WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 33 من سورة سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Al-A'raaf • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER

﴿ قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّىَ ٱلْفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَٱلْإِثْمَ وَٱلْبَغْىَ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ وَأَن تُشْرِكُوا۟ بِٱللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِۦ سُلْطَٰنًۭا وَأَن تَقُولُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ﴾

“Say: "Verily, my Sustainer has forbidden only shameful deeds, be they open or secret, and [every kind of] sinning, and unjustified envy, and the ascribing of divinity to aught beside Him - since He has never bestowed any warrant therefor from on high and the attributing unto God of aught of which you have no knowledge."”

📝 التفسير:

بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ سے زیادہ غیرت والا کوئی نہیں۔ سورة انعام میں چھپی کھلی بےحیائیوں کے متعلق پوری تفسیر گذر چکی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہر گناہ کو حرام کردیا ہے اور ناحق ظلم وتعدی، سرکشی اور غرور کو بھی اس نے حرام کیا ہے پس اثم سے مراد ہر وہ گناہ ہے جو انسان آپ کرے اور بغی سے مراد وہ گناہ ہے جس میں دوسرے کا نقصان کرے یا اس کی حق تلفی کرے۔ اسی طرح رب کی عبادت میں کسی کو شریک کرنا بھی حرام ہے اور ذات حق پر بہتان باندھنا بھی۔ مثلاً اس کی اولاد بتانا وغیرہ۔ خلاف واقعہ باتیں بھی جہالت کی باتیں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (فاجتنبوا الرجس من الا وثان) الخ، بتوں کی نجاست سے بچو، الخ۔