WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 159 من سورة سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Al-An'aam • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER

﴿ إِنَّ ٱلَّذِينَ فَرَّقُوا۟ دِينَهُمْ وَكَانُوا۟ شِيَعًۭا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِى شَىْءٍ ۚ إِنَّمَآ أَمْرُهُمْ إِلَى ٱللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا۟ يَفْعَلُونَ ﴾

“VERILY, as for those who have broken the unity of their faith and have become sects - thou hast nothing to do with them. Behold, their case rests with God: and in time He will make them understand what they were doing.”

📝 التفسير:

اہل بدعت گمراہ ہیں کہتے ہیں کہ یہ آیت یہود و نصاریٰ کے بارے میں اتری ہے۔ یہ لوگ حضور کی نبوت سے پہلے سخت اختلافات میں تھے جن کی خبر یہاں دی جا رہی ہے۔ ایک حدیث میں ہے شیئی تک اس آیت کی تلاوت فرما کر حضور نے فرمایا وہ بھی تجھ سے کوئی میل نہیں رکھتے۔ اس امت کے اہل بدعت شک شبہ والے اور گمراہی والے ہیں۔ اس حدیث کی سند صحیح نہیں۔ یعنی ممکن ہے یہ حضرت ابوہریرہ کا قول ہو۔ ابو امامہ فرماتے ہیں اس سے مراد خارجی ہیں۔ یہ بھی مرفوعاً مروی ہے لیکن صحیح نہیں۔ ایک اور غریب حدیث میں ہے حضور فرماتے ہیں مراد اس سے اہل بدعت ہے۔ اس کا بھی مرفوع ہونا صحیح نہیں۔ بات یہ ہے کہ آیت عام ہے جو بھی اللہ رسول کے دین کی مخالفت کرے اور اس میں پھوٹ اور افتراق پیدا کرے گمراہی کی اور خواہش پرستی کی پیروی کرے نیا دین اختیار کرے نیا مذہب قبول کرے وہی وعید میں داخل ہے کیونکہ حضور جس حق کو لے کر آئے ہیں وہ ایک ہی ہے کئی ایک نہیں۔ اللہ نے اپنے رسول کو فرقہ بندی سے بچایا ہے اور آپ کے دین کو بھی اس لعنت سے محفوظ رکھا ہے۔ اسی مضمون کی دوسری آیت (شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ) 42۔ الشوری:13) ہے ایک حدیث میں بھی ہے کہ ہم جماعت انبیاء علاقی بھائی ہیں۔ ہم سب کا دین ایک ہی ہے۔ پس صراط مستقیم اور دین پسندیدہ اللہ کی توحید اور رسولوں کی اتباع ہے اس کے خلاف جو ہو ضلالت جہالت رائے خواہش اور بد دینی ہے اور رسول اس سے بیزار ہیں ان کا معاملہ سپرد رب ہے وہی انہیں ان کے کرتوت سے آگاہ کرے گا جیسے اور آیت میں ہے کہ مومنوں، یہودیوں، صابیوں اور نصرانیوں میں مجوسیوں میں مشرکوں میں اللہ خود قیامت کے دن فیصلے کر دے گا اس کے بعد اپنے احسان حکم اور عدل کا بیان فرماتا ہے۔