Al-An'aam • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER
﴿ وَمَا لَكُمْ أَلَّا تَأْكُلُوا۟ مِمَّا ذُكِرَ ٱسْمُ ٱللَّهِ عَلَيْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا ٱضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ ۗ وَإِنَّ كَثِيرًۭا لَّيُضِلُّونَ بِأَهْوَآئِهِم بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُعْتَدِينَ ﴾
“And why should you not eat of that over which God's name has been pronounced, seeing that He has so clearly spelled out to you what He has forbidden you [to eat] unless you are compelled [to do so]? But, behold, [it is precisely in such matters that] many people lead others astray by their own errant views, without [having any real] knowledge. Verily, thy Sustainer is fully aware of those who transgress the bounds of what is right.”
صرف اللہ تعالیٰ کے نام کا ذبیحہ حلال باقی سب حرام حکم بیان ہو رہا ہے کہ جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح کیا جائے اسے کھالیا کرو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس جانور کے ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اس کا کھانا مباح نہیں، جیسے مشرکین از خود مرگیا ہو اور مردار جانور، بتوں اور تھالوں پر ذبح کیا ہوا جانور کھالیا کرتے تھے، کوئی وجہ نہیں کہ جن حلال جانوروں کو شریعت کے حکم کے مطابق ذبح کیا جائے اس کے کھانے میں حرج سمجھا جائے بالخصوص اس وقت کہ ہر حرام جانور کا بیان کھول کھول کردیا گیا ہے فصل کی دوسری قرأت فصل ہے وہ ہر ام جانور کھانے ممنوع ہیں سوائے مجبوری اور سخت بےبسی کے کہ اس وقت جو مل جائے اس کے کھا لینے کی اجازت ہے۔ پھر کافروں کی زیادتی بیان ہو رہی ہے کہ وہ مردار جانور کو اور ان جانوروں کو جن پر اللہ کے سوا دوسروں کے نام لئے گئے ہوں حلال جانتے تھے۔ یہ لوگ بلا علم صرف خواہش پرستی کر کے دوسروں کو بھی راہ حق سے ہٹا رہے ہیں۔ ایسوں کی افتراء پردازی دروغ بافی اور زیادتی کو اللہ بخوبی جانتا ہے۔