب ہے ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ ابن عباس کی ملاقات حضرت کعب سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گذرا ابن عباس نے فرمایا ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو حضرت کعب نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ کے درمیان تقسیم کردیا حضرت موسیٰ سے دو مرتبہ باتیں کیں اور آنحضرت کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ حضرت مسروق حضرت عائشہ کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میں نے کہا مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ نے فرمایا کہاں جا رہے ہو ؟ سنو اس سے مراد حضرت جبرائیل کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد نے اپنے رب کو دیکھا یا حضور ﷺ نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپالیا یا آپ ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہوگی ؟ بارش کب اور کتنی برسے گی ؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ ؟ کون کل کیا کرے گا ؟ کون کہاں مرے گا ؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا بات یہ ہے کہ آپ نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین کو دیکھا تھا آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہی کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت حضرت ابراہیم کے لئے تھی اور کلام حضرت موسیٰ کے لئے اور دیدار حضرت محمد ﷺ کے لئے صحیح مسلم میں حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا وہ سراسر نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ؟ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ کے اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ؀) 53۔ النجم :11) پڑھی۔ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) پڑھی حضرت عکرمہ سے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ؀) 53۔ النجم :11) کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ہاں آپ نے دیکھا اور پھر دیکھا سائل نے پھر حضرت حسن سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ حضور ﷺ سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا یہ حدیث بھی بہت غریب ہے ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے چناچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا اے محمد ﷺ جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہوگئی پھر مجھ سے وہی سوال کیا میں نے کہا اب مجھے معلوم ہوگیا وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا اچھا پھر تم بھی بتاؤ کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں مسجدوں میں رکے رہنا جماعت کے لئے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گذرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گذارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہوگا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہوجائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا اے محمد ﷺ جب نماز پڑھو یہ کہو (اللھم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین واذا اردت بعبادک فتنۃ ان تقبضنی الیک غیر مفتون) یعنی یا اللہ میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں کھانا کھلانا سلام پھیلانا لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا اسی کی مثل روایت سورة ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گذر چکی ہے ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لئے پیدل چلنے کے قدم ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار میں نے کہا یا اللہ تو نے حضرت ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا اور حضرت موسیٰ کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا ؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے ؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کردیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ اس کی اسناد ضعیف ہے اوپر عتبہ بن ابو لہب کا یہ کہنا کہ میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا اور پھر حضور ﷺ کا اس کے لئے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہوچکا ہے یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہوگا۔ پھر آنحضرت ﷺ کا حضرت جبرائیل کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورة سبحٰن کی شروع آیت کی تفسیر میں گذر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں یہ بھی بیان گذر چکا ہے کہ حضرت ابن عباس معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دورے بھی اس کے خلاف ہیں حضور ﷺ کا جبرائیل کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گذر چکی ہیں حضرت عائشہ سے حضرت مسروق کا پوچھنا اور آپ کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ صدیقہ اپنے اس جواب کے بعد آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) ، کی تلاوت کی اور آیت (مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ للنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ 79؀ۙ) 3۔ آل عمران :79) کی بھی تلاوت فرمائی یعنی کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ آنحضرت ﷺ کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا پھر آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ 34؀) 31۔ لقمان :34) آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ حضور ﷺ نے اللہ کی کسی بات کو چھپالیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت (یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) پڑھی یعنی اے رسول ﷺ جو تمہاری جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ہاں آپ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسروق نے حضرت عائشہ کے سامنے سورة نجم کی آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) اور (وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى 13 ۙ) 53۔ النجم :13) پڑھیں اس کے جواب میں ام المومنین حضرت عائشہ نے فرمایا اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی ﷺ سے میں نے سوال کیا تھا آپ نے فرمایا اس سے مراد میرا حضرت جبرائیل کو دیکھنا ہے آپ نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن شفیق نے حضرت ابوذر سے کہا کہ اگر میں حضور ﷺ کو دیکھتا تو آپ سے ایک بات ضرور پوچھتا حضرت ابوذر نے کہا کیا پوچھتے ؟ کہا یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے ؟ حضرت ابوذر نے فرمایا یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب سے کیا تھا آپ نے جواب دیا کہ میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا، صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ حضرت امام احمد فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں ابن ابی حاتم میں حضرت ابوذر سے منقول ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق اور حضرت ابوذر کے درمیان انقطاع ہے اور امام ابن جوزی فرماتے ہیں ممکن ہے حضرت ابوذر کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور حضور ﷺ نے اس وقت یہ جواب دیا ہو اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لئے کہ حضرت عائشہ کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چناچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے واللہ اعلم، حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں حضرت جبرائیل کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہی پر اس وقت فرشتے بہ کثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں معراج والی رات آنحضرت ﷺ سدرۃ المنتہی تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، حضور ﷺ کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورة بقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش (مسلم) ابوہریرہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہی پر فرشتے چھا رہے تھے وہاں جب حضور ﷺ پہنچے تو آپ سے کہا گیا کہ جو مانگنا ہو مانگو۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید یاقوت اور زبرجد کی تھیں آنحضرت ﷺ نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ ابن زید فرماتے ہیں حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا ؟ آپ نے فرمایا اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔ آپ کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے اسی کو ایک نظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے آیت (لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى 23؀ۚ) 20۔ طه :23) اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ حضور ﷺ نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا ابن مسعود کا قول گذر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل کو آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہی کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔

عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَىٰ

📘 تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40؀ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ کو لے کر حضرت جبرائیل اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) کا امام ابن جریر نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل اور آنحضرت ﷺ دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے امام ابن جریر کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہوسکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لئے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے آپ کی طرف جبرائیل اترے تھے اور قریب ہوگئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اسکے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہی کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔ یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) کی چند آیتیں آپ پر نازل ہوچکی تھیں پھر وحی بند ہوگئی تھی جس کا حضور ﷺ کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے حضرت جبرائیل کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد ﷺ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ کا غم غلط ہوجاتا دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہوجاتا واپس چلے آتے۔ لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامنگیر ہوتا اور وحی الہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح حضرت جبرائیل تسکین و تسلی کردیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں حضرت جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوگئے چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لئے تھے اب آپ سے قریب آگئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ کو پہنچائی اس وقت حضور ﷺ کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔ مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر کے قول کی تائید میں پیش ہوسکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں، امام احمد فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابو حاتم رازی کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جاسکتی ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو اس میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں ایک میں تو حضرت جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا میں نے دیکھا کہ حضرت جبرائیل اس وقت ہیبت الہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے جبرائیل ﷺ سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں حضرت جبرائیل نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے آپ نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ بیہوش ہوگئے جبرائیل فوراً آئے اور آپ کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو لہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد ﷺ کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چناچہ یہ آیا اور کہا اے محمد جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آگیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بےادب تھا اور بار بار گستاخی سے پیش آتا تھا) حضور ﷺ کی زبان سے اس کے لئے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے، یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہوگیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سرزمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا راہب نے ان سے کہا یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آگئے ؟ ابو لہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لئے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو لوگوں نے اسے منظور کرلیا یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابو لہب کہنے لگا اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد ﷺ کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ پھر فرماتا ہے کہ حضرت جبرائیل آنحضرت ﷺ سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ حضور ﷺ کے اور حضرت جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہوگئی یہاں لفظ (او) جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لئے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لئے جیسے اور جگہ ہے پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74؀) 2۔ البقرة :74) بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت یعنی پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں ایک اور فرمان ہے وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77؀) 4۔ النسآء :77) بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور جگہ ہے ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردد کے لئے نہیں خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہوسکتا۔ یہ قریب آنے والے حضرت جبرائیل تھے جیسے ام المومنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) میں ہے۔ حضرت انس والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لئے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہوجائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہوگی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جاسکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا ہے پس یہ سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں نبی ﷺ کی ابتداء نبوت کے وقت آپ نے خواب میں حضرت جبرائیل کو دیکھا پھر آپ اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لئے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہرچند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ نے اوپر کی طرف دیکھا تو دیکھا کہ حضرت جبرائیل اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ حضور دہشت زدہ ہوجائیں کہ فرشتے نے کہا میں جبرائیل ہوں میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں لیکن حضور ﷺ سے ضبط نہ ہوسکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر حضرت جبرائیل اسی طرح نظر آئے آپ پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آگئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل پر دو ریشمی حلے تھے پھر فرمایا اس نے وحی کی اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ حضرت جبرائیل نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت (اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى ۠) 93۔ الضحی :6) اور آیت (وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ۭ) 94۔ الشرح :4) تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی۔ کہ نبیوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ آپ اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہوجائے، ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے حضرت ابن مسعود نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ نے اپنے دل سے دیکھا جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے اس لئے کہ صحابہ سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں، امام بغوی فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جیسے حضرت انس، حضرت حسن اور حضرت عکرمہ ان کے اس قول میں نظر ہے واللہ اعلم۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں میں نے یہ سن کر کہا پھر یہ آیت کہاں جائے گا جس میں فرمان ہے آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) اسے کوئی نگاہ نہیں پاسکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ یہ حدیث غریب ہے ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ ابن عباس کی ملاقات حضرت کعب سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گذرا ابن عباس نے فرمایا ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو حضرت کعب نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ کے درمیان تقسیم کردیا حضرت موسیٰ سے دو مرتبہ باتیں کیں اور آنحضرت کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ حضرت مسروق حضرت عائشہ کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میں نے کہا مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ نے فرمایا کہاں جا رہے ہو ؟ سنو اس سے مراد حضرت جبرائیل کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد نے اپنے رب کو دیکھا یا حضور ﷺ نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپالیا یا آپ ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہوگی ؟ بارش کب اور کتنی برسے گی ؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ ؟ کون کل کیا کرے گا ؟ کون کہاں مرے گا ؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا بات یہ ہے کہ آپ نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین کو دیکھا تھا آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہی کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت حضرت ابراہیم کے لئے تھی اور کلام حضرت موسیٰ کے لئے اور دیدار حضرت محمد ﷺ کے لئے صحیح مسلم میں حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا وہ سراسر نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ؟ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ کے اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ؀) 53۔ النجم :11) پڑھی۔ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) پڑھی حضرت عکرمہ سے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ؀) 53۔ النجم :11) کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ہاں آپ نے دیکھا اور پھر دیکھا سائل نے پھر حضرت حسن سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ حضور ﷺ سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا یہ حدیث بھی بہت غریب ہے ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے چناچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا اے محمد ﷺ جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہوگئی پھر مجھ سے وہی سوال کیا میں نے کہا اب مجھے معلوم ہوگیا وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا اچھا پھر تم بھی بتاؤ کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں مسجدوں میں رکے رہنا جماعت کے لئے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گذرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گذارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہوگا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہوجائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا اے محمد ﷺ جب نماز پڑھو یہ کہو (اللھم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین واذا اردت بعبادک فتنۃ ان تقبضنی الیک غیر مفتون) یعنی یا اللہ میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں کھانا کھلانا سلام پھیلانا لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا اسی کی مثل روایت سورة ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گذر چکی ہے ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لئے پیدل چلنے کے قدم ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار میں نے کہا یا اللہ تو نے حضرت ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا اور حضرت موسیٰ کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا ؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے ؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کردیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ اس کی اسناد ضعیف ہے اوپر عتبہ بن ابو لہب کا یہ کہنا کہ میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا اور پھر حضور ﷺ کا اس کے لئے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہوچکا ہے یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہوگا۔ پھر آنحضرت ﷺ کا حضرت جبرائیل کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورة سبحٰن کی شروع آیت کی تفسیر میں گذر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں یہ بھی بیان گذر چکا ہے کہ حضرت ابن عباس معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دورے بھی اس کے خلاف ہیں حضور ﷺ کا جبرائیل کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گذر چکی ہیں حضرت عائشہ سے حضرت مسروق کا پوچھنا اور آپ کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ صدیقہ اپنے اس جواب کے بعد آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) ، کی تلاوت کی اور آیت (مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ للنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ 79؀ۙ) 3۔ آل عمران :79) کی بھی تلاوت فرمائی یعنی کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ آنحضرت ﷺ کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا پھر آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ 34؀) 31۔ لقمان :34) آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ حضور ﷺ نے اللہ کی کسی بات کو چھپالیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت (یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) پڑھی یعنی اے رسول ﷺ جو تمہاری جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ہاں آپ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسروق نے حضرت عائشہ کے سامنے سورة نجم کی آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) اور (وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى 13 ۙ) 53۔ النجم :13) پڑھیں اس کے جواب میں ام المومنین حضرت عائشہ نے فرمایا اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی ﷺ سے میں نے سوال کیا تھا آپ نے فرمایا اس سے مراد میرا حضرت جبرائیل کو دیکھنا ہے آپ نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن شفیق نے حضرت ابوذر سے کہا کہ اگر میں حضور ﷺ کو دیکھتا تو آپ سے ایک بات ضرور پوچھتا حضرت ابوذر نے کہا کیا پوچھتے ؟ کہا یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے ؟ حضرت ابوذر نے فرمایا یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب سے کیا تھا آپ نے جواب دیا کہ میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا، صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ حضرت امام احمد فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں ابن ابی حاتم میں حضرت ابوذر سے منقول ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق اور حضرت ابوذر کے درمیان انقطاع ہے اور امام ابن جوزی فرماتے ہیں ممکن ہے حضرت ابوذر کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور حضور ﷺ نے اس وقت یہ جواب دیا ہو اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لئے کہ حضرت عائشہ کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چناچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے واللہ اعلم، حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں حضرت جبرائیل کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہی پر اس وقت فرشتے بہ کثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں معراج والی رات آنحضرت ﷺ سدرۃ المنتہی تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، حضور ﷺ کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورة بقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش (مسلم) ابوہریرہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہی پر فرشتے چھا رہے تھے وہاں جب حضور ﷺ پہنچے تو آپ سے کہا گیا کہ جو مانگنا ہو مانگو۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید یاقوت اور زبرجد کی تھیں آنحضرت ﷺ نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ ابن زید فرماتے ہیں حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا ؟ آپ نے فرمایا اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔ آپ کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے اسی کو ایک نظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے آیت (لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى 23؀ۚ) 20۔ طه :23) اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ حضور ﷺ نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا ابن مسعود کا قول گذر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل کو آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہی کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔

عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ

📘 تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40؀ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ کو لے کر حضرت جبرائیل اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) کا امام ابن جریر نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل اور آنحضرت ﷺ دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے امام ابن جریر کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہوسکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لئے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے آپ کی طرف جبرائیل اترے تھے اور قریب ہوگئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اسکے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہی کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔ یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) کی چند آیتیں آپ پر نازل ہوچکی تھیں پھر وحی بند ہوگئی تھی جس کا حضور ﷺ کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے حضرت جبرائیل کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد ﷺ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ کا غم غلط ہوجاتا دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہوجاتا واپس چلے آتے۔ لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامنگیر ہوتا اور وحی الہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح حضرت جبرائیل تسکین و تسلی کردیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں حضرت جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوگئے چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لئے تھے اب آپ سے قریب آگئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ کو پہنچائی اس وقت حضور ﷺ کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔ مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر کے قول کی تائید میں پیش ہوسکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں، امام احمد فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابو حاتم رازی کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جاسکتی ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو اس میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں ایک میں تو حضرت جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا میں نے دیکھا کہ حضرت جبرائیل اس وقت ہیبت الہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے جبرائیل ﷺ سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں حضرت جبرائیل نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے آپ نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ بیہوش ہوگئے جبرائیل فوراً آئے اور آپ کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو لہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد ﷺ کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چناچہ یہ آیا اور کہا اے محمد جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آگیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بےادب تھا اور بار بار گستاخی سے پیش آتا تھا) حضور ﷺ کی زبان سے اس کے لئے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے، یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہوگیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سرزمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا راہب نے ان سے کہا یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آگئے ؟ ابو لہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لئے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو لوگوں نے اسے منظور کرلیا یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابو لہب کہنے لگا اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد ﷺ کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ پھر فرماتا ہے کہ حضرت جبرائیل آنحضرت ﷺ سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ حضور ﷺ کے اور حضرت جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہوگئی یہاں لفظ (او) جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لئے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لئے جیسے اور جگہ ہے پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74؀) 2۔ البقرة :74) بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت یعنی پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں ایک اور فرمان ہے وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77؀) 4۔ النسآء :77) بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور جگہ ہے ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردد کے لئے نہیں خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہوسکتا۔ یہ قریب آنے والے حضرت جبرائیل تھے جیسے ام المومنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) میں ہے۔ حضرت انس والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لئے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہوجائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہوگی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جاسکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا ہے پس یہ سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں نبی ﷺ کی ابتداء نبوت کے وقت آپ نے خواب میں حضرت جبرائیل کو دیکھا پھر آپ اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لئے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہرچند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ نے اوپر کی طرف دیکھا تو دیکھا کہ حضرت جبرائیل اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ حضور دہشت زدہ ہوجائیں کہ فرشتے نے کہا میں جبرائیل ہوں میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں لیکن حضور ﷺ سے ضبط نہ ہوسکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر حضرت جبرائیل اسی طرح نظر آئے آپ پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آگئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل پر دو ریشمی حلے تھے پھر فرمایا اس نے وحی کی اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ حضرت جبرائیل نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت (اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى ۠) 93۔ الضحی :6) اور آیت (وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ۭ) 94۔ الشرح :4) تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی۔ کہ نبیوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ آپ اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہوجائے، ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے حضرت ابن مسعود نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ نے اپنے دل سے دیکھا جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے اس لئے کہ صحابہ سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں، امام بغوی فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جیسے حضرت انس، حضرت حسن اور حضرت عکرمہ ان کے اس قول میں نظر ہے واللہ اعلم۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں میں نے یہ سن کر کہا پھر یہ آیت کہاں جائے گا جس میں فرمان ہے آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) اسے کوئی نگاہ نہیں پاسکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ یہ حدیث غریب ہے ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ ابن عباس کی ملاقات حضرت کعب سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گذرا ابن عباس نے فرمایا ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو حضرت کعب نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ کے درمیان تقسیم کردیا حضرت موسیٰ سے دو مرتبہ باتیں کیں اور آنحضرت کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ حضرت مسروق حضرت عائشہ کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میں نے کہا مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ نے فرمایا کہاں جا رہے ہو ؟ سنو اس سے مراد حضرت جبرائیل کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد نے اپنے رب کو دیکھا یا حضور ﷺ نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپالیا یا آپ ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہوگی ؟ بارش کب اور کتنی برسے گی ؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ ؟ کون کل کیا کرے گا ؟ کون کہاں مرے گا ؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا بات یہ ہے کہ آپ نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین کو دیکھا تھا آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہی کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت حضرت ابراہیم کے لئے تھی اور کلام حضرت موسیٰ کے لئے اور دیدار حضرت محمد ﷺ کے لئے صحیح مسلم میں حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا وہ سراسر نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ؟ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ کے اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ؀) 53۔ النجم :11) پڑھی۔ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) پڑھی حضرت عکرمہ سے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ؀) 53۔ النجم :11) کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ہاں آپ نے دیکھا اور پھر دیکھا سائل نے پھر حضرت حسن سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ حضور ﷺ سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا یہ حدیث بھی بہت غریب ہے ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے چناچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا اے محمد ﷺ جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہوگئی پھر مجھ سے وہی سوال کیا میں نے کہا اب مجھے معلوم ہوگیا وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا اچھا پھر تم بھی بتاؤ کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں مسجدوں میں رکے رہنا جماعت کے لئے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گذرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گذارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہوگا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہوجائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا اے محمد ﷺ جب نماز پڑھو یہ کہو (اللھم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین واذا اردت بعبادک فتنۃ ان تقبضنی الیک غیر مفتون) یعنی یا اللہ میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں کھانا کھلانا سلام پھیلانا لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا اسی کی مثل روایت سورة ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گذر چکی ہے ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لئے پیدل چلنے کے قدم ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار میں نے کہا یا اللہ تو نے حضرت ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا اور حضرت موسیٰ کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا ؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے ؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کردیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ اس کی اسناد ضعیف ہے اوپر عتبہ بن ابو لہب کا یہ کہنا کہ میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا اور پھر حضور ﷺ کا اس کے لئے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہوچکا ہے یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہوگا۔ پھر آنحضرت ﷺ کا حضرت جبرائیل کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورة سبحٰن کی شروع آیت کی تفسیر میں گذر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں یہ بھی بیان گذر چکا ہے کہ حضرت ابن عباس معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دورے بھی اس کے خلاف ہیں حضور ﷺ کا جبرائیل کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گذر چکی ہیں حضرت عائشہ سے حضرت مسروق کا پوچھنا اور آپ کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ صدیقہ اپنے اس جواب کے بعد آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) ، کی تلاوت کی اور آیت (مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ للنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ 79؀ۙ) 3۔ آل عمران :79) کی بھی تلاوت فرمائی یعنی کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ آنحضرت ﷺ کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا پھر آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ 34؀) 31۔ لقمان :34) آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ حضور ﷺ نے اللہ کی کسی بات کو چھپالیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت (یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) پڑھی یعنی اے رسول ﷺ جو تمہاری جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ہاں آپ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسروق نے حضرت عائشہ کے سامنے سورة نجم کی آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) اور (وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى 13 ۙ) 53۔ النجم :13) پڑھیں اس کے جواب میں ام المومنین حضرت عائشہ نے فرمایا اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی ﷺ سے میں نے سوال کیا تھا آپ نے فرمایا اس سے مراد میرا حضرت جبرائیل کو دیکھنا ہے آپ نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن شفیق نے حضرت ابوذر سے کہا کہ اگر میں حضور ﷺ کو دیکھتا تو آپ سے ایک بات ضرور پوچھتا حضرت ابوذر نے کہا کیا پوچھتے ؟ کہا یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے ؟ حضرت ابوذر نے فرمایا یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب سے کیا تھا آپ نے جواب دیا کہ میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا، صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ حضرت امام احمد فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں ابن ابی حاتم میں حضرت ابوذر سے منقول ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق اور حضرت ابوذر کے درمیان انقطاع ہے اور امام ابن جوزی فرماتے ہیں ممکن ہے حضرت ابوذر کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور حضور ﷺ نے اس وقت یہ جواب دیا ہو اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لئے کہ حضرت عائشہ کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چناچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے واللہ اعلم، حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں حضرت جبرائیل کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہی پر اس وقت فرشتے بہ کثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں معراج والی رات آنحضرت ﷺ سدرۃ المنتہی تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، حضور ﷺ کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورة بقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش (مسلم) ابوہریرہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہی پر فرشتے چھا رہے تھے وہاں جب حضور ﷺ پہنچے تو آپ سے کہا گیا کہ جو مانگنا ہو مانگو۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید یاقوت اور زبرجد کی تھیں آنحضرت ﷺ نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ ابن زید فرماتے ہیں حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا ؟ آپ نے فرمایا اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔ آپ کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے اسی کو ایک نظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے آیت (لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى 23؀ۚ) 20۔ طه :23) اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ حضور ﷺ نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا ابن مسعود کا قول گذر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل کو آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہی کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔

إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ

📘 تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40؀ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ کو لے کر حضرت جبرائیل اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) کا امام ابن جریر نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل اور آنحضرت ﷺ دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے امام ابن جریر کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہوسکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لئے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے آپ کی طرف جبرائیل اترے تھے اور قریب ہوگئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اسکے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہی کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔ یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) کی چند آیتیں آپ پر نازل ہوچکی تھیں پھر وحی بند ہوگئی تھی جس کا حضور ﷺ کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے حضرت جبرائیل کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد ﷺ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ کا غم غلط ہوجاتا دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہوجاتا واپس چلے آتے۔ لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامنگیر ہوتا اور وحی الہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح حضرت جبرائیل تسکین و تسلی کردیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں حضرت جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوگئے چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لئے تھے اب آپ سے قریب آگئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ کو پہنچائی اس وقت حضور ﷺ کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔ مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر کے قول کی تائید میں پیش ہوسکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں، امام احمد فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابو حاتم رازی کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جاسکتی ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو اس میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں ایک میں تو حضرت جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا میں نے دیکھا کہ حضرت جبرائیل اس وقت ہیبت الہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے جبرائیل ﷺ سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں حضرت جبرائیل نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے آپ نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ بیہوش ہوگئے جبرائیل فوراً آئے اور آپ کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو لہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد ﷺ کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چناچہ یہ آیا اور کہا اے محمد جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آگیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بےادب تھا اور بار بار گستاخی سے پیش آتا تھا) حضور ﷺ کی زبان سے اس کے لئے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے، یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہوگیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سرزمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا راہب نے ان سے کہا یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آگئے ؟ ابو لہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لئے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو لوگوں نے اسے منظور کرلیا یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابو لہب کہنے لگا اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد ﷺ کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ پھر فرماتا ہے کہ حضرت جبرائیل آنحضرت ﷺ سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ حضور ﷺ کے اور حضرت جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہوگئی یہاں لفظ (او) جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لئے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لئے جیسے اور جگہ ہے پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74؀) 2۔ البقرة :74) بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت یعنی پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں ایک اور فرمان ہے وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77؀) 4۔ النسآء :77) بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور جگہ ہے ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردد کے لئے نہیں خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہوسکتا۔ یہ قریب آنے والے حضرت جبرائیل تھے جیسے ام المومنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) میں ہے۔ حضرت انس والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لئے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہوجائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہوگی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جاسکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا ہے پس یہ سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں نبی ﷺ کی ابتداء نبوت کے وقت آپ نے خواب میں حضرت جبرائیل کو دیکھا پھر آپ اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لئے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہرچند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ نے اوپر کی طرف دیکھا تو دیکھا کہ حضرت جبرائیل اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ حضور دہشت زدہ ہوجائیں کہ فرشتے نے کہا میں جبرائیل ہوں میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں لیکن حضور ﷺ سے ضبط نہ ہوسکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر حضرت جبرائیل اسی طرح نظر آئے آپ پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آگئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل پر دو ریشمی حلے تھے پھر فرمایا اس نے وحی کی اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ حضرت جبرائیل نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت (اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى ۠) 93۔ الضحی :6) اور آیت (وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ۭ) 94۔ الشرح :4) تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی۔ کہ نبیوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ آپ اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہوجائے، ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے حضرت ابن مسعود نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ نے اپنے دل سے دیکھا جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے اس لئے کہ صحابہ سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں، امام بغوی فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جیسے حضرت انس، حضرت حسن اور حضرت عکرمہ ان کے اس قول میں نظر ہے واللہ اعلم۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں میں نے یہ سن کر کہا پھر یہ آیت کہاں جائے گا جس میں فرمان ہے آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) اسے کوئی نگاہ نہیں پاسکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ یہ حدیث غریب ہے ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ ابن عباس کی ملاقات حضرت کعب سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گذرا ابن عباس نے فرمایا ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو حضرت کعب نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ کے درمیان تقسیم کردیا حضرت موسیٰ سے دو مرتبہ باتیں کیں اور آنحضرت کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ حضرت مسروق حضرت عائشہ کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میں نے کہا مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ نے فرمایا کہاں جا رہے ہو ؟ سنو اس سے مراد حضرت جبرائیل کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد نے اپنے رب کو دیکھا یا حضور ﷺ نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپالیا یا آپ ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہوگی ؟ بارش کب اور کتنی برسے گی ؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ ؟ کون کل کیا کرے گا ؟ کون کہاں مرے گا ؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا بات یہ ہے کہ آپ نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین کو دیکھا تھا آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہی کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت حضرت ابراہیم کے لئے تھی اور کلام حضرت موسیٰ کے لئے اور دیدار حضرت محمد ﷺ کے لئے صحیح مسلم میں حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا وہ سراسر نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ؟ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ کے اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ؀) 53۔ النجم :11) پڑھی۔ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) پڑھی حضرت عکرمہ سے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ؀) 53۔ النجم :11) کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ہاں آپ نے دیکھا اور پھر دیکھا سائل نے پھر حضرت حسن سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ حضور ﷺ سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا یہ حدیث بھی بہت غریب ہے ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے چناچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا اے محمد ﷺ جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہوگئی پھر مجھ سے وہی سوال کیا میں نے کہا اب مجھے معلوم ہوگیا وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا اچھا پھر تم بھی بتاؤ کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں مسجدوں میں رکے رہنا جماعت کے لئے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گذرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گذارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہوگا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہوجائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا اے محمد ﷺ جب نماز پڑھو یہ کہو (اللھم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین واذا اردت بعبادک فتنۃ ان تقبضنی الیک غیر مفتون) یعنی یا اللہ میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں کھانا کھلانا سلام پھیلانا لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا اسی کی مثل روایت سورة ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گذر چکی ہے ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لئے پیدل چلنے کے قدم ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار میں نے کہا یا اللہ تو نے حضرت ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا اور حضرت موسیٰ کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا ؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے ؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کردیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ اس کی اسناد ضعیف ہے اوپر عتبہ بن ابو لہب کا یہ کہنا کہ میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا اور پھر حضور ﷺ کا اس کے لئے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہوچکا ہے یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہوگا۔ پھر آنحضرت ﷺ کا حضرت جبرائیل کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورة سبحٰن کی شروع آیت کی تفسیر میں گذر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں یہ بھی بیان گذر چکا ہے کہ حضرت ابن عباس معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دورے بھی اس کے خلاف ہیں حضور ﷺ کا جبرائیل کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گذر چکی ہیں حضرت عائشہ سے حضرت مسروق کا پوچھنا اور آپ کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ صدیقہ اپنے اس جواب کے بعد آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) ، کی تلاوت کی اور آیت (مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ للنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ 79؀ۙ) 3۔ آل عمران :79) کی بھی تلاوت فرمائی یعنی کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ آنحضرت ﷺ کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا پھر آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ 34؀) 31۔ لقمان :34) آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ حضور ﷺ نے اللہ کی کسی بات کو چھپالیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت (یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) پڑھی یعنی اے رسول ﷺ جو تمہاری جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ہاں آپ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسروق نے حضرت عائشہ کے سامنے سورة نجم کی آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) اور (وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى 13 ۙ) 53۔ النجم :13) پڑھیں اس کے جواب میں ام المومنین حضرت عائشہ نے فرمایا اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی ﷺ سے میں نے سوال کیا تھا آپ نے فرمایا اس سے مراد میرا حضرت جبرائیل کو دیکھنا ہے آپ نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن شفیق نے حضرت ابوذر سے کہا کہ اگر میں حضور ﷺ کو دیکھتا تو آپ سے ایک بات ضرور پوچھتا حضرت ابوذر نے کہا کیا پوچھتے ؟ کہا یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے ؟ حضرت ابوذر نے فرمایا یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب سے کیا تھا آپ نے جواب دیا کہ میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا، صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ حضرت امام احمد فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں ابن ابی حاتم میں حضرت ابوذر سے منقول ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق اور حضرت ابوذر کے درمیان انقطاع ہے اور امام ابن جوزی فرماتے ہیں ممکن ہے حضرت ابوذر کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور حضور ﷺ نے اس وقت یہ جواب دیا ہو اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لئے کہ حضرت عائشہ کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چناچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے واللہ اعلم، حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں حضرت جبرائیل کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہی پر اس وقت فرشتے بہ کثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں معراج والی رات آنحضرت ﷺ سدرۃ المنتہی تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، حضور ﷺ کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورة بقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش (مسلم) ابوہریرہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہی پر فرشتے چھا رہے تھے وہاں جب حضور ﷺ پہنچے تو آپ سے کہا گیا کہ جو مانگنا ہو مانگو۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید یاقوت اور زبرجد کی تھیں آنحضرت ﷺ نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ ابن زید فرماتے ہیں حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا ؟ آپ نے فرمایا اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔ آپ کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے اسی کو ایک نظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے آیت (لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى 23؀ۚ) 20۔ طه :23) اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ حضور ﷺ نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا ابن مسعود کا قول گذر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل کو آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہی کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ

📘 تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40؀ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ کو لے کر حضرت جبرائیل اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) کا امام ابن جریر نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل اور آنحضرت ﷺ دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے امام ابن جریر کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہوسکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لئے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے آپ کی طرف جبرائیل اترے تھے اور قریب ہوگئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اسکے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہی کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔ یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) کی چند آیتیں آپ پر نازل ہوچکی تھیں پھر وحی بند ہوگئی تھی جس کا حضور ﷺ کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے حضرت جبرائیل کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد ﷺ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ کا غم غلط ہوجاتا دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہوجاتا واپس چلے آتے۔ لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامنگیر ہوتا اور وحی الہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح حضرت جبرائیل تسکین و تسلی کردیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں حضرت جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوگئے چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لئے تھے اب آپ سے قریب آگئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ کو پہنچائی اس وقت حضور ﷺ کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔ مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر کے قول کی تائید میں پیش ہوسکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں، امام احمد فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابو حاتم رازی کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جاسکتی ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو اس میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں ایک میں تو حضرت جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا میں نے دیکھا کہ حضرت جبرائیل اس وقت ہیبت الہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے جبرائیل ﷺ سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں حضرت جبرائیل نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے آپ نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ بیہوش ہوگئے جبرائیل فوراً آئے اور آپ کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو لہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد ﷺ کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چناچہ یہ آیا اور کہا اے محمد جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آگیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بےادب تھا اور بار بار گستاخی سے پیش آتا تھا) حضور ﷺ کی زبان سے اس کے لئے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے، یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہوگیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سرزمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا راہب نے ان سے کہا یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آگئے ؟ ابو لہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لئے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو لوگوں نے اسے منظور کرلیا یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابو لہب کہنے لگا اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد ﷺ کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ پھر فرماتا ہے کہ حضرت جبرائیل آنحضرت ﷺ سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ حضور ﷺ کے اور حضرت جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہوگئی یہاں لفظ (او) جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لئے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لئے جیسے اور جگہ ہے پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74؀) 2۔ البقرة :74) بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت یعنی پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں ایک اور فرمان ہے وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77؀) 4۔ النسآء :77) بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور جگہ ہے ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردد کے لئے نہیں خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہوسکتا۔ یہ قریب آنے والے حضرت جبرائیل تھے جیسے ام المومنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) میں ہے۔ حضرت انس والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لئے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہوجائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہوگی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جاسکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا ہے پس یہ سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں نبی ﷺ کی ابتداء نبوت کے وقت آپ نے خواب میں حضرت جبرائیل کو دیکھا پھر آپ اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لئے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہرچند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ نے اوپر کی طرف دیکھا تو دیکھا کہ حضرت جبرائیل اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ حضور دہشت زدہ ہوجائیں کہ فرشتے نے کہا میں جبرائیل ہوں میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں لیکن حضور ﷺ سے ضبط نہ ہوسکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر حضرت جبرائیل اسی طرح نظر آئے آپ پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آگئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل پر دو ریشمی حلے تھے پھر فرمایا اس نے وحی کی اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ حضرت جبرائیل نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت (اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى ۠) 93۔ الضحی :6) اور آیت (وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ۭ) 94۔ الشرح :4) تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی۔ کہ نبیوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ آپ اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہوجائے، ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے حضرت ابن مسعود نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ نے اپنے دل سے دیکھا جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے اس لئے کہ صحابہ سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں، امام بغوی فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جیسے حضرت انس، حضرت حسن اور حضرت عکرمہ ان کے اس قول میں نظر ہے واللہ اعلم۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں میں نے یہ سن کر کہا پھر یہ آیت کہاں جائے گا جس میں فرمان ہے آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) اسے کوئی نگاہ نہیں پاسکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ یہ حدیث غریب ہے ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ ابن عباس کی ملاقات حضرت کعب سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گذرا ابن عباس نے فرمایا ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو حضرت کعب نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ کے درمیان تقسیم کردیا حضرت موسیٰ سے دو مرتبہ باتیں کیں اور آنحضرت کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ حضرت مسروق حضرت عائشہ کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میں نے کہا مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ نے فرمایا کہاں جا رہے ہو ؟ سنو اس سے مراد حضرت جبرائیل کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد نے اپنے رب کو دیکھا یا حضور ﷺ نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپالیا یا آپ ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہوگی ؟ بارش کب اور کتنی برسے گی ؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ ؟ کون کل کیا کرے گا ؟ کون کہاں مرے گا ؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا بات یہ ہے کہ آپ نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین کو دیکھا تھا آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہی کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت حضرت ابراہیم کے لئے تھی اور کلام حضرت موسیٰ کے لئے اور دیدار حضرت محمد ﷺ کے لئے صحیح مسلم میں حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا وہ سراسر نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ؟ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ کے اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ؀) 53۔ النجم :11) پڑھی۔ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) پڑھی حضرت عکرمہ سے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ؀) 53۔ النجم :11) کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ہاں آپ نے دیکھا اور پھر دیکھا سائل نے پھر حضرت حسن سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ حضور ﷺ سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا یہ حدیث بھی بہت غریب ہے ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے چناچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا اے محمد ﷺ جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہوگئی پھر مجھ سے وہی سوال کیا میں نے کہا اب مجھے معلوم ہوگیا وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا اچھا پھر تم بھی بتاؤ کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں مسجدوں میں رکے رہنا جماعت کے لئے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گذرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گذارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہوگا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہوجائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا اے محمد ﷺ جب نماز پڑھو یہ کہو (اللھم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین واذا اردت بعبادک فتنۃ ان تقبضنی الیک غیر مفتون) یعنی یا اللہ میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں کھانا کھلانا سلام پھیلانا لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا اسی کی مثل روایت سورة ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گذر چکی ہے ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لئے پیدل چلنے کے قدم ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار میں نے کہا یا اللہ تو نے حضرت ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا اور حضرت موسیٰ کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا ؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے ؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کردیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ اس کی اسناد ضعیف ہے اوپر عتبہ بن ابو لہب کا یہ کہنا کہ میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا اور پھر حضور ﷺ کا اس کے لئے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہوچکا ہے یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہوگا۔ پھر آنحضرت ﷺ کا حضرت جبرائیل کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورة سبحٰن کی شروع آیت کی تفسیر میں گذر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں یہ بھی بیان گذر چکا ہے کہ حضرت ابن عباس معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دورے بھی اس کے خلاف ہیں حضور ﷺ کا جبرائیل کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گذر چکی ہیں حضرت عائشہ سے حضرت مسروق کا پوچھنا اور آپ کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ صدیقہ اپنے اس جواب کے بعد آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) ، کی تلاوت کی اور آیت (مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ للنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ 79؀ۙ) 3۔ آل عمران :79) کی بھی تلاوت فرمائی یعنی کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ آنحضرت ﷺ کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا پھر آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ 34؀) 31۔ لقمان :34) آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ حضور ﷺ نے اللہ کی کسی بات کو چھپالیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت (یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) پڑھی یعنی اے رسول ﷺ جو تمہاری جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ہاں آپ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسروق نے حضرت عائشہ کے سامنے سورة نجم کی آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) اور (وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى 13 ۙ) 53۔ النجم :13) پڑھیں اس کے جواب میں ام المومنین حضرت عائشہ نے فرمایا اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی ﷺ سے میں نے سوال کیا تھا آپ نے فرمایا اس سے مراد میرا حضرت جبرائیل کو دیکھنا ہے آپ نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن شفیق نے حضرت ابوذر سے کہا کہ اگر میں حضور ﷺ کو دیکھتا تو آپ سے ایک بات ضرور پوچھتا حضرت ابوذر نے کہا کیا پوچھتے ؟ کہا یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے ؟ حضرت ابوذر نے فرمایا یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب سے کیا تھا آپ نے جواب دیا کہ میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا، صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ حضرت امام احمد فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں ابن ابی حاتم میں حضرت ابوذر سے منقول ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق اور حضرت ابوذر کے درمیان انقطاع ہے اور امام ابن جوزی فرماتے ہیں ممکن ہے حضرت ابوذر کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور حضور ﷺ نے اس وقت یہ جواب دیا ہو اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لئے کہ حضرت عائشہ کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چناچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے واللہ اعلم، حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں حضرت جبرائیل کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہی پر اس وقت فرشتے بہ کثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں معراج والی رات آنحضرت ﷺ سدرۃ المنتہی تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، حضور ﷺ کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورة بقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش (مسلم) ابوہریرہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہی پر فرشتے چھا رہے تھے وہاں جب حضور ﷺ پہنچے تو آپ سے کہا گیا کہ جو مانگنا ہو مانگو۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید یاقوت اور زبرجد کی تھیں آنحضرت ﷺ نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ ابن زید فرماتے ہیں حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا ؟ آپ نے فرمایا اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔ آپ کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے اسی کو ایک نظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے آیت (لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى 23؀ۚ) 20۔ طه :23) اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ حضور ﷺ نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا ابن مسعود کا قول گذر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل کو آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہی کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔

لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَىٰ

📘 تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40؀ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ کو لے کر حضرت جبرائیل اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) کا امام ابن جریر نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل اور آنحضرت ﷺ دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے امام ابن جریر کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہوسکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لئے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے آپ کی طرف جبرائیل اترے تھے اور قریب ہوگئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اسکے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہی کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔ یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) کی چند آیتیں آپ پر نازل ہوچکی تھیں پھر وحی بند ہوگئی تھی جس کا حضور ﷺ کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے حضرت جبرائیل کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد ﷺ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ کا غم غلط ہوجاتا دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہوجاتا واپس چلے آتے۔ لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامنگیر ہوتا اور وحی الہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح حضرت جبرائیل تسکین و تسلی کردیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں حضرت جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوگئے چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لئے تھے اب آپ سے قریب آگئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ کو پہنچائی اس وقت حضور ﷺ کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔ مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر کے قول کی تائید میں پیش ہوسکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں، امام احمد فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابو حاتم رازی کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جاسکتی ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو اس میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں ایک میں تو حضرت جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا میں نے دیکھا کہ حضرت جبرائیل اس وقت ہیبت الہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے جبرائیل ﷺ سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں حضرت جبرائیل نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے آپ نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ بیہوش ہوگئے جبرائیل فوراً آئے اور آپ کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو لہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد ﷺ کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چناچہ یہ آیا اور کہا اے محمد جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آگیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بےادب تھا اور بار بار گستاخی سے پیش آتا تھا) حضور ﷺ کی زبان سے اس کے لئے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے، یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہوگیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سرزمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا راہب نے ان سے کہا یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آگئے ؟ ابو لہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لئے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو لوگوں نے اسے منظور کرلیا یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابو لہب کہنے لگا اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد ﷺ کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ پھر فرماتا ہے کہ حضرت جبرائیل آنحضرت ﷺ سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ حضور ﷺ کے اور حضرت جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہوگئی یہاں لفظ (او) جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لئے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لئے جیسے اور جگہ ہے پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74؀) 2۔ البقرة :74) بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت یعنی پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں ایک اور فرمان ہے وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77؀) 4۔ النسآء :77) بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور جگہ ہے ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردد کے لئے نہیں خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہوسکتا۔ یہ قریب آنے والے حضرت جبرائیل تھے جیسے ام المومنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) میں ہے۔ حضرت انس والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لئے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہوجائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہوگی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جاسکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا ہے پس یہ سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں نبی ﷺ کی ابتداء نبوت کے وقت آپ نے خواب میں حضرت جبرائیل کو دیکھا پھر آپ اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لئے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہرچند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ نے اوپر کی طرف دیکھا تو دیکھا کہ حضرت جبرائیل اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ حضور دہشت زدہ ہوجائیں کہ فرشتے نے کہا میں جبرائیل ہوں میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں لیکن حضور ﷺ سے ضبط نہ ہوسکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر حضرت جبرائیل اسی طرح نظر آئے آپ پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آگئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل پر دو ریشمی حلے تھے پھر فرمایا اس نے وحی کی اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ حضرت جبرائیل نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت (اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى ۠) 93۔ الضحی :6) اور آیت (وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ۭ) 94۔ الشرح :4) تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی۔ کہ نبیوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ آپ اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہوجائے، ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے حضرت ابن مسعود نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ نے اپنے دل سے دیکھا جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے اس لئے کہ صحابہ سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں، امام بغوی فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جیسے حضرت انس، حضرت حسن اور حضرت عکرمہ ان کے اس قول میں نظر ہے واللہ اعلم۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں میں نے یہ سن کر کہا پھر یہ آیت کہاں جائے گا جس میں فرمان ہے آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) اسے کوئی نگاہ نہیں پاسکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ یہ حدیث غریب ہے ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ ابن عباس کی ملاقات حضرت کعب سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گذرا ابن عباس نے فرمایا ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو حضرت کعب نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ کے درمیان تقسیم کردیا حضرت موسیٰ سے دو مرتبہ باتیں کیں اور آنحضرت کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ حضرت مسروق حضرت عائشہ کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میں نے کہا مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ نے فرمایا کہاں جا رہے ہو ؟ سنو اس سے مراد حضرت جبرائیل کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد نے اپنے رب کو دیکھا یا حضور ﷺ نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپالیا یا آپ ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہوگی ؟ بارش کب اور کتنی برسے گی ؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ ؟ کون کل کیا کرے گا ؟ کون کہاں مرے گا ؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا بات یہ ہے کہ آپ نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین کو دیکھا تھا آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہی کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت حضرت ابراہیم کے لئے تھی اور کلام حضرت موسیٰ کے لئے اور دیدار حضرت محمد ﷺ کے لئے صحیح مسلم میں حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا وہ سراسر نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ؟ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ کے اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ؀) 53۔ النجم :11) پڑھی۔ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) پڑھی حضرت عکرمہ سے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ؀) 53۔ النجم :11) کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ہاں آپ نے دیکھا اور پھر دیکھا سائل نے پھر حضرت حسن سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ حضور ﷺ سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا یہ حدیث بھی بہت غریب ہے ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے چناچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا اے محمد ﷺ جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہوگئی پھر مجھ سے وہی سوال کیا میں نے کہا اب مجھے معلوم ہوگیا وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا اچھا پھر تم بھی بتاؤ کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں مسجدوں میں رکے رہنا جماعت کے لئے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گذرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گذارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہوگا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہوجائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا اے محمد ﷺ جب نماز پڑھو یہ کہو (اللھم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین واذا اردت بعبادک فتنۃ ان تقبضنی الیک غیر مفتون) یعنی یا اللہ میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں کھانا کھلانا سلام پھیلانا لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا اسی کی مثل روایت سورة ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گذر چکی ہے ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لئے پیدل چلنے کے قدم ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار میں نے کہا یا اللہ تو نے حضرت ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا اور حضرت موسیٰ کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا ؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے ؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کردیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ اس کی اسناد ضعیف ہے اوپر عتبہ بن ابو لہب کا یہ کہنا کہ میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا اور پھر حضور ﷺ کا اس کے لئے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہوچکا ہے یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہوگا۔ پھر آنحضرت ﷺ کا حضرت جبرائیل کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورة سبحٰن کی شروع آیت کی تفسیر میں گذر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں یہ بھی بیان گذر چکا ہے کہ حضرت ابن عباس معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دورے بھی اس کے خلاف ہیں حضور ﷺ کا جبرائیل کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گذر چکی ہیں حضرت عائشہ سے حضرت مسروق کا پوچھنا اور آپ کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ صدیقہ اپنے اس جواب کے بعد آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) ، کی تلاوت کی اور آیت (مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ للنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ 79؀ۙ) 3۔ آل عمران :79) کی بھی تلاوت فرمائی یعنی کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ آنحضرت ﷺ کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا پھر آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ 34؀) 31۔ لقمان :34) آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ حضور ﷺ نے اللہ کی کسی بات کو چھپالیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت (یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) پڑھی یعنی اے رسول ﷺ جو تمہاری جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ہاں آپ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسروق نے حضرت عائشہ کے سامنے سورة نجم کی آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) اور (وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى 13 ۙ) 53۔ النجم :13) پڑھیں اس کے جواب میں ام المومنین حضرت عائشہ نے فرمایا اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی ﷺ سے میں نے سوال کیا تھا آپ نے فرمایا اس سے مراد میرا حضرت جبرائیل کو دیکھنا ہے آپ نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن شفیق نے حضرت ابوذر سے کہا کہ اگر میں حضور ﷺ کو دیکھتا تو آپ سے ایک بات ضرور پوچھتا حضرت ابوذر نے کہا کیا پوچھتے ؟ کہا یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے ؟ حضرت ابوذر نے فرمایا یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب سے کیا تھا آپ نے جواب دیا کہ میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا، صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ حضرت امام احمد فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں ابن ابی حاتم میں حضرت ابوذر سے منقول ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق اور حضرت ابوذر کے درمیان انقطاع ہے اور امام ابن جوزی فرماتے ہیں ممکن ہے حضرت ابوذر کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور حضور ﷺ نے اس وقت یہ جواب دیا ہو اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لئے کہ حضرت عائشہ کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چناچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے واللہ اعلم، حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں حضرت جبرائیل کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہی پر اس وقت فرشتے بہ کثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں معراج والی رات آنحضرت ﷺ سدرۃ المنتہی تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، حضور ﷺ کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورة بقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش (مسلم) ابوہریرہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہی پر فرشتے چھا رہے تھے وہاں جب حضور ﷺ پہنچے تو آپ سے کہا گیا کہ جو مانگنا ہو مانگو۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید یاقوت اور زبرجد کی تھیں آنحضرت ﷺ نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ ابن زید فرماتے ہیں حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا ؟ آپ نے فرمایا اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔ آپ کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے اسی کو ایک نظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے آیت (لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى 23؀ۚ) 20۔ طه :23) اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ حضور ﷺ نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا ابن مسعود کا قول گذر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل کو آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہی کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔

أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّىٰ

📘 بتکدے کیا تھے ؟ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔ لات ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا غلاف چڑھائے جاتے تھے مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔ ابن جریر فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ لات بنایا تھا گویا اس کا مؤنث بنایا تھا اللہ کی ذات تمام شریکوں سے پاک ہے ایک قرأت میں لفظ لات تاکہ تشدید کے ساتھ ہے یعنی گھولنے والا اسے لات اس معنی میں اس لئے کہتے تھے کہ یہ ایک نیک شخص تھا موسم حج میں حاجیوں کو ستو گھول گھول کر پلاتا تھا اس کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس کی قبر پر مجاورت شروع کردی رفتہ رفتہ اسی کی عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح لفظ عزیٰ لفظ عزیر سے لیا گیا ہے مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ میں یہ ایک درخت تھا اس پر بھی قبہ بنا ہوا تھا چادریں چڑھی ہوئی تھیں قریش اس کی عظمت کرتے تھے۔ ابو سفیان نے احد والے دن بھی کہا تھا ہمارا عزیٰ ہے اور تمہارا نہیں جس کے جواب میں حضور ﷺ نے کہلوایا تھا اللہ ہمارا والی ہے اور تمہاری کوئی نہیں صحیح بخاری میں ہے جو شخص لات عزیٰ کی قسم کھابیٹھے اسے چاہیے کہ فورا لا الہ الا للہ کہہ لے اور جو اپنے ساتھی سے کہہ دے کہ آ جوا کھیلیں اسے صدقہ کرنا چاہیے، مطلب یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں چونکہ اسی کی قسم کھائی جاتی تھی تو اب اسلام کے بعد اگر کسی کی زبان سے اگلی عادت کے موافق یہ الفاظ نکل جائیں تو اسے کلمہ پڑھ لینا چاہیے حضرت سعد بن وقاص ایک مرتبہ اسی طرح لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے جس پر لوگوں نے انہیں متنبہ کیا یہ حضور ﷺ کے پاس گئے آپ نے فرمایا دعا (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر) پڑھ لو اور تین مرتبہ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھ کر اپنی بائیں جانب تھوک دو اور آئندہ سے ایسا نہ کرنا مکہ اور مدینے کے درمیان قدید کے پاس مثلل میں مناۃ تھا۔ قبیلہ خزاعہ، اوس، اور خزرج جاہلیت میں اس کی بہت عظمت کرتے تھے یہیں سے احرام باندھ کر وہ حج کعبہ کے لئے جاتے تھے اسی طرح ان تین کی شہرت بہت زیادہ تھی اس لئے یہاں صرف ان تین کا ہی بیان فرمایا۔ ان مقامات کا یہ لوگ طواف بھی کرتے تھے قربانیوں کے جانور وہاں لے جاتے تھے ان کے نام پر جانور چڑھائے جاتے تھے باوجود اس کے یہ سب لوگ کعبہ کی حرمت و عظمت کے قائل تھے اسے مسجد ابراہیم مانتے تھے اور اس کی خاطر خواہ توقیر کرتے تھے۔ سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ قریش اور بنو کنانہ عزیٰ کے پجاری تھے جو نخلہ میں تھا۔ اس کا نگہبان اور متولی قبیلہ بنو شیبان تھا جو قبیلہ سلیم کی شاخ تھا اور بنو ہاشم کے ساتھ ان کا بھائی چارہ تھا اس بت کے توڑنے کے لئے رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے بعد حضرت خالد بن ولید کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور کہتے جاتے تھے یا عزی کفرانک لا سبحانک انی رایت اللہ قد اھانک اے عزیٰ میں تیرا منکر ہوں تیری پاکی بیان کرنے والا نہیں ہوں میرا ایمان ہے کہ تیری عزت کو اللہ نے خاک میں ملا دیا۔ یہ ببول کے تین درختوں پر تھا کاٹ ڈالے گئے اور قبہ ڈھا دیا اور واپس آ کر حضور ﷺ کو اطلاع دی آپ نے فرمایا تم نے کچھ نہیں کیا لوٹ کر پھر دوبارہ جاؤ حضرت خالد کے دوبارہ تشریف لے جانے پر وہاں کے محافظ اور خدام نے بڑے بڑے مکرو فریب کئے اور خوب غل مچا مچا کر یا عزیٰ یا عزیٰ کے نعرے لگائے حضرت خالد نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ننگی عورت ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور اپنے سر پر مٹی ڈال رہی ہے آپ نے تلوار کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کیا اور واپس آکر حضور ﷺ کو خبر دی آپ نے فرمایا عزیٰ یہی تھی۔ لات قبیلہ ثقیف کا بت تھا جو طائف میں تھا۔ اس کی تولیت اور مجاورت بنو معتب میں تھی یہاں اس کے ڈھانے کے لئے نبی ﷺ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت ابو سفیان صخر بن حرب کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے معدوم کر کے اس کی جگہ مسجد بنادی، مناۃ اوس و خزرج اور اس کے ہم خیال لوگوں کا بت تھا یہ مثلل کی طرف سے سمندر کے کنارے قدید میں تھا یہاں بھی حضور ﷺ نے حضرت ابو سفیان کو بھیجا اور آپ نے اس کے ریزے ریزے کر دئیے۔ بعض کا قول ہے کہ حضرت علی کے ہاتھوں یہ کفرستان فنا ہوا۔ ذوالخعلہ نامی بت خانہ دوس اور خشعم اور بجیلہ کا تھا اور جو لوگ اس کے ہم وطن تھے یہ تبالہ میں تھا اور اسے یہ لوگ کعبہ یمانیہ کہتے تھے اور مکہ کے کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے یہ حضرت جریر بن عبداللہ کے ہاتھوں رسول اللہ ﷺ کے حکم سے فنا ہوا فلس نامی بت خانہ قبیلہ طے اور ان کے آس پاس کے عربوں کا تھا یہ جبل طے میں سلمیٰ اور اجا کے درمیان تھا اس کے توڑنے پر حضرت علی مامور ہوئے تھے آپ نے اسے توڑ دیا اور یہاں سے دو تلواریں لے گئے تھے ایک رسوب دوسری مخزم آنحضرت ﷺ نے یہ دونوں تلواریں انہی کو دے دیں، قبیلہ حمیر اہل یمن نے اپنا بت خانہ صنعاء میں ریام نامی بنا رکھا تھا مذکور ہے کہ اس میں ایک سیاہ کتا تھا اور وہ دو حمیری جو تبع کے ساتھ نکلے تھے انہوں نے اسے نکال کر قتل کردیا اور اس بت خانہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور رضا نامی بت کدہ بنو ربیعہ بن سعد کا تھا اس کو مستوغر بن ربیعہ بن کعب بن اسد نے اسلام میں ڈھایا۔ ابن ہشام فرماتے ہیں کہ ان کی عمر تین سو تیس سال کی ہوئی تھی جس کا بیان خود انہوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے ذوالکعبات نامی صنم خانہ بکر تغلب اور یاد قبیلے کا سنداد میں تھا پھر فرماتا ہے کہ تمہارے لئے لڑکے ہوں اور اللہ کی لڑکیاں ہوں ؟ کیونکہ مشرکین اپنے زعم باطل میں فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں سمجھتے تھے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم آپس میں تقسیم کرو اور کسی کو صرف لڑکیاں اور کسی کو صرف لڑکے دو تو وہ بھی راضی نہ ہوگا اور یہ تقسیم نامنصفی کی سمجھی جائے گی چہ جائیکہ تم اللہ کے لئے لڑکیاں ثابت کرو اور خود تم اپنے لئے لڑکے پسند کرو پھر فرماتا ہے ان کو تم نے اپنی طرف سے بغیر کسی دلیل کے مضبوط ٹھہرا کر جا چاہا نام گھڑ لیا ہے ورنہ نہ وہ معبود ہیں نہ کسی ایسے پاک نام کے مستحق ہیں خود یہ لوگ بھی ان کی پوجا پاٹ پر کوئی دلیل پیش نہیں کرسکتے صرف اپنے بڑوں پر حسن ظن رکھ کر جو انہوں نے کیا تھا یہ بھی کر رہے ہیں مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں مصیبت تو یہ ہے کہ دلیل آجانے اللہ کی باتیں واضح ہوجانے کے باوجود بھی باپ دادا کی غلط راہ کو نہیں چھوڑتے۔ پھر فرماتا ہے کیا ہر انسان تمنا پر تمہارے لئے کیا لکھا جائے گا ؟ تمام امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے دنیا اور آخرت میں تصرف اسی کا ہے جو اس نے جو چاہا ہو رہا ہے اور جو چاہے گا ہوگا۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا فرشتہ بھی کسی کے لئے سفارش کا لفظ بھی نہیں نکال سکتا۔ جیسے فرمایا آیت (مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَلَهٗٓ اَجْرٌ كَرِيْمٌ 11ۚ) 57۔ الحدید :11) کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش پیش کرسکے اس کے فرمان کے بغیر کسی کو کسی کی سفارش نفع نہیں دے سکتی۔ جبکہ بڑے بڑے قریبی فرشتوں کا یہ حال ہے تو پھر اے ناوافقو ! تمہارے یہ بت اور تھان کیا نفع پہنچا دیں گے ؟ ان کی پرستش سے اللہ روک رہا ہے تمام رسول ﷺ اور کل آسمانی کتابیں اللہ کے سوا اوروں کی عبادت سے روکنا اپنا عظیم الشان مقصد بتاتی ہیں پھر تم ان کو اپنا سفارشی سمجھ رہے ہو کس قدر غلط راہ ہے۔

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَىٰ

📘 حضرت شعبی فرماتے ہیں خالق تو اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم کھالے لیکن مخلوق سوائے اپنے خالق کے کسی اور کی قسم نہیں کھا سکتی (ابن ابی حاتم) ستارے کے جھکنے سے مراد فجر کے وقت ثریا کے ستارے کا غائب ہونا ہے۔ بعض کہتے ہیں مراد زہرہ نامی ستارہ ہے۔ حضرت ضحاک فرماتے ہیں مراد اس کا جھڑ کر شیطان کی طرف لپکنا ہے اس قول کی اچھی توجیہ ہوسکتی ہے مجاہد فرماتے ہیں اس جملے کی تفسیر یہ ہے کہ قسم ہے قرآن کی جب وہ اترے۔ اس آیت جیسی ہی آیت (فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ 75 ۙ) 56۔ الواقعة :75) ہے۔ پھر جس بات پر قسم کھا رہا ہے اس کا بیان ہے کہ آنحضرت ﷺ نیکی اور رشد و ہدایت اور تابع حق ہیں وہ بےعلمی کے ساتھ کسی غلط راہ لگے ہوئے یا باوجود علم کے ٹیڑھا راستہ اختیار کئے ہوئے نہیں ہیں۔ آپ گمراہ نصرانیوں اور جان بوجھ کر خلاف حق کرنے والے یہودیوں کی طرح نہیں۔ آپ کا علم کامل آپ کا عمل مطابق علم آپکا راستہ سیدھا آپ عظیم الشان شریعت کے شارع، آپ اعتدال والی راہ حق پر قائم۔ آپ کا کوئی قول کوئی فرمان اپنے نفس کی خواہش اور ذاتی غرض سے نہیں ہوتا بلکہ جس چیز کی تبلیغ کا آپکو حکم الہٰی ہوتا ہے آپ اسے ہی زبان سے نکالتے ہیں جو وہاں سے کہا جائے وہی آپ کی زبان سے ادا ہوتا ہے کمی بیشی زیادتی نقصان سے آپ کا کلام پاک ہوتا ہے، مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک شخص کی شفاعت سے جو نبی نہیں ہیں مثل دو قبیلوں کے یا دو میں سے ایک قبیلے کی گنتی کے برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ قبیلہ ربیعہ اور قبیلہ مضر اس پر ایک شخص نے کہا کیا ربیعہ مضر میں سے نہیں ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں تو وہی کہتا ہوں جو کہتا ہوں۔ مسند کی اور حدیث میں ہے حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں میں حضور ﷺ سے جو کچھ سنتا تھا اسے حفظ کرنے کے لئے لکھ لیا کرتا تھا پس بعض قریشیوں نے مجھے اس سے روکا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ ایک انسان ہیں کبھی کبھی غصے اور غضب میں بھی کچھ فرما دیا کرتے ہیں چناچہ میں لکھنے سے رک گیا پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا لکھ لیا کرو اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری زبان سے سوائے حق بات کے اور کوئی کلمہ نہیں نکلتا یہ حدیث ابو داؤد اور ابن ابی شیبہ میں بھی ہے بزار میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تمہیں جس امر کی خبر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا مسند احمد میں ہے کہ آپ نے فرمایا میں سوائے حق کے اور کچھ نہیں کہتا۔ اس پر بعض صحابہ نے کہا حضور ﷺ کبھی کبھی ہم سے خوش طبعی بھی کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اس وقت بھی میری زبان سے ناحق نہیں نکلتا۔

وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَىٰ

📘 بتکدے کیا تھے ؟ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔ لات ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا غلاف چڑھائے جاتے تھے مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔ ابن جریر فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ لات بنایا تھا گویا اس کا مؤنث بنایا تھا اللہ کی ذات تمام شریکوں سے پاک ہے ایک قرأت میں لفظ لات تاکہ تشدید کے ساتھ ہے یعنی گھولنے والا اسے لات اس معنی میں اس لئے کہتے تھے کہ یہ ایک نیک شخص تھا موسم حج میں حاجیوں کو ستو گھول گھول کر پلاتا تھا اس کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس کی قبر پر مجاورت شروع کردی رفتہ رفتہ اسی کی عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح لفظ عزیٰ لفظ عزیر سے لیا گیا ہے مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ میں یہ ایک درخت تھا اس پر بھی قبہ بنا ہوا تھا چادریں چڑھی ہوئی تھیں قریش اس کی عظمت کرتے تھے۔ ابو سفیان نے احد والے دن بھی کہا تھا ہمارا عزیٰ ہے اور تمہارا نہیں جس کے جواب میں حضور ﷺ نے کہلوایا تھا اللہ ہمارا والی ہے اور تمہاری کوئی نہیں صحیح بخاری میں ہے جو شخص لات عزیٰ کی قسم کھابیٹھے اسے چاہیے کہ فورا لا الہ الا للہ کہہ لے اور جو اپنے ساتھی سے کہہ دے کہ آ جوا کھیلیں اسے صدقہ کرنا چاہیے، مطلب یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں چونکہ اسی کی قسم کھائی جاتی تھی تو اب اسلام کے بعد اگر کسی کی زبان سے اگلی عادت کے موافق یہ الفاظ نکل جائیں تو اسے کلمہ پڑھ لینا چاہیے حضرت سعد بن وقاص ایک مرتبہ اسی طرح لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے جس پر لوگوں نے انہیں متنبہ کیا یہ حضور ﷺ کے پاس گئے آپ نے فرمایا دعا (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر) پڑھ لو اور تین مرتبہ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھ کر اپنی بائیں جانب تھوک دو اور آئندہ سے ایسا نہ کرنا مکہ اور مدینے کے درمیان قدید کے پاس مثلل میں مناۃ تھا۔ قبیلہ خزاعہ، اوس، اور خزرج جاہلیت میں اس کی بہت عظمت کرتے تھے یہیں سے احرام باندھ کر وہ حج کعبہ کے لئے جاتے تھے اسی طرح ان تین کی شہرت بہت زیادہ تھی اس لئے یہاں صرف ان تین کا ہی بیان فرمایا۔ ان مقامات کا یہ لوگ طواف بھی کرتے تھے قربانیوں کے جانور وہاں لے جاتے تھے ان کے نام پر جانور چڑھائے جاتے تھے باوجود اس کے یہ سب لوگ کعبہ کی حرمت و عظمت کے قائل تھے اسے مسجد ابراہیم مانتے تھے اور اس کی خاطر خواہ توقیر کرتے تھے۔ سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ قریش اور بنو کنانہ عزیٰ کے پجاری تھے جو نخلہ میں تھا۔ اس کا نگہبان اور متولی قبیلہ بنو شیبان تھا جو قبیلہ سلیم کی شاخ تھا اور بنو ہاشم کے ساتھ ان کا بھائی چارہ تھا اس بت کے توڑنے کے لئے رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے بعد حضرت خالد بن ولید کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور کہتے جاتے تھے یا عزی کفرانک لا سبحانک انی رایت اللہ قد اھانک اے عزیٰ میں تیرا منکر ہوں تیری پاکی بیان کرنے والا نہیں ہوں میرا ایمان ہے کہ تیری عزت کو اللہ نے خاک میں ملا دیا۔ یہ ببول کے تین درختوں پر تھا کاٹ ڈالے گئے اور قبہ ڈھا دیا اور واپس آ کر حضور ﷺ کو اطلاع دی آپ نے فرمایا تم نے کچھ نہیں کیا لوٹ کر پھر دوبارہ جاؤ حضرت خالد کے دوبارہ تشریف لے جانے پر وہاں کے محافظ اور خدام نے بڑے بڑے مکرو فریب کئے اور خوب غل مچا مچا کر یا عزیٰ یا عزیٰ کے نعرے لگائے حضرت خالد نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ننگی عورت ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور اپنے سر پر مٹی ڈال رہی ہے آپ نے تلوار کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کیا اور واپس آکر حضور ﷺ کو خبر دی آپ نے فرمایا عزیٰ یہی تھی۔ لات قبیلہ ثقیف کا بت تھا جو طائف میں تھا۔ اس کی تولیت اور مجاورت بنو معتب میں تھی یہاں اس کے ڈھانے کے لئے نبی ﷺ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت ابو سفیان صخر بن حرب کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے معدوم کر کے اس کی جگہ مسجد بنادی، مناۃ اوس و خزرج اور اس کے ہم خیال لوگوں کا بت تھا یہ مثلل کی طرف سے سمندر کے کنارے قدید میں تھا یہاں بھی حضور ﷺ نے حضرت ابو سفیان کو بھیجا اور آپ نے اس کے ریزے ریزے کر دئیے۔ بعض کا قول ہے کہ حضرت علی کے ہاتھوں یہ کفرستان فنا ہوا۔ ذوالخعلہ نامی بت خانہ دوس اور خشعم اور بجیلہ کا تھا اور جو لوگ اس کے ہم وطن تھے یہ تبالہ میں تھا اور اسے یہ لوگ کعبہ یمانیہ کہتے تھے اور مکہ کے کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے یہ حضرت جریر بن عبداللہ کے ہاتھوں رسول اللہ ﷺ کے حکم سے فنا ہوا فلس نامی بت خانہ قبیلہ طے اور ان کے آس پاس کے عربوں کا تھا یہ جبل طے میں سلمیٰ اور اجا کے درمیان تھا اس کے توڑنے پر حضرت علی مامور ہوئے تھے آپ نے اسے توڑ دیا اور یہاں سے دو تلواریں لے گئے تھے ایک رسوب دوسری مخزم آنحضرت ﷺ نے یہ دونوں تلواریں انہی کو دے دیں، قبیلہ حمیر اہل یمن نے اپنا بت خانہ صنعاء میں ریام نامی بنا رکھا تھا مذکور ہے کہ اس میں ایک سیاہ کتا تھا اور وہ دو حمیری جو تبع کے ساتھ نکلے تھے انہوں نے اسے نکال کر قتل کردیا اور اس بت خانہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور رضا نامی بت کدہ بنو ربیعہ بن سعد کا تھا اس کو مستوغر بن ربیعہ بن کعب بن اسد نے اسلام میں ڈھایا۔ ابن ہشام فرماتے ہیں کہ ان کی عمر تین سو تیس سال کی ہوئی تھی جس کا بیان خود انہوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے ذوالکعبات نامی صنم خانہ بکر تغلب اور یاد قبیلے کا سنداد میں تھا پھر فرماتا ہے کہ تمہارے لئے لڑکے ہوں اور اللہ کی لڑکیاں ہوں ؟ کیونکہ مشرکین اپنے زعم باطل میں فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں سمجھتے تھے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم آپس میں تقسیم کرو اور کسی کو صرف لڑکیاں اور کسی کو صرف لڑکے دو تو وہ بھی راضی نہ ہوگا اور یہ تقسیم نامنصفی کی سمجھی جائے گی چہ جائیکہ تم اللہ کے لئے لڑکیاں ثابت کرو اور خود تم اپنے لئے لڑکے پسند کرو پھر فرماتا ہے ان کو تم نے اپنی طرف سے بغیر کسی دلیل کے مضبوط ٹھہرا کر جا چاہا نام گھڑ لیا ہے ورنہ نہ وہ معبود ہیں نہ کسی ایسے پاک نام کے مستحق ہیں خود یہ لوگ بھی ان کی پوجا پاٹ پر کوئی دلیل پیش نہیں کرسکتے صرف اپنے بڑوں پر حسن ظن رکھ کر جو انہوں نے کیا تھا یہ بھی کر رہے ہیں مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں مصیبت تو یہ ہے کہ دلیل آجانے اللہ کی باتیں واضح ہوجانے کے باوجود بھی باپ دادا کی غلط راہ کو نہیں چھوڑتے۔ پھر فرماتا ہے کیا ہر انسان تمنا پر تمہارے لئے کیا لکھا جائے گا ؟ تمام امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے دنیا اور آخرت میں تصرف اسی کا ہے جو اس نے جو چاہا ہو رہا ہے اور جو چاہے گا ہوگا۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا فرشتہ بھی کسی کے لئے سفارش کا لفظ بھی نہیں نکال سکتا۔ جیسے فرمایا آیت (مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَلَهٗٓ اَجْرٌ كَرِيْمٌ 11ۚ) 57۔ الحدید :11) کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش پیش کرسکے اس کے فرمان کے بغیر کسی کو کسی کی سفارش نفع نہیں دے سکتی۔ جبکہ بڑے بڑے قریبی فرشتوں کا یہ حال ہے تو پھر اے ناوافقو ! تمہارے یہ بت اور تھان کیا نفع پہنچا دیں گے ؟ ان کی پرستش سے اللہ روک رہا ہے تمام رسول ﷺ اور کل آسمانی کتابیں اللہ کے سوا اوروں کی عبادت سے روکنا اپنا عظیم الشان مقصد بتاتی ہیں پھر تم ان کو اپنا سفارشی سمجھ رہے ہو کس قدر غلط راہ ہے۔

أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنْثَىٰ

📘 بتکدے کیا تھے ؟ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔ لات ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا غلاف چڑھائے جاتے تھے مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔ ابن جریر فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ لات بنایا تھا گویا اس کا مؤنث بنایا تھا اللہ کی ذات تمام شریکوں سے پاک ہے ایک قرأت میں لفظ لات تاکہ تشدید کے ساتھ ہے یعنی گھولنے والا اسے لات اس معنی میں اس لئے کہتے تھے کہ یہ ایک نیک شخص تھا موسم حج میں حاجیوں کو ستو گھول گھول کر پلاتا تھا اس کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس کی قبر پر مجاورت شروع کردی رفتہ رفتہ اسی کی عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح لفظ عزیٰ لفظ عزیر سے لیا گیا ہے مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ میں یہ ایک درخت تھا اس پر بھی قبہ بنا ہوا تھا چادریں چڑھی ہوئی تھیں قریش اس کی عظمت کرتے تھے۔ ابو سفیان نے احد والے دن بھی کہا تھا ہمارا عزیٰ ہے اور تمہارا نہیں جس کے جواب میں حضور ﷺ نے کہلوایا تھا اللہ ہمارا والی ہے اور تمہاری کوئی نہیں صحیح بخاری میں ہے جو شخص لات عزیٰ کی قسم کھابیٹھے اسے چاہیے کہ فورا لا الہ الا للہ کہہ لے اور جو اپنے ساتھی سے کہہ دے کہ آ جوا کھیلیں اسے صدقہ کرنا چاہیے، مطلب یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں چونکہ اسی کی قسم کھائی جاتی تھی تو اب اسلام کے بعد اگر کسی کی زبان سے اگلی عادت کے موافق یہ الفاظ نکل جائیں تو اسے کلمہ پڑھ لینا چاہیے حضرت سعد بن وقاص ایک مرتبہ اسی طرح لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے جس پر لوگوں نے انہیں متنبہ کیا یہ حضور ﷺ کے پاس گئے آپ نے فرمایا دعا (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر) پڑھ لو اور تین مرتبہ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھ کر اپنی بائیں جانب تھوک دو اور آئندہ سے ایسا نہ کرنا مکہ اور مدینے کے درمیان قدید کے پاس مثلل میں مناۃ تھا۔ قبیلہ خزاعہ، اوس، اور خزرج جاہلیت میں اس کی بہت عظمت کرتے تھے یہیں سے احرام باندھ کر وہ حج کعبہ کے لئے جاتے تھے اسی طرح ان تین کی شہرت بہت زیادہ تھی اس لئے یہاں صرف ان تین کا ہی بیان فرمایا۔ ان مقامات کا یہ لوگ طواف بھی کرتے تھے قربانیوں کے جانور وہاں لے جاتے تھے ان کے نام پر جانور چڑھائے جاتے تھے باوجود اس کے یہ سب لوگ کعبہ کی حرمت و عظمت کے قائل تھے اسے مسجد ابراہیم مانتے تھے اور اس کی خاطر خواہ توقیر کرتے تھے۔ سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ قریش اور بنو کنانہ عزیٰ کے پجاری تھے جو نخلہ میں تھا۔ اس کا نگہبان اور متولی قبیلہ بنو شیبان تھا جو قبیلہ سلیم کی شاخ تھا اور بنو ہاشم کے ساتھ ان کا بھائی چارہ تھا اس بت کے توڑنے کے لئے رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے بعد حضرت خالد بن ولید کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور کہتے جاتے تھے یا عزی کفرانک لا سبحانک انی رایت اللہ قد اھانک اے عزیٰ میں تیرا منکر ہوں تیری پاکی بیان کرنے والا نہیں ہوں میرا ایمان ہے کہ تیری عزت کو اللہ نے خاک میں ملا دیا۔ یہ ببول کے تین درختوں پر تھا کاٹ ڈالے گئے اور قبہ ڈھا دیا اور واپس آ کر حضور ﷺ کو اطلاع دی آپ نے فرمایا تم نے کچھ نہیں کیا لوٹ کر پھر دوبارہ جاؤ حضرت خالد کے دوبارہ تشریف لے جانے پر وہاں کے محافظ اور خدام نے بڑے بڑے مکرو فریب کئے اور خوب غل مچا مچا کر یا عزیٰ یا عزیٰ کے نعرے لگائے حضرت خالد نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ننگی عورت ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور اپنے سر پر مٹی ڈال رہی ہے آپ نے تلوار کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کیا اور واپس آکر حضور ﷺ کو خبر دی آپ نے فرمایا عزیٰ یہی تھی۔ لات قبیلہ ثقیف کا بت تھا جو طائف میں تھا۔ اس کی تولیت اور مجاورت بنو معتب میں تھی یہاں اس کے ڈھانے کے لئے نبی ﷺ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت ابو سفیان صخر بن حرب کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے معدوم کر کے اس کی جگہ مسجد بنادی، مناۃ اوس و خزرج اور اس کے ہم خیال لوگوں کا بت تھا یہ مثلل کی طرف سے سمندر کے کنارے قدید میں تھا یہاں بھی حضور ﷺ نے حضرت ابو سفیان کو بھیجا اور آپ نے اس کے ریزے ریزے کر دئیے۔ بعض کا قول ہے کہ حضرت علی کے ہاتھوں یہ کفرستان فنا ہوا۔ ذوالخعلہ نامی بت خانہ دوس اور خشعم اور بجیلہ کا تھا اور جو لوگ اس کے ہم وطن تھے یہ تبالہ میں تھا اور اسے یہ لوگ کعبہ یمانیہ کہتے تھے اور مکہ کے کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے یہ حضرت جریر بن عبداللہ کے ہاتھوں رسول اللہ ﷺ کے حکم سے فنا ہوا فلس نامی بت خانہ قبیلہ طے اور ان کے آس پاس کے عربوں کا تھا یہ جبل طے میں سلمیٰ اور اجا کے درمیان تھا اس کے توڑنے پر حضرت علی مامور ہوئے تھے آپ نے اسے توڑ دیا اور یہاں سے دو تلواریں لے گئے تھے ایک رسوب دوسری مخزم آنحضرت ﷺ نے یہ دونوں تلواریں انہی کو دے دیں، قبیلہ حمیر اہل یمن نے اپنا بت خانہ صنعاء میں ریام نامی بنا رکھا تھا مذکور ہے کہ اس میں ایک سیاہ کتا تھا اور وہ دو حمیری جو تبع کے ساتھ نکلے تھے انہوں نے اسے نکال کر قتل کردیا اور اس بت خانہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور رضا نامی بت کدہ بنو ربیعہ بن سعد کا تھا اس کو مستوغر بن ربیعہ بن کعب بن اسد نے اسلام میں ڈھایا۔ ابن ہشام فرماتے ہیں کہ ان کی عمر تین سو تیس سال کی ہوئی تھی جس کا بیان خود انہوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے ذوالکعبات نامی صنم خانہ بکر تغلب اور یاد قبیلے کا سنداد میں تھا پھر فرماتا ہے کہ تمہارے لئے لڑکے ہوں اور اللہ کی لڑکیاں ہوں ؟ کیونکہ مشرکین اپنے زعم باطل میں فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں سمجھتے تھے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم آپس میں تقسیم کرو اور کسی کو صرف لڑکیاں اور کسی کو صرف لڑکے دو تو وہ بھی راضی نہ ہوگا اور یہ تقسیم نامنصفی کی سمجھی جائے گی چہ جائیکہ تم اللہ کے لئے لڑکیاں ثابت کرو اور خود تم اپنے لئے لڑکے پسند کرو پھر فرماتا ہے ان کو تم نے اپنی طرف سے بغیر کسی دلیل کے مضبوط ٹھہرا کر جا چاہا نام گھڑ لیا ہے ورنہ نہ وہ معبود ہیں نہ کسی ایسے پاک نام کے مستحق ہیں خود یہ لوگ بھی ان کی پوجا پاٹ پر کوئی دلیل پیش نہیں کرسکتے صرف اپنے بڑوں پر حسن ظن رکھ کر جو انہوں نے کیا تھا یہ بھی کر رہے ہیں مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں مصیبت تو یہ ہے کہ دلیل آجانے اللہ کی باتیں واضح ہوجانے کے باوجود بھی باپ دادا کی غلط راہ کو نہیں چھوڑتے۔ پھر فرماتا ہے کیا ہر انسان تمنا پر تمہارے لئے کیا لکھا جائے گا ؟ تمام امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے دنیا اور آخرت میں تصرف اسی کا ہے جو اس نے جو چاہا ہو رہا ہے اور جو چاہے گا ہوگا۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا فرشتہ بھی کسی کے لئے سفارش کا لفظ بھی نہیں نکال سکتا۔ جیسے فرمایا آیت (مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَلَهٗٓ اَجْرٌ كَرِيْمٌ 11ۚ) 57۔ الحدید :11) کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش پیش کرسکے اس کے فرمان کے بغیر کسی کو کسی کی سفارش نفع نہیں دے سکتی۔ جبکہ بڑے بڑے قریبی فرشتوں کا یہ حال ہے تو پھر اے ناوافقو ! تمہارے یہ بت اور تھان کیا نفع پہنچا دیں گے ؟ ان کی پرستش سے اللہ روک رہا ہے تمام رسول ﷺ اور کل آسمانی کتابیں اللہ کے سوا اوروں کی عبادت سے روکنا اپنا عظیم الشان مقصد بتاتی ہیں پھر تم ان کو اپنا سفارشی سمجھ رہے ہو کس قدر غلط راہ ہے۔

تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ

📘 بتکدے کیا تھے ؟ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔ لات ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا غلاف چڑھائے جاتے تھے مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔ ابن جریر فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ لات بنایا تھا گویا اس کا مؤنث بنایا تھا اللہ کی ذات تمام شریکوں سے پاک ہے ایک قرأت میں لفظ لات تاکہ تشدید کے ساتھ ہے یعنی گھولنے والا اسے لات اس معنی میں اس لئے کہتے تھے کہ یہ ایک نیک شخص تھا موسم حج میں حاجیوں کو ستو گھول گھول کر پلاتا تھا اس کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس کی قبر پر مجاورت شروع کردی رفتہ رفتہ اسی کی عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح لفظ عزیٰ لفظ عزیر سے لیا گیا ہے مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ میں یہ ایک درخت تھا اس پر بھی قبہ بنا ہوا تھا چادریں چڑھی ہوئی تھیں قریش اس کی عظمت کرتے تھے۔ ابو سفیان نے احد والے دن بھی کہا تھا ہمارا عزیٰ ہے اور تمہارا نہیں جس کے جواب میں حضور ﷺ نے کہلوایا تھا اللہ ہمارا والی ہے اور تمہاری کوئی نہیں صحیح بخاری میں ہے جو شخص لات عزیٰ کی قسم کھابیٹھے اسے چاہیے کہ فورا لا الہ الا للہ کہہ لے اور جو اپنے ساتھی سے کہہ دے کہ آ جوا کھیلیں اسے صدقہ کرنا چاہیے، مطلب یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں چونکہ اسی کی قسم کھائی جاتی تھی تو اب اسلام کے بعد اگر کسی کی زبان سے اگلی عادت کے موافق یہ الفاظ نکل جائیں تو اسے کلمہ پڑھ لینا چاہیے حضرت سعد بن وقاص ایک مرتبہ اسی طرح لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے جس پر لوگوں نے انہیں متنبہ کیا یہ حضور ﷺ کے پاس گئے آپ نے فرمایا دعا (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر) پڑھ لو اور تین مرتبہ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھ کر اپنی بائیں جانب تھوک دو اور آئندہ سے ایسا نہ کرنا مکہ اور مدینے کے درمیان قدید کے پاس مثلل میں مناۃ تھا۔ قبیلہ خزاعہ، اوس، اور خزرج جاہلیت میں اس کی بہت عظمت کرتے تھے یہیں سے احرام باندھ کر وہ حج کعبہ کے لئے جاتے تھے اسی طرح ان تین کی شہرت بہت زیادہ تھی اس لئے یہاں صرف ان تین کا ہی بیان فرمایا۔ ان مقامات کا یہ لوگ طواف بھی کرتے تھے قربانیوں کے جانور وہاں لے جاتے تھے ان کے نام پر جانور چڑھائے جاتے تھے باوجود اس کے یہ سب لوگ کعبہ کی حرمت و عظمت کے قائل تھے اسے مسجد ابراہیم مانتے تھے اور اس کی خاطر خواہ توقیر کرتے تھے۔ سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ قریش اور بنو کنانہ عزیٰ کے پجاری تھے جو نخلہ میں تھا۔ اس کا نگہبان اور متولی قبیلہ بنو شیبان تھا جو قبیلہ سلیم کی شاخ تھا اور بنو ہاشم کے ساتھ ان کا بھائی چارہ تھا اس بت کے توڑنے کے لئے رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے بعد حضرت خالد بن ولید کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور کہتے جاتے تھے یا عزی کفرانک لا سبحانک انی رایت اللہ قد اھانک اے عزیٰ میں تیرا منکر ہوں تیری پاکی بیان کرنے والا نہیں ہوں میرا ایمان ہے کہ تیری عزت کو اللہ نے خاک میں ملا دیا۔ یہ ببول کے تین درختوں پر تھا کاٹ ڈالے گئے اور قبہ ڈھا دیا اور واپس آ کر حضور ﷺ کو اطلاع دی آپ نے فرمایا تم نے کچھ نہیں کیا لوٹ کر پھر دوبارہ جاؤ حضرت خالد کے دوبارہ تشریف لے جانے پر وہاں کے محافظ اور خدام نے بڑے بڑے مکرو فریب کئے اور خوب غل مچا مچا کر یا عزیٰ یا عزیٰ کے نعرے لگائے حضرت خالد نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ننگی عورت ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور اپنے سر پر مٹی ڈال رہی ہے آپ نے تلوار کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کیا اور واپس آکر حضور ﷺ کو خبر دی آپ نے فرمایا عزیٰ یہی تھی۔ لات قبیلہ ثقیف کا بت تھا جو طائف میں تھا۔ اس کی تولیت اور مجاورت بنو معتب میں تھی یہاں اس کے ڈھانے کے لئے نبی ﷺ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت ابو سفیان صخر بن حرب کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے معدوم کر کے اس کی جگہ مسجد بنادی، مناۃ اوس و خزرج اور اس کے ہم خیال لوگوں کا بت تھا یہ مثلل کی طرف سے سمندر کے کنارے قدید میں تھا یہاں بھی حضور ﷺ نے حضرت ابو سفیان کو بھیجا اور آپ نے اس کے ریزے ریزے کر دئیے۔ بعض کا قول ہے کہ حضرت علی کے ہاتھوں یہ کفرستان فنا ہوا۔ ذوالخعلہ نامی بت خانہ دوس اور خشعم اور بجیلہ کا تھا اور جو لوگ اس کے ہم وطن تھے یہ تبالہ میں تھا اور اسے یہ لوگ کعبہ یمانیہ کہتے تھے اور مکہ کے کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے یہ حضرت جریر بن عبداللہ کے ہاتھوں رسول اللہ ﷺ کے حکم سے فنا ہوا فلس نامی بت خانہ قبیلہ طے اور ان کے آس پاس کے عربوں کا تھا یہ جبل طے میں سلمیٰ اور اجا کے درمیان تھا اس کے توڑنے پر حضرت علی مامور ہوئے تھے آپ نے اسے توڑ دیا اور یہاں سے دو تلواریں لے گئے تھے ایک رسوب دوسری مخزم آنحضرت ﷺ نے یہ دونوں تلواریں انہی کو دے دیں، قبیلہ حمیر اہل یمن نے اپنا بت خانہ صنعاء میں ریام نامی بنا رکھا تھا مذکور ہے کہ اس میں ایک سیاہ کتا تھا اور وہ دو حمیری جو تبع کے ساتھ نکلے تھے انہوں نے اسے نکال کر قتل کردیا اور اس بت خانہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور رضا نامی بت کدہ بنو ربیعہ بن سعد کا تھا اس کو مستوغر بن ربیعہ بن کعب بن اسد نے اسلام میں ڈھایا۔ ابن ہشام فرماتے ہیں کہ ان کی عمر تین سو تیس سال کی ہوئی تھی جس کا بیان خود انہوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے ذوالکعبات نامی صنم خانہ بکر تغلب اور یاد قبیلے کا سنداد میں تھا پھر فرماتا ہے کہ تمہارے لئے لڑکے ہوں اور اللہ کی لڑکیاں ہوں ؟ کیونکہ مشرکین اپنے زعم باطل میں فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں سمجھتے تھے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم آپس میں تقسیم کرو اور کسی کو صرف لڑکیاں اور کسی کو صرف لڑکے دو تو وہ بھی راضی نہ ہوگا اور یہ تقسیم نامنصفی کی سمجھی جائے گی چہ جائیکہ تم اللہ کے لئے لڑکیاں ثابت کرو اور خود تم اپنے لئے لڑکے پسند کرو پھر فرماتا ہے ان کو تم نے اپنی طرف سے بغیر کسی دلیل کے مضبوط ٹھہرا کر جا چاہا نام گھڑ لیا ہے ورنہ نہ وہ معبود ہیں نہ کسی ایسے پاک نام کے مستحق ہیں خود یہ لوگ بھی ان کی پوجا پاٹ پر کوئی دلیل پیش نہیں کرسکتے صرف اپنے بڑوں پر حسن ظن رکھ کر جو انہوں نے کیا تھا یہ بھی کر رہے ہیں مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں مصیبت تو یہ ہے کہ دلیل آجانے اللہ کی باتیں واضح ہوجانے کے باوجود بھی باپ دادا کی غلط راہ کو نہیں چھوڑتے۔ پھر فرماتا ہے کیا ہر انسان تمنا پر تمہارے لئے کیا لکھا جائے گا ؟ تمام امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے دنیا اور آخرت میں تصرف اسی کا ہے جو اس نے جو چاہا ہو رہا ہے اور جو چاہے گا ہوگا۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا فرشتہ بھی کسی کے لئے سفارش کا لفظ بھی نہیں نکال سکتا۔ جیسے فرمایا آیت (مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَلَهٗٓ اَجْرٌ كَرِيْمٌ 11ۚ) 57۔ الحدید :11) کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش پیش کرسکے اس کے فرمان کے بغیر کسی کو کسی کی سفارش نفع نہیں دے سکتی۔ جبکہ بڑے بڑے قریبی فرشتوں کا یہ حال ہے تو پھر اے ناوافقو ! تمہارے یہ بت اور تھان کیا نفع پہنچا دیں گے ؟ ان کی پرستش سے اللہ روک رہا ہے تمام رسول ﷺ اور کل آسمانی کتابیں اللہ کے سوا اوروں کی عبادت سے روکنا اپنا عظیم الشان مقصد بتاتی ہیں پھر تم ان کو اپنا سفارشی سمجھ رہے ہو کس قدر غلط راہ ہے۔

إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاءٌ سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِهَا مِنْ سُلْطَانٍ ۚ إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنْفُسُ ۖ وَلَقَدْ جَاءَهُمْ مِنْ رَبِّهِمُ الْهُدَىٰ

📘 بتکدے کیا تھے ؟ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔ لات ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا غلاف چڑھائے جاتے تھے مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔ ابن جریر فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ لات بنایا تھا گویا اس کا مؤنث بنایا تھا اللہ کی ذات تمام شریکوں سے پاک ہے ایک قرأت میں لفظ لات تاکہ تشدید کے ساتھ ہے یعنی گھولنے والا اسے لات اس معنی میں اس لئے کہتے تھے کہ یہ ایک نیک شخص تھا موسم حج میں حاجیوں کو ستو گھول گھول کر پلاتا تھا اس کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس کی قبر پر مجاورت شروع کردی رفتہ رفتہ اسی کی عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح لفظ عزیٰ لفظ عزیر سے لیا گیا ہے مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ میں یہ ایک درخت تھا اس پر بھی قبہ بنا ہوا تھا چادریں چڑھی ہوئی تھیں قریش اس کی عظمت کرتے تھے۔ ابو سفیان نے احد والے دن بھی کہا تھا ہمارا عزیٰ ہے اور تمہارا نہیں جس کے جواب میں حضور ﷺ نے کہلوایا تھا اللہ ہمارا والی ہے اور تمہاری کوئی نہیں صحیح بخاری میں ہے جو شخص لات عزیٰ کی قسم کھابیٹھے اسے چاہیے کہ فورا لا الہ الا للہ کہہ لے اور جو اپنے ساتھی سے کہہ دے کہ آ جوا کھیلیں اسے صدقہ کرنا چاہیے، مطلب یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں چونکہ اسی کی قسم کھائی جاتی تھی تو اب اسلام کے بعد اگر کسی کی زبان سے اگلی عادت کے موافق یہ الفاظ نکل جائیں تو اسے کلمہ پڑھ لینا چاہیے حضرت سعد بن وقاص ایک مرتبہ اسی طرح لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے جس پر لوگوں نے انہیں متنبہ کیا یہ حضور ﷺ کے پاس گئے آپ نے فرمایا دعا (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر) پڑھ لو اور تین مرتبہ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھ کر اپنی بائیں جانب تھوک دو اور آئندہ سے ایسا نہ کرنا مکہ اور مدینے کے درمیان قدید کے پاس مثلل میں مناۃ تھا۔ قبیلہ خزاعہ، اوس، اور خزرج جاہلیت میں اس کی بہت عظمت کرتے تھے یہیں سے احرام باندھ کر وہ حج کعبہ کے لئے جاتے تھے اسی طرح ان تین کی شہرت بہت زیادہ تھی اس لئے یہاں صرف ان تین کا ہی بیان فرمایا۔ ان مقامات کا یہ لوگ طواف بھی کرتے تھے قربانیوں کے جانور وہاں لے جاتے تھے ان کے نام پر جانور چڑھائے جاتے تھے باوجود اس کے یہ سب لوگ کعبہ کی حرمت و عظمت کے قائل تھے اسے مسجد ابراہیم مانتے تھے اور اس کی خاطر خواہ توقیر کرتے تھے۔ سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ قریش اور بنو کنانہ عزیٰ کے پجاری تھے جو نخلہ میں تھا۔ اس کا نگہبان اور متولی قبیلہ بنو شیبان تھا جو قبیلہ سلیم کی شاخ تھا اور بنو ہاشم کے ساتھ ان کا بھائی چارہ تھا اس بت کے توڑنے کے لئے رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے بعد حضرت خالد بن ولید کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور کہتے جاتے تھے یا عزی کفرانک لا سبحانک انی رایت اللہ قد اھانک اے عزیٰ میں تیرا منکر ہوں تیری پاکی بیان کرنے والا نہیں ہوں میرا ایمان ہے کہ تیری عزت کو اللہ نے خاک میں ملا دیا۔ یہ ببول کے تین درختوں پر تھا کاٹ ڈالے گئے اور قبہ ڈھا دیا اور واپس آ کر حضور ﷺ کو اطلاع دی آپ نے فرمایا تم نے کچھ نہیں کیا لوٹ کر پھر دوبارہ جاؤ حضرت خالد کے دوبارہ تشریف لے جانے پر وہاں کے محافظ اور خدام نے بڑے بڑے مکرو فریب کئے اور خوب غل مچا مچا کر یا عزیٰ یا عزیٰ کے نعرے لگائے حضرت خالد نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ننگی عورت ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور اپنے سر پر مٹی ڈال رہی ہے آپ نے تلوار کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کیا اور واپس آکر حضور ﷺ کو خبر دی آپ نے فرمایا عزیٰ یہی تھی۔ لات قبیلہ ثقیف کا بت تھا جو طائف میں تھا۔ اس کی تولیت اور مجاورت بنو معتب میں تھی یہاں اس کے ڈھانے کے لئے نبی ﷺ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت ابو سفیان صخر بن حرب کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے معدوم کر کے اس کی جگہ مسجد بنادی، مناۃ اوس و خزرج اور اس کے ہم خیال لوگوں کا بت تھا یہ مثلل کی طرف سے سمندر کے کنارے قدید میں تھا یہاں بھی حضور ﷺ نے حضرت ابو سفیان کو بھیجا اور آپ نے اس کے ریزے ریزے کر دئیے۔ بعض کا قول ہے کہ حضرت علی کے ہاتھوں یہ کفرستان فنا ہوا۔ ذوالخعلہ نامی بت خانہ دوس اور خشعم اور بجیلہ کا تھا اور جو لوگ اس کے ہم وطن تھے یہ تبالہ میں تھا اور اسے یہ لوگ کعبہ یمانیہ کہتے تھے اور مکہ کے کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے یہ حضرت جریر بن عبداللہ کے ہاتھوں رسول اللہ ﷺ کے حکم سے فنا ہوا فلس نامی بت خانہ قبیلہ طے اور ان کے آس پاس کے عربوں کا تھا یہ جبل طے میں سلمیٰ اور اجا کے درمیان تھا اس کے توڑنے پر حضرت علی مامور ہوئے تھے آپ نے اسے توڑ دیا اور یہاں سے دو تلواریں لے گئے تھے ایک رسوب دوسری مخزم آنحضرت ﷺ نے یہ دونوں تلواریں انہی کو دے دیں، قبیلہ حمیر اہل یمن نے اپنا بت خانہ صنعاء میں ریام نامی بنا رکھا تھا مذکور ہے کہ اس میں ایک سیاہ کتا تھا اور وہ دو حمیری جو تبع کے ساتھ نکلے تھے انہوں نے اسے نکال کر قتل کردیا اور اس بت خانہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور رضا نامی بت کدہ بنو ربیعہ بن سعد کا تھا اس کو مستوغر بن ربیعہ بن کعب بن اسد نے اسلام میں ڈھایا۔ ابن ہشام فرماتے ہیں کہ ان کی عمر تین سو تیس سال کی ہوئی تھی جس کا بیان خود انہوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے ذوالکعبات نامی صنم خانہ بکر تغلب اور یاد قبیلے کا سنداد میں تھا پھر فرماتا ہے کہ تمہارے لئے لڑکے ہوں اور اللہ کی لڑکیاں ہوں ؟ کیونکہ مشرکین اپنے زعم باطل میں فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں سمجھتے تھے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم آپس میں تقسیم کرو اور کسی کو صرف لڑکیاں اور کسی کو صرف لڑکے دو تو وہ بھی راضی نہ ہوگا اور یہ تقسیم نامنصفی کی سمجھی جائے گی چہ جائیکہ تم اللہ کے لئے لڑکیاں ثابت کرو اور خود تم اپنے لئے لڑکے پسند کرو پھر فرماتا ہے ان کو تم نے اپنی طرف سے بغیر کسی دلیل کے مضبوط ٹھہرا کر جا چاہا نام گھڑ لیا ہے ورنہ نہ وہ معبود ہیں نہ کسی ایسے پاک نام کے مستحق ہیں خود یہ لوگ بھی ان کی پوجا پاٹ پر کوئی دلیل پیش نہیں کرسکتے صرف اپنے بڑوں پر حسن ظن رکھ کر جو انہوں نے کیا تھا یہ بھی کر رہے ہیں مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں مصیبت تو یہ ہے کہ دلیل آجانے اللہ کی باتیں واضح ہوجانے کے باوجود بھی باپ دادا کی غلط راہ کو نہیں چھوڑتے۔ پھر فرماتا ہے کیا ہر انسان تمنا پر تمہارے لئے کیا لکھا جائے گا ؟ تمام امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے دنیا اور آخرت میں تصرف اسی کا ہے جو اس نے جو چاہا ہو رہا ہے اور جو چاہے گا ہوگا۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا فرشتہ بھی کسی کے لئے سفارش کا لفظ بھی نہیں نکال سکتا۔ جیسے فرمایا آیت (مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَلَهٗٓ اَجْرٌ كَرِيْمٌ 11ۚ) 57۔ الحدید :11) کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش پیش کرسکے اس کے فرمان کے بغیر کسی کو کسی کی سفارش نفع نہیں دے سکتی۔ جبکہ بڑے بڑے قریبی فرشتوں کا یہ حال ہے تو پھر اے ناوافقو ! تمہارے یہ بت اور تھان کیا نفع پہنچا دیں گے ؟ ان کی پرستش سے اللہ روک رہا ہے تمام رسول ﷺ اور کل آسمانی کتابیں اللہ کے سوا اوروں کی عبادت سے روکنا اپنا عظیم الشان مقصد بتاتی ہیں پھر تم ان کو اپنا سفارشی سمجھ رہے ہو کس قدر غلط راہ ہے۔

أَمْ لِلْإِنْسَانِ مَا تَمَنَّىٰ

📘 بتکدے کیا تھے ؟ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔ لات ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا غلاف چڑھائے جاتے تھے مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔ ابن جریر فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ لات بنایا تھا گویا اس کا مؤنث بنایا تھا اللہ کی ذات تمام شریکوں سے پاک ہے ایک قرأت میں لفظ لات تاکہ تشدید کے ساتھ ہے یعنی گھولنے والا اسے لات اس معنی میں اس لئے کہتے تھے کہ یہ ایک نیک شخص تھا موسم حج میں حاجیوں کو ستو گھول گھول کر پلاتا تھا اس کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس کی قبر پر مجاورت شروع کردی رفتہ رفتہ اسی کی عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح لفظ عزیٰ لفظ عزیر سے لیا گیا ہے مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ میں یہ ایک درخت تھا اس پر بھی قبہ بنا ہوا تھا چادریں چڑھی ہوئی تھیں قریش اس کی عظمت کرتے تھے۔ ابو سفیان نے احد والے دن بھی کہا تھا ہمارا عزیٰ ہے اور تمہارا نہیں جس کے جواب میں حضور ﷺ نے کہلوایا تھا اللہ ہمارا والی ہے اور تمہاری کوئی نہیں صحیح بخاری میں ہے جو شخص لات عزیٰ کی قسم کھابیٹھے اسے چاہیے کہ فورا لا الہ الا للہ کہہ لے اور جو اپنے ساتھی سے کہہ دے کہ آ جوا کھیلیں اسے صدقہ کرنا چاہیے، مطلب یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں چونکہ اسی کی قسم کھائی جاتی تھی تو اب اسلام کے بعد اگر کسی کی زبان سے اگلی عادت کے موافق یہ الفاظ نکل جائیں تو اسے کلمہ پڑھ لینا چاہیے حضرت سعد بن وقاص ایک مرتبہ اسی طرح لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے جس پر لوگوں نے انہیں متنبہ کیا یہ حضور ﷺ کے پاس گئے آپ نے فرمایا دعا (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر) پڑھ لو اور تین مرتبہ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھ کر اپنی بائیں جانب تھوک دو اور آئندہ سے ایسا نہ کرنا مکہ اور مدینے کے درمیان قدید کے پاس مثلل میں مناۃ تھا۔ قبیلہ خزاعہ، اوس، اور خزرج جاہلیت میں اس کی بہت عظمت کرتے تھے یہیں سے احرام باندھ کر وہ حج کعبہ کے لئے جاتے تھے اسی طرح ان تین کی شہرت بہت زیادہ تھی اس لئے یہاں صرف ان تین کا ہی بیان فرمایا۔ ان مقامات کا یہ لوگ طواف بھی کرتے تھے قربانیوں کے جانور وہاں لے جاتے تھے ان کے نام پر جانور چڑھائے جاتے تھے باوجود اس کے یہ سب لوگ کعبہ کی حرمت و عظمت کے قائل تھے اسے مسجد ابراہیم مانتے تھے اور اس کی خاطر خواہ توقیر کرتے تھے۔ سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ قریش اور بنو کنانہ عزیٰ کے پجاری تھے جو نخلہ میں تھا۔ اس کا نگہبان اور متولی قبیلہ بنو شیبان تھا جو قبیلہ سلیم کی شاخ تھا اور بنو ہاشم کے ساتھ ان کا بھائی چارہ تھا اس بت کے توڑنے کے لئے رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے بعد حضرت خالد بن ولید کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور کہتے جاتے تھے یا عزی کفرانک لا سبحانک انی رایت اللہ قد اھانک اے عزیٰ میں تیرا منکر ہوں تیری پاکی بیان کرنے والا نہیں ہوں میرا ایمان ہے کہ تیری عزت کو اللہ نے خاک میں ملا دیا۔ یہ ببول کے تین درختوں پر تھا کاٹ ڈالے گئے اور قبہ ڈھا دیا اور واپس آ کر حضور ﷺ کو اطلاع دی آپ نے فرمایا تم نے کچھ نہیں کیا لوٹ کر پھر دوبارہ جاؤ حضرت خالد کے دوبارہ تشریف لے جانے پر وہاں کے محافظ اور خدام نے بڑے بڑے مکرو فریب کئے اور خوب غل مچا مچا کر یا عزیٰ یا عزیٰ کے نعرے لگائے حضرت خالد نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ننگی عورت ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور اپنے سر پر مٹی ڈال رہی ہے آپ نے تلوار کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کیا اور واپس آکر حضور ﷺ کو خبر دی آپ نے فرمایا عزیٰ یہی تھی۔ لات قبیلہ ثقیف کا بت تھا جو طائف میں تھا۔ اس کی تولیت اور مجاورت بنو معتب میں تھی یہاں اس کے ڈھانے کے لئے نبی ﷺ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت ابو سفیان صخر بن حرب کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے معدوم کر کے اس کی جگہ مسجد بنادی، مناۃ اوس و خزرج اور اس کے ہم خیال لوگوں کا بت تھا یہ مثلل کی طرف سے سمندر کے کنارے قدید میں تھا یہاں بھی حضور ﷺ نے حضرت ابو سفیان کو بھیجا اور آپ نے اس کے ریزے ریزے کر دئیے۔ بعض کا قول ہے کہ حضرت علی کے ہاتھوں یہ کفرستان فنا ہوا۔ ذوالخعلہ نامی بت خانہ دوس اور خشعم اور بجیلہ کا تھا اور جو لوگ اس کے ہم وطن تھے یہ تبالہ میں تھا اور اسے یہ لوگ کعبہ یمانیہ کہتے تھے اور مکہ کے کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے یہ حضرت جریر بن عبداللہ کے ہاتھوں رسول اللہ ﷺ کے حکم سے فنا ہوا فلس نامی بت خانہ قبیلہ طے اور ان کے آس پاس کے عربوں کا تھا یہ جبل طے میں سلمیٰ اور اجا کے درمیان تھا اس کے توڑنے پر حضرت علی مامور ہوئے تھے آپ نے اسے توڑ دیا اور یہاں سے دو تلواریں لے گئے تھے ایک رسوب دوسری مخزم آنحضرت ﷺ نے یہ دونوں تلواریں انہی کو دے دیں، قبیلہ حمیر اہل یمن نے اپنا بت خانہ صنعاء میں ریام نامی بنا رکھا تھا مذکور ہے کہ اس میں ایک سیاہ کتا تھا اور وہ دو حمیری جو تبع کے ساتھ نکلے تھے انہوں نے اسے نکال کر قتل کردیا اور اس بت خانہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور رضا نامی بت کدہ بنو ربیعہ بن سعد کا تھا اس کو مستوغر بن ربیعہ بن کعب بن اسد نے اسلام میں ڈھایا۔ ابن ہشام فرماتے ہیں کہ ان کی عمر تین سو تیس سال کی ہوئی تھی جس کا بیان خود انہوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے ذوالکعبات نامی صنم خانہ بکر تغلب اور یاد قبیلے کا سنداد میں تھا پھر فرماتا ہے کہ تمہارے لئے لڑکے ہوں اور اللہ کی لڑکیاں ہوں ؟ کیونکہ مشرکین اپنے زعم باطل میں فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں سمجھتے تھے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم آپس میں تقسیم کرو اور کسی کو صرف لڑکیاں اور کسی کو صرف لڑکے دو تو وہ بھی راضی نہ ہوگا اور یہ تقسیم نامنصفی کی سمجھی جائے گی چہ جائیکہ تم اللہ کے لئے لڑکیاں ثابت کرو اور خود تم اپنے لئے لڑکے پسند کرو پھر فرماتا ہے ان کو تم نے اپنی طرف سے بغیر کسی دلیل کے مضبوط ٹھہرا کر جا چاہا نام گھڑ لیا ہے ورنہ نہ وہ معبود ہیں نہ کسی ایسے پاک نام کے مستحق ہیں خود یہ لوگ بھی ان کی پوجا پاٹ پر کوئی دلیل پیش نہیں کرسکتے صرف اپنے بڑوں پر حسن ظن رکھ کر جو انہوں نے کیا تھا یہ بھی کر رہے ہیں مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں مصیبت تو یہ ہے کہ دلیل آجانے اللہ کی باتیں واضح ہوجانے کے باوجود بھی باپ دادا کی غلط راہ کو نہیں چھوڑتے۔ پھر فرماتا ہے کیا ہر انسان تمنا پر تمہارے لئے کیا لکھا جائے گا ؟ تمام امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے دنیا اور آخرت میں تصرف اسی کا ہے جو اس نے جو چاہا ہو رہا ہے اور جو چاہے گا ہوگا۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا فرشتہ بھی کسی کے لئے سفارش کا لفظ بھی نہیں نکال سکتا۔ جیسے فرمایا آیت (مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَلَهٗٓ اَجْرٌ كَرِيْمٌ 11ۚ) 57۔ الحدید :11) کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش پیش کرسکے اس کے فرمان کے بغیر کسی کو کسی کی سفارش نفع نہیں دے سکتی۔ جبکہ بڑے بڑے قریبی فرشتوں کا یہ حال ہے تو پھر اے ناوافقو ! تمہارے یہ بت اور تھان کیا نفع پہنچا دیں گے ؟ ان کی پرستش سے اللہ روک رہا ہے تمام رسول ﷺ اور کل آسمانی کتابیں اللہ کے سوا اوروں کی عبادت سے روکنا اپنا عظیم الشان مقصد بتاتی ہیں پھر تم ان کو اپنا سفارشی سمجھ رہے ہو کس قدر غلط راہ ہے۔

فَلِلَّهِ الْآخِرَةُ وَالْأُولَىٰ

📘 بتکدے کیا تھے ؟ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔ لات ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا غلاف چڑھائے جاتے تھے مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔ ابن جریر فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ لات بنایا تھا گویا اس کا مؤنث بنایا تھا اللہ کی ذات تمام شریکوں سے پاک ہے ایک قرأت میں لفظ لات تاکہ تشدید کے ساتھ ہے یعنی گھولنے والا اسے لات اس معنی میں اس لئے کہتے تھے کہ یہ ایک نیک شخص تھا موسم حج میں حاجیوں کو ستو گھول گھول کر پلاتا تھا اس کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس کی قبر پر مجاورت شروع کردی رفتہ رفتہ اسی کی عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح لفظ عزیٰ لفظ عزیر سے لیا گیا ہے مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ میں یہ ایک درخت تھا اس پر بھی قبہ بنا ہوا تھا چادریں چڑھی ہوئی تھیں قریش اس کی عظمت کرتے تھے۔ ابو سفیان نے احد والے دن بھی کہا تھا ہمارا عزیٰ ہے اور تمہارا نہیں جس کے جواب میں حضور ﷺ نے کہلوایا تھا اللہ ہمارا والی ہے اور تمہاری کوئی نہیں صحیح بخاری میں ہے جو شخص لات عزیٰ کی قسم کھابیٹھے اسے چاہیے کہ فورا لا الہ الا للہ کہہ لے اور جو اپنے ساتھی سے کہہ دے کہ آ جوا کھیلیں اسے صدقہ کرنا چاہیے، مطلب یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں چونکہ اسی کی قسم کھائی جاتی تھی تو اب اسلام کے بعد اگر کسی کی زبان سے اگلی عادت کے موافق یہ الفاظ نکل جائیں تو اسے کلمہ پڑھ لینا چاہیے حضرت سعد بن وقاص ایک مرتبہ اسی طرح لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے جس پر لوگوں نے انہیں متنبہ کیا یہ حضور ﷺ کے پاس گئے آپ نے فرمایا دعا (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر) پڑھ لو اور تین مرتبہ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھ کر اپنی بائیں جانب تھوک دو اور آئندہ سے ایسا نہ کرنا مکہ اور مدینے کے درمیان قدید کے پاس مثلل میں مناۃ تھا۔ قبیلہ خزاعہ، اوس، اور خزرج جاہلیت میں اس کی بہت عظمت کرتے تھے یہیں سے احرام باندھ کر وہ حج کعبہ کے لئے جاتے تھے اسی طرح ان تین کی شہرت بہت زیادہ تھی اس لئے یہاں صرف ان تین کا ہی بیان فرمایا۔ ان مقامات کا یہ لوگ طواف بھی کرتے تھے قربانیوں کے جانور وہاں لے جاتے تھے ان کے نام پر جانور چڑھائے جاتے تھے باوجود اس کے یہ سب لوگ کعبہ کی حرمت و عظمت کے قائل تھے اسے مسجد ابراہیم مانتے تھے اور اس کی خاطر خواہ توقیر کرتے تھے۔ سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ قریش اور بنو کنانہ عزیٰ کے پجاری تھے جو نخلہ میں تھا۔ اس کا نگہبان اور متولی قبیلہ بنو شیبان تھا جو قبیلہ سلیم کی شاخ تھا اور بنو ہاشم کے ساتھ ان کا بھائی چارہ تھا اس بت کے توڑنے کے لئے رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے بعد حضرت خالد بن ولید کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور کہتے جاتے تھے یا عزی کفرانک لا سبحانک انی رایت اللہ قد اھانک اے عزیٰ میں تیرا منکر ہوں تیری پاکی بیان کرنے والا نہیں ہوں میرا ایمان ہے کہ تیری عزت کو اللہ نے خاک میں ملا دیا۔ یہ ببول کے تین درختوں پر تھا کاٹ ڈالے گئے اور قبہ ڈھا دیا اور واپس آ کر حضور ﷺ کو اطلاع دی آپ نے فرمایا تم نے کچھ نہیں کیا لوٹ کر پھر دوبارہ جاؤ حضرت خالد کے دوبارہ تشریف لے جانے پر وہاں کے محافظ اور خدام نے بڑے بڑے مکرو فریب کئے اور خوب غل مچا مچا کر یا عزیٰ یا عزیٰ کے نعرے لگائے حضرت خالد نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ننگی عورت ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور اپنے سر پر مٹی ڈال رہی ہے آپ نے تلوار کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کیا اور واپس آکر حضور ﷺ کو خبر دی آپ نے فرمایا عزیٰ یہی تھی۔ لات قبیلہ ثقیف کا بت تھا جو طائف میں تھا۔ اس کی تولیت اور مجاورت بنو معتب میں تھی یہاں اس کے ڈھانے کے لئے نبی ﷺ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت ابو سفیان صخر بن حرب کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے معدوم کر کے اس کی جگہ مسجد بنادی، مناۃ اوس و خزرج اور اس کے ہم خیال لوگوں کا بت تھا یہ مثلل کی طرف سے سمندر کے کنارے قدید میں تھا یہاں بھی حضور ﷺ نے حضرت ابو سفیان کو بھیجا اور آپ نے اس کے ریزے ریزے کر دئیے۔ بعض کا قول ہے کہ حضرت علی کے ہاتھوں یہ کفرستان فنا ہوا۔ ذوالخعلہ نامی بت خانہ دوس اور خشعم اور بجیلہ کا تھا اور جو لوگ اس کے ہم وطن تھے یہ تبالہ میں تھا اور اسے یہ لوگ کعبہ یمانیہ کہتے تھے اور مکہ کے کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے یہ حضرت جریر بن عبداللہ کے ہاتھوں رسول اللہ ﷺ کے حکم سے فنا ہوا فلس نامی بت خانہ قبیلہ طے اور ان کے آس پاس کے عربوں کا تھا یہ جبل طے میں سلمیٰ اور اجا کے درمیان تھا اس کے توڑنے پر حضرت علی مامور ہوئے تھے آپ نے اسے توڑ دیا اور یہاں سے دو تلواریں لے گئے تھے ایک رسوب دوسری مخزم آنحضرت ﷺ نے یہ دونوں تلواریں انہی کو دے دیں، قبیلہ حمیر اہل یمن نے اپنا بت خانہ صنعاء میں ریام نامی بنا رکھا تھا مذکور ہے کہ اس میں ایک سیاہ کتا تھا اور وہ دو حمیری جو تبع کے ساتھ نکلے تھے انہوں نے اسے نکال کر قتل کردیا اور اس بت خانہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور رضا نامی بت کدہ بنو ربیعہ بن سعد کا تھا اس کو مستوغر بن ربیعہ بن کعب بن اسد نے اسلام میں ڈھایا۔ ابن ہشام فرماتے ہیں کہ ان کی عمر تین سو تیس سال کی ہوئی تھی جس کا بیان خود انہوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے ذوالکعبات نامی صنم خانہ بکر تغلب اور یاد قبیلے کا سنداد میں تھا پھر فرماتا ہے کہ تمہارے لئے لڑکے ہوں اور اللہ کی لڑکیاں ہوں ؟ کیونکہ مشرکین اپنے زعم باطل میں فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں سمجھتے تھے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم آپس میں تقسیم کرو اور کسی کو صرف لڑکیاں اور کسی کو صرف لڑکے دو تو وہ بھی راضی نہ ہوگا اور یہ تقسیم نامنصفی کی سمجھی جائے گی چہ جائیکہ تم اللہ کے لئے لڑکیاں ثابت کرو اور خود تم اپنے لئے لڑکے پسند کرو پھر فرماتا ہے ان کو تم نے اپنی طرف سے بغیر کسی دلیل کے مضبوط ٹھہرا کر جا چاہا نام گھڑ لیا ہے ورنہ نہ وہ معبود ہیں نہ کسی ایسے پاک نام کے مستحق ہیں خود یہ لوگ بھی ان کی پوجا پاٹ پر کوئی دلیل پیش نہیں کرسکتے صرف اپنے بڑوں پر حسن ظن رکھ کر جو انہوں نے کیا تھا یہ بھی کر رہے ہیں مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں مصیبت تو یہ ہے کہ دلیل آجانے اللہ کی باتیں واضح ہوجانے کے باوجود بھی باپ دادا کی غلط راہ کو نہیں چھوڑتے۔ پھر فرماتا ہے کیا ہر انسان تمنا پر تمہارے لئے کیا لکھا جائے گا ؟ تمام امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے دنیا اور آخرت میں تصرف اسی کا ہے جو اس نے جو چاہا ہو رہا ہے اور جو چاہے گا ہوگا۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا فرشتہ بھی کسی کے لئے سفارش کا لفظ بھی نہیں نکال سکتا۔ جیسے فرمایا آیت (مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَلَهٗٓ اَجْرٌ كَرِيْمٌ 11ۚ) 57۔ الحدید :11) کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش پیش کرسکے اس کے فرمان کے بغیر کسی کو کسی کی سفارش نفع نہیں دے سکتی۔ جبکہ بڑے بڑے قریبی فرشتوں کا یہ حال ہے تو پھر اے ناوافقو ! تمہارے یہ بت اور تھان کیا نفع پہنچا دیں گے ؟ ان کی پرستش سے اللہ روک رہا ہے تمام رسول ﷺ اور کل آسمانی کتابیں اللہ کے سوا اوروں کی عبادت سے روکنا اپنا عظیم الشان مقصد بتاتی ہیں پھر تم ان کو اپنا سفارشی سمجھ رہے ہو کس قدر غلط راہ ہے۔

۞ وَكَمْ مِنْ مَلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِنْ بَعْدِ أَنْ يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَرْضَىٰ

📘 بتکدے کیا تھے ؟ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔ لات ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا غلاف چڑھائے جاتے تھے مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔ ابن جریر فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ لات بنایا تھا گویا اس کا مؤنث بنایا تھا اللہ کی ذات تمام شریکوں سے پاک ہے ایک قرأت میں لفظ لات تاکہ تشدید کے ساتھ ہے یعنی گھولنے والا اسے لات اس معنی میں اس لئے کہتے تھے کہ یہ ایک نیک شخص تھا موسم حج میں حاجیوں کو ستو گھول گھول کر پلاتا تھا اس کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس کی قبر پر مجاورت شروع کردی رفتہ رفتہ اسی کی عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح لفظ عزیٰ لفظ عزیر سے لیا گیا ہے مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ میں یہ ایک درخت تھا اس پر بھی قبہ بنا ہوا تھا چادریں چڑھی ہوئی تھیں قریش اس کی عظمت کرتے تھے۔ ابو سفیان نے احد والے دن بھی کہا تھا ہمارا عزیٰ ہے اور تمہارا نہیں جس کے جواب میں حضور ﷺ نے کہلوایا تھا اللہ ہمارا والی ہے اور تمہاری کوئی نہیں صحیح بخاری میں ہے جو شخص لات عزیٰ کی قسم کھابیٹھے اسے چاہیے کہ فورا لا الہ الا للہ کہہ لے اور جو اپنے ساتھی سے کہہ دے کہ آ جوا کھیلیں اسے صدقہ کرنا چاہیے، مطلب یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں چونکہ اسی کی قسم کھائی جاتی تھی تو اب اسلام کے بعد اگر کسی کی زبان سے اگلی عادت کے موافق یہ الفاظ نکل جائیں تو اسے کلمہ پڑھ لینا چاہیے حضرت سعد بن وقاص ایک مرتبہ اسی طرح لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے جس پر لوگوں نے انہیں متنبہ کیا یہ حضور ﷺ کے پاس گئے آپ نے فرمایا دعا (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر) پڑھ لو اور تین مرتبہ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھ کر اپنی بائیں جانب تھوک دو اور آئندہ سے ایسا نہ کرنا مکہ اور مدینے کے درمیان قدید کے پاس مثلل میں مناۃ تھا۔ قبیلہ خزاعہ، اوس، اور خزرج جاہلیت میں اس کی بہت عظمت کرتے تھے یہیں سے احرام باندھ کر وہ حج کعبہ کے لئے جاتے تھے اسی طرح ان تین کی شہرت بہت زیادہ تھی اس لئے یہاں صرف ان تین کا ہی بیان فرمایا۔ ان مقامات کا یہ لوگ طواف بھی کرتے تھے قربانیوں کے جانور وہاں لے جاتے تھے ان کے نام پر جانور چڑھائے جاتے تھے باوجود اس کے یہ سب لوگ کعبہ کی حرمت و عظمت کے قائل تھے اسے مسجد ابراہیم مانتے تھے اور اس کی خاطر خواہ توقیر کرتے تھے۔ سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ قریش اور بنو کنانہ عزیٰ کے پجاری تھے جو نخلہ میں تھا۔ اس کا نگہبان اور متولی قبیلہ بنو شیبان تھا جو قبیلہ سلیم کی شاخ تھا اور بنو ہاشم کے ساتھ ان کا بھائی چارہ تھا اس بت کے توڑنے کے لئے رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے بعد حضرت خالد بن ولید کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور کہتے جاتے تھے یا عزی کفرانک لا سبحانک انی رایت اللہ قد اھانک اے عزیٰ میں تیرا منکر ہوں تیری پاکی بیان کرنے والا نہیں ہوں میرا ایمان ہے کہ تیری عزت کو اللہ نے خاک میں ملا دیا۔ یہ ببول کے تین درختوں پر تھا کاٹ ڈالے گئے اور قبہ ڈھا دیا اور واپس آ کر حضور ﷺ کو اطلاع دی آپ نے فرمایا تم نے کچھ نہیں کیا لوٹ کر پھر دوبارہ جاؤ حضرت خالد کے دوبارہ تشریف لے جانے پر وہاں کے محافظ اور خدام نے بڑے بڑے مکرو فریب کئے اور خوب غل مچا مچا کر یا عزیٰ یا عزیٰ کے نعرے لگائے حضرت خالد نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ننگی عورت ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور اپنے سر پر مٹی ڈال رہی ہے آپ نے تلوار کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کیا اور واپس آکر حضور ﷺ کو خبر دی آپ نے فرمایا عزیٰ یہی تھی۔ لات قبیلہ ثقیف کا بت تھا جو طائف میں تھا۔ اس کی تولیت اور مجاورت بنو معتب میں تھی یہاں اس کے ڈھانے کے لئے نبی ﷺ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت ابو سفیان صخر بن حرب کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے معدوم کر کے اس کی جگہ مسجد بنادی، مناۃ اوس و خزرج اور اس کے ہم خیال لوگوں کا بت تھا یہ مثلل کی طرف سے سمندر کے کنارے قدید میں تھا یہاں بھی حضور ﷺ نے حضرت ابو سفیان کو بھیجا اور آپ نے اس کے ریزے ریزے کر دئیے۔ بعض کا قول ہے کہ حضرت علی کے ہاتھوں یہ کفرستان فنا ہوا۔ ذوالخعلہ نامی بت خانہ دوس اور خشعم اور بجیلہ کا تھا اور جو لوگ اس کے ہم وطن تھے یہ تبالہ میں تھا اور اسے یہ لوگ کعبہ یمانیہ کہتے تھے اور مکہ کے کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے یہ حضرت جریر بن عبداللہ کے ہاتھوں رسول اللہ ﷺ کے حکم سے فنا ہوا فلس نامی بت خانہ قبیلہ طے اور ان کے آس پاس کے عربوں کا تھا یہ جبل طے میں سلمیٰ اور اجا کے درمیان تھا اس کے توڑنے پر حضرت علی مامور ہوئے تھے آپ نے اسے توڑ دیا اور یہاں سے دو تلواریں لے گئے تھے ایک رسوب دوسری مخزم آنحضرت ﷺ نے یہ دونوں تلواریں انہی کو دے دیں، قبیلہ حمیر اہل یمن نے اپنا بت خانہ صنعاء میں ریام نامی بنا رکھا تھا مذکور ہے کہ اس میں ایک سیاہ کتا تھا اور وہ دو حمیری جو تبع کے ساتھ نکلے تھے انہوں نے اسے نکال کر قتل کردیا اور اس بت خانہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور رضا نامی بت کدہ بنو ربیعہ بن سعد کا تھا اس کو مستوغر بن ربیعہ بن کعب بن اسد نے اسلام میں ڈھایا۔ ابن ہشام فرماتے ہیں کہ ان کی عمر تین سو تیس سال کی ہوئی تھی جس کا بیان خود انہوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے ذوالکعبات نامی صنم خانہ بکر تغلب اور یاد قبیلے کا سنداد میں تھا پھر فرماتا ہے کہ تمہارے لئے لڑکے ہوں اور اللہ کی لڑکیاں ہوں ؟ کیونکہ مشرکین اپنے زعم باطل میں فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں سمجھتے تھے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم آپس میں تقسیم کرو اور کسی کو صرف لڑکیاں اور کسی کو صرف لڑکے دو تو وہ بھی راضی نہ ہوگا اور یہ تقسیم نامنصفی کی سمجھی جائے گی چہ جائیکہ تم اللہ کے لئے لڑکیاں ثابت کرو اور خود تم اپنے لئے لڑکے پسند کرو پھر فرماتا ہے ان کو تم نے اپنی طرف سے بغیر کسی دلیل کے مضبوط ٹھہرا کر جا چاہا نام گھڑ لیا ہے ورنہ نہ وہ معبود ہیں نہ کسی ایسے پاک نام کے مستحق ہیں خود یہ لوگ بھی ان کی پوجا پاٹ پر کوئی دلیل پیش نہیں کرسکتے صرف اپنے بڑوں پر حسن ظن رکھ کر جو انہوں نے کیا تھا یہ بھی کر رہے ہیں مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں مصیبت تو یہ ہے کہ دلیل آجانے اللہ کی باتیں واضح ہوجانے کے باوجود بھی باپ دادا کی غلط راہ کو نہیں چھوڑتے۔ پھر فرماتا ہے کیا ہر انسان تمنا پر تمہارے لئے کیا لکھا جائے گا ؟ تمام امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے دنیا اور آخرت میں تصرف اسی کا ہے جو اس نے جو چاہا ہو رہا ہے اور جو چاہے گا ہوگا۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا فرشتہ بھی کسی کے لئے سفارش کا لفظ بھی نہیں نکال سکتا۔ جیسے فرمایا آیت (مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَلَهٗٓ اَجْرٌ كَرِيْمٌ 11ۚ) 57۔ الحدید :11) کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش پیش کرسکے اس کے فرمان کے بغیر کسی کو کسی کی سفارش نفع نہیں دے سکتی۔ جبکہ بڑے بڑے قریبی فرشتوں کا یہ حال ہے تو پھر اے ناوافقو ! تمہارے یہ بت اور تھان کیا نفع پہنچا دیں گے ؟ ان کی پرستش سے اللہ روک رہا ہے تمام رسول ﷺ اور کل آسمانی کتابیں اللہ کے سوا اوروں کی عبادت سے روکنا اپنا عظیم الشان مقصد بتاتی ہیں پھر تم ان کو اپنا سفارشی سمجھ رہے ہو کس قدر غلط راہ ہے۔

إِنَّ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ لَيُسَمُّونَ الْمَلَائِكَةَ تَسْمِيَةَ الْأُنْثَىٰ

📘 آخرت کا گھر اور دنیا اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس قول کی تردید فرماتا ہے کہ اللہ کے فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ 19؀) 43۔ الزخرف :19) ، یعنی اللہ کے مقبول بندوں اور فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی لڑکیاں ٹھہرا دیا ہے کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ موجود تھے ؟ ان کی شہادت لکھی جائے گی اور ان سے پرستش کی جائے گی یہاں بھی فرمایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے زنانہ نام رکھتے ہیں جو ان کی بےعلمی کا نتیجہ ہے محض جھوٹ کھلا بہتان بلکہ صریح شرک ہے یہ صرف ان کی اٹکل ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اٹکل پچو کی باتیں حق کے قائم مقام نہیں ہوسکتیں۔ حدیث شریف میں ہے گمان سے بچو گمان بدترین جھوٹ ہے پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ حق سے اعراض کرنے والوں سے آپ بھی اعراض کرلیں ان کا مطمع نظر صرف دنیا کی زندگی ہے اور جس کی غایت یہ سفلی دنیا ہو اس کا انجام کبھی نیک نہیں ہوتا ان کے علم کی غایت بھی یہی ہے کہ دنیا طلبی اور کوشش دنیا میں ہر وقت منہمک رہیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں دنیا اس کا گھر ہے جس کا (آخرت میں) گھر نہ ہو اور دنیا اس کا مال ہے جس کا مال (آخرت میں) کنگال نہ ہو، ایک منقول دعا میں حضور ﷺ کے یہ الفاظ بھی آئے ہیں (اللھم لا تجعل الدنیا اکبر ھمنا ولا مبلغ علمنا) پروردگار تو ہماری اہم تر کوشش اور مطمع نظر اور مقصد معلومات صرف دنیا ہی کو نہ کر۔ پھر فرماتا ہے کہ جمیع مخلوقات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اپنے بندوں کی مصلحتوں سے صحیح طور پر وہی واقف ہے جسے چاہے ہدایت دے جسے چاہے ضلالت دے سب کچھ اس کی قدرت علم اور حکمت سے ہو رہا ہے وہ عادل ہے اپنی شریعت میں اور انداز مقرر کرنے میں ظلم و بےانصافی نہیں کرتا۔

وَمَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ ۖ إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ ۖ وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا

📘 آخرت کا گھر اور دنیا اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس قول کی تردید فرماتا ہے کہ اللہ کے فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ 19؀) 43۔ الزخرف :19) ، یعنی اللہ کے مقبول بندوں اور فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی لڑکیاں ٹھہرا دیا ہے کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ موجود تھے ؟ ان کی شہادت لکھی جائے گی اور ان سے پرستش کی جائے گی یہاں بھی فرمایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے زنانہ نام رکھتے ہیں جو ان کی بےعلمی کا نتیجہ ہے محض جھوٹ کھلا بہتان بلکہ صریح شرک ہے یہ صرف ان کی اٹکل ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اٹکل پچو کی باتیں حق کے قائم مقام نہیں ہوسکتیں۔ حدیث شریف میں ہے گمان سے بچو گمان بدترین جھوٹ ہے پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ حق سے اعراض کرنے والوں سے آپ بھی اعراض کرلیں ان کا مطمع نظر صرف دنیا کی زندگی ہے اور جس کی غایت یہ سفلی دنیا ہو اس کا انجام کبھی نیک نہیں ہوتا ان کے علم کی غایت بھی یہی ہے کہ دنیا طلبی اور کوشش دنیا میں ہر وقت منہمک رہیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں دنیا اس کا گھر ہے جس کا (آخرت میں) گھر نہ ہو اور دنیا اس کا مال ہے جس کا مال (آخرت میں) کنگال نہ ہو، ایک منقول دعا میں حضور ﷺ کے یہ الفاظ بھی آئے ہیں (اللھم لا تجعل الدنیا اکبر ھمنا ولا مبلغ علمنا) پروردگار تو ہماری اہم تر کوشش اور مطمع نظر اور مقصد معلومات صرف دنیا ہی کو نہ کر۔ پھر فرماتا ہے کہ جمیع مخلوقات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اپنے بندوں کی مصلحتوں سے صحیح طور پر وہی واقف ہے جسے چاہے ہدایت دے جسے چاہے ضلالت دے سب کچھ اس کی قدرت علم اور حکمت سے ہو رہا ہے وہ عادل ہے اپنی شریعت میں اور انداز مقرر کرنے میں ظلم و بےانصافی نہیں کرتا۔

فَأَعْرِضْ عَنْ مَنْ تَوَلَّىٰ عَنْ ذِكْرِنَا وَلَمْ يُرِدْ إِلَّا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا

📘 آخرت کا گھر اور دنیا اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس قول کی تردید فرماتا ہے کہ اللہ کے فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ 19؀) 43۔ الزخرف :19) ، یعنی اللہ کے مقبول بندوں اور فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی لڑکیاں ٹھہرا دیا ہے کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ موجود تھے ؟ ان کی شہادت لکھی جائے گی اور ان سے پرستش کی جائے گی یہاں بھی فرمایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے زنانہ نام رکھتے ہیں جو ان کی بےعلمی کا نتیجہ ہے محض جھوٹ کھلا بہتان بلکہ صریح شرک ہے یہ صرف ان کی اٹکل ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اٹکل پچو کی باتیں حق کے قائم مقام نہیں ہوسکتیں۔ حدیث شریف میں ہے گمان سے بچو گمان بدترین جھوٹ ہے پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ حق سے اعراض کرنے والوں سے آپ بھی اعراض کرلیں ان کا مطمع نظر صرف دنیا کی زندگی ہے اور جس کی غایت یہ سفلی دنیا ہو اس کا انجام کبھی نیک نہیں ہوتا ان کے علم کی غایت بھی یہی ہے کہ دنیا طلبی اور کوشش دنیا میں ہر وقت منہمک رہیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں دنیا اس کا گھر ہے جس کا (آخرت میں) گھر نہ ہو اور دنیا اس کا مال ہے جس کا مال (آخرت میں) کنگال نہ ہو، ایک منقول دعا میں حضور ﷺ کے یہ الفاظ بھی آئے ہیں (اللھم لا تجعل الدنیا اکبر ھمنا ولا مبلغ علمنا) پروردگار تو ہماری اہم تر کوشش اور مطمع نظر اور مقصد معلومات صرف دنیا ہی کو نہ کر۔ پھر فرماتا ہے کہ جمیع مخلوقات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اپنے بندوں کی مصلحتوں سے صحیح طور پر وہی واقف ہے جسے چاہے ہدایت دے جسے چاہے ضلالت دے سب کچھ اس کی قدرت علم اور حکمت سے ہو رہا ہے وہ عادل ہے اپنی شریعت میں اور انداز مقرر کرنے میں ظلم و بےانصافی نہیں کرتا۔

وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ

📘 حضرت شعبی فرماتے ہیں خالق تو اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم کھالے لیکن مخلوق سوائے اپنے خالق کے کسی اور کی قسم نہیں کھا سکتی (ابن ابی حاتم) ستارے کے جھکنے سے مراد فجر کے وقت ثریا کے ستارے کا غائب ہونا ہے۔ بعض کہتے ہیں مراد زہرہ نامی ستارہ ہے۔ حضرت ضحاک فرماتے ہیں مراد اس کا جھڑ کر شیطان کی طرف لپکنا ہے اس قول کی اچھی توجیہ ہوسکتی ہے مجاہد فرماتے ہیں اس جملے کی تفسیر یہ ہے کہ قسم ہے قرآن کی جب وہ اترے۔ اس آیت جیسی ہی آیت (فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ 75 ۙ) 56۔ الواقعة :75) ہے۔ پھر جس بات پر قسم کھا رہا ہے اس کا بیان ہے کہ آنحضرت ﷺ نیکی اور رشد و ہدایت اور تابع حق ہیں وہ بےعلمی کے ساتھ کسی غلط راہ لگے ہوئے یا باوجود علم کے ٹیڑھا راستہ اختیار کئے ہوئے نہیں ہیں۔ آپ گمراہ نصرانیوں اور جان بوجھ کر خلاف حق کرنے والے یہودیوں کی طرح نہیں۔ آپ کا علم کامل آپ کا عمل مطابق علم آپکا راستہ سیدھا آپ عظیم الشان شریعت کے شارع، آپ اعتدال والی راہ حق پر قائم۔ آپ کا کوئی قول کوئی فرمان اپنے نفس کی خواہش اور ذاتی غرض سے نہیں ہوتا بلکہ جس چیز کی تبلیغ کا آپکو حکم الہٰی ہوتا ہے آپ اسے ہی زبان سے نکالتے ہیں جو وہاں سے کہا جائے وہی آپ کی زبان سے ادا ہوتا ہے کمی بیشی زیادتی نقصان سے آپ کا کلام پاک ہوتا ہے، مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک شخص کی شفاعت سے جو نبی نہیں ہیں مثل دو قبیلوں کے یا دو میں سے ایک قبیلے کی گنتی کے برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ قبیلہ ربیعہ اور قبیلہ مضر اس پر ایک شخص نے کہا کیا ربیعہ مضر میں سے نہیں ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں تو وہی کہتا ہوں جو کہتا ہوں۔ مسند کی اور حدیث میں ہے حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں میں حضور ﷺ سے جو کچھ سنتا تھا اسے حفظ کرنے کے لئے لکھ لیا کرتا تھا پس بعض قریشیوں نے مجھے اس سے روکا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ ایک انسان ہیں کبھی کبھی غصے اور غضب میں بھی کچھ فرما دیا کرتے ہیں چناچہ میں لکھنے سے رک گیا پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا لکھ لیا کرو اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری زبان سے سوائے حق بات کے اور کوئی کلمہ نہیں نکلتا یہ حدیث ابو داؤد اور ابن ابی شیبہ میں بھی ہے بزار میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تمہیں جس امر کی خبر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا مسند احمد میں ہے کہ آپ نے فرمایا میں سوائے حق کے اور کچھ نہیں کہتا۔ اس پر بعض صحابہ نے کہا حضور ﷺ کبھی کبھی ہم سے خوش طبعی بھی کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اس وقت بھی میری زبان سے ناحق نہیں نکلتا۔

ذَٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِنَ الْعِلْمِ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدَىٰ

📘 آخرت کا گھر اور دنیا اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس قول کی تردید فرماتا ہے کہ اللہ کے فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ 19؀) 43۔ الزخرف :19) ، یعنی اللہ کے مقبول بندوں اور فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی لڑکیاں ٹھہرا دیا ہے کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ موجود تھے ؟ ان کی شہادت لکھی جائے گی اور ان سے پرستش کی جائے گی یہاں بھی فرمایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے زنانہ نام رکھتے ہیں جو ان کی بےعلمی کا نتیجہ ہے محض جھوٹ کھلا بہتان بلکہ صریح شرک ہے یہ صرف ان کی اٹکل ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اٹکل پچو کی باتیں حق کے قائم مقام نہیں ہوسکتیں۔ حدیث شریف میں ہے گمان سے بچو گمان بدترین جھوٹ ہے پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ حق سے اعراض کرنے والوں سے آپ بھی اعراض کرلیں ان کا مطمع نظر صرف دنیا کی زندگی ہے اور جس کی غایت یہ سفلی دنیا ہو اس کا انجام کبھی نیک نہیں ہوتا ان کے علم کی غایت بھی یہی ہے کہ دنیا طلبی اور کوشش دنیا میں ہر وقت منہمک رہیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں دنیا اس کا گھر ہے جس کا (آخرت میں) گھر نہ ہو اور دنیا اس کا مال ہے جس کا مال (آخرت میں) کنگال نہ ہو، ایک منقول دعا میں حضور ﷺ کے یہ الفاظ بھی آئے ہیں (اللھم لا تجعل الدنیا اکبر ھمنا ولا مبلغ علمنا) پروردگار تو ہماری اہم تر کوشش اور مطمع نظر اور مقصد معلومات صرف دنیا ہی کو نہ کر۔ پھر فرماتا ہے کہ جمیع مخلوقات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اپنے بندوں کی مصلحتوں سے صحیح طور پر وہی واقف ہے جسے چاہے ہدایت دے جسے چاہے ضلالت دے سب کچھ اس کی قدرت علم اور حکمت سے ہو رہا ہے وہ عادل ہے اپنی شریعت میں اور انداز مقرر کرنے میں ظلم و بےانصافی نہیں کرتا۔

وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى

📘 گناہ اور ضابطہ الہٰی مالک آسمان و زمین بےپرواہ مطلق شہنشاہ حقیقی عادل خالق حق و حق کار اللہ تعالیٰ ہی ہے ہر کسی کو اس کے اعمال کا بدلہ دینے والا نیکی پر نیک جزا اور بدی پر بری سزا دہی دے گا اس کے نزدیک بھلے لوگ وہ ہیں جو اس کی حرام کردہ چیزوں اور کاموں سے بڑے بڑے گناہوں اور بدکاریوں و نالائقیوں سے الگ رہیں ان سے بہ تقاضائے بشریت اگر کبھی کوئی چھوٹا سا گناہ سرزد ہو بھی جائے تو پروردگار پردہ پوشی کرتا ہے اور معاف فرما دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے (اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَاۗىِٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِيْمًا 31؀) 4۔ النسآء :31) اگر تم ان کبیرہ گناہوں سے پاکدامن رہے جن سے تمہیں روک دیا گیا ہے تو ہم تمہاری برائیاں معاف فرما دیں گے، یہاں بھی فرمایا مگر چھوٹی چھوٹی لغزشیں اور انسانیت کی کمزوریاں معاف ہیں۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں لم کی تفسیر میرے خیال میں حضرت ابوہریرہ کی بیان کردہ اس حدیث سے زیادہ اچھی کوئی نہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر اس کا زنا کا حصہ لکھ دیا ہے جسے وہ یقینا پا کر ہی رہے گا آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے زبان کا زنا بولنا ہے دل امنگ اور آرزو کرتا ہے، اب شرمگاہ خواہ اسے سچا کر دکھائے یا جھوٹا (بخاری و مسلم) حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں آنکھوں کا زنا نظر کرنا ہے اور ہونٹوں کا بوسہ لینا ہے اور ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے اور پیروں کا زنا چلنا ہے اور شرمگاہ اسے سچا کرتی ہے یا جھوٹا کردیتی ہے یعنی اگر شرمگاہ کو نہ روک سکا اور بدکاری کر بیٹھا تو سب اعضاء کا زنا ثابت اور اگر اپنے اس عضو کو روک لیا تو وہ سب لم میں داخل ہے، حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ لم بوسہ لینا چھڑنا دیکھنا مس کرنا ہے اور جب شرمگاہیں مل گئیں تو غسل واجب ہوگیا اور زناکاری کا گناہ ثابت ہوگیا، حضرت ابن عباس سے اس جملہ کی تفسیر یہی مروی ہے یعنی جو پہلے گذر چکا، حضرت مجاہد فرماتے ہیں گناہ سے آلودگی ہو پھر چھوڑ دے تو لم میں داخل ہے، شاعر کہتا ہے ان تغفر اللھم تغفر جما، وای عبد لک ما الما اے اللہ جبکہ تو معاف فرماتا ہے تو سب کچھ ہی معاف فرما دے ورنہ یوں آلودہ عصیاں تو ہر انسان ہے۔ مجاہد فرماتے ہیں اہل جاہلیت اپنے طواف میں عموماً اس شعر کو پڑھا کرتے تھے۔ ابن جریر میں حضور ﷺ کا اس شعر کو پڑھنا بھی مروی ہے ترمذی میں بھی یہ مروی ہے اور امام ترمذی اسے حسن صحیح غریب کہتے ہیں، بزار فرماتے ہیں ہمیں اس کی اور سند معلوم نہیں صرف اسی سند سے مرفوعاً مروی ہے ابن ابی حاتم اور بغوی نے بھی اسے نقل کیا ہے بغوی نے اسے سورة تنزیل میں روایت کیا ہے لیکن اس مرفوع کی صحت میں نظر ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا مراد یہ ہے کہ زنا سے نزدیکی ہونے کے بعد توبہ کرے اور پھر نہ لوٹے چوری کے قریب ہوجانے کے بعد چوری نہ کی اور توبہ کرکے لوٹ آیا اسی طرح شراب پینے کے قریب ہو کر شراب نہ پی اور توبہ کر کے لوٹ گیا یہ سب المام ہیں جو ایک مومن کو معاف ہیں، حضرت حسن سے بھی یہی مروی ہے ایک روایت میں ہے صحابہ سے عمومًا اس کا مروی ہونا بیان کیا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں مراد اس سے شرک کے علاوہ گناہ ہیں۔ ابن زبیر فرماتے ہیں دو حدوں کے درمیان حد زنا اور عذاب آخرت ہے، حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ہر وہ چیز جو دو حدوں کے درمیان حد دنیا اور حد آخرت نمازیں اس کا کفارہ بن جاتی ہیں اور وہ ہر واجب کردینے والی سے کم ہے حد دنیا تو وہ ہے جو کسی گناہ پر اللہ نے دنیاوی سزا مقرر کردی ہے اور اس کی سزا دنیا میں مقرر نہیں کی۔ تیرے رب کی بخشش بہت وسیع ہے ہر چیز کو گھیر لیا ہے اور تمام گناہوں پر اس کا احاطہ ہے جیسے فرمان ہے آیت (قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ 53؀) 39۔ الزمر :53) اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنی جان پر اسراف کیا ہے اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے اور وہ بڑی بخشش والا اور بڑے رحم والا ہے پھر فرمایا وہ تمہیں دیکھنے والا اور تمہارے ہر حال کا علم رکھنے والا اور تمہارے ہر کلام کو سننے والا اور تمہارے تمام تر اعمال سے واقف ہے جبکہ اس نے تمہارے باپ آدم کو زمین سے پیدا کیا اور ان کی پیٹھ سے ان کی اولاد نکالی جو چیونٹیوں کی طرح پھیل گئی پھر ان کی تقسیم کر کے دو گروہ بنا دئیے ایک جنت کے لئے اور ایک جہنم کے لئے اور جب تم اپنی ماں کے پیٹ میں بچے تھے اس کی مقرر کردہ فرشتے نے روزی عمر عمل نیکی بدی لکھ لی بہت سے بچے پیٹ سے ہی گرجاتے ہیں۔ بہت سے دودھ پینے کی حالت میں فوت ہوجاتے ہیں، بہت سے دودھ چھٹنے کے بعد بلوغت سے پہلے ہی چل بستے ہیں بہت سے عین جوانی میں دار دنیا خالی کر جاتے ہیں، اب جبکہ ہم تمام منازل کو طے کرچکے اور بڑھاپے میں آگئے جس کے بعد کوئی منزل موت کے سوا نہیں اب بھی اگر ہم نہ سنبھلیں تو ہم سے بڑھ کر غافل کون ہے ؟ خبردار تم اپنے نفس کو پاک نہ کہو اپنے نیک اعمال کی تعریفیں کرنے نہ بیٹھ جاؤ اپنے آپ سراہنے نہ لگو جس کے دل میں رب کا ڈر ہے اسے رب ہی خوب جانتا ہے اور آیت میں ہے (اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يُزَكُّوْنَ اَنْفُسَھُمْ ۭ بَلِ اللّٰهُ يُزَكِّيْ مَنْ يَّشَاۗءُ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا 49؀) 4۔ النسآء :49) کیا تو نے ان لوگوں کو نہ دیکھا جو اپنے نفس کی پاکیزگی آپ بیان کرتے ہیں وہ نہیں جانتے کہ یہ اللہ کے ہاتھ ہے جسے وہ چاہے برتر اعلیٰ اور پاک صاف کر دے کسی پر کچھ بھی ظلم نہ ہوگا۔ محمد بن عمرو بن عطا فرماتے ہیں میں نے اپنی لڑکی کا نام برہ رکھا تو مجھ سے حضرت زینت بنت ابو سلمہ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اس نام سے منع فرمایا ہے خود میرا نام بھی برہ تھا جس پر آپ نے فرمایا تم خود اپنی برتری اور پاکی آپ نہ بیان کرو تم میں سے نیکی والوں کا علم پورے طور پر اللہ ہی کو ہے لوگوں نے کہا پھر ہم اس کا کیا نام رکھیں ؟ فرمایا زینب نام رکھو مسند احمد میں ہے حضور ﷺ کے سامنے کسی ایک شخص کی بہت تعریفیں بیان کیں آپ نے فرمایا افسوس تو نے اس کی گردن ماری کئی مرتبہ یہی فرما کر ارشاد فرمایا کہ اگر کسی کی تعریف ہی کرنی ہو تو یوں گمان فلاں کی طرف سے ایسا ہے حقیقی علم اللہ کو ہی ہے پھر اپنی معلومات بیان کرو خود کسی کی پاکیزگیاں بیان کرنے نہ بیٹھ جاؤ۔ ابو داؤد اور مسلم میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت عثمان کے سامنے ان کی تعریفیں بیان کرنا شروع کردیں اس پر حضرت مقداد بن اسود اس کے منہ میں مٹی بھرنے لگے اور فرمایا ہمیں رسول اللہ ﷺ کا حکم ہے کہ تعریفیں کرنے والوں کے منہ مٹی سے بھر دیں۔

الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ ۚ هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنْشَأَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَإِذْ أَنْتُمْ أَجِنَّةٌ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ ۖ فَلَا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَىٰ

📘 گناہ اور ضابطہ الہٰی مالک آسمان و زمین بےپرواہ مطلق شہنشاہ حقیقی عادل خالق حق و حق کار اللہ تعالیٰ ہی ہے ہر کسی کو اس کے اعمال کا بدلہ دینے والا نیکی پر نیک جزا اور بدی پر بری سزا دہی دے گا اس کے نزدیک بھلے لوگ وہ ہیں جو اس کی حرام کردہ چیزوں اور کاموں سے بڑے بڑے گناہوں اور بدکاریوں و نالائقیوں سے الگ رہیں ان سے بہ تقاضائے بشریت اگر کبھی کوئی چھوٹا سا گناہ سرزد ہو بھی جائے تو پروردگار پردہ پوشی کرتا ہے اور معاف فرما دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے (اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَاۗىِٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِيْمًا 31؀) 4۔ النسآء :31) اگر تم ان کبیرہ گناہوں سے پاکدامن رہے جن سے تمہیں روک دیا گیا ہے تو ہم تمہاری برائیاں معاف فرما دیں گے، یہاں بھی فرمایا مگر چھوٹی چھوٹی لغزشیں اور انسانیت کی کمزوریاں معاف ہیں۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں لم کی تفسیر میرے خیال میں حضرت ابوہریرہ کی بیان کردہ اس حدیث سے زیادہ اچھی کوئی نہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر اس کا زنا کا حصہ لکھ دیا ہے جسے وہ یقینا پا کر ہی رہے گا آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے زبان کا زنا بولنا ہے دل امنگ اور آرزو کرتا ہے، اب شرمگاہ خواہ اسے سچا کر دکھائے یا جھوٹا (بخاری و مسلم) حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں آنکھوں کا زنا نظر کرنا ہے اور ہونٹوں کا بوسہ لینا ہے اور ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے اور پیروں کا زنا چلنا ہے اور شرمگاہ اسے سچا کرتی ہے یا جھوٹا کردیتی ہے یعنی اگر شرمگاہ کو نہ روک سکا اور بدکاری کر بیٹھا تو سب اعضاء کا زنا ثابت اور اگر اپنے اس عضو کو روک لیا تو وہ سب لم میں داخل ہے، حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ لم بوسہ لینا چھڑنا دیکھنا مس کرنا ہے اور جب شرمگاہیں مل گئیں تو غسل واجب ہوگیا اور زناکاری کا گناہ ثابت ہوگیا، حضرت ابن عباس سے اس جملہ کی تفسیر یہی مروی ہے یعنی جو پہلے گذر چکا، حضرت مجاہد فرماتے ہیں گناہ سے آلودگی ہو پھر چھوڑ دے تو لم میں داخل ہے، شاعر کہتا ہے ان تغفر اللھم تغفر جما، وای عبد لک ما الما اے اللہ جبکہ تو معاف فرماتا ہے تو سب کچھ ہی معاف فرما دے ورنہ یوں آلودہ عصیاں تو ہر انسان ہے۔ مجاہد فرماتے ہیں اہل جاہلیت اپنے طواف میں عموماً اس شعر کو پڑھا کرتے تھے۔ ابن جریر میں حضور ﷺ کا اس شعر کو پڑھنا بھی مروی ہے ترمذی میں بھی یہ مروی ہے اور امام ترمذی اسے حسن صحیح غریب کہتے ہیں، بزار فرماتے ہیں ہمیں اس کی اور سند معلوم نہیں صرف اسی سند سے مرفوعاً مروی ہے ابن ابی حاتم اور بغوی نے بھی اسے نقل کیا ہے بغوی نے اسے سورة تنزیل میں روایت کیا ہے لیکن اس مرفوع کی صحت میں نظر ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا مراد یہ ہے کہ زنا سے نزدیکی ہونے کے بعد توبہ کرے اور پھر نہ لوٹے چوری کے قریب ہوجانے کے بعد چوری نہ کی اور توبہ کرکے لوٹ آیا اسی طرح شراب پینے کے قریب ہو کر شراب نہ پی اور توبہ کر کے لوٹ گیا یہ سب المام ہیں جو ایک مومن کو معاف ہیں، حضرت حسن سے بھی یہی مروی ہے ایک روایت میں ہے صحابہ سے عمومًا اس کا مروی ہونا بیان کیا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں مراد اس سے شرک کے علاوہ گناہ ہیں۔ ابن زبیر فرماتے ہیں دو حدوں کے درمیان حد زنا اور عذاب آخرت ہے، حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ہر وہ چیز جو دو حدوں کے درمیان حد دنیا اور حد آخرت نمازیں اس کا کفارہ بن جاتی ہیں اور وہ ہر واجب کردینے والی سے کم ہے حد دنیا تو وہ ہے جو کسی گناہ پر اللہ نے دنیاوی سزا مقرر کردی ہے اور اس کی سزا دنیا میں مقرر نہیں کی۔ تیرے رب کی بخشش بہت وسیع ہے ہر چیز کو گھیر لیا ہے اور تمام گناہوں پر اس کا احاطہ ہے جیسے فرمان ہے آیت (قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ 53؀) 39۔ الزمر :53) اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنی جان پر اسراف کیا ہے اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے اور وہ بڑی بخشش والا اور بڑے رحم والا ہے پھر فرمایا وہ تمہیں دیکھنے والا اور تمہارے ہر حال کا علم رکھنے والا اور تمہارے ہر کلام کو سننے والا اور تمہارے تمام تر اعمال سے واقف ہے جبکہ اس نے تمہارے باپ آدم کو زمین سے پیدا کیا اور ان کی پیٹھ سے ان کی اولاد نکالی جو چیونٹیوں کی طرح پھیل گئی پھر ان کی تقسیم کر کے دو گروہ بنا دئیے ایک جنت کے لئے اور ایک جہنم کے لئے اور جب تم اپنی ماں کے پیٹ میں بچے تھے اس کی مقرر کردہ فرشتے نے روزی عمر عمل نیکی بدی لکھ لی بہت سے بچے پیٹ سے ہی گرجاتے ہیں۔ بہت سے دودھ پینے کی حالت میں فوت ہوجاتے ہیں، بہت سے دودھ چھٹنے کے بعد بلوغت سے پہلے ہی چل بستے ہیں بہت سے عین جوانی میں دار دنیا خالی کر جاتے ہیں، اب جبکہ ہم تمام منازل کو طے کرچکے اور بڑھاپے میں آگئے جس کے بعد کوئی منزل موت کے سوا نہیں اب بھی اگر ہم نہ سنبھلیں تو ہم سے بڑھ کر غافل کون ہے ؟ خبردار تم اپنے نفس کو پاک نہ کہو اپنے نیک اعمال کی تعریفیں کرنے نہ بیٹھ جاؤ اپنے آپ سراہنے نہ لگو جس کے دل میں رب کا ڈر ہے اسے رب ہی خوب جانتا ہے اور آیت میں ہے (اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يُزَكُّوْنَ اَنْفُسَھُمْ ۭ بَلِ اللّٰهُ يُزَكِّيْ مَنْ يَّشَاۗءُ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا 49؀) 4۔ النسآء :49) کیا تو نے ان لوگوں کو نہ دیکھا جو اپنے نفس کی پاکیزگی آپ بیان کرتے ہیں وہ نہیں جانتے کہ یہ اللہ کے ہاتھ ہے جسے وہ چاہے برتر اعلیٰ اور پاک صاف کر دے کسی پر کچھ بھی ظلم نہ ہوگا۔ محمد بن عمرو بن عطا فرماتے ہیں میں نے اپنی لڑکی کا نام برہ رکھا تو مجھ سے حضرت زینت بنت ابو سلمہ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اس نام سے منع فرمایا ہے خود میرا نام بھی برہ تھا جس پر آپ نے فرمایا تم خود اپنی برتری اور پاکی آپ نہ بیان کرو تم میں سے نیکی والوں کا علم پورے طور پر اللہ ہی کو ہے لوگوں نے کہا پھر ہم اس کا کیا نام رکھیں ؟ فرمایا زینب نام رکھو مسند احمد میں ہے حضور ﷺ کے سامنے کسی ایک شخص کی بہت تعریفیں بیان کیں آپ نے فرمایا افسوس تو نے اس کی گردن ماری کئی مرتبہ یہی فرما کر ارشاد فرمایا کہ اگر کسی کی تعریف ہی کرنی ہو تو یوں گمان فلاں کی طرف سے ایسا ہے حقیقی علم اللہ کو ہی ہے پھر اپنی معلومات بیان کرو خود کسی کی پاکیزگیاں بیان کرنے نہ بیٹھ جاؤ۔ ابو داؤد اور مسلم میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت عثمان کے سامنے ان کی تعریفیں بیان کرنا شروع کردیں اس پر حضرت مقداد بن اسود اس کے منہ میں مٹی بھرنے لگے اور فرمایا ہمیں رسول اللہ ﷺ کا حکم ہے کہ تعریفیں کرنے والوں کے منہ مٹی سے بھر دیں۔

أَفَرَأَيْتَ الَّذِي تَوَلَّىٰ

📘 گناہ اور ضابطہ الہٰی مالک آسمان و زمین بےپرواہ مطلق شہنشاہ حقیقی عادل خالق حق و حق کار اللہ تعالیٰ ہی ہے ہر کسی کو اس کے اعمال کا بدلہ دینے والا نیکی پر نیک جزا اور بدی پر بری سزا دہی دے گا اس کے نزدیک بھلے لوگ وہ ہیں جو اس کی حرام کردہ چیزوں اور کاموں سے بڑے بڑے گناہوں اور بدکاریوں و نالائقیوں سے الگ رہیں ان سے بہ تقاضائے بشریت اگر کبھی کوئی چھوٹا سا گناہ سرزد ہو بھی جائے تو پروردگار پردہ پوشی کرتا ہے اور معاف فرما دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے (اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَاۗىِٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِيْمًا 31؀) 4۔ النسآء :31) اگر تم ان کبیرہ گناہوں سے پاکدامن رہے جن سے تمہیں روک دیا گیا ہے تو ہم تمہاری برائیاں معاف فرما دیں گے، یہاں بھی فرمایا مگر چھوٹی چھوٹی لغزشیں اور انسانیت کی کمزوریاں معاف ہیں۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں لم کی تفسیر میرے خیال میں حضرت ابوہریرہ کی بیان کردہ اس حدیث سے زیادہ اچھی کوئی نہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر اس کا زنا کا حصہ لکھ دیا ہے جسے وہ یقینا پا کر ہی رہے گا آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے زبان کا زنا بولنا ہے دل امنگ اور آرزو کرتا ہے، اب شرمگاہ خواہ اسے سچا کر دکھائے یا جھوٹا (بخاری و مسلم) حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں آنکھوں کا زنا نظر کرنا ہے اور ہونٹوں کا بوسہ لینا ہے اور ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے اور پیروں کا زنا چلنا ہے اور شرمگاہ اسے سچا کرتی ہے یا جھوٹا کردیتی ہے یعنی اگر شرمگاہ کو نہ روک سکا اور بدکاری کر بیٹھا تو سب اعضاء کا زنا ثابت اور اگر اپنے اس عضو کو روک لیا تو وہ سب لم میں داخل ہے، حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ لم بوسہ لینا چھڑنا دیکھنا مس کرنا ہے اور جب شرمگاہیں مل گئیں تو غسل واجب ہوگیا اور زناکاری کا گناہ ثابت ہوگیا، حضرت ابن عباس سے اس جملہ کی تفسیر یہی مروی ہے یعنی جو پہلے گذر چکا، حضرت مجاہد فرماتے ہیں گناہ سے آلودگی ہو پھر چھوڑ دے تو لم میں داخل ہے، شاعر کہتا ہے ان تغفر اللھم تغفر جما، وای عبد لک ما الما اے اللہ جبکہ تو معاف فرماتا ہے تو سب کچھ ہی معاف فرما دے ورنہ یوں آلودہ عصیاں تو ہر انسان ہے۔ مجاہد فرماتے ہیں اہل جاہلیت اپنے طواف میں عموماً اس شعر کو پڑھا کرتے تھے۔ ابن جریر میں حضور ﷺ کا اس شعر کو پڑھنا بھی مروی ہے ترمذی میں بھی یہ مروی ہے اور امام ترمذی اسے حسن صحیح غریب کہتے ہیں، بزار فرماتے ہیں ہمیں اس کی اور سند معلوم نہیں صرف اسی سند سے مرفوعاً مروی ہے ابن ابی حاتم اور بغوی نے بھی اسے نقل کیا ہے بغوی نے اسے سورة تنزیل میں روایت کیا ہے لیکن اس مرفوع کی صحت میں نظر ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا مراد یہ ہے کہ زنا سے نزدیکی ہونے کے بعد توبہ کرے اور پھر نہ لوٹے چوری کے قریب ہوجانے کے بعد چوری نہ کی اور توبہ کرکے لوٹ آیا اسی طرح شراب پینے کے قریب ہو کر شراب نہ پی اور توبہ کر کے لوٹ گیا یہ سب المام ہیں جو ایک مومن کو معاف ہیں، حضرت حسن سے بھی یہی مروی ہے ایک روایت میں ہے صحابہ سے عمومًا اس کا مروی ہونا بیان کیا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں مراد اس سے شرک کے علاوہ گناہ ہیں۔ ابن زبیر فرماتے ہیں دو حدوں کے درمیان حد زنا اور عذاب آخرت ہے، حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ہر وہ چیز جو دو حدوں کے درمیان حد دنیا اور حد آخرت نمازیں اس کا کفارہ بن جاتی ہیں اور وہ ہر واجب کردینے والی سے کم ہے حد دنیا تو وہ ہے جو کسی گناہ پر اللہ نے دنیاوی سزا مقرر کردی ہے اور اس کی سزا دنیا میں مقرر نہیں کی۔ تیرے رب کی بخشش بہت وسیع ہے ہر چیز کو گھیر لیا ہے اور تمام گناہوں پر اس کا احاطہ ہے جیسے فرمان ہے آیت (قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ 53؀) 39۔ الزمر :53) اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنی جان پر اسراف کیا ہے اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے اور وہ بڑی بخشش والا اور بڑے رحم والا ہے پھر فرمایا وہ تمہیں دیکھنے والا اور تمہارے ہر حال کا علم رکھنے والا اور تمہارے ہر کلام کو سننے والا اور تمہارے تمام تر اعمال سے واقف ہے جبکہ اس نے تمہارے باپ آدم کو زمین سے پیدا کیا اور ان کی پیٹھ سے ان کی اولاد نکالی جو چیونٹیوں کی طرح پھیل گئی پھر ان کی تقسیم کر کے دو گروہ بنا دئیے ایک جنت کے لئے اور ایک جہنم کے لئے اور جب تم اپنی ماں کے پیٹ میں بچے تھے اس کی مقرر کردہ فرشتے نے روزی عمر عمل نیکی بدی لکھ لی بہت سے بچے پیٹ سے ہی گرجاتے ہیں۔ بہت سے دودھ پینے کی حالت میں فوت ہوجاتے ہیں، بہت سے دودھ چھٹنے کے بعد بلوغت سے پہلے ہی چل بستے ہیں بہت سے عین جوانی میں دار دنیا خالی کر جاتے ہیں، اب جبکہ ہم تمام منازل کو طے کرچکے اور بڑھاپے میں آگئے جس کے بعد کوئی منزل موت کے سوا نہیں اب بھی اگر ہم نہ سنبھلیں تو ہم سے بڑھ کر غافل کون ہے ؟ خبردار تم اپنے نفس کو پاک نہ کہو اپنے نیک اعمال کی تعریفیں کرنے نہ بیٹھ جاؤ اپنے آپ سراہنے نہ لگو جس کے دل میں رب کا ڈر ہے اسے رب ہی خوب جانتا ہے اور آیت میں ہے (اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يُزَكُّوْنَ اَنْفُسَھُمْ ۭ بَلِ اللّٰهُ يُزَكِّيْ مَنْ يَّشَاۗءُ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا 49؀) 4۔ النسآء :49) کیا تو نے ان لوگوں کو نہ دیکھا جو اپنے نفس کی پاکیزگی آپ بیان کرتے ہیں وہ نہیں جانتے کہ یہ اللہ کے ہاتھ ہے جسے وہ چاہے برتر اعلیٰ اور پاک صاف کر دے کسی پر کچھ بھی ظلم نہ ہوگا۔ محمد بن عمرو بن عطا فرماتے ہیں میں نے اپنی لڑکی کا نام برہ رکھا تو مجھ سے حضرت زینت بنت ابو سلمہ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اس نام سے منع فرمایا ہے خود میرا نام بھی برہ تھا جس پر آپ نے فرمایا تم خود اپنی برتری اور پاکی آپ نہ بیان کرو تم میں سے نیکی والوں کا علم پورے طور پر اللہ ہی کو ہے لوگوں نے کہا پھر ہم اس کا کیا نام رکھیں ؟ فرمایا زینب نام رکھو مسند احمد میں ہے حضور ﷺ کے سامنے کسی ایک شخص کی بہت تعریفیں بیان کیں آپ نے فرمایا افسوس تو نے اس کی گردن ماری کئی مرتبہ یہی فرما کر ارشاد فرمایا کہ اگر کسی کی تعریف ہی کرنی ہو تو یوں گمان فلاں کی طرف سے ایسا ہے حقیقی علم اللہ کو ہی ہے پھر اپنی معلومات بیان کرو خود کسی کی پاکیزگیاں بیان کرنے نہ بیٹھ جاؤ۔ ابو داؤد اور مسلم میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت عثمان کے سامنے ان کی تعریفیں بیان کرنا شروع کردیں اس پر حضرت مقداد بن اسود اس کے منہ میں مٹی بھرنے لگے اور فرمایا ہمیں رسول اللہ ﷺ کا حکم ہے کہ تعریفیں کرنے والوں کے منہ مٹی سے بھر دیں۔

وَأَعْطَىٰ قَلِيلًا وَأَكْدَىٰ

📘 منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے، حدیث میں ہے اے بلال خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ خود قرآن میں ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39؀) 34۔ سبأ :39) تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ وفی کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ01204) 2۔ البقرة :124) ، ابراہیم کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر ملا لئے یعنی ہر حکم کو بجا لائے ہر منع سے رکے رہے رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنادیا جیسے ارشاد ہوا ہے آیت (ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین) پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم کے لئے لفظ وفی اس لئے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17؀) 30۔ الروم :17) یہاں تک کہ حضور ﷺ نے آیت ختم کی۔ پھر صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۭ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 18؀) 35۔ فاطر :18) ، اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابتدار ہو ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لئے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ حضرت امام شافعی اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لئے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے نہ کسب یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ اس کا جواز بیان کیا نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی نہ انہیں اس پر آمادہ کیا نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے نہ کسی اشارے کنائیے سے ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لئے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے ؓ اجمعین۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اس پر اجماع ہے اور شارع ؑ کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے، اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا، صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت (اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ڳ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ 12ۧ) 36۔ يس :12) ، یعنی ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا (وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ01005ۚ) 9۔ التوبہ :105) ، یعنی کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔

أَعِنْدَهُ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرَىٰ

📘 منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے، حدیث میں ہے اے بلال خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ خود قرآن میں ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39؀) 34۔ سبأ :39) تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ وفی کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ01204) 2۔ البقرة :124) ، ابراہیم کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر ملا لئے یعنی ہر حکم کو بجا لائے ہر منع سے رکے رہے رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنادیا جیسے ارشاد ہوا ہے آیت (ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین) پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم کے لئے لفظ وفی اس لئے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17؀) 30۔ الروم :17) یہاں تک کہ حضور ﷺ نے آیت ختم کی۔ پھر صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۭ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 18؀) 35۔ فاطر :18) ، اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابتدار ہو ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لئے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ حضرت امام شافعی اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لئے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے نہ کسب یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ اس کا جواز بیان کیا نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی نہ انہیں اس پر آمادہ کیا نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے نہ کسی اشارے کنائیے سے ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لئے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے ؓ اجمعین۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اس پر اجماع ہے اور شارع ؑ کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے، اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا، صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت (اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ڳ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ 12ۧ) 36۔ يس :12) ، یعنی ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا (وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ01005ۚ) 9۔ التوبہ :105) ، یعنی کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔

أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَىٰ

📘 منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے، حدیث میں ہے اے بلال خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ خود قرآن میں ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39؀) 34۔ سبأ :39) تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ وفی کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ01204) 2۔ البقرة :124) ، ابراہیم کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر ملا لئے یعنی ہر حکم کو بجا لائے ہر منع سے رکے رہے رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنادیا جیسے ارشاد ہوا ہے آیت (ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین) پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم کے لئے لفظ وفی اس لئے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17؀) 30۔ الروم :17) یہاں تک کہ حضور ﷺ نے آیت ختم کی۔ پھر صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۭ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 18؀) 35۔ فاطر :18) ، اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابتدار ہو ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لئے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ حضرت امام شافعی اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لئے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے نہ کسب یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ اس کا جواز بیان کیا نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی نہ انہیں اس پر آمادہ کیا نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے نہ کسی اشارے کنائیے سے ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لئے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے ؓ اجمعین۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اس پر اجماع ہے اور شارع ؑ کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے، اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا، صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت (اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ڳ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ 12ۧ) 36۔ يس :12) ، یعنی ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا (وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ01005ۚ) 9۔ التوبہ :105) ، یعنی کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔

وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ

📘 منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے، حدیث میں ہے اے بلال خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ خود قرآن میں ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39؀) 34۔ سبأ :39) تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ وفی کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ01204) 2۔ البقرة :124) ، ابراہیم کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر ملا لئے یعنی ہر حکم کو بجا لائے ہر منع سے رکے رہے رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنادیا جیسے ارشاد ہوا ہے آیت (ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین) پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم کے لئے لفظ وفی اس لئے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17؀) 30۔ الروم :17) یہاں تک کہ حضور ﷺ نے آیت ختم کی۔ پھر صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۭ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 18؀) 35۔ فاطر :18) ، اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابتدار ہو ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لئے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ حضرت امام شافعی اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لئے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے نہ کسب یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ اس کا جواز بیان کیا نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی نہ انہیں اس پر آمادہ کیا نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے نہ کسی اشارے کنائیے سے ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لئے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے ؓ اجمعین۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اس پر اجماع ہے اور شارع ؑ کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے، اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا، صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت (اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ڳ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ 12ۧ) 36۔ يس :12) ، یعنی ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا (وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ01005ۚ) 9۔ التوبہ :105) ، یعنی کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔

أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ

📘 منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے، حدیث میں ہے اے بلال خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ خود قرآن میں ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39؀) 34۔ سبأ :39) تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ وفی کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ01204) 2۔ البقرة :124) ، ابراہیم کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر ملا لئے یعنی ہر حکم کو بجا لائے ہر منع سے رکے رہے رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنادیا جیسے ارشاد ہوا ہے آیت (ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین) پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم کے لئے لفظ وفی اس لئے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17؀) 30۔ الروم :17) یہاں تک کہ حضور ﷺ نے آیت ختم کی۔ پھر صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۭ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 18؀) 35۔ فاطر :18) ، اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابتدار ہو ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لئے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ حضرت امام شافعی اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لئے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے نہ کسب یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ اس کا جواز بیان کیا نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی نہ انہیں اس پر آمادہ کیا نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے نہ کسی اشارے کنائیے سے ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لئے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے ؓ اجمعین۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اس پر اجماع ہے اور شارع ؑ کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے، اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا، صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت (اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ڳ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ 12ۧ) 36۔ يس :12) ، یعنی ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا (وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ01005ۚ) 9۔ التوبہ :105) ، یعنی کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔

وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ

📘 منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے، حدیث میں ہے اے بلال خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ خود قرآن میں ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39؀) 34۔ سبأ :39) تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ وفی کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ01204) 2۔ البقرة :124) ، ابراہیم کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر ملا لئے یعنی ہر حکم کو بجا لائے ہر منع سے رکے رہے رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنادیا جیسے ارشاد ہوا ہے آیت (ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین) پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم کے لئے لفظ وفی اس لئے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17؀) 30۔ الروم :17) یہاں تک کہ حضور ﷺ نے آیت ختم کی۔ پھر صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۭ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 18؀) 35۔ فاطر :18) ، اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابتدار ہو ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لئے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ حضرت امام شافعی اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لئے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے نہ کسب یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ اس کا جواز بیان کیا نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی نہ انہیں اس پر آمادہ کیا نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے نہ کسی اشارے کنائیے سے ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لئے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے ؓ اجمعین۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اس پر اجماع ہے اور شارع ؑ کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے، اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا، صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت (اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ڳ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ 12ۧ) 36۔ يس :12) ، یعنی ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا (وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ01005ۚ) 9۔ التوبہ :105) ، یعنی کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔

إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ

📘 حضرت شعبی فرماتے ہیں خالق تو اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم کھالے لیکن مخلوق سوائے اپنے خالق کے کسی اور کی قسم نہیں کھا سکتی (ابن ابی حاتم) ستارے کے جھکنے سے مراد فجر کے وقت ثریا کے ستارے کا غائب ہونا ہے۔ بعض کہتے ہیں مراد زہرہ نامی ستارہ ہے۔ حضرت ضحاک فرماتے ہیں مراد اس کا جھڑ کر شیطان کی طرف لپکنا ہے اس قول کی اچھی توجیہ ہوسکتی ہے مجاہد فرماتے ہیں اس جملے کی تفسیر یہ ہے کہ قسم ہے قرآن کی جب وہ اترے۔ اس آیت جیسی ہی آیت (فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ 75 ۙ) 56۔ الواقعة :75) ہے۔ پھر جس بات پر قسم کھا رہا ہے اس کا بیان ہے کہ آنحضرت ﷺ نیکی اور رشد و ہدایت اور تابع حق ہیں وہ بےعلمی کے ساتھ کسی غلط راہ لگے ہوئے یا باوجود علم کے ٹیڑھا راستہ اختیار کئے ہوئے نہیں ہیں۔ آپ گمراہ نصرانیوں اور جان بوجھ کر خلاف حق کرنے والے یہودیوں کی طرح نہیں۔ آپ کا علم کامل آپ کا عمل مطابق علم آپکا راستہ سیدھا آپ عظیم الشان شریعت کے شارع، آپ اعتدال والی راہ حق پر قائم۔ آپ کا کوئی قول کوئی فرمان اپنے نفس کی خواہش اور ذاتی غرض سے نہیں ہوتا بلکہ جس چیز کی تبلیغ کا آپکو حکم الہٰی ہوتا ہے آپ اسے ہی زبان سے نکالتے ہیں جو وہاں سے کہا جائے وہی آپ کی زبان سے ادا ہوتا ہے کمی بیشی زیادتی نقصان سے آپ کا کلام پاک ہوتا ہے، مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک شخص کی شفاعت سے جو نبی نہیں ہیں مثل دو قبیلوں کے یا دو میں سے ایک قبیلے کی گنتی کے برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ قبیلہ ربیعہ اور قبیلہ مضر اس پر ایک شخص نے کہا کیا ربیعہ مضر میں سے نہیں ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں تو وہی کہتا ہوں جو کہتا ہوں۔ مسند کی اور حدیث میں ہے حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں میں حضور ﷺ سے جو کچھ سنتا تھا اسے حفظ کرنے کے لئے لکھ لیا کرتا تھا پس بعض قریشیوں نے مجھے اس سے روکا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ ایک انسان ہیں کبھی کبھی غصے اور غضب میں بھی کچھ فرما دیا کرتے ہیں چناچہ میں لکھنے سے رک گیا پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا لکھ لیا کرو اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری زبان سے سوائے حق بات کے اور کوئی کلمہ نہیں نکلتا یہ حدیث ابو داؤد اور ابن ابی شیبہ میں بھی ہے بزار میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تمہیں جس امر کی خبر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا مسند احمد میں ہے کہ آپ نے فرمایا میں سوائے حق کے اور کچھ نہیں کہتا۔ اس پر بعض صحابہ نے کہا حضور ﷺ کبھی کبھی ہم سے خوش طبعی بھی کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اس وقت بھی میری زبان سے ناحق نہیں نکلتا۔

وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَىٰ

📘 منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے، حدیث میں ہے اے بلال خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ خود قرآن میں ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39؀) 34۔ سبأ :39) تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ وفی کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ01204) 2۔ البقرة :124) ، ابراہیم کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر ملا لئے یعنی ہر حکم کو بجا لائے ہر منع سے رکے رہے رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنادیا جیسے ارشاد ہوا ہے آیت (ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین) پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم کے لئے لفظ وفی اس لئے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17؀) 30۔ الروم :17) یہاں تک کہ حضور ﷺ نے آیت ختم کی۔ پھر صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۭ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 18؀) 35۔ فاطر :18) ، اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابتدار ہو ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لئے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ حضرت امام شافعی اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لئے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے نہ کسب یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ اس کا جواز بیان کیا نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی نہ انہیں اس پر آمادہ کیا نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے نہ کسی اشارے کنائیے سے ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لئے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے ؓ اجمعین۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اس پر اجماع ہے اور شارع ؑ کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے، اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا، صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت (اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ڳ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ 12ۧ) 36۔ يس :12) ، یعنی ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا (وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ01005ۚ) 9۔ التوبہ :105) ، یعنی کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔

ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَىٰ

📘 منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے، حدیث میں ہے اے بلال خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ خود قرآن میں ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39؀) 34۔ سبأ :39) تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ وفی کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ01204) 2۔ البقرة :124) ، ابراہیم کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر ملا لئے یعنی ہر حکم کو بجا لائے ہر منع سے رکے رہے رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنادیا جیسے ارشاد ہوا ہے آیت (ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین) پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم کے لئے لفظ وفی اس لئے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17؀) 30۔ الروم :17) یہاں تک کہ حضور ﷺ نے آیت ختم کی۔ پھر صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۭ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 18؀) 35۔ فاطر :18) ، اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابتدار ہو ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لئے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ حضرت امام شافعی اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لئے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے نہ کسب یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ اس کا جواز بیان کیا نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی نہ انہیں اس پر آمادہ کیا نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے نہ کسی اشارے کنائیے سے ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لئے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے ؓ اجمعین۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اس پر اجماع ہے اور شارع ؑ کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے، اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا، صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت (اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ڳ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ 12ۧ) 36۔ يس :12) ، یعنی ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا (وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ01005ۚ) 9۔ التوبہ :105) ، یعنی کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔

وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ الْمُنْتَهَىٰ

📘 منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے، حدیث میں ہے اے بلال خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ خود قرآن میں ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39؀) 34۔ سبأ :39) تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ وفی کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ01204) 2۔ البقرة :124) ، ابراہیم کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر ملا لئے یعنی ہر حکم کو بجا لائے ہر منع سے رکے رہے رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنادیا جیسے ارشاد ہوا ہے آیت (ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین) پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم کے لئے لفظ وفی اس لئے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17؀) 30۔ الروم :17) یہاں تک کہ حضور ﷺ نے آیت ختم کی۔ پھر صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۭ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 18؀) 35۔ فاطر :18) ، اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابتدار ہو ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لئے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ حضرت امام شافعی اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لئے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے نہ کسب یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ اس کا جواز بیان کیا نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی نہ انہیں اس پر آمادہ کیا نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے نہ کسی اشارے کنائیے سے ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لئے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے ؓ اجمعین۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اس پر اجماع ہے اور شارع ؑ کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے، اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا، صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت (اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ڳ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ 12ۧ) 36۔ يس :12) ، یعنی ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا (وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ01005ۚ) 9۔ التوبہ :105) ، یعنی کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔

وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَىٰ

📘 منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے، حدیث میں ہے اے بلال خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ خود قرآن میں ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39؀) 34۔ سبأ :39) تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ وفی کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ01204) 2۔ البقرة :124) ، ابراہیم کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر ملا لئے یعنی ہر حکم کو بجا لائے ہر منع سے رکے رہے رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنادیا جیسے ارشاد ہوا ہے آیت (ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین) پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم کے لئے لفظ وفی اس لئے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17؀) 30۔ الروم :17) یہاں تک کہ حضور ﷺ نے آیت ختم کی۔ پھر صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۭ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 18؀) 35۔ فاطر :18) ، اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابتدار ہو ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لئے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ حضرت امام شافعی اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لئے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے نہ کسب یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ اس کا جواز بیان کیا نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی نہ انہیں اس پر آمادہ کیا نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے نہ کسی اشارے کنائیے سے ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لئے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے ؓ اجمعین۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اس پر اجماع ہے اور شارع ؑ کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے، اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا، صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت (اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ڳ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ 12ۧ) 36۔ يس :12) ، یعنی ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا (وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ01005ۚ) 9۔ التوبہ :105) ، یعنی کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔

وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا

📘 منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے، حدیث میں ہے اے بلال خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ خود قرآن میں ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39؀) 34۔ سبأ :39) تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ وفی کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ01204) 2۔ البقرة :124) ، ابراہیم کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر ملا لئے یعنی ہر حکم کو بجا لائے ہر منع سے رکے رہے رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنادیا جیسے ارشاد ہوا ہے آیت (ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین) پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم کے لئے لفظ وفی اس لئے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17؀) 30۔ الروم :17) یہاں تک کہ حضور ﷺ نے آیت ختم کی۔ پھر صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۭ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 18؀) 35۔ فاطر :18) ، اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابتدار ہو ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لئے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ حضرت امام شافعی اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لئے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے نہ کسب یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ اس کا جواز بیان کیا نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی نہ انہیں اس پر آمادہ کیا نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے نہ کسی اشارے کنائیے سے ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لئے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے ؓ اجمعین۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اس پر اجماع ہے اور شارع ؑ کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے، اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا، صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت (اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ڳ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ 12ۧ) 36۔ يس :12) ، یعنی ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا (وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ01005ۚ) 9۔ التوبہ :105) ، یعنی کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔

وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَىٰ

📘 منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے، حدیث میں ہے اے بلال خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ خود قرآن میں ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39؀) 34۔ سبأ :39) تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ وفی کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ01204) 2۔ البقرة :124) ، ابراہیم کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر ملا لئے یعنی ہر حکم کو بجا لائے ہر منع سے رکے رہے رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنادیا جیسے ارشاد ہوا ہے آیت (ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین) پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم کے لئے لفظ وفی اس لئے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17؀) 30۔ الروم :17) یہاں تک کہ حضور ﷺ نے آیت ختم کی۔ پھر صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۭ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 18؀) 35۔ فاطر :18) ، اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابتدار ہو ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لئے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ حضرت امام شافعی اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لئے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے نہ کسب یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ اس کا جواز بیان کیا نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی نہ انہیں اس پر آمادہ کیا نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے نہ کسی اشارے کنائیے سے ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لئے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے ؓ اجمعین۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اس پر اجماع ہے اور شارع ؑ کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے، اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا، صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت (اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ڳ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ 12ۧ) 36۔ يس :12) ، یعنی ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا (وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ01005ۚ) 9۔ التوبہ :105) ، یعنی کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔

مِنْ نُطْفَةٍ إِذَا تُمْنَىٰ

📘 منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے، حدیث میں ہے اے بلال خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ خود قرآن میں ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39؀) 34۔ سبأ :39) تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ وفی کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ01204) 2۔ البقرة :124) ، ابراہیم کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر ملا لئے یعنی ہر حکم کو بجا لائے ہر منع سے رکے رہے رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنادیا جیسے ارشاد ہوا ہے آیت (ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین) پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم کے لئے لفظ وفی اس لئے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17؀) 30۔ الروم :17) یہاں تک کہ حضور ﷺ نے آیت ختم کی۔ پھر صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۭ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 18؀) 35۔ فاطر :18) ، اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابتدار ہو ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لئے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ حضرت امام شافعی اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لئے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے نہ کسب یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ اس کا جواز بیان کیا نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی نہ انہیں اس پر آمادہ کیا نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے نہ کسی اشارے کنائیے سے ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لئے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے ؓ اجمعین۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اس پر اجماع ہے اور شارع ؑ کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے، اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا، صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت (اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ڳ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ 12ۧ) 36۔ يس :12) ، یعنی ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا (وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ01005ۚ) 9۔ التوبہ :105) ، یعنی کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔

وَأَنَّ عَلَيْهِ النَّشْأَةَ الْأُخْرَىٰ

📘 منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے، حدیث میں ہے اے بلال خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ خود قرآن میں ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39؀) 34۔ سبأ :39) تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ وفی کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ01204) 2۔ البقرة :124) ، ابراہیم کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر ملا لئے یعنی ہر حکم کو بجا لائے ہر منع سے رکے رہے رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنادیا جیسے ارشاد ہوا ہے آیت (ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین) پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم کے لئے لفظ وفی اس لئے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17؀) 30۔ الروم :17) یہاں تک کہ حضور ﷺ نے آیت ختم کی۔ پھر صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۭ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 18؀) 35۔ فاطر :18) ، اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابتدار ہو ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لئے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ حضرت امام شافعی اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لئے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے نہ کسب یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ اس کا جواز بیان کیا نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی نہ انہیں اس پر آمادہ کیا نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے نہ کسی اشارے کنائیے سے ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لئے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے ؓ اجمعین۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اس پر اجماع ہے اور شارع ؑ کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے، اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا، صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت (اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ڳ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ 12ۧ) 36۔ يس :12) ، یعنی ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا (وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ01005ۚ) 9۔ التوبہ :105) ، یعنی کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔

وَأَنَّهُ هُوَ أَغْنَىٰ وَأَقْنَىٰ

📘 منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے، حدیث میں ہے اے بلال خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ خود قرآن میں ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39؀) 34۔ سبأ :39) تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ وفی کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ01204) 2۔ البقرة :124) ، ابراہیم کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر ملا لئے یعنی ہر حکم کو بجا لائے ہر منع سے رکے رہے رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنادیا جیسے ارشاد ہوا ہے آیت (ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین) پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم کے لئے لفظ وفی اس لئے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17؀) 30۔ الروم :17) یہاں تک کہ حضور ﷺ نے آیت ختم کی۔ پھر صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۭ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 18؀) 35۔ فاطر :18) ، اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابتدار ہو ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لئے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ حضرت امام شافعی اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لئے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے نہ کسب یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ اس کا جواز بیان کیا نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی نہ انہیں اس پر آمادہ کیا نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے نہ کسی اشارے کنائیے سے ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لئے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے ؓ اجمعین۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اس پر اجماع ہے اور شارع ؑ کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے، اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا، صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت (اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ڳ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ 12ۧ) 36۔ يس :12) ، یعنی ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا (وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ01005ۚ) 9۔ التوبہ :105) ، یعنی کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔

وَأَنَّهُ هُوَ رَبُّ الشِّعْرَىٰ

📘 سب کی آخری منزل اللہ تعالیٰ ادراک سے بلند ہے فرمان ہے کہ بازگشت آخر اللہ کی طرف ہے۔ قیامت کے دن سب کو لوٹ کر اسی کے سامنے پیش ہونا ہے حضرت معاذ نے قبیلہ بنی اود میں خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا اے بنی اود میں اللہ کا پیغمبر کا قاصد بن کر تمہاری طرف آیا ہوں تم یقین کرو کہ تمہارا سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے پھر یا تو جنت میں پہنچائے جاؤ یا جہنم میں دھکیلے جاؤ بغوی میں ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات میں فکر کرنا جائز نہیں، جیسے اور حدیث میں ہے مخلوق پر غور بھری نظریں ڈالو لیکن ذات خالق میں گہرے نہ اترو۔ اسے عقل و ادراک فکر و ذہن نہیں پاسکتا، گو ان لفظوں سے یہ حدیث محفوظ نہیں مگر صحیح حدیث میں یہ بھی مضمون موجود ہے اس میں ہے کہ شیطان کسی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے اسے کس نے پیدا کیا ؟ پھر اسے کس نے پیدا کیا ؟ یہاں تک کہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ؟ جب تم میں سے کسی کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا تو اعوذ پڑھ لے اور اس خیال کو دل سے دور کر دے، سنن کی ایک حدیث میں ہے مخلوقات اللہ میں غور و فکر کرو لیکن ذات اللہ میں غور و فکر نہ کرو سنو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ پیدا کیا ہے جس کے کان کی لو سے لے کر مونڈھے تک تین سو سال کا راستہ ہے او کما قال پھر فرماتا ہے کہ بندوں میں ہنسنے رونے کا مادہ اور ان کے اسباب بھی اسی نے پیدا کئے ہیں جو بالکل مختلف ہیں وہی موت وحیات کا خالق ہے جیسے فرمایا آیت (الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭوَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ ۙ) 67۔ الملک :2) اس نے موت وحیات کو پیدا کیا اسی نے نطفہ سے ہر جاندار کو جوڑ جوڑ بنایا، جیسے اور جگہ فرمان ہے آیت (اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى 36؀ۭ) 75۔ القیامة :36) ، کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ بیکار چھوڑ دیا جائے گا ؟ کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے ؟ پھر کیا وہ بستہ خون نہ تھا ؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست کیا اور اس سے جوڑے یعنی نرو مادہ بنائے کیا (ایسی قدرتوں والا) اللہ اس بات پر قادر نہیں ؟ کہ مردوں کو زندہ کر دے۔ پھر فرماتا ہے اسی پر دوبارہ زندہ کرنا یعنی جیسے اس نے ابتداء پیدا کیا اسی طرح مار ڈالنے کے بعد دوبارہ کی پیدائش بھی اسی کے ذمہ ہے اسی نے اپنے بندوں کو غنی بنادیا اور مال ان کے قبضہ میں دے دیا ہے جو ان کے پاس ہی بطور پونجی کے رہتا ہے اکثر مفسرین کے کلام کا خلاصہ اس مقام پر یہی ہے گو بعض سے مروی ہے کہ اس نے مال دیا اور غلام دئیے اس نے دیا اور خوش ہوا اسے غنی بنا کر اور مخلوق کو اس کا دست نگر بنادیا جسے چاہا غنی کیا جسے چاہا فقیر لیکن یہ پچھلے دونوں قول لفظ سے کچھ زیادہ مطابقت نہیں رکھتے۔ شعری اس روشن ستارے کا نام ہے جسے مرزم الجوزاء بھی کہتے ہیں بعض عرب اس کی پرستش کرتے تھے، عاد و اولیٰ یعنی قوم ہود کو جسے عاد بن ارم بن سام بن نوح بھی کہا جاتا ہے اسی نے ان کی نافرمانی کی بنا پر تباہ کردیا جیسے فرمایا آیت (اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ ۽) 89۔ الفجر :6) ، یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا ؟ یعنی ارم کے ساتھ جو بڑے قدآور تھے جن کا مثل شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا تھا یہ قوم بڑی قوی اور زورآور تھی ساتھ ہی اللہ کی بڑی نافرمان اور رسول سے بڑی سرتاب تھی ان پر ہوا کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن برابر رہا اسی طرح ثمودیوں کو بھی اس نے ہلاک کردیا جس میں سے ایک بھی باقی نہ بچا اور ان سے پہلے قوم نوح تباہ ہوچکی ہے جو بڑے ناانصاف اور شریر تھے اور لوط کی بستیاں جنہیں رحمن وقہار نے زیر و زبر کردیا اور آسمانی پتھروں سے سب بدکاروں کا ہلاک کردیا انہیں ایک چیز نے ڈھانپ لیا یعنی (پتھروں نے) جن کا مینہ ان پر برسا اور برے حالوں تباہ ہوئے۔ ان بستیوں میں چار لاکھ آدمی آباد تھے آبادی کی کل زمین کی آگ اور گندھک اور تیل بن کر ان پر بھڑک اٹھی حضرت قتادہ کا یہی قول ہے جو بہت غریب سند سے ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ پھر فرمایا پھر تو اے انسان اپنے رب کی کس کس نعمت پر جھگڑے گا ؟ بعض کہتے ہیں خطاب نبی ﷺ سے ہے لیکن خطاب کو عام رکھنا بہت اولیٰ ہے ابن جریر بھی عام رکھنے کو ہی پسند فرماتے ہیں۔

عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ

📘 تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40؀ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ کو لے کر حضرت جبرائیل اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) کا امام ابن جریر نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل اور آنحضرت ﷺ دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے امام ابن جریر کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہوسکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لئے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے آپ کی طرف جبرائیل اترے تھے اور قریب ہوگئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اسکے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہی کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔ یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) کی چند آیتیں آپ پر نازل ہوچکی تھیں پھر وحی بند ہوگئی تھی جس کا حضور ﷺ کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے حضرت جبرائیل کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد ﷺ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ کا غم غلط ہوجاتا دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہوجاتا واپس چلے آتے۔ لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامنگیر ہوتا اور وحی الہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح حضرت جبرائیل تسکین و تسلی کردیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں حضرت جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوگئے چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لئے تھے اب آپ سے قریب آگئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ کو پہنچائی اس وقت حضور ﷺ کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔ مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر کے قول کی تائید میں پیش ہوسکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں، امام احمد فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابو حاتم رازی کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جاسکتی ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو اس میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں ایک میں تو حضرت جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا میں نے دیکھا کہ حضرت جبرائیل اس وقت ہیبت الہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے جبرائیل ﷺ سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں حضرت جبرائیل نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے آپ نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ بیہوش ہوگئے جبرائیل فوراً آئے اور آپ کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو لہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد ﷺ کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چناچہ یہ آیا اور کہا اے محمد جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آگیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بےادب تھا اور بار بار گستاخی سے پیش آتا تھا) حضور ﷺ کی زبان سے اس کے لئے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے، یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہوگیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سرزمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا راہب نے ان سے کہا یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آگئے ؟ ابو لہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لئے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو لوگوں نے اسے منظور کرلیا یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابو لہب کہنے لگا اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد ﷺ کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ پھر فرماتا ہے کہ حضرت جبرائیل آنحضرت ﷺ سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ حضور ﷺ کے اور حضرت جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہوگئی یہاں لفظ (او) جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لئے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لئے جیسے اور جگہ ہے پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74؀) 2۔ البقرة :74) بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت یعنی پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں ایک اور فرمان ہے وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77؀) 4۔ النسآء :77) بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور جگہ ہے ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردد کے لئے نہیں خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہوسکتا۔ یہ قریب آنے والے حضرت جبرائیل تھے جیسے ام المومنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) میں ہے۔ حضرت انس والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لئے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہوجائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہوگی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جاسکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا ہے پس یہ سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں نبی ﷺ کی ابتداء نبوت کے وقت آپ نے خواب میں حضرت جبرائیل کو دیکھا پھر آپ اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لئے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہرچند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ نے اوپر کی طرف دیکھا تو دیکھا کہ حضرت جبرائیل اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ حضور دہشت زدہ ہوجائیں کہ فرشتے نے کہا میں جبرائیل ہوں میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں لیکن حضور ﷺ سے ضبط نہ ہوسکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر حضرت جبرائیل اسی طرح نظر آئے آپ پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آگئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل پر دو ریشمی حلے تھے پھر فرمایا اس نے وحی کی اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ حضرت جبرائیل نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت (اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى ۠) 93۔ الضحی :6) اور آیت (وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ۭ) 94۔ الشرح :4) تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی۔ کہ نبیوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ آپ اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہوجائے، ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے حضرت ابن مسعود نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ نے اپنے دل سے دیکھا جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے اس لئے کہ صحابہ سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں، امام بغوی فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جیسے حضرت انس، حضرت حسن اور حضرت عکرمہ ان کے اس قول میں نظر ہے واللہ اعلم۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں میں نے یہ سن کر کہا پھر یہ آیت کہاں جائے گا جس میں فرمان ہے آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) اسے کوئی نگاہ نہیں پاسکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ یہ حدیث غریب ہے ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ ابن عباس کی ملاقات حضرت کعب سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گذرا ابن عباس نے فرمایا ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو حضرت کعب نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ کے درمیان تقسیم کردیا حضرت موسیٰ سے دو مرتبہ باتیں کیں اور آنحضرت کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ حضرت مسروق حضرت عائشہ کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میں نے کہا مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ نے فرمایا کہاں جا رہے ہو ؟ سنو اس سے مراد حضرت جبرائیل کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد نے اپنے رب کو دیکھا یا حضور ﷺ نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپالیا یا آپ ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہوگی ؟ بارش کب اور کتنی برسے گی ؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ ؟ کون کل کیا کرے گا ؟ کون کہاں مرے گا ؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا بات یہ ہے کہ آپ نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین کو دیکھا تھا آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہی کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت حضرت ابراہیم کے لئے تھی اور کلام حضرت موسیٰ کے لئے اور دیدار حضرت محمد ﷺ کے لئے صحیح مسلم میں حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا وہ سراسر نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ؟ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ کے اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ؀) 53۔ النجم :11) پڑھی۔ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) پڑھی حضرت عکرمہ سے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ؀) 53۔ النجم :11) کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ہاں آپ نے دیکھا اور پھر دیکھا سائل نے پھر حضرت حسن سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ حضور ﷺ سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا یہ حدیث بھی بہت غریب ہے ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے چناچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا اے محمد ﷺ جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہوگئی پھر مجھ سے وہی سوال کیا میں نے کہا اب مجھے معلوم ہوگیا وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا اچھا پھر تم بھی بتاؤ کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں مسجدوں میں رکے رہنا جماعت کے لئے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گذرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گذارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہوگا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہوجائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا اے محمد ﷺ جب نماز پڑھو یہ کہو (اللھم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین واذا اردت بعبادک فتنۃ ان تقبضنی الیک غیر مفتون) یعنی یا اللہ میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں کھانا کھلانا سلام پھیلانا لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا اسی کی مثل روایت سورة ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گذر چکی ہے ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لئے پیدل چلنے کے قدم ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار میں نے کہا یا اللہ تو نے حضرت ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا اور حضرت موسیٰ کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا ؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے ؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کردیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ اس کی اسناد ضعیف ہے اوپر عتبہ بن ابو لہب کا یہ کہنا کہ میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا اور پھر حضور ﷺ کا اس کے لئے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہوچکا ہے یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہوگا۔ پھر آنحضرت ﷺ کا حضرت جبرائیل کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورة سبحٰن کی شروع آیت کی تفسیر میں گذر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں یہ بھی بیان گذر چکا ہے کہ حضرت ابن عباس معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دورے بھی اس کے خلاف ہیں حضور ﷺ کا جبرائیل کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گذر چکی ہیں حضرت عائشہ سے حضرت مسروق کا پوچھنا اور آپ کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ صدیقہ اپنے اس جواب کے بعد آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) ، کی تلاوت کی اور آیت (مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ للنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ 79؀ۙ) 3۔ آل عمران :79) کی بھی تلاوت فرمائی یعنی کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ آنحضرت ﷺ کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا پھر آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ 34؀) 31۔ لقمان :34) آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ حضور ﷺ نے اللہ کی کسی بات کو چھپالیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت (یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) پڑھی یعنی اے رسول ﷺ جو تمہاری جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ہاں آپ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسروق نے حضرت عائشہ کے سامنے سورة نجم کی آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) اور (وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى 13 ۙ) 53۔ النجم :13) پڑھیں اس کے جواب میں ام المومنین حضرت عائشہ نے فرمایا اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی ﷺ سے میں نے سوال کیا تھا آپ نے فرمایا اس سے مراد میرا حضرت جبرائیل کو دیکھنا ہے آپ نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن شفیق نے حضرت ابوذر سے کہا کہ اگر میں حضور ﷺ کو دیکھتا تو آپ سے ایک بات ضرور پوچھتا حضرت ابوذر نے کہا کیا پوچھتے ؟ کہا یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے ؟ حضرت ابوذر نے فرمایا یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب سے کیا تھا آپ نے جواب دیا کہ میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا، صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ حضرت امام احمد فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں ابن ابی حاتم میں حضرت ابوذر سے منقول ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق اور حضرت ابوذر کے درمیان انقطاع ہے اور امام ابن جوزی فرماتے ہیں ممکن ہے حضرت ابوذر کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور حضور ﷺ نے اس وقت یہ جواب دیا ہو اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لئے کہ حضرت عائشہ کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چناچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے واللہ اعلم، حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں حضرت جبرائیل کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہی پر اس وقت فرشتے بہ کثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں معراج والی رات آنحضرت ﷺ سدرۃ المنتہی تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، حضور ﷺ کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورة بقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش (مسلم) ابوہریرہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہی پر فرشتے چھا رہے تھے وہاں جب حضور ﷺ پہنچے تو آپ سے کہا گیا کہ جو مانگنا ہو مانگو۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید یاقوت اور زبرجد کی تھیں آنحضرت ﷺ نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ ابن زید فرماتے ہیں حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا ؟ آپ نے فرمایا اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔ آپ کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے اسی کو ایک نظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے آیت (لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى 23؀ۚ) 20۔ طه :23) اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ حضور ﷺ نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا ابن مسعود کا قول گذر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل کو آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہی کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔

وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَادًا الْأُولَىٰ

📘 سب کی آخری منزل اللہ تعالیٰ ادراک سے بلند ہے فرمان ہے کہ بازگشت آخر اللہ کی طرف ہے۔ قیامت کے دن سب کو لوٹ کر اسی کے سامنے پیش ہونا ہے حضرت معاذ نے قبیلہ بنی اود میں خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا اے بنی اود میں اللہ کا پیغمبر کا قاصد بن کر تمہاری طرف آیا ہوں تم یقین کرو کہ تمہارا سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے پھر یا تو جنت میں پہنچائے جاؤ یا جہنم میں دھکیلے جاؤ بغوی میں ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات میں فکر کرنا جائز نہیں، جیسے اور حدیث میں ہے مخلوق پر غور بھری نظریں ڈالو لیکن ذات خالق میں گہرے نہ اترو۔ اسے عقل و ادراک فکر و ذہن نہیں پاسکتا، گو ان لفظوں سے یہ حدیث محفوظ نہیں مگر صحیح حدیث میں یہ بھی مضمون موجود ہے اس میں ہے کہ شیطان کسی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے اسے کس نے پیدا کیا ؟ پھر اسے کس نے پیدا کیا ؟ یہاں تک کہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ؟ جب تم میں سے کسی کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا تو اعوذ پڑھ لے اور اس خیال کو دل سے دور کر دے، سنن کی ایک حدیث میں ہے مخلوقات اللہ میں غور و فکر کرو لیکن ذات اللہ میں غور و فکر نہ کرو سنو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ پیدا کیا ہے جس کے کان کی لو سے لے کر مونڈھے تک تین سو سال کا راستہ ہے او کما قال پھر فرماتا ہے کہ بندوں میں ہنسنے رونے کا مادہ اور ان کے اسباب بھی اسی نے پیدا کئے ہیں جو بالکل مختلف ہیں وہی موت وحیات کا خالق ہے جیسے فرمایا آیت (الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭوَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ ۙ) 67۔ الملک :2) اس نے موت وحیات کو پیدا کیا اسی نے نطفہ سے ہر جاندار کو جوڑ جوڑ بنایا، جیسے اور جگہ فرمان ہے آیت (اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى 36؀ۭ) 75۔ القیامة :36) ، کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ بیکار چھوڑ دیا جائے گا ؟ کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے ؟ پھر کیا وہ بستہ خون نہ تھا ؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست کیا اور اس سے جوڑے یعنی نرو مادہ بنائے کیا (ایسی قدرتوں والا) اللہ اس بات پر قادر نہیں ؟ کہ مردوں کو زندہ کر دے۔ پھر فرماتا ہے اسی پر دوبارہ زندہ کرنا یعنی جیسے اس نے ابتداء پیدا کیا اسی طرح مار ڈالنے کے بعد دوبارہ کی پیدائش بھی اسی کے ذمہ ہے اسی نے اپنے بندوں کو غنی بنادیا اور مال ان کے قبضہ میں دے دیا ہے جو ان کے پاس ہی بطور پونجی کے رہتا ہے اکثر مفسرین کے کلام کا خلاصہ اس مقام پر یہی ہے گو بعض سے مروی ہے کہ اس نے مال دیا اور غلام دئیے اس نے دیا اور خوش ہوا اسے غنی بنا کر اور مخلوق کو اس کا دست نگر بنادیا جسے چاہا غنی کیا جسے چاہا فقیر لیکن یہ پچھلے دونوں قول لفظ سے کچھ زیادہ مطابقت نہیں رکھتے۔ شعری اس روشن ستارے کا نام ہے جسے مرزم الجوزاء بھی کہتے ہیں بعض عرب اس کی پرستش کرتے تھے، عاد و اولیٰ یعنی قوم ہود کو جسے عاد بن ارم بن سام بن نوح بھی کہا جاتا ہے اسی نے ان کی نافرمانی کی بنا پر تباہ کردیا جیسے فرمایا آیت (اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ ۽) 89۔ الفجر :6) ، یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا ؟ یعنی ارم کے ساتھ جو بڑے قدآور تھے جن کا مثل شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا تھا یہ قوم بڑی قوی اور زورآور تھی ساتھ ہی اللہ کی بڑی نافرمان اور رسول سے بڑی سرتاب تھی ان پر ہوا کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن برابر رہا اسی طرح ثمودیوں کو بھی اس نے ہلاک کردیا جس میں سے ایک بھی باقی نہ بچا اور ان سے پہلے قوم نوح تباہ ہوچکی ہے جو بڑے ناانصاف اور شریر تھے اور لوط کی بستیاں جنہیں رحمن وقہار نے زیر و زبر کردیا اور آسمانی پتھروں سے سب بدکاروں کا ہلاک کردیا انہیں ایک چیز نے ڈھانپ لیا یعنی (پتھروں نے) جن کا مینہ ان پر برسا اور برے حالوں تباہ ہوئے۔ ان بستیوں میں چار لاکھ آدمی آباد تھے آبادی کی کل زمین کی آگ اور گندھک اور تیل بن کر ان پر بھڑک اٹھی حضرت قتادہ کا یہی قول ہے جو بہت غریب سند سے ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ پھر فرمایا پھر تو اے انسان اپنے رب کی کس کس نعمت پر جھگڑے گا ؟ بعض کہتے ہیں خطاب نبی ﷺ سے ہے لیکن خطاب کو عام رکھنا بہت اولیٰ ہے ابن جریر بھی عام رکھنے کو ہی پسند فرماتے ہیں۔

وَثَمُودَ فَمَا أَبْقَىٰ

📘 سب کی آخری منزل اللہ تعالیٰ ادراک سے بلند ہے فرمان ہے کہ بازگشت آخر اللہ کی طرف ہے۔ قیامت کے دن سب کو لوٹ کر اسی کے سامنے پیش ہونا ہے حضرت معاذ نے قبیلہ بنی اود میں خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا اے بنی اود میں اللہ کا پیغمبر کا قاصد بن کر تمہاری طرف آیا ہوں تم یقین کرو کہ تمہارا سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے پھر یا تو جنت میں پہنچائے جاؤ یا جہنم میں دھکیلے جاؤ بغوی میں ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات میں فکر کرنا جائز نہیں، جیسے اور حدیث میں ہے مخلوق پر غور بھری نظریں ڈالو لیکن ذات خالق میں گہرے نہ اترو۔ اسے عقل و ادراک فکر و ذہن نہیں پاسکتا، گو ان لفظوں سے یہ حدیث محفوظ نہیں مگر صحیح حدیث میں یہ بھی مضمون موجود ہے اس میں ہے کہ شیطان کسی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے اسے کس نے پیدا کیا ؟ پھر اسے کس نے پیدا کیا ؟ یہاں تک کہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ؟ جب تم میں سے کسی کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا تو اعوذ پڑھ لے اور اس خیال کو دل سے دور کر دے، سنن کی ایک حدیث میں ہے مخلوقات اللہ میں غور و فکر کرو لیکن ذات اللہ میں غور و فکر نہ کرو سنو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ پیدا کیا ہے جس کے کان کی لو سے لے کر مونڈھے تک تین سو سال کا راستہ ہے او کما قال پھر فرماتا ہے کہ بندوں میں ہنسنے رونے کا مادہ اور ان کے اسباب بھی اسی نے پیدا کئے ہیں جو بالکل مختلف ہیں وہی موت وحیات کا خالق ہے جیسے فرمایا آیت (الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭوَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ ۙ) 67۔ الملک :2) اس نے موت وحیات کو پیدا کیا اسی نے نطفہ سے ہر جاندار کو جوڑ جوڑ بنایا، جیسے اور جگہ فرمان ہے آیت (اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى 36؀ۭ) 75۔ القیامة :36) ، کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ بیکار چھوڑ دیا جائے گا ؟ کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے ؟ پھر کیا وہ بستہ خون نہ تھا ؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست کیا اور اس سے جوڑے یعنی نرو مادہ بنائے کیا (ایسی قدرتوں والا) اللہ اس بات پر قادر نہیں ؟ کہ مردوں کو زندہ کر دے۔ پھر فرماتا ہے اسی پر دوبارہ زندہ کرنا یعنی جیسے اس نے ابتداء پیدا کیا اسی طرح مار ڈالنے کے بعد دوبارہ کی پیدائش بھی اسی کے ذمہ ہے اسی نے اپنے بندوں کو غنی بنادیا اور مال ان کے قبضہ میں دے دیا ہے جو ان کے پاس ہی بطور پونجی کے رہتا ہے اکثر مفسرین کے کلام کا خلاصہ اس مقام پر یہی ہے گو بعض سے مروی ہے کہ اس نے مال دیا اور غلام دئیے اس نے دیا اور خوش ہوا اسے غنی بنا کر اور مخلوق کو اس کا دست نگر بنادیا جسے چاہا غنی کیا جسے چاہا فقیر لیکن یہ پچھلے دونوں قول لفظ سے کچھ زیادہ مطابقت نہیں رکھتے۔ شعری اس روشن ستارے کا نام ہے جسے مرزم الجوزاء بھی کہتے ہیں بعض عرب اس کی پرستش کرتے تھے، عاد و اولیٰ یعنی قوم ہود کو جسے عاد بن ارم بن سام بن نوح بھی کہا جاتا ہے اسی نے ان کی نافرمانی کی بنا پر تباہ کردیا جیسے فرمایا آیت (اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ ۽) 89۔ الفجر :6) ، یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا ؟ یعنی ارم کے ساتھ جو بڑے قدآور تھے جن کا مثل شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا تھا یہ قوم بڑی قوی اور زورآور تھی ساتھ ہی اللہ کی بڑی نافرمان اور رسول سے بڑی سرتاب تھی ان پر ہوا کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن برابر رہا اسی طرح ثمودیوں کو بھی اس نے ہلاک کردیا جس میں سے ایک بھی باقی نہ بچا اور ان سے پہلے قوم نوح تباہ ہوچکی ہے جو بڑے ناانصاف اور شریر تھے اور لوط کی بستیاں جنہیں رحمن وقہار نے زیر و زبر کردیا اور آسمانی پتھروں سے سب بدکاروں کا ہلاک کردیا انہیں ایک چیز نے ڈھانپ لیا یعنی (پتھروں نے) جن کا مینہ ان پر برسا اور برے حالوں تباہ ہوئے۔ ان بستیوں میں چار لاکھ آدمی آباد تھے آبادی کی کل زمین کی آگ اور گندھک اور تیل بن کر ان پر بھڑک اٹھی حضرت قتادہ کا یہی قول ہے جو بہت غریب سند سے ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ پھر فرمایا پھر تو اے انسان اپنے رب کی کس کس نعمت پر جھگڑے گا ؟ بعض کہتے ہیں خطاب نبی ﷺ سے ہے لیکن خطاب کو عام رکھنا بہت اولیٰ ہے ابن جریر بھی عام رکھنے کو ہی پسند فرماتے ہیں۔

وَقَوْمَ نُوحٍ مِنْ قَبْلُ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا هُمْ أَظْلَمَ وَأَطْغَىٰ

📘 سب کی آخری منزل اللہ تعالیٰ ادراک سے بلند ہے فرمان ہے کہ بازگشت آخر اللہ کی طرف ہے۔ قیامت کے دن سب کو لوٹ کر اسی کے سامنے پیش ہونا ہے حضرت معاذ نے قبیلہ بنی اود میں خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا اے بنی اود میں اللہ کا پیغمبر کا قاصد بن کر تمہاری طرف آیا ہوں تم یقین کرو کہ تمہارا سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے پھر یا تو جنت میں پہنچائے جاؤ یا جہنم میں دھکیلے جاؤ بغوی میں ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات میں فکر کرنا جائز نہیں، جیسے اور حدیث میں ہے مخلوق پر غور بھری نظریں ڈالو لیکن ذات خالق میں گہرے نہ اترو۔ اسے عقل و ادراک فکر و ذہن نہیں پاسکتا، گو ان لفظوں سے یہ حدیث محفوظ نہیں مگر صحیح حدیث میں یہ بھی مضمون موجود ہے اس میں ہے کہ شیطان کسی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے اسے کس نے پیدا کیا ؟ پھر اسے کس نے پیدا کیا ؟ یہاں تک کہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ؟ جب تم میں سے کسی کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا تو اعوذ پڑھ لے اور اس خیال کو دل سے دور کر دے، سنن کی ایک حدیث میں ہے مخلوقات اللہ میں غور و فکر کرو لیکن ذات اللہ میں غور و فکر نہ کرو سنو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ پیدا کیا ہے جس کے کان کی لو سے لے کر مونڈھے تک تین سو سال کا راستہ ہے او کما قال پھر فرماتا ہے کہ بندوں میں ہنسنے رونے کا مادہ اور ان کے اسباب بھی اسی نے پیدا کئے ہیں جو بالکل مختلف ہیں وہی موت وحیات کا خالق ہے جیسے فرمایا آیت (الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭوَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ ۙ) 67۔ الملک :2) اس نے موت وحیات کو پیدا کیا اسی نے نطفہ سے ہر جاندار کو جوڑ جوڑ بنایا، جیسے اور جگہ فرمان ہے آیت (اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى 36؀ۭ) 75۔ القیامة :36) ، کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ بیکار چھوڑ دیا جائے گا ؟ کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے ؟ پھر کیا وہ بستہ خون نہ تھا ؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست کیا اور اس سے جوڑے یعنی نرو مادہ بنائے کیا (ایسی قدرتوں والا) اللہ اس بات پر قادر نہیں ؟ کہ مردوں کو زندہ کر دے۔ پھر فرماتا ہے اسی پر دوبارہ زندہ کرنا یعنی جیسے اس نے ابتداء پیدا کیا اسی طرح مار ڈالنے کے بعد دوبارہ کی پیدائش بھی اسی کے ذمہ ہے اسی نے اپنے بندوں کو غنی بنادیا اور مال ان کے قبضہ میں دے دیا ہے جو ان کے پاس ہی بطور پونجی کے رہتا ہے اکثر مفسرین کے کلام کا خلاصہ اس مقام پر یہی ہے گو بعض سے مروی ہے کہ اس نے مال دیا اور غلام دئیے اس نے دیا اور خوش ہوا اسے غنی بنا کر اور مخلوق کو اس کا دست نگر بنادیا جسے چاہا غنی کیا جسے چاہا فقیر لیکن یہ پچھلے دونوں قول لفظ سے کچھ زیادہ مطابقت نہیں رکھتے۔ شعری اس روشن ستارے کا نام ہے جسے مرزم الجوزاء بھی کہتے ہیں بعض عرب اس کی پرستش کرتے تھے، عاد و اولیٰ یعنی قوم ہود کو جسے عاد بن ارم بن سام بن نوح بھی کہا جاتا ہے اسی نے ان کی نافرمانی کی بنا پر تباہ کردیا جیسے فرمایا آیت (اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ ۽) 89۔ الفجر :6) ، یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا ؟ یعنی ارم کے ساتھ جو بڑے قدآور تھے جن کا مثل شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا تھا یہ قوم بڑی قوی اور زورآور تھی ساتھ ہی اللہ کی بڑی نافرمان اور رسول سے بڑی سرتاب تھی ان پر ہوا کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن برابر رہا اسی طرح ثمودیوں کو بھی اس نے ہلاک کردیا جس میں سے ایک بھی باقی نہ بچا اور ان سے پہلے قوم نوح تباہ ہوچکی ہے جو بڑے ناانصاف اور شریر تھے اور لوط کی بستیاں جنہیں رحمن وقہار نے زیر و زبر کردیا اور آسمانی پتھروں سے سب بدکاروں کا ہلاک کردیا انہیں ایک چیز نے ڈھانپ لیا یعنی (پتھروں نے) جن کا مینہ ان پر برسا اور برے حالوں تباہ ہوئے۔ ان بستیوں میں چار لاکھ آدمی آباد تھے آبادی کی کل زمین کی آگ اور گندھک اور تیل بن کر ان پر بھڑک اٹھی حضرت قتادہ کا یہی قول ہے جو بہت غریب سند سے ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ پھر فرمایا پھر تو اے انسان اپنے رب کی کس کس نعمت پر جھگڑے گا ؟ بعض کہتے ہیں خطاب نبی ﷺ سے ہے لیکن خطاب کو عام رکھنا بہت اولیٰ ہے ابن جریر بھی عام رکھنے کو ہی پسند فرماتے ہیں۔

وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَىٰ

📘 سب کی آخری منزل اللہ تعالیٰ ادراک سے بلند ہے فرمان ہے کہ بازگشت آخر اللہ کی طرف ہے۔ قیامت کے دن سب کو لوٹ کر اسی کے سامنے پیش ہونا ہے حضرت معاذ نے قبیلہ بنی اود میں خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا اے بنی اود میں اللہ کا پیغمبر کا قاصد بن کر تمہاری طرف آیا ہوں تم یقین کرو کہ تمہارا سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے پھر یا تو جنت میں پہنچائے جاؤ یا جہنم میں دھکیلے جاؤ بغوی میں ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات میں فکر کرنا جائز نہیں، جیسے اور حدیث میں ہے مخلوق پر غور بھری نظریں ڈالو لیکن ذات خالق میں گہرے نہ اترو۔ اسے عقل و ادراک فکر و ذہن نہیں پاسکتا، گو ان لفظوں سے یہ حدیث محفوظ نہیں مگر صحیح حدیث میں یہ بھی مضمون موجود ہے اس میں ہے کہ شیطان کسی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے اسے کس نے پیدا کیا ؟ پھر اسے کس نے پیدا کیا ؟ یہاں تک کہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ؟ جب تم میں سے کسی کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا تو اعوذ پڑھ لے اور اس خیال کو دل سے دور کر دے، سنن کی ایک حدیث میں ہے مخلوقات اللہ میں غور و فکر کرو لیکن ذات اللہ میں غور و فکر نہ کرو سنو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ پیدا کیا ہے جس کے کان کی لو سے لے کر مونڈھے تک تین سو سال کا راستہ ہے او کما قال پھر فرماتا ہے کہ بندوں میں ہنسنے رونے کا مادہ اور ان کے اسباب بھی اسی نے پیدا کئے ہیں جو بالکل مختلف ہیں وہی موت وحیات کا خالق ہے جیسے فرمایا آیت (الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭوَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ ۙ) 67۔ الملک :2) اس نے موت وحیات کو پیدا کیا اسی نے نطفہ سے ہر جاندار کو جوڑ جوڑ بنایا، جیسے اور جگہ فرمان ہے آیت (اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى 36؀ۭ) 75۔ القیامة :36) ، کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ بیکار چھوڑ دیا جائے گا ؟ کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے ؟ پھر کیا وہ بستہ خون نہ تھا ؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست کیا اور اس سے جوڑے یعنی نرو مادہ بنائے کیا (ایسی قدرتوں والا) اللہ اس بات پر قادر نہیں ؟ کہ مردوں کو زندہ کر دے۔ پھر فرماتا ہے اسی پر دوبارہ زندہ کرنا یعنی جیسے اس نے ابتداء پیدا کیا اسی طرح مار ڈالنے کے بعد دوبارہ کی پیدائش بھی اسی کے ذمہ ہے اسی نے اپنے بندوں کو غنی بنادیا اور مال ان کے قبضہ میں دے دیا ہے جو ان کے پاس ہی بطور پونجی کے رہتا ہے اکثر مفسرین کے کلام کا خلاصہ اس مقام پر یہی ہے گو بعض سے مروی ہے کہ اس نے مال دیا اور غلام دئیے اس نے دیا اور خوش ہوا اسے غنی بنا کر اور مخلوق کو اس کا دست نگر بنادیا جسے چاہا غنی کیا جسے چاہا فقیر لیکن یہ پچھلے دونوں قول لفظ سے کچھ زیادہ مطابقت نہیں رکھتے۔ شعری اس روشن ستارے کا نام ہے جسے مرزم الجوزاء بھی کہتے ہیں بعض عرب اس کی پرستش کرتے تھے، عاد و اولیٰ یعنی قوم ہود کو جسے عاد بن ارم بن سام بن نوح بھی کہا جاتا ہے اسی نے ان کی نافرمانی کی بنا پر تباہ کردیا جیسے فرمایا آیت (اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ ۽) 89۔ الفجر :6) ، یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا ؟ یعنی ارم کے ساتھ جو بڑے قدآور تھے جن کا مثل شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا تھا یہ قوم بڑی قوی اور زورآور تھی ساتھ ہی اللہ کی بڑی نافرمان اور رسول سے بڑی سرتاب تھی ان پر ہوا کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن برابر رہا اسی طرح ثمودیوں کو بھی اس نے ہلاک کردیا جس میں سے ایک بھی باقی نہ بچا اور ان سے پہلے قوم نوح تباہ ہوچکی ہے جو بڑے ناانصاف اور شریر تھے اور لوط کی بستیاں جنہیں رحمن وقہار نے زیر و زبر کردیا اور آسمانی پتھروں سے سب بدکاروں کا ہلاک کردیا انہیں ایک چیز نے ڈھانپ لیا یعنی (پتھروں نے) جن کا مینہ ان پر برسا اور برے حالوں تباہ ہوئے۔ ان بستیوں میں چار لاکھ آدمی آباد تھے آبادی کی کل زمین کی آگ اور گندھک اور تیل بن کر ان پر بھڑک اٹھی حضرت قتادہ کا یہی قول ہے جو بہت غریب سند سے ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ پھر فرمایا پھر تو اے انسان اپنے رب کی کس کس نعمت پر جھگڑے گا ؟ بعض کہتے ہیں خطاب نبی ﷺ سے ہے لیکن خطاب کو عام رکھنا بہت اولیٰ ہے ابن جریر بھی عام رکھنے کو ہی پسند فرماتے ہیں۔

فَغَشَّاهَا مَا غَشَّىٰ

📘 سب کی آخری منزل اللہ تعالیٰ ادراک سے بلند ہے فرمان ہے کہ بازگشت آخر اللہ کی طرف ہے۔ قیامت کے دن سب کو لوٹ کر اسی کے سامنے پیش ہونا ہے حضرت معاذ نے قبیلہ بنی اود میں خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا اے بنی اود میں اللہ کا پیغمبر کا قاصد بن کر تمہاری طرف آیا ہوں تم یقین کرو کہ تمہارا سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے پھر یا تو جنت میں پہنچائے جاؤ یا جہنم میں دھکیلے جاؤ بغوی میں ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات میں فکر کرنا جائز نہیں، جیسے اور حدیث میں ہے مخلوق پر غور بھری نظریں ڈالو لیکن ذات خالق میں گہرے نہ اترو۔ اسے عقل و ادراک فکر و ذہن نہیں پاسکتا، گو ان لفظوں سے یہ حدیث محفوظ نہیں مگر صحیح حدیث میں یہ بھی مضمون موجود ہے اس میں ہے کہ شیطان کسی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے اسے کس نے پیدا کیا ؟ پھر اسے کس نے پیدا کیا ؟ یہاں تک کہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ؟ جب تم میں سے کسی کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا تو اعوذ پڑھ لے اور اس خیال کو دل سے دور کر دے، سنن کی ایک حدیث میں ہے مخلوقات اللہ میں غور و فکر کرو لیکن ذات اللہ میں غور و فکر نہ کرو سنو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ پیدا کیا ہے جس کے کان کی لو سے لے کر مونڈھے تک تین سو سال کا راستہ ہے او کما قال پھر فرماتا ہے کہ بندوں میں ہنسنے رونے کا مادہ اور ان کے اسباب بھی اسی نے پیدا کئے ہیں جو بالکل مختلف ہیں وہی موت وحیات کا خالق ہے جیسے فرمایا آیت (الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭوَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ ۙ) 67۔ الملک :2) اس نے موت وحیات کو پیدا کیا اسی نے نطفہ سے ہر جاندار کو جوڑ جوڑ بنایا، جیسے اور جگہ فرمان ہے آیت (اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى 36؀ۭ) 75۔ القیامة :36) ، کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ بیکار چھوڑ دیا جائے گا ؟ کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے ؟ پھر کیا وہ بستہ خون نہ تھا ؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست کیا اور اس سے جوڑے یعنی نرو مادہ بنائے کیا (ایسی قدرتوں والا) اللہ اس بات پر قادر نہیں ؟ کہ مردوں کو زندہ کر دے۔ پھر فرماتا ہے اسی پر دوبارہ زندہ کرنا یعنی جیسے اس نے ابتداء پیدا کیا اسی طرح مار ڈالنے کے بعد دوبارہ کی پیدائش بھی اسی کے ذمہ ہے اسی نے اپنے بندوں کو غنی بنادیا اور مال ان کے قبضہ میں دے دیا ہے جو ان کے پاس ہی بطور پونجی کے رہتا ہے اکثر مفسرین کے کلام کا خلاصہ اس مقام پر یہی ہے گو بعض سے مروی ہے کہ اس نے مال دیا اور غلام دئیے اس نے دیا اور خوش ہوا اسے غنی بنا کر اور مخلوق کو اس کا دست نگر بنادیا جسے چاہا غنی کیا جسے چاہا فقیر لیکن یہ پچھلے دونوں قول لفظ سے کچھ زیادہ مطابقت نہیں رکھتے۔ شعری اس روشن ستارے کا نام ہے جسے مرزم الجوزاء بھی کہتے ہیں بعض عرب اس کی پرستش کرتے تھے، عاد و اولیٰ یعنی قوم ہود کو جسے عاد بن ارم بن سام بن نوح بھی کہا جاتا ہے اسی نے ان کی نافرمانی کی بنا پر تباہ کردیا جیسے فرمایا آیت (اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ ۽) 89۔ الفجر :6) ، یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا ؟ یعنی ارم کے ساتھ جو بڑے قدآور تھے جن کا مثل شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا تھا یہ قوم بڑی قوی اور زورآور تھی ساتھ ہی اللہ کی بڑی نافرمان اور رسول سے بڑی سرتاب تھی ان پر ہوا کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن برابر رہا اسی طرح ثمودیوں کو بھی اس نے ہلاک کردیا جس میں سے ایک بھی باقی نہ بچا اور ان سے پہلے قوم نوح تباہ ہوچکی ہے جو بڑے ناانصاف اور شریر تھے اور لوط کی بستیاں جنہیں رحمن وقہار نے زیر و زبر کردیا اور آسمانی پتھروں سے سب بدکاروں کا ہلاک کردیا انہیں ایک چیز نے ڈھانپ لیا یعنی (پتھروں نے) جن کا مینہ ان پر برسا اور برے حالوں تباہ ہوئے۔ ان بستیوں میں چار لاکھ آدمی آباد تھے آبادی کی کل زمین کی آگ اور گندھک اور تیل بن کر ان پر بھڑک اٹھی حضرت قتادہ کا یہی قول ہے جو بہت غریب سند سے ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ پھر فرمایا پھر تو اے انسان اپنے رب کی کس کس نعمت پر جھگڑے گا ؟ بعض کہتے ہیں خطاب نبی ﷺ سے ہے لیکن خطاب کو عام رکھنا بہت اولیٰ ہے ابن جریر بھی عام رکھنے کو ہی پسند فرماتے ہیں۔

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَىٰ

📘 سب کی آخری منزل اللہ تعالیٰ ادراک سے بلند ہے فرمان ہے کہ بازگشت آخر اللہ کی طرف ہے۔ قیامت کے دن سب کو لوٹ کر اسی کے سامنے پیش ہونا ہے حضرت معاذ نے قبیلہ بنی اود میں خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا اے بنی اود میں اللہ کا پیغمبر کا قاصد بن کر تمہاری طرف آیا ہوں تم یقین کرو کہ تمہارا سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے پھر یا تو جنت میں پہنچائے جاؤ یا جہنم میں دھکیلے جاؤ بغوی میں ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات میں فکر کرنا جائز نہیں، جیسے اور حدیث میں ہے مخلوق پر غور بھری نظریں ڈالو لیکن ذات خالق میں گہرے نہ اترو۔ اسے عقل و ادراک فکر و ذہن نہیں پاسکتا، گو ان لفظوں سے یہ حدیث محفوظ نہیں مگر صحیح حدیث میں یہ بھی مضمون موجود ہے اس میں ہے کہ شیطان کسی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے اسے کس نے پیدا کیا ؟ پھر اسے کس نے پیدا کیا ؟ یہاں تک کہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ؟ جب تم میں سے کسی کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا تو اعوذ پڑھ لے اور اس خیال کو دل سے دور کر دے، سنن کی ایک حدیث میں ہے مخلوقات اللہ میں غور و فکر کرو لیکن ذات اللہ میں غور و فکر نہ کرو سنو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ پیدا کیا ہے جس کے کان کی لو سے لے کر مونڈھے تک تین سو سال کا راستہ ہے او کما قال پھر فرماتا ہے کہ بندوں میں ہنسنے رونے کا مادہ اور ان کے اسباب بھی اسی نے پیدا کئے ہیں جو بالکل مختلف ہیں وہی موت وحیات کا خالق ہے جیسے فرمایا آیت (الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭوَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ ۙ) 67۔ الملک :2) اس نے موت وحیات کو پیدا کیا اسی نے نطفہ سے ہر جاندار کو جوڑ جوڑ بنایا، جیسے اور جگہ فرمان ہے آیت (اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى 36؀ۭ) 75۔ القیامة :36) ، کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ بیکار چھوڑ دیا جائے گا ؟ کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے ؟ پھر کیا وہ بستہ خون نہ تھا ؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست کیا اور اس سے جوڑے یعنی نرو مادہ بنائے کیا (ایسی قدرتوں والا) اللہ اس بات پر قادر نہیں ؟ کہ مردوں کو زندہ کر دے۔ پھر فرماتا ہے اسی پر دوبارہ زندہ کرنا یعنی جیسے اس نے ابتداء پیدا کیا اسی طرح مار ڈالنے کے بعد دوبارہ کی پیدائش بھی اسی کے ذمہ ہے اسی نے اپنے بندوں کو غنی بنادیا اور مال ان کے قبضہ میں دے دیا ہے جو ان کے پاس ہی بطور پونجی کے رہتا ہے اکثر مفسرین کے کلام کا خلاصہ اس مقام پر یہی ہے گو بعض سے مروی ہے کہ اس نے مال دیا اور غلام دئیے اس نے دیا اور خوش ہوا اسے غنی بنا کر اور مخلوق کو اس کا دست نگر بنادیا جسے چاہا غنی کیا جسے چاہا فقیر لیکن یہ پچھلے دونوں قول لفظ سے کچھ زیادہ مطابقت نہیں رکھتے۔ شعری اس روشن ستارے کا نام ہے جسے مرزم الجوزاء بھی کہتے ہیں بعض عرب اس کی پرستش کرتے تھے، عاد و اولیٰ یعنی قوم ہود کو جسے عاد بن ارم بن سام بن نوح بھی کہا جاتا ہے اسی نے ان کی نافرمانی کی بنا پر تباہ کردیا جیسے فرمایا آیت (اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ ۽) 89۔ الفجر :6) ، یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا ؟ یعنی ارم کے ساتھ جو بڑے قدآور تھے جن کا مثل شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا تھا یہ قوم بڑی قوی اور زورآور تھی ساتھ ہی اللہ کی بڑی نافرمان اور رسول سے بڑی سرتاب تھی ان پر ہوا کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن برابر رہا اسی طرح ثمودیوں کو بھی اس نے ہلاک کردیا جس میں سے ایک بھی باقی نہ بچا اور ان سے پہلے قوم نوح تباہ ہوچکی ہے جو بڑے ناانصاف اور شریر تھے اور لوط کی بستیاں جنہیں رحمن وقہار نے زیر و زبر کردیا اور آسمانی پتھروں سے سب بدکاروں کا ہلاک کردیا انہیں ایک چیز نے ڈھانپ لیا یعنی (پتھروں نے) جن کا مینہ ان پر برسا اور برے حالوں تباہ ہوئے۔ ان بستیوں میں چار لاکھ آدمی آباد تھے آبادی کی کل زمین کی آگ اور گندھک اور تیل بن کر ان پر بھڑک اٹھی حضرت قتادہ کا یہی قول ہے جو بہت غریب سند سے ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ پھر فرمایا پھر تو اے انسان اپنے رب کی کس کس نعمت پر جھگڑے گا ؟ بعض کہتے ہیں خطاب نبی ﷺ سے ہے لیکن خطاب کو عام رکھنا بہت اولیٰ ہے ابن جریر بھی عام رکھنے کو ہی پسند فرماتے ہیں۔

هَٰذَا نَذِيرٌ مِنَ النُّذُرِ الْأُولَىٰ

📘 " نذیر " کا مفہوم نذیر کہتے کسے ہیں یہ خوف اور ڈر سے آگاہ کرنے والے ہیں یعنی آنحضرت ﷺ آپ کی رسالت بھی ایسی ہی ہے جیسے آپ سے پہلے رسولوں کی رسالت تھی جیسے اور آیت میں ہے آیت (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ ۭ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ) 46۔ الأحقاف :9) یعنی میں کوئی نیا رسول تو ہوں نہیں رسالت مجھ سے شروع نہیں ہوئی بلکہ دنیا میں مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں قریب آنے والی کا وقت آئے گا یعنی قیامت قریب آگئی۔ نہ تو اسے کوئی دفع کرسکے نہ اس کے آنے کے صحیح وقت معین کا کسی کو علم ہے۔ نذیر عربی میں اسے کہتے ہیں مثلا ایک جماعت ہے جس میں سے ایک شخص نے کوئی ڈراؤنی چیز دیکھی اور اپنی قوم کو اس سے آگاہ کرتا ہے یعنی ڈر اور خوف سنانے والا جیسے اور آیت میں ہے آیت (اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ 46؀) 34۔ سبأ :46) میں تمہیں سخت عذاب سے مطلع کرنے والا ہوں حدیث میں ہے تمہیں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔ یعنی جس طرح کوئی شخص کسی برائی کو دیکھ لے کہ وہ قوم کے قریب پہنچ چکی ہے اور پھر جس حالت میں ہو اسی میں دوڑا بھاگا آجائے اور قوم کو دفعۃً متنبہ کر دے کہ دیکھو وہ بلا آرہی ہے فوراً تدارک کرلو اسی طرح قیامت کے ہولناک عذاب بھی لوگوں کی غفلت کی حالت میں ان سے بالکل قریب ہوگئے ہیں اور آنحضرت ﷺ ان عذابوں سے ہوشیار کر رہے ہیں جیسے اس کے بعد کی سورت میں ہے آیت (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) قیامت قریب آچکی مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگو گناہوں کو چھوٹا اور حقیر جاننے سے بچو سنو چھوٹے چھوٹے گناہوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک قافلہ کسی جگہ اترا سب ادھر ادھر چلے گئے اور لکڑیاں سمیٹ کر تھوڑی تھوڑی لے آئے تو چاہے ہر ایک کے پاس لکڑیاں کم کم ہیں لیکن جب وہ سب جمع کرلی جائیں تو ایک انبار لگ جاتا ہے جس سے دیگیں پک جائیں اسی طرح چھوٹے چھوٹے گناہ جمع ہو کر ڈھیر لگ جاتا ہے اور اچانک اس گنہگار کو پکڑ لیتا ہے اور ہلاک ہوجاتا ہے اور حدیث میں ہے میری اور قیامت کی مثال ایسی ہے پھر آپ نے اپنی شہادت کی اور درمیان کی انگلی اٹھا کر ان کا فاصلہ دکھایا میری اور قیامت کی مثال دو ساعتوں کی سی ہے میری اور آخرت کے دن کی مثال ٹھیک اسی طرح ہے جس طرح ایک قوم نے کسی شخص کو اطلاع لانے کے لئے بھیجا اس نے دشمن کے لشکر کو بالکل نزدیک کی کمین گاہ میں چھاپہ مارنے کے لئے تیار دیکھا یہاں تک کہ اسے ڈر لگا کہ میرے پہنچنے سے پہلے ہی کہیں یہ نہ پہنچ جائیں تو وہ ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور وہیں کپڑا ہلا ہلا کر انہیں اشارے سے بتادیا کہ خبردار ہوجاؤ دشمن سر پر موجود ہے پس میں ایسا ہی ڈرانے والا ہوں۔ اس حدیث کی شہادت میں اور بھی بہت سی حسن اور صحیح حدیثیں موجود ہیں۔ پھر مشرکین کے اس فعل پر انکار فرمایا کہ وہ قرآن سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق اور ہنسی کرنے لگتے ہیں چاہیے یہ تھا کہ مثل ایمان داروں کے اسے سن کر روتے عبرت حاصل کرتے جیسے مومنوں کی حالت بیان فرمائی کہ وہ اس کلام اللہ شریف کو سن کر روتے دھوتے سجدہ میں گرپڑتے ہیں اور خشوع وخضوع میں بڑھ جاتے ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں (سمد) گانے کو کہتے ہیں یہ یمنی لغت ہے آپ سے (سامدون) کے معنی اعراض کرنے والے اور تکبر کرنے والے بھی مروی ہیں حضرت علی اور حسن فرماتے ہیں غفلت کرنے والے۔ پھر اپنے بندوں کا حکم دیتا ہے کہ توحید و اخلاص کے پابند رہو خضوع، خلوص اور توحید کے ماننے والے بن جاؤ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے حضور ﷺ نے مسلمانوں نے مشرکوں نے اور جن و انس نے سورة النجم کے سجدے کے موقعہ پر سجدہ کیا مسند احمد میں ہے کہ مکہ میں رسول اللہ ﷺ نے سورة نجم پڑھی پس آپ نے سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی جو آپ کے پاس تھے راوی حدیث مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں میں نے اپنا سر اٹھایا اور سجدہ نہ کیا یہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اسلام کے بعد جس کسی کی زبانی اس سورة مبارکہ کی تلاوت سنتے سجدہ کرتے یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔

أَزِفَتِ الْآزِفَةُ

📘 " نذیر " کا مفہوم نذیر کہتے کسے ہیں یہ خوف اور ڈر سے آگاہ کرنے والے ہیں یعنی آنحضرت ﷺ آپ کی رسالت بھی ایسی ہی ہے جیسے آپ سے پہلے رسولوں کی رسالت تھی جیسے اور آیت میں ہے آیت (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ ۭ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ) 46۔ الأحقاف :9) یعنی میں کوئی نیا رسول تو ہوں نہیں رسالت مجھ سے شروع نہیں ہوئی بلکہ دنیا میں مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں قریب آنے والی کا وقت آئے گا یعنی قیامت قریب آگئی۔ نہ تو اسے کوئی دفع کرسکے نہ اس کے آنے کے صحیح وقت معین کا کسی کو علم ہے۔ نذیر عربی میں اسے کہتے ہیں مثلا ایک جماعت ہے جس میں سے ایک شخص نے کوئی ڈراؤنی چیز دیکھی اور اپنی قوم کو اس سے آگاہ کرتا ہے یعنی ڈر اور خوف سنانے والا جیسے اور آیت میں ہے آیت (اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ 46؀) 34۔ سبأ :46) میں تمہیں سخت عذاب سے مطلع کرنے والا ہوں حدیث میں ہے تمہیں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔ یعنی جس طرح کوئی شخص کسی برائی کو دیکھ لے کہ وہ قوم کے قریب پہنچ چکی ہے اور پھر جس حالت میں ہو اسی میں دوڑا بھاگا آجائے اور قوم کو دفعۃً متنبہ کر دے کہ دیکھو وہ بلا آرہی ہے فوراً تدارک کرلو اسی طرح قیامت کے ہولناک عذاب بھی لوگوں کی غفلت کی حالت میں ان سے بالکل قریب ہوگئے ہیں اور آنحضرت ﷺ ان عذابوں سے ہوشیار کر رہے ہیں جیسے اس کے بعد کی سورت میں ہے آیت (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) قیامت قریب آچکی مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگو گناہوں کو چھوٹا اور حقیر جاننے سے بچو سنو چھوٹے چھوٹے گناہوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک قافلہ کسی جگہ اترا سب ادھر ادھر چلے گئے اور لکڑیاں سمیٹ کر تھوڑی تھوڑی لے آئے تو چاہے ہر ایک کے پاس لکڑیاں کم کم ہیں لیکن جب وہ سب جمع کرلی جائیں تو ایک انبار لگ جاتا ہے جس سے دیگیں پک جائیں اسی طرح چھوٹے چھوٹے گناہ جمع ہو کر ڈھیر لگ جاتا ہے اور اچانک اس گنہگار کو پکڑ لیتا ہے اور ہلاک ہوجاتا ہے اور حدیث میں ہے میری اور قیامت کی مثال ایسی ہے پھر آپ نے اپنی شہادت کی اور درمیان کی انگلی اٹھا کر ان کا فاصلہ دکھایا میری اور قیامت کی مثال دو ساعتوں کی سی ہے میری اور آخرت کے دن کی مثال ٹھیک اسی طرح ہے جس طرح ایک قوم نے کسی شخص کو اطلاع لانے کے لئے بھیجا اس نے دشمن کے لشکر کو بالکل نزدیک کی کمین گاہ میں چھاپہ مارنے کے لئے تیار دیکھا یہاں تک کہ اسے ڈر لگا کہ میرے پہنچنے سے پہلے ہی کہیں یہ نہ پہنچ جائیں تو وہ ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور وہیں کپڑا ہلا ہلا کر انہیں اشارے سے بتادیا کہ خبردار ہوجاؤ دشمن سر پر موجود ہے پس میں ایسا ہی ڈرانے والا ہوں۔ اس حدیث کی شہادت میں اور بھی بہت سی حسن اور صحیح حدیثیں موجود ہیں۔ پھر مشرکین کے اس فعل پر انکار فرمایا کہ وہ قرآن سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق اور ہنسی کرنے لگتے ہیں چاہیے یہ تھا کہ مثل ایمان داروں کے اسے سن کر روتے عبرت حاصل کرتے جیسے مومنوں کی حالت بیان فرمائی کہ وہ اس کلام اللہ شریف کو سن کر روتے دھوتے سجدہ میں گرپڑتے ہیں اور خشوع وخضوع میں بڑھ جاتے ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں (سمد) گانے کو کہتے ہیں یہ یمنی لغت ہے آپ سے (سامدون) کے معنی اعراض کرنے والے اور تکبر کرنے والے بھی مروی ہیں حضرت علی اور حسن فرماتے ہیں غفلت کرنے والے۔ پھر اپنے بندوں کا حکم دیتا ہے کہ توحید و اخلاص کے پابند رہو خضوع، خلوص اور توحید کے ماننے والے بن جاؤ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے حضور ﷺ نے مسلمانوں نے مشرکوں نے اور جن و انس نے سورة النجم کے سجدے کے موقعہ پر سجدہ کیا مسند احمد میں ہے کہ مکہ میں رسول اللہ ﷺ نے سورة نجم پڑھی پس آپ نے سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی جو آپ کے پاس تھے راوی حدیث مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں میں نے اپنا سر اٹھایا اور سجدہ نہ کیا یہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اسلام کے بعد جس کسی کی زبانی اس سورة مبارکہ کی تلاوت سنتے سجدہ کرتے یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔

لَيْسَ لَهَا مِنْ دُونِ اللَّهِ كَاشِفَةٌ

📘 " نذیر " کا مفہوم نذیر کہتے کسے ہیں یہ خوف اور ڈر سے آگاہ کرنے والے ہیں یعنی آنحضرت ﷺ آپ کی رسالت بھی ایسی ہی ہے جیسے آپ سے پہلے رسولوں کی رسالت تھی جیسے اور آیت میں ہے آیت (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ ۭ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ) 46۔ الأحقاف :9) یعنی میں کوئی نیا رسول تو ہوں نہیں رسالت مجھ سے شروع نہیں ہوئی بلکہ دنیا میں مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں قریب آنے والی کا وقت آئے گا یعنی قیامت قریب آگئی۔ نہ تو اسے کوئی دفع کرسکے نہ اس کے آنے کے صحیح وقت معین کا کسی کو علم ہے۔ نذیر عربی میں اسے کہتے ہیں مثلا ایک جماعت ہے جس میں سے ایک شخص نے کوئی ڈراؤنی چیز دیکھی اور اپنی قوم کو اس سے آگاہ کرتا ہے یعنی ڈر اور خوف سنانے والا جیسے اور آیت میں ہے آیت (اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ 46؀) 34۔ سبأ :46) میں تمہیں سخت عذاب سے مطلع کرنے والا ہوں حدیث میں ہے تمہیں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔ یعنی جس طرح کوئی شخص کسی برائی کو دیکھ لے کہ وہ قوم کے قریب پہنچ چکی ہے اور پھر جس حالت میں ہو اسی میں دوڑا بھاگا آجائے اور قوم کو دفعۃً متنبہ کر دے کہ دیکھو وہ بلا آرہی ہے فوراً تدارک کرلو اسی طرح قیامت کے ہولناک عذاب بھی لوگوں کی غفلت کی حالت میں ان سے بالکل قریب ہوگئے ہیں اور آنحضرت ﷺ ان عذابوں سے ہوشیار کر رہے ہیں جیسے اس کے بعد کی سورت میں ہے آیت (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) قیامت قریب آچکی مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگو گناہوں کو چھوٹا اور حقیر جاننے سے بچو سنو چھوٹے چھوٹے گناہوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک قافلہ کسی جگہ اترا سب ادھر ادھر چلے گئے اور لکڑیاں سمیٹ کر تھوڑی تھوڑی لے آئے تو چاہے ہر ایک کے پاس لکڑیاں کم کم ہیں لیکن جب وہ سب جمع کرلی جائیں تو ایک انبار لگ جاتا ہے جس سے دیگیں پک جائیں اسی طرح چھوٹے چھوٹے گناہ جمع ہو کر ڈھیر لگ جاتا ہے اور اچانک اس گنہگار کو پکڑ لیتا ہے اور ہلاک ہوجاتا ہے اور حدیث میں ہے میری اور قیامت کی مثال ایسی ہے پھر آپ نے اپنی شہادت کی اور درمیان کی انگلی اٹھا کر ان کا فاصلہ دکھایا میری اور قیامت کی مثال دو ساعتوں کی سی ہے میری اور آخرت کے دن کی مثال ٹھیک اسی طرح ہے جس طرح ایک قوم نے کسی شخص کو اطلاع لانے کے لئے بھیجا اس نے دشمن کے لشکر کو بالکل نزدیک کی کمین گاہ میں چھاپہ مارنے کے لئے تیار دیکھا یہاں تک کہ اسے ڈر لگا کہ میرے پہنچنے سے پہلے ہی کہیں یہ نہ پہنچ جائیں تو وہ ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور وہیں کپڑا ہلا ہلا کر انہیں اشارے سے بتادیا کہ خبردار ہوجاؤ دشمن سر پر موجود ہے پس میں ایسا ہی ڈرانے والا ہوں۔ اس حدیث کی شہادت میں اور بھی بہت سی حسن اور صحیح حدیثیں موجود ہیں۔ پھر مشرکین کے اس فعل پر انکار فرمایا کہ وہ قرآن سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق اور ہنسی کرنے لگتے ہیں چاہیے یہ تھا کہ مثل ایمان داروں کے اسے سن کر روتے عبرت حاصل کرتے جیسے مومنوں کی حالت بیان فرمائی کہ وہ اس کلام اللہ شریف کو سن کر روتے دھوتے سجدہ میں گرپڑتے ہیں اور خشوع وخضوع میں بڑھ جاتے ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں (سمد) گانے کو کہتے ہیں یہ یمنی لغت ہے آپ سے (سامدون) کے معنی اعراض کرنے والے اور تکبر کرنے والے بھی مروی ہیں حضرت علی اور حسن فرماتے ہیں غفلت کرنے والے۔ پھر اپنے بندوں کا حکم دیتا ہے کہ توحید و اخلاص کے پابند رہو خضوع، خلوص اور توحید کے ماننے والے بن جاؤ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے حضور ﷺ نے مسلمانوں نے مشرکوں نے اور جن و انس نے سورة النجم کے سجدے کے موقعہ پر سجدہ کیا مسند احمد میں ہے کہ مکہ میں رسول اللہ ﷺ نے سورة نجم پڑھی پس آپ نے سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی جو آپ کے پاس تھے راوی حدیث مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں میں نے اپنا سر اٹھایا اور سجدہ نہ کیا یہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اسلام کے بعد جس کسی کی زبانی اس سورة مبارکہ کی تلاوت سنتے سجدہ کرتے یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔

أَفَمِنْ هَٰذَا الْحَدِيثِ تَعْجَبُونَ

📘 " نذیر " کا مفہوم نذیر کہتے کسے ہیں یہ خوف اور ڈر سے آگاہ کرنے والے ہیں یعنی آنحضرت ﷺ آپ کی رسالت بھی ایسی ہی ہے جیسے آپ سے پہلے رسولوں کی رسالت تھی جیسے اور آیت میں ہے آیت (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ ۭ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ) 46۔ الأحقاف :9) یعنی میں کوئی نیا رسول تو ہوں نہیں رسالت مجھ سے شروع نہیں ہوئی بلکہ دنیا میں مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں قریب آنے والی کا وقت آئے گا یعنی قیامت قریب آگئی۔ نہ تو اسے کوئی دفع کرسکے نہ اس کے آنے کے صحیح وقت معین کا کسی کو علم ہے۔ نذیر عربی میں اسے کہتے ہیں مثلا ایک جماعت ہے جس میں سے ایک شخص نے کوئی ڈراؤنی چیز دیکھی اور اپنی قوم کو اس سے آگاہ کرتا ہے یعنی ڈر اور خوف سنانے والا جیسے اور آیت میں ہے آیت (اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ 46؀) 34۔ سبأ :46) میں تمہیں سخت عذاب سے مطلع کرنے والا ہوں حدیث میں ہے تمہیں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔ یعنی جس طرح کوئی شخص کسی برائی کو دیکھ لے کہ وہ قوم کے قریب پہنچ چکی ہے اور پھر جس حالت میں ہو اسی میں دوڑا بھاگا آجائے اور قوم کو دفعۃً متنبہ کر دے کہ دیکھو وہ بلا آرہی ہے فوراً تدارک کرلو اسی طرح قیامت کے ہولناک عذاب بھی لوگوں کی غفلت کی حالت میں ان سے بالکل قریب ہوگئے ہیں اور آنحضرت ﷺ ان عذابوں سے ہوشیار کر رہے ہیں جیسے اس کے بعد کی سورت میں ہے آیت (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) قیامت قریب آچکی مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگو گناہوں کو چھوٹا اور حقیر جاننے سے بچو سنو چھوٹے چھوٹے گناہوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک قافلہ کسی جگہ اترا سب ادھر ادھر چلے گئے اور لکڑیاں سمیٹ کر تھوڑی تھوڑی لے آئے تو چاہے ہر ایک کے پاس لکڑیاں کم کم ہیں لیکن جب وہ سب جمع کرلی جائیں تو ایک انبار لگ جاتا ہے جس سے دیگیں پک جائیں اسی طرح چھوٹے چھوٹے گناہ جمع ہو کر ڈھیر لگ جاتا ہے اور اچانک اس گنہگار کو پکڑ لیتا ہے اور ہلاک ہوجاتا ہے اور حدیث میں ہے میری اور قیامت کی مثال ایسی ہے پھر آپ نے اپنی شہادت کی اور درمیان کی انگلی اٹھا کر ان کا فاصلہ دکھایا میری اور قیامت کی مثال دو ساعتوں کی سی ہے میری اور آخرت کے دن کی مثال ٹھیک اسی طرح ہے جس طرح ایک قوم نے کسی شخص کو اطلاع لانے کے لئے بھیجا اس نے دشمن کے لشکر کو بالکل نزدیک کی کمین گاہ میں چھاپہ مارنے کے لئے تیار دیکھا یہاں تک کہ اسے ڈر لگا کہ میرے پہنچنے سے پہلے ہی کہیں یہ نہ پہنچ جائیں تو وہ ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور وہیں کپڑا ہلا ہلا کر انہیں اشارے سے بتادیا کہ خبردار ہوجاؤ دشمن سر پر موجود ہے پس میں ایسا ہی ڈرانے والا ہوں۔ اس حدیث کی شہادت میں اور بھی بہت سی حسن اور صحیح حدیثیں موجود ہیں۔ پھر مشرکین کے اس فعل پر انکار فرمایا کہ وہ قرآن سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق اور ہنسی کرنے لگتے ہیں چاہیے یہ تھا کہ مثل ایمان داروں کے اسے سن کر روتے عبرت حاصل کرتے جیسے مومنوں کی حالت بیان فرمائی کہ وہ اس کلام اللہ شریف کو سن کر روتے دھوتے سجدہ میں گرپڑتے ہیں اور خشوع وخضوع میں بڑھ جاتے ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں (سمد) گانے کو کہتے ہیں یہ یمنی لغت ہے آپ سے (سامدون) کے معنی اعراض کرنے والے اور تکبر کرنے والے بھی مروی ہیں حضرت علی اور حسن فرماتے ہیں غفلت کرنے والے۔ پھر اپنے بندوں کا حکم دیتا ہے کہ توحید و اخلاص کے پابند رہو خضوع، خلوص اور توحید کے ماننے والے بن جاؤ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے حضور ﷺ نے مسلمانوں نے مشرکوں نے اور جن و انس نے سورة النجم کے سجدے کے موقعہ پر سجدہ کیا مسند احمد میں ہے کہ مکہ میں رسول اللہ ﷺ نے سورة نجم پڑھی پس آپ نے سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی جو آپ کے پاس تھے راوی حدیث مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں میں نے اپنا سر اٹھایا اور سجدہ نہ کیا یہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اسلام کے بعد جس کسی کی زبانی اس سورة مبارکہ کی تلاوت سنتے سجدہ کرتے یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔

ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ

📘 تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40؀ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ کو لے کر حضرت جبرائیل اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) کا امام ابن جریر نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل اور آنحضرت ﷺ دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے امام ابن جریر کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہوسکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لئے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے آپ کی طرف جبرائیل اترے تھے اور قریب ہوگئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اسکے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہی کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔ یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) کی چند آیتیں آپ پر نازل ہوچکی تھیں پھر وحی بند ہوگئی تھی جس کا حضور ﷺ کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے حضرت جبرائیل کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد ﷺ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ کا غم غلط ہوجاتا دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہوجاتا واپس چلے آتے۔ لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامنگیر ہوتا اور وحی الہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح حضرت جبرائیل تسکین و تسلی کردیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں حضرت جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوگئے چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لئے تھے اب آپ سے قریب آگئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ کو پہنچائی اس وقت حضور ﷺ کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔ مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر کے قول کی تائید میں پیش ہوسکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں، امام احمد فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابو حاتم رازی کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جاسکتی ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو اس میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں ایک میں تو حضرت جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا میں نے دیکھا کہ حضرت جبرائیل اس وقت ہیبت الہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے جبرائیل ﷺ سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں حضرت جبرائیل نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے آپ نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ بیہوش ہوگئے جبرائیل فوراً آئے اور آپ کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو لہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد ﷺ کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چناچہ یہ آیا اور کہا اے محمد جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آگیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بےادب تھا اور بار بار گستاخی سے پیش آتا تھا) حضور ﷺ کی زبان سے اس کے لئے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے، یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہوگیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سرزمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا راہب نے ان سے کہا یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آگئے ؟ ابو لہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لئے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو لوگوں نے اسے منظور کرلیا یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابو لہب کہنے لگا اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد ﷺ کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ پھر فرماتا ہے کہ حضرت جبرائیل آنحضرت ﷺ سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ حضور ﷺ کے اور حضرت جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہوگئی یہاں لفظ (او) جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لئے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لئے جیسے اور جگہ ہے پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74؀) 2۔ البقرة :74) بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت یعنی پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں ایک اور فرمان ہے وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77؀) 4۔ النسآء :77) بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور جگہ ہے ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردد کے لئے نہیں خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہوسکتا۔ یہ قریب آنے والے حضرت جبرائیل تھے جیسے ام المومنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) میں ہے۔ حضرت انس والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لئے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہوجائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہوگی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جاسکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا ہے پس یہ سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں نبی ﷺ کی ابتداء نبوت کے وقت آپ نے خواب میں حضرت جبرائیل کو دیکھا پھر آپ اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لئے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہرچند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ نے اوپر کی طرف دیکھا تو دیکھا کہ حضرت جبرائیل اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ حضور دہشت زدہ ہوجائیں کہ فرشتے نے کہا میں جبرائیل ہوں میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں لیکن حضور ﷺ سے ضبط نہ ہوسکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر حضرت جبرائیل اسی طرح نظر آئے آپ پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آگئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل پر دو ریشمی حلے تھے پھر فرمایا اس نے وحی کی اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ حضرت جبرائیل نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت (اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى ۠) 93۔ الضحی :6) اور آیت (وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ۭ) 94۔ الشرح :4) تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی۔ کہ نبیوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ آپ اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہوجائے، ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے حضرت ابن مسعود نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ نے اپنے دل سے دیکھا جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے اس لئے کہ صحابہ سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں، امام بغوی فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جیسے حضرت انس، حضرت حسن اور حضرت عکرمہ ان کے اس قول میں نظر ہے واللہ اعلم۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں میں نے یہ سن کر کہا پھر یہ آیت کہاں جائے گا جس میں فرمان ہے آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) اسے کوئی نگاہ نہیں پاسکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ یہ حدیث غریب ہے ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ ابن عباس کی ملاقات حضرت کعب سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گذرا ابن عباس نے فرمایا ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو حضرت کعب نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ کے درمیان تقسیم کردیا حضرت موسیٰ سے دو مرتبہ باتیں کیں اور آنحضرت کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ حضرت مسروق حضرت عائشہ کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میں نے کہا مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ نے فرمایا کہاں جا رہے ہو ؟ سنو اس سے مراد حضرت جبرائیل کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد نے اپنے رب کو دیکھا یا حضور ﷺ نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپالیا یا آپ ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہوگی ؟ بارش کب اور کتنی برسے گی ؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ ؟ کون کل کیا کرے گا ؟ کون کہاں مرے گا ؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا بات یہ ہے کہ آپ نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین کو دیکھا تھا آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہی کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت حضرت ابراہیم کے لئے تھی اور کلام حضرت موسیٰ کے لئے اور دیدار حضرت محمد ﷺ کے لئے صحیح مسلم میں حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا وہ سراسر نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ؟ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ کے اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ؀) 53۔ النجم :11) پڑھی۔ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) پڑھی حضرت عکرمہ سے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ؀) 53۔ النجم :11) کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ہاں آپ نے دیکھا اور پھر دیکھا سائل نے پھر حضرت حسن سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ حضور ﷺ سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا یہ حدیث بھی بہت غریب ہے ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے چناچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا اے محمد ﷺ جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہوگئی پھر مجھ سے وہی سوال کیا میں نے کہا اب مجھے معلوم ہوگیا وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا اچھا پھر تم بھی بتاؤ کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں مسجدوں میں رکے رہنا جماعت کے لئے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گذرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گذارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہوگا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہوجائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا اے محمد ﷺ جب نماز پڑھو یہ کہو (اللھم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین واذا اردت بعبادک فتنۃ ان تقبضنی الیک غیر مفتون) یعنی یا اللہ میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں کھانا کھلانا سلام پھیلانا لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا اسی کی مثل روایت سورة ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گذر چکی ہے ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لئے پیدل چلنے کے قدم ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار میں نے کہا یا اللہ تو نے حضرت ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا اور حضرت موسیٰ کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا ؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے ؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کردیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ اس کی اسناد ضعیف ہے اوپر عتبہ بن ابو لہب کا یہ کہنا کہ میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا اور پھر حضور ﷺ کا اس کے لئے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہوچکا ہے یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہوگا۔ پھر آنحضرت ﷺ کا حضرت جبرائیل کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورة سبحٰن کی شروع آیت کی تفسیر میں گذر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں یہ بھی بیان گذر چکا ہے کہ حضرت ابن عباس معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دورے بھی اس کے خلاف ہیں حضور ﷺ کا جبرائیل کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گذر چکی ہیں حضرت عائشہ سے حضرت مسروق کا پوچھنا اور آپ کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ صدیقہ اپنے اس جواب کے بعد آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) ، کی تلاوت کی اور آیت (مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ للنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ 79؀ۙ) 3۔ آل عمران :79) کی بھی تلاوت فرمائی یعنی کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ آنحضرت ﷺ کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا پھر آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ 34؀) 31۔ لقمان :34) آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ حضور ﷺ نے اللہ کی کسی بات کو چھپالیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت (یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) پڑھی یعنی اے رسول ﷺ جو تمہاری جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ہاں آپ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسروق نے حضرت عائشہ کے سامنے سورة نجم کی آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) اور (وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى 13 ۙ) 53۔ النجم :13) پڑھیں اس کے جواب میں ام المومنین حضرت عائشہ نے فرمایا اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی ﷺ سے میں نے سوال کیا تھا آپ نے فرمایا اس سے مراد میرا حضرت جبرائیل کو دیکھنا ہے آپ نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن شفیق نے حضرت ابوذر سے کہا کہ اگر میں حضور ﷺ کو دیکھتا تو آپ سے ایک بات ضرور پوچھتا حضرت ابوذر نے کہا کیا پوچھتے ؟ کہا یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے ؟ حضرت ابوذر نے فرمایا یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب سے کیا تھا آپ نے جواب دیا کہ میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا، صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ حضرت امام احمد فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں ابن ابی حاتم میں حضرت ابوذر سے منقول ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق اور حضرت ابوذر کے درمیان انقطاع ہے اور امام ابن جوزی فرماتے ہیں ممکن ہے حضرت ابوذر کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور حضور ﷺ نے اس وقت یہ جواب دیا ہو اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لئے کہ حضرت عائشہ کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چناچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے واللہ اعلم، حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں حضرت جبرائیل کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہی پر اس وقت فرشتے بہ کثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں معراج والی رات آنحضرت ﷺ سدرۃ المنتہی تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، حضور ﷺ کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورة بقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش (مسلم) ابوہریرہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہی پر فرشتے چھا رہے تھے وہاں جب حضور ﷺ پہنچے تو آپ سے کہا گیا کہ جو مانگنا ہو مانگو۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید یاقوت اور زبرجد کی تھیں آنحضرت ﷺ نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ ابن زید فرماتے ہیں حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا ؟ آپ نے فرمایا اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔ آپ کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے اسی کو ایک نظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے آیت (لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى 23؀ۚ) 20۔ طه :23) اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ حضور ﷺ نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا ابن مسعود کا قول گذر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل کو آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہی کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔

وَتَضْحَكُونَ وَلَا تَبْكُونَ

📘 " نذیر " کا مفہوم نذیر کہتے کسے ہیں یہ خوف اور ڈر سے آگاہ کرنے والے ہیں یعنی آنحضرت ﷺ آپ کی رسالت بھی ایسی ہی ہے جیسے آپ سے پہلے رسولوں کی رسالت تھی جیسے اور آیت میں ہے آیت (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ ۭ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ) 46۔ الأحقاف :9) یعنی میں کوئی نیا رسول تو ہوں نہیں رسالت مجھ سے شروع نہیں ہوئی بلکہ دنیا میں مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں قریب آنے والی کا وقت آئے گا یعنی قیامت قریب آگئی۔ نہ تو اسے کوئی دفع کرسکے نہ اس کے آنے کے صحیح وقت معین کا کسی کو علم ہے۔ نذیر عربی میں اسے کہتے ہیں مثلا ایک جماعت ہے جس میں سے ایک شخص نے کوئی ڈراؤنی چیز دیکھی اور اپنی قوم کو اس سے آگاہ کرتا ہے یعنی ڈر اور خوف سنانے والا جیسے اور آیت میں ہے آیت (اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ 46؀) 34۔ سبأ :46) میں تمہیں سخت عذاب سے مطلع کرنے والا ہوں حدیث میں ہے تمہیں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔ یعنی جس طرح کوئی شخص کسی برائی کو دیکھ لے کہ وہ قوم کے قریب پہنچ چکی ہے اور پھر جس حالت میں ہو اسی میں دوڑا بھاگا آجائے اور قوم کو دفعۃً متنبہ کر دے کہ دیکھو وہ بلا آرہی ہے فوراً تدارک کرلو اسی طرح قیامت کے ہولناک عذاب بھی لوگوں کی غفلت کی حالت میں ان سے بالکل قریب ہوگئے ہیں اور آنحضرت ﷺ ان عذابوں سے ہوشیار کر رہے ہیں جیسے اس کے بعد کی سورت میں ہے آیت (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) قیامت قریب آچکی مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگو گناہوں کو چھوٹا اور حقیر جاننے سے بچو سنو چھوٹے چھوٹے گناہوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک قافلہ کسی جگہ اترا سب ادھر ادھر چلے گئے اور لکڑیاں سمیٹ کر تھوڑی تھوڑی لے آئے تو چاہے ہر ایک کے پاس لکڑیاں کم کم ہیں لیکن جب وہ سب جمع کرلی جائیں تو ایک انبار لگ جاتا ہے جس سے دیگیں پک جائیں اسی طرح چھوٹے چھوٹے گناہ جمع ہو کر ڈھیر لگ جاتا ہے اور اچانک اس گنہگار کو پکڑ لیتا ہے اور ہلاک ہوجاتا ہے اور حدیث میں ہے میری اور قیامت کی مثال ایسی ہے پھر آپ نے اپنی شہادت کی اور درمیان کی انگلی اٹھا کر ان کا فاصلہ دکھایا میری اور قیامت کی مثال دو ساعتوں کی سی ہے میری اور آخرت کے دن کی مثال ٹھیک اسی طرح ہے جس طرح ایک قوم نے کسی شخص کو اطلاع لانے کے لئے بھیجا اس نے دشمن کے لشکر کو بالکل نزدیک کی کمین گاہ میں چھاپہ مارنے کے لئے تیار دیکھا یہاں تک کہ اسے ڈر لگا کہ میرے پہنچنے سے پہلے ہی کہیں یہ نہ پہنچ جائیں تو وہ ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور وہیں کپڑا ہلا ہلا کر انہیں اشارے سے بتادیا کہ خبردار ہوجاؤ دشمن سر پر موجود ہے پس میں ایسا ہی ڈرانے والا ہوں۔ اس حدیث کی شہادت میں اور بھی بہت سی حسن اور صحیح حدیثیں موجود ہیں۔ پھر مشرکین کے اس فعل پر انکار فرمایا کہ وہ قرآن سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق اور ہنسی کرنے لگتے ہیں چاہیے یہ تھا کہ مثل ایمان داروں کے اسے سن کر روتے عبرت حاصل کرتے جیسے مومنوں کی حالت بیان فرمائی کہ وہ اس کلام اللہ شریف کو سن کر روتے دھوتے سجدہ میں گرپڑتے ہیں اور خشوع وخضوع میں بڑھ جاتے ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں (سمد) گانے کو کہتے ہیں یہ یمنی لغت ہے آپ سے (سامدون) کے معنی اعراض کرنے والے اور تکبر کرنے والے بھی مروی ہیں حضرت علی اور حسن فرماتے ہیں غفلت کرنے والے۔ پھر اپنے بندوں کا حکم دیتا ہے کہ توحید و اخلاص کے پابند رہو خضوع، خلوص اور توحید کے ماننے والے بن جاؤ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے حضور ﷺ نے مسلمانوں نے مشرکوں نے اور جن و انس نے سورة النجم کے سجدے کے موقعہ پر سجدہ کیا مسند احمد میں ہے کہ مکہ میں رسول اللہ ﷺ نے سورة نجم پڑھی پس آپ نے سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی جو آپ کے پاس تھے راوی حدیث مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں میں نے اپنا سر اٹھایا اور سجدہ نہ کیا یہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اسلام کے بعد جس کسی کی زبانی اس سورة مبارکہ کی تلاوت سنتے سجدہ کرتے یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔

وَأَنْتُمْ سَامِدُونَ

📘 " نذیر " کا مفہوم نذیر کہتے کسے ہیں یہ خوف اور ڈر سے آگاہ کرنے والے ہیں یعنی آنحضرت ﷺ آپ کی رسالت بھی ایسی ہی ہے جیسے آپ سے پہلے رسولوں کی رسالت تھی جیسے اور آیت میں ہے آیت (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ ۭ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ) 46۔ الأحقاف :9) یعنی میں کوئی نیا رسول تو ہوں نہیں رسالت مجھ سے شروع نہیں ہوئی بلکہ دنیا میں مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں قریب آنے والی کا وقت آئے گا یعنی قیامت قریب آگئی۔ نہ تو اسے کوئی دفع کرسکے نہ اس کے آنے کے صحیح وقت معین کا کسی کو علم ہے۔ نذیر عربی میں اسے کہتے ہیں مثلا ایک جماعت ہے جس میں سے ایک شخص نے کوئی ڈراؤنی چیز دیکھی اور اپنی قوم کو اس سے آگاہ کرتا ہے یعنی ڈر اور خوف سنانے والا جیسے اور آیت میں ہے آیت (اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ 46؀) 34۔ سبأ :46) میں تمہیں سخت عذاب سے مطلع کرنے والا ہوں حدیث میں ہے تمہیں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔ یعنی جس طرح کوئی شخص کسی برائی کو دیکھ لے کہ وہ قوم کے قریب پہنچ چکی ہے اور پھر جس حالت میں ہو اسی میں دوڑا بھاگا آجائے اور قوم کو دفعۃً متنبہ کر دے کہ دیکھو وہ بلا آرہی ہے فوراً تدارک کرلو اسی طرح قیامت کے ہولناک عذاب بھی لوگوں کی غفلت کی حالت میں ان سے بالکل قریب ہوگئے ہیں اور آنحضرت ﷺ ان عذابوں سے ہوشیار کر رہے ہیں جیسے اس کے بعد کی سورت میں ہے آیت (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) قیامت قریب آچکی مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگو گناہوں کو چھوٹا اور حقیر جاننے سے بچو سنو چھوٹے چھوٹے گناہوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک قافلہ کسی جگہ اترا سب ادھر ادھر چلے گئے اور لکڑیاں سمیٹ کر تھوڑی تھوڑی لے آئے تو چاہے ہر ایک کے پاس لکڑیاں کم کم ہیں لیکن جب وہ سب جمع کرلی جائیں تو ایک انبار لگ جاتا ہے جس سے دیگیں پک جائیں اسی طرح چھوٹے چھوٹے گناہ جمع ہو کر ڈھیر لگ جاتا ہے اور اچانک اس گنہگار کو پکڑ لیتا ہے اور ہلاک ہوجاتا ہے اور حدیث میں ہے میری اور قیامت کی مثال ایسی ہے پھر آپ نے اپنی شہادت کی اور درمیان کی انگلی اٹھا کر ان کا فاصلہ دکھایا میری اور قیامت کی مثال دو ساعتوں کی سی ہے میری اور آخرت کے دن کی مثال ٹھیک اسی طرح ہے جس طرح ایک قوم نے کسی شخص کو اطلاع لانے کے لئے بھیجا اس نے دشمن کے لشکر کو بالکل نزدیک کی کمین گاہ میں چھاپہ مارنے کے لئے تیار دیکھا یہاں تک کہ اسے ڈر لگا کہ میرے پہنچنے سے پہلے ہی کہیں یہ نہ پہنچ جائیں تو وہ ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور وہیں کپڑا ہلا ہلا کر انہیں اشارے سے بتادیا کہ خبردار ہوجاؤ دشمن سر پر موجود ہے پس میں ایسا ہی ڈرانے والا ہوں۔ اس حدیث کی شہادت میں اور بھی بہت سی حسن اور صحیح حدیثیں موجود ہیں۔ پھر مشرکین کے اس فعل پر انکار فرمایا کہ وہ قرآن سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق اور ہنسی کرنے لگتے ہیں چاہیے یہ تھا کہ مثل ایمان داروں کے اسے سن کر روتے عبرت حاصل کرتے جیسے مومنوں کی حالت بیان فرمائی کہ وہ اس کلام اللہ شریف کو سن کر روتے دھوتے سجدہ میں گرپڑتے ہیں اور خشوع وخضوع میں بڑھ جاتے ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں (سمد) گانے کو کہتے ہیں یہ یمنی لغت ہے آپ سے (سامدون) کے معنی اعراض کرنے والے اور تکبر کرنے والے بھی مروی ہیں حضرت علی اور حسن فرماتے ہیں غفلت کرنے والے۔ پھر اپنے بندوں کا حکم دیتا ہے کہ توحید و اخلاص کے پابند رہو خضوع، خلوص اور توحید کے ماننے والے بن جاؤ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے حضور ﷺ نے مسلمانوں نے مشرکوں نے اور جن و انس نے سورة النجم کے سجدے کے موقعہ پر سجدہ کیا مسند احمد میں ہے کہ مکہ میں رسول اللہ ﷺ نے سورة نجم پڑھی پس آپ نے سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی جو آپ کے پاس تھے راوی حدیث مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں میں نے اپنا سر اٹھایا اور سجدہ نہ کیا یہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اسلام کے بعد جس کسی کی زبانی اس سورة مبارکہ کی تلاوت سنتے سجدہ کرتے یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔

فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا ۩

📘 " نذیر " کا مفہوم نذیر کہتے کسے ہیں یہ خوف اور ڈر سے آگاہ کرنے والے ہیں یعنی آنحضرت ﷺ آپ کی رسالت بھی ایسی ہی ہے جیسے آپ سے پہلے رسولوں کی رسالت تھی جیسے اور آیت میں ہے آیت (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ ۭ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ) 46۔ الأحقاف :9) یعنی میں کوئی نیا رسول تو ہوں نہیں رسالت مجھ سے شروع نہیں ہوئی بلکہ دنیا میں مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں قریب آنے والی کا وقت آئے گا یعنی قیامت قریب آگئی۔ نہ تو اسے کوئی دفع کرسکے نہ اس کے آنے کے صحیح وقت معین کا کسی کو علم ہے۔ نذیر عربی میں اسے کہتے ہیں مثلا ایک جماعت ہے جس میں سے ایک شخص نے کوئی ڈراؤنی چیز دیکھی اور اپنی قوم کو اس سے آگاہ کرتا ہے یعنی ڈر اور خوف سنانے والا جیسے اور آیت میں ہے آیت (اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ 46؀) 34۔ سبأ :46) میں تمہیں سخت عذاب سے مطلع کرنے والا ہوں حدیث میں ہے تمہیں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔ یعنی جس طرح کوئی شخص کسی برائی کو دیکھ لے کہ وہ قوم کے قریب پہنچ چکی ہے اور پھر جس حالت میں ہو اسی میں دوڑا بھاگا آجائے اور قوم کو دفعۃً متنبہ کر دے کہ دیکھو وہ بلا آرہی ہے فوراً تدارک کرلو اسی طرح قیامت کے ہولناک عذاب بھی لوگوں کی غفلت کی حالت میں ان سے بالکل قریب ہوگئے ہیں اور آنحضرت ﷺ ان عذابوں سے ہوشیار کر رہے ہیں جیسے اس کے بعد کی سورت میں ہے آیت (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) قیامت قریب آچکی مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگو گناہوں کو چھوٹا اور حقیر جاننے سے بچو سنو چھوٹے چھوٹے گناہوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک قافلہ کسی جگہ اترا سب ادھر ادھر چلے گئے اور لکڑیاں سمیٹ کر تھوڑی تھوڑی لے آئے تو چاہے ہر ایک کے پاس لکڑیاں کم کم ہیں لیکن جب وہ سب جمع کرلی جائیں تو ایک انبار لگ جاتا ہے جس سے دیگیں پک جائیں اسی طرح چھوٹے چھوٹے گناہ جمع ہو کر ڈھیر لگ جاتا ہے اور اچانک اس گنہگار کو پکڑ لیتا ہے اور ہلاک ہوجاتا ہے اور حدیث میں ہے میری اور قیامت کی مثال ایسی ہے پھر آپ نے اپنی شہادت کی اور درمیان کی انگلی اٹھا کر ان کا فاصلہ دکھایا میری اور قیامت کی مثال دو ساعتوں کی سی ہے میری اور آخرت کے دن کی مثال ٹھیک اسی طرح ہے جس طرح ایک قوم نے کسی شخص کو اطلاع لانے کے لئے بھیجا اس نے دشمن کے لشکر کو بالکل نزدیک کی کمین گاہ میں چھاپہ مارنے کے لئے تیار دیکھا یہاں تک کہ اسے ڈر لگا کہ میرے پہنچنے سے پہلے ہی کہیں یہ نہ پہنچ جائیں تو وہ ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور وہیں کپڑا ہلا ہلا کر انہیں اشارے سے بتادیا کہ خبردار ہوجاؤ دشمن سر پر موجود ہے پس میں ایسا ہی ڈرانے والا ہوں۔ اس حدیث کی شہادت میں اور بھی بہت سی حسن اور صحیح حدیثیں موجود ہیں۔ پھر مشرکین کے اس فعل پر انکار فرمایا کہ وہ قرآن سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق اور ہنسی کرنے لگتے ہیں چاہیے یہ تھا کہ مثل ایمان داروں کے اسے سن کر روتے عبرت حاصل کرتے جیسے مومنوں کی حالت بیان فرمائی کہ وہ اس کلام اللہ شریف کو سن کر روتے دھوتے سجدہ میں گرپڑتے ہیں اور خشوع وخضوع میں بڑھ جاتے ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں (سمد) گانے کو کہتے ہیں یہ یمنی لغت ہے آپ سے (سامدون) کے معنی اعراض کرنے والے اور تکبر کرنے والے بھی مروی ہیں حضرت علی اور حسن فرماتے ہیں غفلت کرنے والے۔ پھر اپنے بندوں کا حکم دیتا ہے کہ توحید و اخلاص کے پابند رہو خضوع، خلوص اور توحید کے ماننے والے بن جاؤ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے حضور ﷺ نے مسلمانوں نے مشرکوں نے اور جن و انس نے سورة النجم کے سجدے کے موقعہ پر سجدہ کیا مسند احمد میں ہے کہ مکہ میں رسول اللہ ﷺ نے سورة نجم پڑھی پس آپ نے سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی جو آپ کے پاس تھے راوی حدیث مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں میں نے اپنا سر اٹھایا اور سجدہ نہ کیا یہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اسلام کے بعد جس کسی کی زبانی اس سورة مبارکہ کی تلاوت سنتے سجدہ کرتے یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔

وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ

📘 تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40؀ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ کو لے کر حضرت جبرائیل اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) کا امام ابن جریر نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل اور آنحضرت ﷺ دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے امام ابن جریر کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہوسکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لئے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے آپ کی طرف جبرائیل اترے تھے اور قریب ہوگئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اسکے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہی کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔ یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) کی چند آیتیں آپ پر نازل ہوچکی تھیں پھر وحی بند ہوگئی تھی جس کا حضور ﷺ کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے حضرت جبرائیل کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد ﷺ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ کا غم غلط ہوجاتا دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہوجاتا واپس چلے آتے۔ لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامنگیر ہوتا اور وحی الہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح حضرت جبرائیل تسکین و تسلی کردیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں حضرت جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوگئے چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لئے تھے اب آپ سے قریب آگئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ کو پہنچائی اس وقت حضور ﷺ کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔ مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر کے قول کی تائید میں پیش ہوسکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں، امام احمد فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابو حاتم رازی کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جاسکتی ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو اس میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں ایک میں تو حضرت جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا میں نے دیکھا کہ حضرت جبرائیل اس وقت ہیبت الہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے جبرائیل ﷺ سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں حضرت جبرائیل نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے آپ نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ بیہوش ہوگئے جبرائیل فوراً آئے اور آپ کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو لہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد ﷺ کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چناچہ یہ آیا اور کہا اے محمد جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آگیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بےادب تھا اور بار بار گستاخی سے پیش آتا تھا) حضور ﷺ کی زبان سے اس کے لئے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے، یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہوگیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سرزمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا راہب نے ان سے کہا یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آگئے ؟ ابو لہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لئے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو لوگوں نے اسے منظور کرلیا یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابو لہب کہنے لگا اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد ﷺ کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ پھر فرماتا ہے کہ حضرت جبرائیل آنحضرت ﷺ سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ حضور ﷺ کے اور حضرت جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہوگئی یہاں لفظ (او) جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لئے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لئے جیسے اور جگہ ہے پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74؀) 2۔ البقرة :74) بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت یعنی پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں ایک اور فرمان ہے وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77؀) 4۔ النسآء :77) بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور جگہ ہے ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردد کے لئے نہیں خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہوسکتا۔ یہ قریب آنے والے حضرت جبرائیل تھے جیسے ام المومنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) میں ہے۔ حضرت انس والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لئے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہوجائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہوگی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جاسکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا ہے پس یہ سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں نبی ﷺ کی ابتداء نبوت کے وقت آپ نے خواب میں حضرت جبرائیل کو دیکھا پھر آپ اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لئے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہرچند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ نے اوپر کی طرف دیکھا تو دیکھا کہ حضرت جبرائیل اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ حضور دہشت زدہ ہوجائیں کہ فرشتے نے کہا میں جبرائیل ہوں میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں لیکن حضور ﷺ سے ضبط نہ ہوسکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر حضرت جبرائیل اسی طرح نظر آئے آپ پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آگئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل پر دو ریشمی حلے تھے پھر فرمایا اس نے وحی کی اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ حضرت جبرائیل نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت (اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى ۠) 93۔ الضحی :6) اور آیت (وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ۭ) 94۔ الشرح :4) تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی۔ کہ نبیوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ آپ اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہوجائے، ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے حضرت ابن مسعود نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ نے اپنے دل سے دیکھا جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے اس لئے کہ صحابہ سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں، امام بغوی فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جیسے حضرت انس، حضرت حسن اور حضرت عکرمہ ان کے اس قول میں نظر ہے واللہ اعلم۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں میں نے یہ سن کر کہا پھر یہ آیت کہاں جائے گا جس میں فرمان ہے آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) اسے کوئی نگاہ نہیں پاسکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ یہ حدیث غریب ہے ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ ابن عباس کی ملاقات حضرت کعب سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گذرا ابن عباس نے فرمایا ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو حضرت کعب نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ کے درمیان تقسیم کردیا حضرت موسیٰ سے دو مرتبہ باتیں کیں اور آنحضرت کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ حضرت مسروق حضرت عائشہ کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میں نے کہا مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ نے فرمایا کہاں جا رہے ہو ؟ سنو اس سے مراد حضرت جبرائیل کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد نے اپنے رب کو دیکھا یا حضور ﷺ نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپالیا یا آپ ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہوگی ؟ بارش کب اور کتنی برسے گی ؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ ؟ کون کل کیا کرے گا ؟ کون کہاں مرے گا ؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا بات یہ ہے کہ آپ نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین کو دیکھا تھا آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہی کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت حضرت ابراہیم کے لئے تھی اور کلام حضرت موسیٰ کے لئے اور دیدار حضرت محمد ﷺ کے لئے صحیح مسلم میں حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا وہ سراسر نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ؟ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ کے اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ؀) 53۔ النجم :11) پڑھی۔ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) پڑھی حضرت عکرمہ سے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ؀) 53۔ النجم :11) کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ہاں آپ نے دیکھا اور پھر دیکھا سائل نے پھر حضرت حسن سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ حضور ﷺ سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا یہ حدیث بھی بہت غریب ہے ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے چناچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا اے محمد ﷺ جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہوگئی پھر مجھ سے وہی سوال کیا میں نے کہا اب مجھے معلوم ہوگیا وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا اچھا پھر تم بھی بتاؤ کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں مسجدوں میں رکے رہنا جماعت کے لئے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گذرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گذارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہوگا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہوجائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا اے محمد ﷺ جب نماز پڑھو یہ کہو (اللھم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین واذا اردت بعبادک فتنۃ ان تقبضنی الیک غیر مفتون) یعنی یا اللہ میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں کھانا کھلانا سلام پھیلانا لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا اسی کی مثل روایت سورة ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گذر چکی ہے ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لئے پیدل چلنے کے قدم ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار میں نے کہا یا اللہ تو نے حضرت ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا اور حضرت موسیٰ کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا ؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے ؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کردیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ اس کی اسناد ضعیف ہے اوپر عتبہ بن ابو لہب کا یہ کہنا کہ میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا اور پھر حضور ﷺ کا اس کے لئے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہوچکا ہے یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہوگا۔ پھر آنحضرت ﷺ کا حضرت جبرائیل کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورة سبحٰن کی شروع آیت کی تفسیر میں گذر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں یہ بھی بیان گذر چکا ہے کہ حضرت ابن عباس معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دورے بھی اس کے خلاف ہیں حضور ﷺ کا جبرائیل کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گذر چکی ہیں حضرت عائشہ سے حضرت مسروق کا پوچھنا اور آپ کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ صدیقہ اپنے اس جواب کے بعد آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) ، کی تلاوت کی اور آیت (مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ للنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ 79؀ۙ) 3۔ آل عمران :79) کی بھی تلاوت فرمائی یعنی کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ آنحضرت ﷺ کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا پھر آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ 34؀) 31۔ لقمان :34) آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ حضور ﷺ نے اللہ کی کسی بات کو چھپالیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت (یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) پڑھی یعنی اے رسول ﷺ جو تمہاری جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ہاں آپ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسروق نے حضرت عائشہ کے سامنے سورة نجم کی آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) اور (وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى 13 ۙ) 53۔ النجم :13) پڑھیں اس کے جواب میں ام المومنین حضرت عائشہ نے فرمایا اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی ﷺ سے میں نے سوال کیا تھا آپ نے فرمایا اس سے مراد میرا حضرت جبرائیل کو دیکھنا ہے آپ نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن شفیق نے حضرت ابوذر سے کہا کہ اگر میں حضور ﷺ کو دیکھتا تو آپ سے ایک بات ضرور پوچھتا حضرت ابوذر نے کہا کیا پوچھتے ؟ کہا یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے ؟ حضرت ابوذر نے فرمایا یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب سے کیا تھا آپ نے جواب دیا کہ میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا، صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ حضرت امام احمد فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں ابن ابی حاتم میں حضرت ابوذر سے منقول ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق اور حضرت ابوذر کے درمیان انقطاع ہے اور امام ابن جوزی فرماتے ہیں ممکن ہے حضرت ابوذر کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور حضور ﷺ نے اس وقت یہ جواب دیا ہو اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لئے کہ حضرت عائشہ کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چناچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے واللہ اعلم، حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں حضرت جبرائیل کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہی پر اس وقت فرشتے بہ کثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں معراج والی رات آنحضرت ﷺ سدرۃ المنتہی تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، حضور ﷺ کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورة بقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش (مسلم) ابوہریرہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہی پر فرشتے چھا رہے تھے وہاں جب حضور ﷺ پہنچے تو آپ سے کہا گیا کہ جو مانگنا ہو مانگو۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید یاقوت اور زبرجد کی تھیں آنحضرت ﷺ نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ ابن زید فرماتے ہیں حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا ؟ آپ نے فرمایا اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔ آپ کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے اسی کو ایک نظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے آیت (لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى 23؀ۚ) 20۔ طه :23) اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ حضور ﷺ نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا ابن مسعود کا قول گذر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل کو آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہی کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ

📘 تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40؀ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ کو لے کر حضرت جبرائیل اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) کا امام ابن جریر نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل اور آنحضرت ﷺ دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے امام ابن جریر کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہوسکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لئے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے آپ کی طرف جبرائیل اترے تھے اور قریب ہوگئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اسکے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہی کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔ یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) کی چند آیتیں آپ پر نازل ہوچکی تھیں پھر وحی بند ہوگئی تھی جس کا حضور ﷺ کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے حضرت جبرائیل کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد ﷺ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ کا غم غلط ہوجاتا دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہوجاتا واپس چلے آتے۔ لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامنگیر ہوتا اور وحی الہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح حضرت جبرائیل تسکین و تسلی کردیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں حضرت جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوگئے چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لئے تھے اب آپ سے قریب آگئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ کو پہنچائی اس وقت حضور ﷺ کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔ مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر کے قول کی تائید میں پیش ہوسکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں، امام احمد فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابو حاتم رازی کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جاسکتی ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو اس میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں ایک میں تو حضرت جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا میں نے دیکھا کہ حضرت جبرائیل اس وقت ہیبت الہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے جبرائیل ﷺ سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں حضرت جبرائیل نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے آپ نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ بیہوش ہوگئے جبرائیل فوراً آئے اور آپ کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو لہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد ﷺ کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چناچہ یہ آیا اور کہا اے محمد جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آگیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بےادب تھا اور بار بار گستاخی سے پیش آتا تھا) حضور ﷺ کی زبان سے اس کے لئے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے، یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہوگیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سرزمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا راہب نے ان سے کہا یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آگئے ؟ ابو لہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لئے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو لوگوں نے اسے منظور کرلیا یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابو لہب کہنے لگا اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد ﷺ کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ پھر فرماتا ہے کہ حضرت جبرائیل آنحضرت ﷺ سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ حضور ﷺ کے اور حضرت جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہوگئی یہاں لفظ (او) جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لئے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لئے جیسے اور جگہ ہے پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74؀) 2۔ البقرة :74) بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت یعنی پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں ایک اور فرمان ہے وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77؀) 4۔ النسآء :77) بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور جگہ ہے ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردد کے لئے نہیں خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہوسکتا۔ یہ قریب آنے والے حضرت جبرائیل تھے جیسے ام المومنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) میں ہے۔ حضرت انس والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لئے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہوجائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہوگی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جاسکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا ہے پس یہ سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں نبی ﷺ کی ابتداء نبوت کے وقت آپ نے خواب میں حضرت جبرائیل کو دیکھا پھر آپ اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لئے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہرچند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ نے اوپر کی طرف دیکھا تو دیکھا کہ حضرت جبرائیل اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ حضور دہشت زدہ ہوجائیں کہ فرشتے نے کہا میں جبرائیل ہوں میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں لیکن حضور ﷺ سے ضبط نہ ہوسکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر حضرت جبرائیل اسی طرح نظر آئے آپ پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آگئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل پر دو ریشمی حلے تھے پھر فرمایا اس نے وحی کی اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ حضرت جبرائیل نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت (اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى ۠) 93۔ الضحی :6) اور آیت (وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ۭ) 94۔ الشرح :4) تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی۔ کہ نبیوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ آپ اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہوجائے، ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے حضرت ابن مسعود نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ نے اپنے دل سے دیکھا جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے اس لئے کہ صحابہ سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں، امام بغوی فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جیسے حضرت انس، حضرت حسن اور حضرت عکرمہ ان کے اس قول میں نظر ہے واللہ اعلم۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں میں نے یہ سن کر کہا پھر یہ آیت کہاں جائے گا جس میں فرمان ہے آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) اسے کوئی نگاہ نہیں پاسکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ یہ حدیث غریب ہے ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ ابن عباس کی ملاقات حضرت کعب سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گذرا ابن عباس نے فرمایا ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو حضرت کعب نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ کے درمیان تقسیم کردیا حضرت موسیٰ سے دو مرتبہ باتیں کیں اور آنحضرت کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ حضرت مسروق حضرت عائشہ کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میں نے کہا مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ نے فرمایا کہاں جا رہے ہو ؟ سنو اس سے مراد حضرت جبرائیل کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد نے اپنے رب کو دیکھا یا حضور ﷺ نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپالیا یا آپ ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہوگی ؟ بارش کب اور کتنی برسے گی ؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ ؟ کون کل کیا کرے گا ؟ کون کہاں مرے گا ؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا بات یہ ہے کہ آپ نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین کو دیکھا تھا آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہی کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت حضرت ابراہیم کے لئے تھی اور کلام حضرت موسیٰ کے لئے اور دیدار حضرت محمد ﷺ کے لئے صحیح مسلم میں حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا وہ سراسر نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ؟ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ کے اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ؀) 53۔ النجم :11) پڑھی۔ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) پڑھی حضرت عکرمہ سے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ؀) 53۔ النجم :11) کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ہاں آپ نے دیکھا اور پھر دیکھا سائل نے پھر حضرت حسن سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ حضور ﷺ سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا یہ حدیث بھی بہت غریب ہے ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے چناچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا اے محمد ﷺ جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہوگئی پھر مجھ سے وہی سوال کیا میں نے کہا اب مجھے معلوم ہوگیا وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا اچھا پھر تم بھی بتاؤ کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں مسجدوں میں رکے رہنا جماعت کے لئے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گذرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گذارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہوگا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہوجائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا اے محمد ﷺ جب نماز پڑھو یہ کہو (اللھم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین واذا اردت بعبادک فتنۃ ان تقبضنی الیک غیر مفتون) یعنی یا اللہ میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں کھانا کھلانا سلام پھیلانا لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا اسی کی مثل روایت سورة ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گذر چکی ہے ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لئے پیدل چلنے کے قدم ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار میں نے کہا یا اللہ تو نے حضرت ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا اور حضرت موسیٰ کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا ؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے ؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کردیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ اس کی اسناد ضعیف ہے اوپر عتبہ بن ابو لہب کا یہ کہنا کہ میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا اور پھر حضور ﷺ کا اس کے لئے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہوچکا ہے یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہوگا۔ پھر آنحضرت ﷺ کا حضرت جبرائیل کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورة سبحٰن کی شروع آیت کی تفسیر میں گذر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں یہ بھی بیان گذر چکا ہے کہ حضرت ابن عباس معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دورے بھی اس کے خلاف ہیں حضور ﷺ کا جبرائیل کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گذر چکی ہیں حضرت عائشہ سے حضرت مسروق کا پوچھنا اور آپ کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ صدیقہ اپنے اس جواب کے بعد آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) ، کی تلاوت کی اور آیت (مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ للنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ 79؀ۙ) 3۔ آل عمران :79) کی بھی تلاوت فرمائی یعنی کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ آنحضرت ﷺ کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا پھر آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ 34؀) 31۔ لقمان :34) آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ حضور ﷺ نے اللہ کی کسی بات کو چھپالیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت (یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) پڑھی یعنی اے رسول ﷺ جو تمہاری جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ہاں آپ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسروق نے حضرت عائشہ کے سامنے سورة نجم کی آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) اور (وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى 13 ۙ) 53۔ النجم :13) پڑھیں اس کے جواب میں ام المومنین حضرت عائشہ نے فرمایا اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی ﷺ سے میں نے سوال کیا تھا آپ نے فرمایا اس سے مراد میرا حضرت جبرائیل کو دیکھنا ہے آپ نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن شفیق نے حضرت ابوذر سے کہا کہ اگر میں حضور ﷺ کو دیکھتا تو آپ سے ایک بات ضرور پوچھتا حضرت ابوذر نے کہا کیا پوچھتے ؟ کہا یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے ؟ حضرت ابوذر نے فرمایا یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب سے کیا تھا آپ نے جواب دیا کہ میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا، صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ حضرت امام احمد فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں ابن ابی حاتم میں حضرت ابوذر سے منقول ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق اور حضرت ابوذر کے درمیان انقطاع ہے اور امام ابن جوزی فرماتے ہیں ممکن ہے حضرت ابوذر کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور حضور ﷺ نے اس وقت یہ جواب دیا ہو اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لئے کہ حضرت عائشہ کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چناچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے واللہ اعلم، حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں حضرت جبرائیل کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہی پر اس وقت فرشتے بہ کثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں معراج والی رات آنحضرت ﷺ سدرۃ المنتہی تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، حضور ﷺ کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورة بقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش (مسلم) ابوہریرہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہی پر فرشتے چھا رہے تھے وہاں جب حضور ﷺ پہنچے تو آپ سے کہا گیا کہ جو مانگنا ہو مانگو۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید یاقوت اور زبرجد کی تھیں آنحضرت ﷺ نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ ابن زید فرماتے ہیں حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا ؟ آپ نے فرمایا اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔ آپ کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے اسی کو ایک نظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے آیت (لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى 23؀ۚ) 20۔ طه :23) اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ حضور ﷺ نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا ابن مسعود کا قول گذر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل کو آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہی کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔

فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ

📘 تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40؀ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ کو لے کر حضرت جبرائیل اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) کا امام ابن جریر نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل اور آنحضرت ﷺ دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے امام ابن جریر کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہوسکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لئے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے آپ کی طرف جبرائیل اترے تھے اور قریب ہوگئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اسکے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہی کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔ یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) کی چند آیتیں آپ پر نازل ہوچکی تھیں پھر وحی بند ہوگئی تھی جس کا حضور ﷺ کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے حضرت جبرائیل کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد ﷺ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ کا غم غلط ہوجاتا دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہوجاتا واپس چلے آتے۔ لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامنگیر ہوتا اور وحی الہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح حضرت جبرائیل تسکین و تسلی کردیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں حضرت جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوگئے چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لئے تھے اب آپ سے قریب آگئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ کو پہنچائی اس وقت حضور ﷺ کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔ مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر کے قول کی تائید میں پیش ہوسکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں، امام احمد فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابو حاتم رازی کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جاسکتی ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو اس میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں ایک میں تو حضرت جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا میں نے دیکھا کہ حضرت جبرائیل اس وقت ہیبت الہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے جبرائیل ﷺ سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں حضرت جبرائیل نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے آپ نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ بیہوش ہوگئے جبرائیل فوراً آئے اور آپ کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو لہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد ﷺ کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چناچہ یہ آیا اور کہا اے محمد جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آگیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بےادب تھا اور بار بار گستاخی سے پیش آتا تھا) حضور ﷺ کی زبان سے اس کے لئے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے، یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہوگیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سرزمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا راہب نے ان سے کہا یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آگئے ؟ ابو لہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لئے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو لوگوں نے اسے منظور کرلیا یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابو لہب کہنے لگا اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد ﷺ کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ پھر فرماتا ہے کہ حضرت جبرائیل آنحضرت ﷺ سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ حضور ﷺ کے اور حضرت جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہوگئی یہاں لفظ (او) جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لئے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لئے جیسے اور جگہ ہے پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74؀) 2۔ البقرة :74) بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت یعنی پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں ایک اور فرمان ہے وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77؀) 4۔ النسآء :77) بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور جگہ ہے ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردد کے لئے نہیں خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہوسکتا۔ یہ قریب آنے والے حضرت جبرائیل تھے جیسے ام المومنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) میں ہے۔ حضرت انس والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لئے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہوجائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہوگی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جاسکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا ہے پس یہ سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں نبی ﷺ کی ابتداء نبوت کے وقت آپ نے خواب میں حضرت جبرائیل کو دیکھا پھر آپ اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لئے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہرچند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ نے اوپر کی طرف دیکھا تو دیکھا کہ حضرت جبرائیل اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ حضور دہشت زدہ ہوجائیں کہ فرشتے نے کہا میں جبرائیل ہوں میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں لیکن حضور ﷺ سے ضبط نہ ہوسکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر حضرت جبرائیل اسی طرح نظر آئے آپ پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آگئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل پر دو ریشمی حلے تھے پھر فرمایا اس نے وحی کی اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ حضرت جبرائیل نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت (اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى ۠) 93۔ الضحی :6) اور آیت (وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ۭ) 94۔ الشرح :4) تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی۔ کہ نبیوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ آپ اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہوجائے، ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے حضرت ابن مسعود نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ نے اپنے دل سے دیکھا جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے اس لئے کہ صحابہ سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں، امام بغوی فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جیسے حضرت انس، حضرت حسن اور حضرت عکرمہ ان کے اس قول میں نظر ہے واللہ اعلم۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں میں نے یہ سن کر کہا پھر یہ آیت کہاں جائے گا جس میں فرمان ہے آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) اسے کوئی نگاہ نہیں پاسکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ یہ حدیث غریب ہے ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ ابن عباس کی ملاقات حضرت کعب سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گذرا ابن عباس نے فرمایا ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو حضرت کعب نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ کے درمیان تقسیم کردیا حضرت موسیٰ سے دو مرتبہ باتیں کیں اور آنحضرت کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ حضرت مسروق حضرت عائشہ کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میں نے کہا مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ نے فرمایا کہاں جا رہے ہو ؟ سنو اس سے مراد حضرت جبرائیل کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد نے اپنے رب کو دیکھا یا حضور ﷺ نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپالیا یا آپ ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہوگی ؟ بارش کب اور کتنی برسے گی ؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ ؟ کون کل کیا کرے گا ؟ کون کہاں مرے گا ؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا بات یہ ہے کہ آپ نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین کو دیکھا تھا آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہی کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت حضرت ابراہیم کے لئے تھی اور کلام حضرت موسیٰ کے لئے اور دیدار حضرت محمد ﷺ کے لئے صحیح مسلم میں حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا وہ سراسر نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ؟ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ کے اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ؀) 53۔ النجم :11) پڑھی۔ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) پڑھی حضرت عکرمہ سے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ؀) 53۔ النجم :11) کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ہاں آپ نے دیکھا اور پھر دیکھا سائل نے پھر حضرت حسن سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ حضور ﷺ سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا یہ حدیث بھی بہت غریب ہے ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے چناچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا اے محمد ﷺ جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہوگئی پھر مجھ سے وہی سوال کیا میں نے کہا اب مجھے معلوم ہوگیا وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا اچھا پھر تم بھی بتاؤ کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں مسجدوں میں رکے رہنا جماعت کے لئے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گذرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گذارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہوگا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہوجائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا اے محمد ﷺ جب نماز پڑھو یہ کہو (اللھم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین واذا اردت بعبادک فتنۃ ان تقبضنی الیک غیر مفتون) یعنی یا اللہ میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں کھانا کھلانا سلام پھیلانا لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا اسی کی مثل روایت سورة ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گذر چکی ہے ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لئے پیدل چلنے کے قدم ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار میں نے کہا یا اللہ تو نے حضرت ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا اور حضرت موسیٰ کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا ؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے ؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کردیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ اس کی اسناد ضعیف ہے اوپر عتبہ بن ابو لہب کا یہ کہنا کہ میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا اور پھر حضور ﷺ کا اس کے لئے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہوچکا ہے یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہوگا۔ پھر آنحضرت ﷺ کا حضرت جبرائیل کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورة سبحٰن کی شروع آیت کی تفسیر میں گذر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں یہ بھی بیان گذر چکا ہے کہ حضرت ابن عباس معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دورے بھی اس کے خلاف ہیں حضور ﷺ کا جبرائیل کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گذر چکی ہیں حضرت عائشہ سے حضرت مسروق کا پوچھنا اور آپ کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ صدیقہ اپنے اس جواب کے بعد آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) ، کی تلاوت کی اور آیت (مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ للنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ 79؀ۙ) 3۔ آل عمران :79) کی بھی تلاوت فرمائی یعنی کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ آنحضرت ﷺ کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا پھر آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ 34؀) 31۔ لقمان :34) آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ حضور ﷺ نے اللہ کی کسی بات کو چھپالیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت (یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) پڑھی یعنی اے رسول ﷺ جو تمہاری جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ہاں آپ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسروق نے حضرت عائشہ کے سامنے سورة نجم کی آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) اور (وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى 13 ۙ) 53۔ النجم :13) پڑھیں اس کے جواب میں ام المومنین حضرت عائشہ نے فرمایا اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی ﷺ سے میں نے سوال کیا تھا آپ نے فرمایا اس سے مراد میرا حضرت جبرائیل کو دیکھنا ہے آپ نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن شفیق نے حضرت ابوذر سے کہا کہ اگر میں حضور ﷺ کو دیکھتا تو آپ سے ایک بات ضرور پوچھتا حضرت ابوذر نے کہا کیا پوچھتے ؟ کہا یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے ؟ حضرت ابوذر نے فرمایا یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب سے کیا تھا آپ نے جواب دیا کہ میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا، صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ حضرت امام احمد فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں ابن ابی حاتم میں حضرت ابوذر سے منقول ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق اور حضرت ابوذر کے درمیان انقطاع ہے اور امام ابن جوزی فرماتے ہیں ممکن ہے حضرت ابوذر کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور حضور ﷺ نے اس وقت یہ جواب دیا ہو اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لئے کہ حضرت عائشہ کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چناچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے واللہ اعلم، حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں حضرت جبرائیل کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہی پر اس وقت فرشتے بہ کثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں معراج والی رات آنحضرت ﷺ سدرۃ المنتہی تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، حضور ﷺ کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورة بقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش (مسلم) ابوہریرہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہی پر فرشتے چھا رہے تھے وہاں جب حضور ﷺ پہنچے تو آپ سے کہا گیا کہ جو مانگنا ہو مانگو۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید یاقوت اور زبرجد کی تھیں آنحضرت ﷺ نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ ابن زید فرماتے ہیں حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا ؟ آپ نے فرمایا اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔ آپ کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے اسی کو ایک نظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے آیت (لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى 23؀ۚ) 20۔ طه :23) اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ حضور ﷺ نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا ابن مسعود کا قول گذر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل کو آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہی کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔