WhatsApp Book A Free Trial
https://forums.brawlminus.net/ https://zadcourses.com/blog https://export.nabtah.net/
القائمة

🕋 تفسير الآية 111 من سورة سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Al-An'aam • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER

﴿ ۞ وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَآ إِلَيْهِمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ ٱلْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَىْءٍۢ قُبُلًۭا مَّا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوٓا۟ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ ﴾

“And even if We were to send down angels unto them, and if the dead were to speak unto them and [even if] We were to assemble before them, face to face, all the things [that can prove the truth], they would still not believe unless God so willed But [of this] most of them are entirely unaware.”

📝 التفسير:

فرماتا ہے کہ یہ کفار جو قسمیں کھا کھا کر تم سے کہتے ہیں کہ اگر کوئی معجزہ وہ دیکھ لیتے تو ضرور ایمان لے آتے۔ یہ غلط کہتے ہیں تمہیں ان کے ایمان لانے سے مایوس ہوجانا چاہیے۔ یہ کہتے ہیں کہ اگر فرشتے اتر تے تو ہم مان لیتے لیکن یہ بھی جھوٹ ہے فرشتوں کے آجانے پر بھی اور ان کے کہہ دینے پر بھی کہ یہ رسول برحق ہیں انہیں ایمان نصیب نہیں ہوگا، یہ صرف ایمان نہ لانے کے بہانے تراشتے ہیں کہ کبھی کہہ دیتے ہیں اللہ کو لے آ۔ کبھی کہتے ہیں فرشتوں کو لے آ۔ کبھی کہتے ہیں اگلے نبیوں جیسے معجزے لے آ، یہ سب حجت بازی اور حیلے حوالے ہیں، دلوں میں تکبر بھرا ہوا ہے زبان سے سرکشی اور برائی ظاہر کرتے ہیں، اگر مردے بھی قبروں سے اٹھ کر آجائیں اور کہہ دیں کہ یہ رسول برحق ہیں ان کے دلوں پر اس کا بھی کوئی اثر نہیں ہوگا (قُبلاً) کی دوسری قرأت (قبلاً) ہے جس کے معنی مقابلے اور معائنہ کے ہوتے ہیں ایک قول میں (قبلا) کے معنی بھی یہی بیان کئے گئے ہیں ہاں مجاہد سے مروی ہے کہ اس کے معنی گروہ گروہ کے ہیں ان کے سامنے اگر ایک امت آجاتی اور رسولوں کی ہدایت دے دے وہ جو کرنا چاہے کوئی اس سے پوچھ نہیں سکتا اور وہ چونکہ حاکم کل ہے ہر ایک سے باز پرس کرسکتا ہے وہ علیم و حکیم ہے، حاکم و غالب وقہار ہے اور آیت میں ہے (اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ) 10۔ یونس :96) یعنی جن لوگوں کے ذمہ کلمہ عذاب ثابت ہوگیا ہے وہ تمام تر نشانیاں دیکھتے ہوئے بھی ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ المناک عذاب نہ دیکھ لیں۔