🕋 تفسير سورة الإنسان
(Al-Insan) • المصدر: UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ هَلْ أَتَىٰ عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا
📘 اے انسان اپنے فرائض پہچان اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے انسان کو پیدا کیا حالانکہ اس سے پہلے ہوا پانی حقارت اور ضعف کی وجہ سے ایسی چیز نہ تھا کہ ذکر کیا جائے، اسے مرد و عورت کے ملے جلے پانی سے پیدا کیا اور عجب عجب تبدیلیوں کے بعد یہ موجودہ شکل و صورت اور ہئیت پر آیا، اسے ہم آزما رہے ہیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭوَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ ۙ) 67۔ الملک :2) تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے عمل کرنے والا کون ہے ؟ پس اس نے تمہیں کان اور آنکھیں عطا فرمائیں تاکہ اطاعت اور معصیت میں تمیز کرسکو۔ ہم نے اسے راہ دکھا دی خوب واضح اور صاف کر کے اپنا سیدھا راستہ اس پر کھول دیا، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَيْنٰهُمْ فَاسْتَــحَبُّوا الْعَمٰى عَلَي الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 17ۚ) 41۔ فصلت :17) یعنی ثمودیوں کو ہم نے ہدایت کی لیکن انہوں نے اندھے پن کو ہدایت پر ترجیح دی اور جگہ ہے آیت (وَهَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ 10ۚ) 90۔ البلد :10) ہم نے انسان کو دونوں راہیں دکھا دیں، یعنی بھلائی برائی کی، اس آیت کی تفسیر میں مجاہد ابو صالح ضحاک اور سدی سے مروی ہے کہ اسے ہم نے راہ دکھائی یعنی ماں کے پیٹ سے باہر آنے کی، لیکن یہ قول غریب ہے اور صحیح قول پہلا ہی ہے اور جمہور سے یہی منقول ہے شاکراً اور کفوراً کا نصب حال کی وجہ سے ذوالحال لا کی ضمیر ہے جو آیت (اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا) 76۔ الإنسان :3) میں ہے، یعنی وہ اس حالت میں یا تو شقی ہے یا سعید ہے، جیسے صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ ہر شخص صبح کے وقت اپنے نفس کی خریدوفروخت کرتا ہے یا تو اسے ہلاک کردیتا ہے یا آزاد کرا لیتا ہے، مسند احمد میں ہے کہ حضرت کعب بن عجرہ ؓ سے آپ نے فرمایا اللہ تجھے بیوقوفوں کی سرداری سے بچائے حضرت کعب نے کہا یا رسول اللہ ﷺ وہ کیا ہے ؟ فرمایا وہ میرے بعد کے سردار ہوں گے جو میری سنتوں پر نہ عمل کریں گے نہ میرے طریقوں پر چلیں گے پس جو لوگ ان کی جھوٹ کی تصدیق کریں اور ان کے ظلم کی امداد کریں وہ نہ میرے ہیں اور نہ میں ان کا ہوں یاد رکھو وہ میرے حوض کوثر پر بھی نہیں آسکتے اور جو ان کے جھوٹ کو سچا نہ کرے اور ان کے ظلموں میں ان کا مددگار نہ بنے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں یہ لوگ میرے حوض کوثر پر مجھے ملیں گے اے کعب روزہ ڈھال ہے اور صدقہ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے اور نماز قرب اللہ کا سبب ہے یا فرمایا کہ دلیل نجات ہے۔ اے کعب وہ گوشت پوست جنت میں نہیں جاسکتا وہ حرام سے پلا ہو وہ تو جہنم میں ہی جانے کے قابل ہے، اے کعب لوگ ہر صبح اپنے نفس کی خریدو فروخت کرتے ہیں کوئی تو اسے آزاد کرا لیتا ہے اور کوئی ہلاک کر گذرتا ہے، سورة روم کی آیت (فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ ڎ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 30ڎ) 30۔ الروم :30) کی تفسیر میں حضرت جابر کی روایت سے حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی گذر چکا ہے کہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ زبان چلنے لگتی ہے پھر یا تو شکر گذار بنتا ہے یا ناشکرا، مسند احمد کی اور حدیث میں ہے کہ جو نکلنے والا نکلتا ہے اس کے دروازے پر دو جھنڈے ہوتے ہیں ایک فرشتے کے ہاتھ میں دوسرا شیطان کے ہاتھ میں پس اگر وہ اس کام کے لئے نکلا جو اللہ کی مرضی کا ہے تو فرشتہ اپنا جھنڈا لئے ہوئے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور یہ واپسی تک فرشتے کے جھنڈے تلے ہی رہتا ہے اور اگر اللہ کی ناراضگی کے کام کے لئے نکلا ہے تو شیطان اپنا جھنڈا لگائے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور واپسی تک یہ شیطانی جھنڈے تلے رہتا ہے۔
إِنَّا نَخَافُ مِنْ رَبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا
📘 زنجیریں طوق اور شعلے یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لئے زنجیریں طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے، جیسے اور جگہ ہے اذالاغلال فی اعنافھم والسلاسل یسحبون فی الحمیم ثم فی النار یسجرون جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ حمیم میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے، ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کا فور نامی نہر کے پانی کا ہوگا، ذائقہ بھی اعلیٰ ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کا فور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو، کا فور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لئے یہاں اسے " ب " سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر عیناً پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کا فور کے ہے یا یہ ٹھیک کا فور ہی ہے اور عیناً کا زبر یشرب کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی، تفجیر کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت حتی تفجرلنا میں اور فجرنا خلالھما میں۔ پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کرلیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔ حدیث میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے۔ امام بخاری نے اسے امام مالک کی روایت سے بیان فرمایا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑجائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے، استطار کے معنی ہی ہیں پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکو کار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور لا کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی باوجود طعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے واتی المال علی حبہ یعنی مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں اور فرمان ہے لن تنالوالبر حتی تنفقوا مما تحبون یعنی تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کرسکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو، حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ حضرت صفیہ نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آگیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں حضرت عبد اللہ نے فرمایا یہ سب اسی کو دے دو ، چناچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آگیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ حضرت صفیہ نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چناچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گے (بیہقی) اور صحیح حدیث میں ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں مال کی محبت امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے، یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔ یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں ؟ اس کا مفصل بیان پہلے گذر چکا ہے، قیدی کی نسبت حضرت سعید وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن ابن عباس وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ حضور ﷺ نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب کو فرمایا تھا کہ ان کا اکرام کرو چناچہ کھانے پینے میں صحابہ خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر ؒ بہ سبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفیٰ ﷺ کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو۔ یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کردیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہوجائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہوجائیں، حضرت سعید ؒ فرماتے ہیں اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو تنگ و تاریک اور طول طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بےکسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی، حضرت ابن عباس سے عبوس کے معنی تنگی والا اور قمطریر کے معنی طویل طویل مروی ہے، عکرمہ فرماتے ہیں کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہوگا، مجاہد فرماتے ہیں ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا، حضرت سعید اور حضرت قتادہ کا قول ہے کہ بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہوجائے گی، ابن زید فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہوگا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول حضرت ابن عباس کا ہے ؓ ، قمطریر کے لغوی معنی امام ابن جریر نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے اور جگہ ہے وجوہ یومئذ مستفرۃ ضاحکتہ مستبشرہ اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے، یہ ظار ہے کہ جب دل مسرور ہوگا تو چہرہ کھلا ہوا ہوگا، حضرت کعب بن مالک کی لمبی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے، حضرت عائشہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور کھڑے مبرک کی رگیں چمک رہی تھیں، الخ۔ پھر فرماتا ہے ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا، ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی کے سامنے اس سورت کی کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلا برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کردیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
فَوَقَاهُمُ اللَّهُ شَرَّ ذَٰلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا
📘 زنجیریں طوق اور شعلے یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لئے زنجیریں طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے، جیسے اور جگہ ہے اذالاغلال فی اعنافھم والسلاسل یسحبون فی الحمیم ثم فی النار یسجرون جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ حمیم میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے، ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کا فور نامی نہر کے پانی کا ہوگا، ذائقہ بھی اعلیٰ ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کا فور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو، کا فور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لئے یہاں اسے " ب " سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر عیناً پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کا فور کے ہے یا یہ ٹھیک کا فور ہی ہے اور عیناً کا زبر یشرب کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی، تفجیر کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت حتی تفجرلنا میں اور فجرنا خلالھما میں۔ پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کرلیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔ حدیث میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے۔ امام بخاری نے اسے امام مالک کی روایت سے بیان فرمایا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑجائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے، استطار کے معنی ہی ہیں پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکو کار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور لا کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی باوجود طعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے واتی المال علی حبہ یعنی مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں اور فرمان ہے لن تنالوالبر حتی تنفقوا مما تحبون یعنی تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کرسکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو، حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ حضرت صفیہ نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آگیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں حضرت عبد اللہ نے فرمایا یہ سب اسی کو دے دو ، چناچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آگیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ حضرت صفیہ نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چناچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گے (بیہقی) اور صحیح حدیث میں ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں مال کی محبت امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے، یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔ یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں ؟ اس کا مفصل بیان پہلے گذر چکا ہے، قیدی کی نسبت حضرت سعید وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن ابن عباس وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ حضور ﷺ نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب کو فرمایا تھا کہ ان کا اکرام کرو چناچہ کھانے پینے میں صحابہ خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر ؒ بہ سبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفیٰ ﷺ کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو۔ یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کردیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہوجائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہوجائیں، حضرت سعید ؒ فرماتے ہیں اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو تنگ و تاریک اور طول طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بےکسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی، حضرت ابن عباس سے عبوس کے معنی تنگی والا اور قمطریر کے معنی طویل طویل مروی ہے، عکرمہ فرماتے ہیں کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہوگا، مجاہد فرماتے ہیں ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا، حضرت سعید اور حضرت قتادہ کا قول ہے کہ بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہوجائے گی، ابن زید فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہوگا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول حضرت ابن عباس کا ہے ؓ ، قمطریر کے لغوی معنی امام ابن جریر نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے اور جگہ ہے وجوہ یومئذ مستفرۃ ضاحکتہ مستبشرہ اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے، یہ ظار ہے کہ جب دل مسرور ہوگا تو چہرہ کھلا ہوا ہوگا، حضرت کعب بن مالک کی لمبی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے، حضرت عائشہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور کھڑے مبرک کی رگیں چمک رہی تھیں، الخ۔ پھر فرماتا ہے ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا، ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی کے سامنے اس سورت کی کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلا برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کردیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
وَجَزَاهُمْ بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا
📘 زنجیریں طوق اور شعلے یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لئے زنجیریں طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے، جیسے اور جگہ ہے اذالاغلال فی اعنافھم والسلاسل یسحبون فی الحمیم ثم فی النار یسجرون جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ حمیم میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے، ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کا فور نامی نہر کے پانی کا ہوگا، ذائقہ بھی اعلیٰ ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کا فور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو، کا فور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لئے یہاں اسے " ب " سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر عیناً پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کا فور کے ہے یا یہ ٹھیک کا فور ہی ہے اور عیناً کا زبر یشرب کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی، تفجیر کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت حتی تفجرلنا میں اور فجرنا خلالھما میں۔ پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کرلیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔ حدیث میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے۔ امام بخاری نے اسے امام مالک کی روایت سے بیان فرمایا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑجائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے، استطار کے معنی ہی ہیں پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکو کار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور لا کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی باوجود طعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے واتی المال علی حبہ یعنی مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں اور فرمان ہے لن تنالوالبر حتی تنفقوا مما تحبون یعنی تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کرسکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو، حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ حضرت صفیہ نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آگیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں حضرت عبد اللہ نے فرمایا یہ سب اسی کو دے دو ، چناچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آگیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ حضرت صفیہ نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چناچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گے (بیہقی) اور صحیح حدیث میں ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں مال کی محبت امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے، یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔ یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں ؟ اس کا مفصل بیان پہلے گذر چکا ہے، قیدی کی نسبت حضرت سعید وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن ابن عباس وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ حضور ﷺ نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب کو فرمایا تھا کہ ان کا اکرام کرو چناچہ کھانے پینے میں صحابہ خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر ؒ بہ سبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفیٰ ﷺ کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو۔ یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کردیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہوجائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہوجائیں، حضرت سعید ؒ فرماتے ہیں اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو تنگ و تاریک اور طول طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بےکسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی، حضرت ابن عباس سے عبوس کے معنی تنگی والا اور قمطریر کے معنی طویل طویل مروی ہے، عکرمہ فرماتے ہیں کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہوگا، مجاہد فرماتے ہیں ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا، حضرت سعید اور حضرت قتادہ کا قول ہے کہ بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہوجائے گی، ابن زید فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہوگا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول حضرت ابن عباس کا ہے ؓ ، قمطریر کے لغوی معنی امام ابن جریر نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے اور جگہ ہے وجوہ یومئذ مستفرۃ ضاحکتہ مستبشرہ اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے، یہ ظار ہے کہ جب دل مسرور ہوگا تو چہرہ کھلا ہوا ہوگا، حضرت کعب بن مالک کی لمبی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے، حضرت عائشہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور کھڑے مبرک کی رگیں چمک رہی تھیں، الخ۔ پھر فرماتا ہے ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا، ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی کے سامنے اس سورت کی کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلا برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کردیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
مُتَّكِئِينَ فِيهَا عَلَى الْأَرَائِكِ ۖ لَا يَرَوْنَ فِيهَا شَمْسًا وَلَا زَمْهَرِيرًا
📘 دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی اہل جنت کی نعمت، راحت، ان کے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع، مزین، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکئے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے، سورة والصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گذر چکی ہے، وہیں یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ اتکا سے مراد لیٹنا ہے یا کہنیاں ٹکانا ہے یا چار زانو بیٹھنا ہے یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے، اور یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ ارائک چھپر کھٹوں کو کہتے ہیں، پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ وہاں نہ تو سورج کی تیز شععوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے کی بہت سرد ہوائیں انہیں ناگوار گذریں بلکہ بہار کا سا موسم ہر وقت اور ہمیشہ رہتا ہے گرمی سردی کے جھمیلوں سے الگ ہیں، جنتی درختوں کی شاخیں جھوم جھوم کر ان پر سایہ کئے ہوئے ہوں گی اور میوے ان سے بالکل قریب ہوں گے چاہے لیٹے لیٹے توڑ کر کھالیں، چاہے بیٹھے بیٹھے لے لیں چاہے کھڑے ہو کرلے لیں درختوں پر چڑھنے اور تکلیف کی کوئی حاجت نہیں پر میوے دار لچھے اور لدے ہوئے لچھے لٹک رہے ہیں توڑا اور کھالیا اگر کھڑے ہیں تو میوے اتنے اونچے ہیں بیٹھے تو قدرے جھک گئے لیٹے تو اور قریب آگئے، نہ تو کانٹوں کی رکاوٹ نہ دوری کی سردردی ہے، حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں جنت کی زمین چاندی کی ہے اور اس کی مٹی مشک خالص ہے اس کے درختوں کے تنے سونے چاندی کے ہیں ڈالیاں لولو زبر جد اور یاقوت کی ہیں، ان کے درمیان پتے اور پھل ہیں جن کے توڑنے میں کوئی وقت اور مشکل نہیں چاہ بیٹھے بیٹھے توڑ لو چاہو کھڑے کھڑے بلکہ اگر چاہیں لیٹے لیٹے ایک طرف خوش خرام، خوش دل، خوبصورت، با ادب، سلیقہ شعار، فرمانبردار خادم قسم قسم کے کھانے چاندی کی کشتیوں میں لگائے لئے کھڑے۔ دوسری جانب شراب طہور سے چھلکتے ہوئے بلوریں جام لئے ساقیان مہوش اشارے کے منتظر ہیں، یہ گلاس صفائی میں شیشے جیسے اور سفیدی میں چاندی جیسے ہوں گے، دراصل ہوں گے چاندی کے لیکن شیشے کی طرح شفاف ہوں گے کہ اندر کی چیز باہر سے نظر آئے، جنت کی تمام چیزوں کی یونہی سی برائے نام مشابہت دنیا کی چیزوں میں بھی پائی جاتی ہے لیکن ان چاندی کے بلوریں گلاسوں کی کوئی نظری نہیں ملتی، ہاں یہ یاد رہے کہ پہلے کے لفظ قواریر پر زبر تو اس لئے ہے کہ وہ کان کی خبر ہے اور دوسرے پر زبریا تو بدلیت کی بنا پر ہے یا تمیز کی بنا پر، پھر یہ جام نپے تلے ہوئے ہیں ساقی کے ہاتھ میں بھی زیب دیں اور ان کی ہتھیلیوں پر بھلے معلوم ہوں اور ینے والوں کے حسب خواہش شراب طہور اس میں سما جائے جو نہ بچے نہ گھٹے۔ ان نایاب گلاسوں میں جو پاک خوش ذائقہ اور سرور والی بےنشے کی شراب انہیں ملے گی وہ جنت کی نہر سلسبیل کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی، اوپر گذر چکا ہے کہ نہر کا فور کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی تو مطلب یہ ہے کبھی اس ٹھنڈک والے سرد مزاج پانی سے کبھی اس نفیس گرم مزاج پانی سے تاکہ اعتدال قائم رہے، یہ ابرار لوگوں کا ذکر ہے اور خاص مقربین خالص اس نہر کا شربت پئیں گے، سلسبیل بقول عکرمہ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے کیونکہ وہ تیزی کے ساتھ مسلسل روانگی سے لہرایا چال بہہ رہا ہے، اس کا پانی بڑا ہلکا، نہایت شیریں، خوش ذائقہ اور خوش بو ہے جو آسانی سے پیا جائے اور ہضم اور جزو بدن ہوتا رہے۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی خوبصورت حسین نوخیز کم عمر لڑکے ان کی خدمت کے لئے کمر بستہ ہوں گے، یہ غلمان جنتی جس سن و سال میں ہوں گے اسی میں رہیں گے یہ نہیں کہ سن بڑھ کر صورت بگڑ جائے، نفیس پوشاکیں اور بیش قیمث جڑاؤ زیور پہنے بہ تعداد کثیر ادھر ادھر مختلف کاموں پر بٹے ہوئے ہوں گے جنہیں دوڑ بھاگ کر مستعدی اور چالاکی سے انجام دے رہے ہوں گے ایسا معلوم ہوگا گویا سفید آب دار موتی ادھر ادھر جنت میں بکھرے پڑے ہیں۔ حقیت میں اس سے زیادہ اچھی تشبیہ ان کے لئے کوئی اور نہ تھی کہ یہ صاحب جمال خوش خصال بوٹے سے قد والے سفید نورانی چہروں والے پاک صاف سجی ہوئی پوشاکیں پہنے زیور میں لدے اپنے مالک کی فرمانبرداری میں دوڑتے بھاگتے ادھر ادھر پھرتے ایسے بھلے معلوم ہوں گے سجے سجائے پر تکلف فرش پر سفید چمکیلے سچے موتی ادھر ادھر لڑھک رہے ہوں، حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں ہر ہر جنتی کے ایک ہزار خادم ہوں گے جو مختلف کام کاج میں لگے ہوئے ہوں گے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی تم جنت کی جس جگہ نظر ڈالو تمہیں نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت نظر آئے گی تم دیکھو گے کہ راحت و سرور نعمت و نور سے چپہ چپہ معمور ہے چناچہ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے آخر میں جو جہنم میں سے نکالا جائے گا اور جنت میں بھیجا جائے گا اس سے جناب باری تبارک و تعالیٰ فرمائے گا جا میں نے تجھے جنت میں وہ دیا جو مثل دنیا کے ہے، بلکہ اس سے بھی دس حصے زیادہ دیا، اور حضرت ابن عمر کی روایت سے وہ حدیث بھی پہلے گذر چکی ہے جس میں ہے کہ ادنیٰ جنتی کی ملکیت و ملک دو ہزار سال تک ہوگا ہر قریب و بعید کی چیز پر اس کی بیک نظر یکساں نگاہیں ہوں گی، یہ حال تو ہے ادنیٰ جنتی کا پھر سمجھ لو کہ اعلیٰ جنتی کا درجہ کیا ہوگا ؟ اور اس کی نعمتیں کیسی ہوں گی (اے اللہ اے بغیر ہماری دعا اور عمل کے ہمیں شیر مادر کے چشمے عنایت کرنے والے ہم بہ عاجزی و الحاج تیری پاک جناب میں عرض گذار ہیں کہ تو ہمارے مشتاق دل کے ارمان پورے کر اور ہمیں بھی جنت الفردوس نصیب فرما۔ گو ایسے اعمال نہ ہوں لیکن ایمان ہے کہ تیری رحمت اعمال پر ہی موقف نہیں، آمین۔ مترجم) طبرانی کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں وارد ہے کہ ایک حبشی دربار رسالت میں حاضر ہوا، آپ نے اسے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو جس بات کو سمجھنا ہو پوچھ لو اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ صورت، شکل، رنگ، روپ، نبوۃ و رسالت میں آپ کو ہم پر فضیلت دی گئی ہے اب یہ تو فرمایئے کہ اگر میں بھی ان چیزوں پر ایمان لاؤں جن پر آپ ایمان لائے ہیں اور جن پر آپ عمل کرتے ہیں اگر میں بھی اسی پر عمل کروں تو کیا جنت میں آپ کے ساتھ ہوسکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا ہاں قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سیاہ رنگ لوگوں کو جنت میں وہ سفید رنگ دیا جائے گا کہ ایک ہزار سال کے فاصلے سے دکھائی دے گا پھر حضور ﷺ نے فرمایا جو شخص لا الہ الا اللہ کہے اس کے لئے اللہ کے پاس عہد مقرر ہوجاتا ہے اور جو شخص سبحان اللہ وبحمدہ کہے اس کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں، تو ایک شخص نے کہا پھر یا رسول اللہ ﷺ ہم کیسے ہال ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا سنو ایک شخص اتنی نیکیاں لائے گا کہ اگر کسی بڑے پہاڑ پر رکھی جائیں تو اس پر بوجھل پڑیں لیکن پھر جو اللہ کی نعمتیں اس کے مقابل آئیں گی تو قریب ہوگا کہ سب فنا ہوجائیں مگر یہ اور بات ہے کہ رحمت رب توجہ فرمائے اس وقت یہ سورت ملکا کبیراً تک اتری اسی حبشی نے کہا کہ اے حضور جو کچھ آپ کی آنکھیں جنت میں دیکھیں گی کیا میری آنکھیں بھی دیکھیں گی ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں، بس وہ رونے لگا یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کرگئی حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اسے فن کیا ؓ پھر اہل جنت کے لباس کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ سبز ہرے رنگ کا مہین اور چمکدار ریشم ہوگا، سندس اعلیٰ درجہ کا خالص نرم ریشم جو بدن سے لگا ہوا ہوگا، اور استبرق عمدہ بیش بہا گراں قدر ریشم جس میں چمک دمک ہوگی جو اوپر پہنچایا جائے گا، ساتھ ہی چاندی کے کنگن ہاتھوں میں ہوں گے، یہ لباس ابرار کا ہے، اور مقربین خاص کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے (يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا ۭ وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ 23) 22۔ الحج :23) انہیں سونے کے کنگن ہیرے جڑے ہوئے پہنائے جائیں گے اور خاص نرم صاف ریشمی لباس ہوگا، ان ظاہری جسمانی استعمالی نعمتوں کے ساتھ ہی انہیں پرکیف، بالذت، سرور والی، پاک اور پاک کرنے والی شراب پلائے جائے گی جو تمام ظاہری باطنی برائی دور کر دے حسد کینہ بدخلقی غصہ وغیرہ سب دور کر دے، جیسے امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے مروی ہے کہ جب اہل جنت جنت کے دروازے پر پہنچیں گے تو انہیں دو نہریں نظر آئیں گی اور انہیں از خود خیال پیدا ہوگا ایک کا وہ پانی پئیں گے تو ان کے دلوں میں جب کچھ تھا سب دور ہوجائے گا دوسری میں غسل کریں گے جس سے چہرے ترو تازہ ہشاش بشاش ہوجائیں گے، ظاہری اور باطنی خوبی دونوں انہیں بدرجہ کمال حاصل ہوں گی جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ پھر ان سے ان کے دل خوش کرنے اور ان کی خوشی دوبالا کرنے کو بار بار کہا جائے گا تمہارے نیک اعمال کا بدلہ اور تمہاری بھلی کوشش کی قدر وانی ہے، جیسے اور جگہ ہے (كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْۗئًۢا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ 24) 69۔ الحاقة :24) دنیا میں جو اعمال تم نے کئے ان کی نیک جزا میں آج تم خوب لطیف و لذیذ بہ آرام و اطمینان کھاتے پیتے رہو، اور فرمان ہے ونودوا ان یلکم الجنتہ اور ئتموھا بما کنتم یعملون یعنی منادی کئے جائیں گے کہ ان جنتوں کا وارث تمہیں تمہارے نیک کردار کی بنا پر بنایا گیا ہے، یہاں بھی فرمایا ہے تمہاری سعی مشکور ہے تھوڑے عمل پر بہت اجر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان میں سے کرے آمین۔
وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلَالُهَا وَذُلِّلَتْ قُطُوفُهَا تَذْلِيلًا
📘 دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی اہل جنت کی نعمت، راحت، ان کے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع، مزین، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکئے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے، سورة والصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گذر چکی ہے، وہیں یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ اتکا سے مراد لیٹنا ہے یا کہنیاں ٹکانا ہے یا چار زانو بیٹھنا ہے یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے، اور یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ ارائک چھپر کھٹوں کو کہتے ہیں، پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ وہاں نہ تو سورج کی تیز شععوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے کی بہت سرد ہوائیں انہیں ناگوار گذریں بلکہ بہار کا سا موسم ہر وقت اور ہمیشہ رہتا ہے گرمی سردی کے جھمیلوں سے الگ ہیں، جنتی درختوں کی شاخیں جھوم جھوم کر ان پر سایہ کئے ہوئے ہوں گی اور میوے ان سے بالکل قریب ہوں گے چاہے لیٹے لیٹے توڑ کر کھالیں، چاہے بیٹھے بیٹھے لے لیں چاہے کھڑے ہو کرلے لیں درختوں پر چڑھنے اور تکلیف کی کوئی حاجت نہیں پر میوے دار لچھے اور لدے ہوئے لچھے لٹک رہے ہیں توڑا اور کھالیا اگر کھڑے ہیں تو میوے اتنے اونچے ہیں بیٹھے تو قدرے جھک گئے لیٹے تو اور قریب آگئے، نہ تو کانٹوں کی رکاوٹ نہ دوری کی سردردی ہے، حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں جنت کی زمین چاندی کی ہے اور اس کی مٹی مشک خالص ہے اس کے درختوں کے تنے سونے چاندی کے ہیں ڈالیاں لولو زبر جد اور یاقوت کی ہیں، ان کے درمیان پتے اور پھل ہیں جن کے توڑنے میں کوئی وقت اور مشکل نہیں چاہ بیٹھے بیٹھے توڑ لو چاہو کھڑے کھڑے بلکہ اگر چاہیں لیٹے لیٹے ایک طرف خوش خرام، خوش دل، خوبصورت، با ادب، سلیقہ شعار، فرمانبردار خادم قسم قسم کے کھانے چاندی کی کشتیوں میں لگائے لئے کھڑے۔ دوسری جانب شراب طہور سے چھلکتے ہوئے بلوریں جام لئے ساقیان مہوش اشارے کے منتظر ہیں، یہ گلاس صفائی میں شیشے جیسے اور سفیدی میں چاندی جیسے ہوں گے، دراصل ہوں گے چاندی کے لیکن شیشے کی طرح شفاف ہوں گے کہ اندر کی چیز باہر سے نظر آئے، جنت کی تمام چیزوں کی یونہی سی برائے نام مشابہت دنیا کی چیزوں میں بھی پائی جاتی ہے لیکن ان چاندی کے بلوریں گلاسوں کی کوئی نظری نہیں ملتی، ہاں یہ یاد رہے کہ پہلے کے لفظ قواریر پر زبر تو اس لئے ہے کہ وہ کان کی خبر ہے اور دوسرے پر زبریا تو بدلیت کی بنا پر ہے یا تمیز کی بنا پر، پھر یہ جام نپے تلے ہوئے ہیں ساقی کے ہاتھ میں بھی زیب دیں اور ان کی ہتھیلیوں پر بھلے معلوم ہوں اور ینے والوں کے حسب خواہش شراب طہور اس میں سما جائے جو نہ بچے نہ گھٹے۔ ان نایاب گلاسوں میں جو پاک خوش ذائقہ اور سرور والی بےنشے کی شراب انہیں ملے گی وہ جنت کی نہر سلسبیل کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی، اوپر گذر چکا ہے کہ نہر کا فور کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی تو مطلب یہ ہے کبھی اس ٹھنڈک والے سرد مزاج پانی سے کبھی اس نفیس گرم مزاج پانی سے تاکہ اعتدال قائم رہے، یہ ابرار لوگوں کا ذکر ہے اور خاص مقربین خالص اس نہر کا شربت پئیں گے، سلسبیل بقول عکرمہ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے کیونکہ وہ تیزی کے ساتھ مسلسل روانگی سے لہرایا چال بہہ رہا ہے، اس کا پانی بڑا ہلکا، نہایت شیریں، خوش ذائقہ اور خوش بو ہے جو آسانی سے پیا جائے اور ہضم اور جزو بدن ہوتا رہے۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی خوبصورت حسین نوخیز کم عمر لڑکے ان کی خدمت کے لئے کمر بستہ ہوں گے، یہ غلمان جنتی جس سن و سال میں ہوں گے اسی میں رہیں گے یہ نہیں کہ سن بڑھ کر صورت بگڑ جائے، نفیس پوشاکیں اور بیش قیمث جڑاؤ زیور پہنے بہ تعداد کثیر ادھر ادھر مختلف کاموں پر بٹے ہوئے ہوں گے جنہیں دوڑ بھاگ کر مستعدی اور چالاکی سے انجام دے رہے ہوں گے ایسا معلوم ہوگا گویا سفید آب دار موتی ادھر ادھر جنت میں بکھرے پڑے ہیں۔ حقیت میں اس سے زیادہ اچھی تشبیہ ان کے لئے کوئی اور نہ تھی کہ یہ صاحب جمال خوش خصال بوٹے سے قد والے سفید نورانی چہروں والے پاک صاف سجی ہوئی پوشاکیں پہنے زیور میں لدے اپنے مالک کی فرمانبرداری میں دوڑتے بھاگتے ادھر ادھر پھرتے ایسے بھلے معلوم ہوں گے سجے سجائے پر تکلف فرش پر سفید چمکیلے سچے موتی ادھر ادھر لڑھک رہے ہوں، حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں ہر ہر جنتی کے ایک ہزار خادم ہوں گے جو مختلف کام کاج میں لگے ہوئے ہوں گے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی تم جنت کی جس جگہ نظر ڈالو تمہیں نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت نظر آئے گی تم دیکھو گے کہ راحت و سرور نعمت و نور سے چپہ چپہ معمور ہے چناچہ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے آخر میں جو جہنم میں سے نکالا جائے گا اور جنت میں بھیجا جائے گا اس سے جناب باری تبارک و تعالیٰ فرمائے گا جا میں نے تجھے جنت میں وہ دیا جو مثل دنیا کے ہے، بلکہ اس سے بھی دس حصے زیادہ دیا، اور حضرت ابن عمر کی روایت سے وہ حدیث بھی پہلے گذر چکی ہے جس میں ہے کہ ادنیٰ جنتی کی ملکیت و ملک دو ہزار سال تک ہوگا ہر قریب و بعید کی چیز پر اس کی بیک نظر یکساں نگاہیں ہوں گی، یہ حال تو ہے ادنیٰ جنتی کا پھر سمجھ لو کہ اعلیٰ جنتی کا درجہ کیا ہوگا ؟ اور اس کی نعمتیں کیسی ہوں گی (اے اللہ اے بغیر ہماری دعا اور عمل کے ہمیں شیر مادر کے چشمے عنایت کرنے والے ہم بہ عاجزی و الحاج تیری پاک جناب میں عرض گذار ہیں کہ تو ہمارے مشتاق دل کے ارمان پورے کر اور ہمیں بھی جنت الفردوس نصیب فرما۔ گو ایسے اعمال نہ ہوں لیکن ایمان ہے کہ تیری رحمت اعمال پر ہی موقف نہیں، آمین۔ مترجم) طبرانی کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں وارد ہے کہ ایک حبشی دربار رسالت میں حاضر ہوا، آپ نے اسے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو جس بات کو سمجھنا ہو پوچھ لو اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ صورت، شکل، رنگ، روپ، نبوۃ و رسالت میں آپ کو ہم پر فضیلت دی گئی ہے اب یہ تو فرمایئے کہ اگر میں بھی ان چیزوں پر ایمان لاؤں جن پر آپ ایمان لائے ہیں اور جن پر آپ عمل کرتے ہیں اگر میں بھی اسی پر عمل کروں تو کیا جنت میں آپ کے ساتھ ہوسکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا ہاں قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سیاہ رنگ لوگوں کو جنت میں وہ سفید رنگ دیا جائے گا کہ ایک ہزار سال کے فاصلے سے دکھائی دے گا پھر حضور ﷺ نے فرمایا جو شخص لا الہ الا اللہ کہے اس کے لئے اللہ کے پاس عہد مقرر ہوجاتا ہے اور جو شخص سبحان اللہ وبحمدہ کہے اس کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں، تو ایک شخص نے کہا پھر یا رسول اللہ ﷺ ہم کیسے ہال ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا سنو ایک شخص اتنی نیکیاں لائے گا کہ اگر کسی بڑے پہاڑ پر رکھی جائیں تو اس پر بوجھل پڑیں لیکن پھر جو اللہ کی نعمتیں اس کے مقابل آئیں گی تو قریب ہوگا کہ سب فنا ہوجائیں مگر یہ اور بات ہے کہ رحمت رب توجہ فرمائے اس وقت یہ سورت ملکا کبیراً تک اتری اسی حبشی نے کہا کہ اے حضور جو کچھ آپ کی آنکھیں جنت میں دیکھیں گی کیا میری آنکھیں بھی دیکھیں گی ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں، بس وہ رونے لگا یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کرگئی حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اسے فن کیا ؓ پھر اہل جنت کے لباس کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ سبز ہرے رنگ کا مہین اور چمکدار ریشم ہوگا، سندس اعلیٰ درجہ کا خالص نرم ریشم جو بدن سے لگا ہوا ہوگا، اور استبرق عمدہ بیش بہا گراں قدر ریشم جس میں چمک دمک ہوگی جو اوپر پہنچایا جائے گا، ساتھ ہی چاندی کے کنگن ہاتھوں میں ہوں گے، یہ لباس ابرار کا ہے، اور مقربین خاص کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے (يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا ۭ وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ 23) 22۔ الحج :23) انہیں سونے کے کنگن ہیرے جڑے ہوئے پہنائے جائیں گے اور خاص نرم صاف ریشمی لباس ہوگا، ان ظاہری جسمانی استعمالی نعمتوں کے ساتھ ہی انہیں پرکیف، بالذت، سرور والی، پاک اور پاک کرنے والی شراب پلائے جائے گی جو تمام ظاہری باطنی برائی دور کر دے حسد کینہ بدخلقی غصہ وغیرہ سب دور کر دے، جیسے امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے مروی ہے کہ جب اہل جنت جنت کے دروازے پر پہنچیں گے تو انہیں دو نہریں نظر آئیں گی اور انہیں از خود خیال پیدا ہوگا ایک کا وہ پانی پئیں گے تو ان کے دلوں میں جب کچھ تھا سب دور ہوجائے گا دوسری میں غسل کریں گے جس سے چہرے ترو تازہ ہشاش بشاش ہوجائیں گے، ظاہری اور باطنی خوبی دونوں انہیں بدرجہ کمال حاصل ہوں گی جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ پھر ان سے ان کے دل خوش کرنے اور ان کی خوشی دوبالا کرنے کو بار بار کہا جائے گا تمہارے نیک اعمال کا بدلہ اور تمہاری بھلی کوشش کی قدر وانی ہے، جیسے اور جگہ ہے (كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْۗئًۢا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ 24) 69۔ الحاقة :24) دنیا میں جو اعمال تم نے کئے ان کی نیک جزا میں آج تم خوب لطیف و لذیذ بہ آرام و اطمینان کھاتے پیتے رہو، اور فرمان ہے ونودوا ان یلکم الجنتہ اور ئتموھا بما کنتم یعملون یعنی منادی کئے جائیں گے کہ ان جنتوں کا وارث تمہیں تمہارے نیک کردار کی بنا پر بنایا گیا ہے، یہاں بھی فرمایا ہے تمہاری سعی مشکور ہے تھوڑے عمل پر بہت اجر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان میں سے کرے آمین۔
وَيُطَافُ عَلَيْهِمْ بِآنِيَةٍ مِنْ فِضَّةٍ وَأَكْوَابٍ كَانَتْ قَوَارِيرَا
📘 دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی اہل جنت کی نعمت، راحت، ان کے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع، مزین، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکئے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے، سورة والصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گذر چکی ہے، وہیں یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ اتکا سے مراد لیٹنا ہے یا کہنیاں ٹکانا ہے یا چار زانو بیٹھنا ہے یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے، اور یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ ارائک چھپر کھٹوں کو کہتے ہیں، پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ وہاں نہ تو سورج کی تیز شععوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے کی بہت سرد ہوائیں انہیں ناگوار گذریں بلکہ بہار کا سا موسم ہر وقت اور ہمیشہ رہتا ہے گرمی سردی کے جھمیلوں سے الگ ہیں، جنتی درختوں کی شاخیں جھوم جھوم کر ان پر سایہ کئے ہوئے ہوں گی اور میوے ان سے بالکل قریب ہوں گے چاہے لیٹے لیٹے توڑ کر کھالیں، چاہے بیٹھے بیٹھے لے لیں چاہے کھڑے ہو کرلے لیں درختوں پر چڑھنے اور تکلیف کی کوئی حاجت نہیں پر میوے دار لچھے اور لدے ہوئے لچھے لٹک رہے ہیں توڑا اور کھالیا اگر کھڑے ہیں تو میوے اتنے اونچے ہیں بیٹھے تو قدرے جھک گئے لیٹے تو اور قریب آگئے، نہ تو کانٹوں کی رکاوٹ نہ دوری کی سردردی ہے، حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں جنت کی زمین چاندی کی ہے اور اس کی مٹی مشک خالص ہے اس کے درختوں کے تنے سونے چاندی کے ہیں ڈالیاں لولو زبر جد اور یاقوت کی ہیں، ان کے درمیان پتے اور پھل ہیں جن کے توڑنے میں کوئی وقت اور مشکل نہیں چاہ بیٹھے بیٹھے توڑ لو چاہو کھڑے کھڑے بلکہ اگر چاہیں لیٹے لیٹے ایک طرف خوش خرام، خوش دل، خوبصورت، با ادب، سلیقہ شعار، فرمانبردار خادم قسم قسم کے کھانے چاندی کی کشتیوں میں لگائے لئے کھڑے۔ دوسری جانب شراب طہور سے چھلکتے ہوئے بلوریں جام لئے ساقیان مہوش اشارے کے منتظر ہیں، یہ گلاس صفائی میں شیشے جیسے اور سفیدی میں چاندی جیسے ہوں گے، دراصل ہوں گے چاندی کے لیکن شیشے کی طرح شفاف ہوں گے کہ اندر کی چیز باہر سے نظر آئے، جنت کی تمام چیزوں کی یونہی سی برائے نام مشابہت دنیا کی چیزوں میں بھی پائی جاتی ہے لیکن ان چاندی کے بلوریں گلاسوں کی کوئی نظری نہیں ملتی، ہاں یہ یاد رہے کہ پہلے کے لفظ قواریر پر زبر تو اس لئے ہے کہ وہ کان کی خبر ہے اور دوسرے پر زبریا تو بدلیت کی بنا پر ہے یا تمیز کی بنا پر، پھر یہ جام نپے تلے ہوئے ہیں ساقی کے ہاتھ میں بھی زیب دیں اور ان کی ہتھیلیوں پر بھلے معلوم ہوں اور ینے والوں کے حسب خواہش شراب طہور اس میں سما جائے جو نہ بچے نہ گھٹے۔ ان نایاب گلاسوں میں جو پاک خوش ذائقہ اور سرور والی بےنشے کی شراب انہیں ملے گی وہ جنت کی نہر سلسبیل کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی، اوپر گذر چکا ہے کہ نہر کا فور کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی تو مطلب یہ ہے کبھی اس ٹھنڈک والے سرد مزاج پانی سے کبھی اس نفیس گرم مزاج پانی سے تاکہ اعتدال قائم رہے، یہ ابرار لوگوں کا ذکر ہے اور خاص مقربین خالص اس نہر کا شربت پئیں گے، سلسبیل بقول عکرمہ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے کیونکہ وہ تیزی کے ساتھ مسلسل روانگی سے لہرایا چال بہہ رہا ہے، اس کا پانی بڑا ہلکا، نہایت شیریں، خوش ذائقہ اور خوش بو ہے جو آسانی سے پیا جائے اور ہضم اور جزو بدن ہوتا رہے۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی خوبصورت حسین نوخیز کم عمر لڑکے ان کی خدمت کے لئے کمر بستہ ہوں گے، یہ غلمان جنتی جس سن و سال میں ہوں گے اسی میں رہیں گے یہ نہیں کہ سن بڑھ کر صورت بگڑ جائے، نفیس پوشاکیں اور بیش قیمث جڑاؤ زیور پہنے بہ تعداد کثیر ادھر ادھر مختلف کاموں پر بٹے ہوئے ہوں گے جنہیں دوڑ بھاگ کر مستعدی اور چالاکی سے انجام دے رہے ہوں گے ایسا معلوم ہوگا گویا سفید آب دار موتی ادھر ادھر جنت میں بکھرے پڑے ہیں۔ حقیت میں اس سے زیادہ اچھی تشبیہ ان کے لئے کوئی اور نہ تھی کہ یہ صاحب جمال خوش خصال بوٹے سے قد والے سفید نورانی چہروں والے پاک صاف سجی ہوئی پوشاکیں پہنے زیور میں لدے اپنے مالک کی فرمانبرداری میں دوڑتے بھاگتے ادھر ادھر پھرتے ایسے بھلے معلوم ہوں گے سجے سجائے پر تکلف فرش پر سفید چمکیلے سچے موتی ادھر ادھر لڑھک رہے ہوں، حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں ہر ہر جنتی کے ایک ہزار خادم ہوں گے جو مختلف کام کاج میں لگے ہوئے ہوں گے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی تم جنت کی جس جگہ نظر ڈالو تمہیں نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت نظر آئے گی تم دیکھو گے کہ راحت و سرور نعمت و نور سے چپہ چپہ معمور ہے چناچہ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے آخر میں جو جہنم میں سے نکالا جائے گا اور جنت میں بھیجا جائے گا اس سے جناب باری تبارک و تعالیٰ فرمائے گا جا میں نے تجھے جنت میں وہ دیا جو مثل دنیا کے ہے، بلکہ اس سے بھی دس حصے زیادہ دیا، اور حضرت ابن عمر کی روایت سے وہ حدیث بھی پہلے گذر چکی ہے جس میں ہے کہ ادنیٰ جنتی کی ملکیت و ملک دو ہزار سال تک ہوگا ہر قریب و بعید کی چیز پر اس کی بیک نظر یکساں نگاہیں ہوں گی، یہ حال تو ہے ادنیٰ جنتی کا پھر سمجھ لو کہ اعلیٰ جنتی کا درجہ کیا ہوگا ؟ اور اس کی نعمتیں کیسی ہوں گی (اے اللہ اے بغیر ہماری دعا اور عمل کے ہمیں شیر مادر کے چشمے عنایت کرنے والے ہم بہ عاجزی و الحاج تیری پاک جناب میں عرض گذار ہیں کہ تو ہمارے مشتاق دل کے ارمان پورے کر اور ہمیں بھی جنت الفردوس نصیب فرما۔ گو ایسے اعمال نہ ہوں لیکن ایمان ہے کہ تیری رحمت اعمال پر ہی موقف نہیں، آمین۔ مترجم) طبرانی کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں وارد ہے کہ ایک حبشی دربار رسالت میں حاضر ہوا، آپ نے اسے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو جس بات کو سمجھنا ہو پوچھ لو اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ صورت، شکل، رنگ، روپ، نبوۃ و رسالت میں آپ کو ہم پر فضیلت دی گئی ہے اب یہ تو فرمایئے کہ اگر میں بھی ان چیزوں پر ایمان لاؤں جن پر آپ ایمان لائے ہیں اور جن پر آپ عمل کرتے ہیں اگر میں بھی اسی پر عمل کروں تو کیا جنت میں آپ کے ساتھ ہوسکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا ہاں قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سیاہ رنگ لوگوں کو جنت میں وہ سفید رنگ دیا جائے گا کہ ایک ہزار سال کے فاصلے سے دکھائی دے گا پھر حضور ﷺ نے فرمایا جو شخص لا الہ الا اللہ کہے اس کے لئے اللہ کے پاس عہد مقرر ہوجاتا ہے اور جو شخص سبحان اللہ وبحمدہ کہے اس کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں، تو ایک شخص نے کہا پھر یا رسول اللہ ﷺ ہم کیسے ہال ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا سنو ایک شخص اتنی نیکیاں لائے گا کہ اگر کسی بڑے پہاڑ پر رکھی جائیں تو اس پر بوجھل پڑیں لیکن پھر جو اللہ کی نعمتیں اس کے مقابل آئیں گی تو قریب ہوگا کہ سب فنا ہوجائیں مگر یہ اور بات ہے کہ رحمت رب توجہ فرمائے اس وقت یہ سورت ملکا کبیراً تک اتری اسی حبشی نے کہا کہ اے حضور جو کچھ آپ کی آنکھیں جنت میں دیکھیں گی کیا میری آنکھیں بھی دیکھیں گی ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں، بس وہ رونے لگا یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کرگئی حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اسے فن کیا ؓ پھر اہل جنت کے لباس کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ سبز ہرے رنگ کا مہین اور چمکدار ریشم ہوگا، سندس اعلیٰ درجہ کا خالص نرم ریشم جو بدن سے لگا ہوا ہوگا، اور استبرق عمدہ بیش بہا گراں قدر ریشم جس میں چمک دمک ہوگی جو اوپر پہنچایا جائے گا، ساتھ ہی چاندی کے کنگن ہاتھوں میں ہوں گے، یہ لباس ابرار کا ہے، اور مقربین خاص کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے (يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا ۭ وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ 23) 22۔ الحج :23) انہیں سونے کے کنگن ہیرے جڑے ہوئے پہنائے جائیں گے اور خاص نرم صاف ریشمی لباس ہوگا، ان ظاہری جسمانی استعمالی نعمتوں کے ساتھ ہی انہیں پرکیف، بالذت، سرور والی، پاک اور پاک کرنے والی شراب پلائے جائے گی جو تمام ظاہری باطنی برائی دور کر دے حسد کینہ بدخلقی غصہ وغیرہ سب دور کر دے، جیسے امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے مروی ہے کہ جب اہل جنت جنت کے دروازے پر پہنچیں گے تو انہیں دو نہریں نظر آئیں گی اور انہیں از خود خیال پیدا ہوگا ایک کا وہ پانی پئیں گے تو ان کے دلوں میں جب کچھ تھا سب دور ہوجائے گا دوسری میں غسل کریں گے جس سے چہرے ترو تازہ ہشاش بشاش ہوجائیں گے، ظاہری اور باطنی خوبی دونوں انہیں بدرجہ کمال حاصل ہوں گی جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ پھر ان سے ان کے دل خوش کرنے اور ان کی خوشی دوبالا کرنے کو بار بار کہا جائے گا تمہارے نیک اعمال کا بدلہ اور تمہاری بھلی کوشش کی قدر وانی ہے، جیسے اور جگہ ہے (كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْۗئًۢا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ 24) 69۔ الحاقة :24) دنیا میں جو اعمال تم نے کئے ان کی نیک جزا میں آج تم خوب لطیف و لذیذ بہ آرام و اطمینان کھاتے پیتے رہو، اور فرمان ہے ونودوا ان یلکم الجنتہ اور ئتموھا بما کنتم یعملون یعنی منادی کئے جائیں گے کہ ان جنتوں کا وارث تمہیں تمہارے نیک کردار کی بنا پر بنایا گیا ہے، یہاں بھی فرمایا ہے تمہاری سعی مشکور ہے تھوڑے عمل پر بہت اجر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان میں سے کرے آمین۔
قَوَارِيرَ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوهَا تَقْدِيرًا
📘 دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی اہل جنت کی نعمت، راحت، ان کے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع، مزین، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکئے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے، سورة والصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گذر چکی ہے، وہیں یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ اتکا سے مراد لیٹنا ہے یا کہنیاں ٹکانا ہے یا چار زانو بیٹھنا ہے یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے، اور یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ ارائک چھپر کھٹوں کو کہتے ہیں، پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ وہاں نہ تو سورج کی تیز شععوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے کی بہت سرد ہوائیں انہیں ناگوار گذریں بلکہ بہار کا سا موسم ہر وقت اور ہمیشہ رہتا ہے گرمی سردی کے جھمیلوں سے الگ ہیں، جنتی درختوں کی شاخیں جھوم جھوم کر ان پر سایہ کئے ہوئے ہوں گی اور میوے ان سے بالکل قریب ہوں گے چاہے لیٹے لیٹے توڑ کر کھالیں، چاہے بیٹھے بیٹھے لے لیں چاہے کھڑے ہو کرلے لیں درختوں پر چڑھنے اور تکلیف کی کوئی حاجت نہیں پر میوے دار لچھے اور لدے ہوئے لچھے لٹک رہے ہیں توڑا اور کھالیا اگر کھڑے ہیں تو میوے اتنے اونچے ہیں بیٹھے تو قدرے جھک گئے لیٹے تو اور قریب آگئے، نہ تو کانٹوں کی رکاوٹ نہ دوری کی سردردی ہے، حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں جنت کی زمین چاندی کی ہے اور اس کی مٹی مشک خالص ہے اس کے درختوں کے تنے سونے چاندی کے ہیں ڈالیاں لولو زبر جد اور یاقوت کی ہیں، ان کے درمیان پتے اور پھل ہیں جن کے توڑنے میں کوئی وقت اور مشکل نہیں چاہ بیٹھے بیٹھے توڑ لو چاہو کھڑے کھڑے بلکہ اگر چاہیں لیٹے لیٹے ایک طرف خوش خرام، خوش دل، خوبصورت، با ادب، سلیقہ شعار، فرمانبردار خادم قسم قسم کے کھانے چاندی کی کشتیوں میں لگائے لئے کھڑے۔ دوسری جانب شراب طہور سے چھلکتے ہوئے بلوریں جام لئے ساقیان مہوش اشارے کے منتظر ہیں، یہ گلاس صفائی میں شیشے جیسے اور سفیدی میں چاندی جیسے ہوں گے، دراصل ہوں گے چاندی کے لیکن شیشے کی طرح شفاف ہوں گے کہ اندر کی چیز باہر سے نظر آئے، جنت کی تمام چیزوں کی یونہی سی برائے نام مشابہت دنیا کی چیزوں میں بھی پائی جاتی ہے لیکن ان چاندی کے بلوریں گلاسوں کی کوئی نظری نہیں ملتی، ہاں یہ یاد رہے کہ پہلے کے لفظ قواریر پر زبر تو اس لئے ہے کہ وہ کان کی خبر ہے اور دوسرے پر زبریا تو بدلیت کی بنا پر ہے یا تمیز کی بنا پر، پھر یہ جام نپے تلے ہوئے ہیں ساقی کے ہاتھ میں بھی زیب دیں اور ان کی ہتھیلیوں پر بھلے معلوم ہوں اور ینے والوں کے حسب خواہش شراب طہور اس میں سما جائے جو نہ بچے نہ گھٹے۔ ان نایاب گلاسوں میں جو پاک خوش ذائقہ اور سرور والی بےنشے کی شراب انہیں ملے گی وہ جنت کی نہر سلسبیل کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی، اوپر گذر چکا ہے کہ نہر کا فور کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی تو مطلب یہ ہے کبھی اس ٹھنڈک والے سرد مزاج پانی سے کبھی اس نفیس گرم مزاج پانی سے تاکہ اعتدال قائم رہے، یہ ابرار لوگوں کا ذکر ہے اور خاص مقربین خالص اس نہر کا شربت پئیں گے، سلسبیل بقول عکرمہ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے کیونکہ وہ تیزی کے ساتھ مسلسل روانگی سے لہرایا چال بہہ رہا ہے، اس کا پانی بڑا ہلکا، نہایت شیریں، خوش ذائقہ اور خوش بو ہے جو آسانی سے پیا جائے اور ہضم اور جزو بدن ہوتا رہے۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی خوبصورت حسین نوخیز کم عمر لڑکے ان کی خدمت کے لئے کمر بستہ ہوں گے، یہ غلمان جنتی جس سن و سال میں ہوں گے اسی میں رہیں گے یہ نہیں کہ سن بڑھ کر صورت بگڑ جائے، نفیس پوشاکیں اور بیش قیمث جڑاؤ زیور پہنے بہ تعداد کثیر ادھر ادھر مختلف کاموں پر بٹے ہوئے ہوں گے جنہیں دوڑ بھاگ کر مستعدی اور چالاکی سے انجام دے رہے ہوں گے ایسا معلوم ہوگا گویا سفید آب دار موتی ادھر ادھر جنت میں بکھرے پڑے ہیں۔ حقیت میں اس سے زیادہ اچھی تشبیہ ان کے لئے کوئی اور نہ تھی کہ یہ صاحب جمال خوش خصال بوٹے سے قد والے سفید نورانی چہروں والے پاک صاف سجی ہوئی پوشاکیں پہنے زیور میں لدے اپنے مالک کی فرمانبرداری میں دوڑتے بھاگتے ادھر ادھر پھرتے ایسے بھلے معلوم ہوں گے سجے سجائے پر تکلف فرش پر سفید چمکیلے سچے موتی ادھر ادھر لڑھک رہے ہوں، حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں ہر ہر جنتی کے ایک ہزار خادم ہوں گے جو مختلف کام کاج میں لگے ہوئے ہوں گے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی تم جنت کی جس جگہ نظر ڈالو تمہیں نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت نظر آئے گی تم دیکھو گے کہ راحت و سرور نعمت و نور سے چپہ چپہ معمور ہے چناچہ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے آخر میں جو جہنم میں سے نکالا جائے گا اور جنت میں بھیجا جائے گا اس سے جناب باری تبارک و تعالیٰ فرمائے گا جا میں نے تجھے جنت میں وہ دیا جو مثل دنیا کے ہے، بلکہ اس سے بھی دس حصے زیادہ دیا، اور حضرت ابن عمر کی روایت سے وہ حدیث بھی پہلے گذر چکی ہے جس میں ہے کہ ادنیٰ جنتی کی ملکیت و ملک دو ہزار سال تک ہوگا ہر قریب و بعید کی چیز پر اس کی بیک نظر یکساں نگاہیں ہوں گی، یہ حال تو ہے ادنیٰ جنتی کا پھر سمجھ لو کہ اعلیٰ جنتی کا درجہ کیا ہوگا ؟ اور اس کی نعمتیں کیسی ہوں گی (اے اللہ اے بغیر ہماری دعا اور عمل کے ہمیں شیر مادر کے چشمے عنایت کرنے والے ہم بہ عاجزی و الحاج تیری پاک جناب میں عرض گذار ہیں کہ تو ہمارے مشتاق دل کے ارمان پورے کر اور ہمیں بھی جنت الفردوس نصیب فرما۔ گو ایسے اعمال نہ ہوں لیکن ایمان ہے کہ تیری رحمت اعمال پر ہی موقف نہیں، آمین۔ مترجم) طبرانی کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں وارد ہے کہ ایک حبشی دربار رسالت میں حاضر ہوا، آپ نے اسے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو جس بات کو سمجھنا ہو پوچھ لو اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ صورت، شکل، رنگ، روپ، نبوۃ و رسالت میں آپ کو ہم پر فضیلت دی گئی ہے اب یہ تو فرمایئے کہ اگر میں بھی ان چیزوں پر ایمان لاؤں جن پر آپ ایمان لائے ہیں اور جن پر آپ عمل کرتے ہیں اگر میں بھی اسی پر عمل کروں تو کیا جنت میں آپ کے ساتھ ہوسکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا ہاں قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سیاہ رنگ لوگوں کو جنت میں وہ سفید رنگ دیا جائے گا کہ ایک ہزار سال کے فاصلے سے دکھائی دے گا پھر حضور ﷺ نے فرمایا جو شخص لا الہ الا اللہ کہے اس کے لئے اللہ کے پاس عہد مقرر ہوجاتا ہے اور جو شخص سبحان اللہ وبحمدہ کہے اس کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں، تو ایک شخص نے کہا پھر یا رسول اللہ ﷺ ہم کیسے ہال ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا سنو ایک شخص اتنی نیکیاں لائے گا کہ اگر کسی بڑے پہاڑ پر رکھی جائیں تو اس پر بوجھل پڑیں لیکن پھر جو اللہ کی نعمتیں اس کے مقابل آئیں گی تو قریب ہوگا کہ سب فنا ہوجائیں مگر یہ اور بات ہے کہ رحمت رب توجہ فرمائے اس وقت یہ سورت ملکا کبیراً تک اتری اسی حبشی نے کہا کہ اے حضور جو کچھ آپ کی آنکھیں جنت میں دیکھیں گی کیا میری آنکھیں بھی دیکھیں گی ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں، بس وہ رونے لگا یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کرگئی حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اسے فن کیا ؓ پھر اہل جنت کے لباس کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ سبز ہرے رنگ کا مہین اور چمکدار ریشم ہوگا، سندس اعلیٰ درجہ کا خالص نرم ریشم جو بدن سے لگا ہوا ہوگا، اور استبرق عمدہ بیش بہا گراں قدر ریشم جس میں چمک دمک ہوگی جو اوپر پہنچایا جائے گا، ساتھ ہی چاندی کے کنگن ہاتھوں میں ہوں گے، یہ لباس ابرار کا ہے، اور مقربین خاص کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے (يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا ۭ وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ 23) 22۔ الحج :23) انہیں سونے کے کنگن ہیرے جڑے ہوئے پہنائے جائیں گے اور خاص نرم صاف ریشمی لباس ہوگا، ان ظاہری جسمانی استعمالی نعمتوں کے ساتھ ہی انہیں پرکیف، بالذت، سرور والی، پاک اور پاک کرنے والی شراب پلائے جائے گی جو تمام ظاہری باطنی برائی دور کر دے حسد کینہ بدخلقی غصہ وغیرہ سب دور کر دے، جیسے امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے مروی ہے کہ جب اہل جنت جنت کے دروازے پر پہنچیں گے تو انہیں دو نہریں نظر آئیں گی اور انہیں از خود خیال پیدا ہوگا ایک کا وہ پانی پئیں گے تو ان کے دلوں میں جب کچھ تھا سب دور ہوجائے گا دوسری میں غسل کریں گے جس سے چہرے ترو تازہ ہشاش بشاش ہوجائیں گے، ظاہری اور باطنی خوبی دونوں انہیں بدرجہ کمال حاصل ہوں گی جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ پھر ان سے ان کے دل خوش کرنے اور ان کی خوشی دوبالا کرنے کو بار بار کہا جائے گا تمہارے نیک اعمال کا بدلہ اور تمہاری بھلی کوشش کی قدر وانی ہے، جیسے اور جگہ ہے (كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْۗئًۢا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ 24) 69۔ الحاقة :24) دنیا میں جو اعمال تم نے کئے ان کی نیک جزا میں آج تم خوب لطیف و لذیذ بہ آرام و اطمینان کھاتے پیتے رہو، اور فرمان ہے ونودوا ان یلکم الجنتہ اور ئتموھا بما کنتم یعملون یعنی منادی کئے جائیں گے کہ ان جنتوں کا وارث تمہیں تمہارے نیک کردار کی بنا پر بنایا گیا ہے، یہاں بھی فرمایا ہے تمہاری سعی مشکور ہے تھوڑے عمل پر بہت اجر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان میں سے کرے آمین۔
وَيُسْقَوْنَ فِيهَا كَأْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيلًا
📘 دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی اہل جنت کی نعمت، راحت، ان کے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع، مزین، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکئے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے، سورة والصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گذر چکی ہے، وہیں یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ اتکا سے مراد لیٹنا ہے یا کہنیاں ٹکانا ہے یا چار زانو بیٹھنا ہے یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے، اور یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ ارائک چھپر کھٹوں کو کہتے ہیں، پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ وہاں نہ تو سورج کی تیز شععوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے کی بہت سرد ہوائیں انہیں ناگوار گذریں بلکہ بہار کا سا موسم ہر وقت اور ہمیشہ رہتا ہے گرمی سردی کے جھمیلوں سے الگ ہیں، جنتی درختوں کی شاخیں جھوم جھوم کر ان پر سایہ کئے ہوئے ہوں گی اور میوے ان سے بالکل قریب ہوں گے چاہے لیٹے لیٹے توڑ کر کھالیں، چاہے بیٹھے بیٹھے لے لیں چاہے کھڑے ہو کرلے لیں درختوں پر چڑھنے اور تکلیف کی کوئی حاجت نہیں پر میوے دار لچھے اور لدے ہوئے لچھے لٹک رہے ہیں توڑا اور کھالیا اگر کھڑے ہیں تو میوے اتنے اونچے ہیں بیٹھے تو قدرے جھک گئے لیٹے تو اور قریب آگئے، نہ تو کانٹوں کی رکاوٹ نہ دوری کی سردردی ہے، حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں جنت کی زمین چاندی کی ہے اور اس کی مٹی مشک خالص ہے اس کے درختوں کے تنے سونے چاندی کے ہیں ڈالیاں لولو زبر جد اور یاقوت کی ہیں، ان کے درمیان پتے اور پھل ہیں جن کے توڑنے میں کوئی وقت اور مشکل نہیں چاہ بیٹھے بیٹھے توڑ لو چاہو کھڑے کھڑے بلکہ اگر چاہیں لیٹے لیٹے ایک طرف خوش خرام، خوش دل، خوبصورت، با ادب، سلیقہ شعار، فرمانبردار خادم قسم قسم کے کھانے چاندی کی کشتیوں میں لگائے لئے کھڑے۔ دوسری جانب شراب طہور سے چھلکتے ہوئے بلوریں جام لئے ساقیان مہوش اشارے کے منتظر ہیں، یہ گلاس صفائی میں شیشے جیسے اور سفیدی میں چاندی جیسے ہوں گے، دراصل ہوں گے چاندی کے لیکن شیشے کی طرح شفاف ہوں گے کہ اندر کی چیز باہر سے نظر آئے، جنت کی تمام چیزوں کی یونہی سی برائے نام مشابہت دنیا کی چیزوں میں بھی پائی جاتی ہے لیکن ان چاندی کے بلوریں گلاسوں کی کوئی نظری نہیں ملتی، ہاں یہ یاد رہے کہ پہلے کے لفظ قواریر پر زبر تو اس لئے ہے کہ وہ کان کی خبر ہے اور دوسرے پر زبریا تو بدلیت کی بنا پر ہے یا تمیز کی بنا پر، پھر یہ جام نپے تلے ہوئے ہیں ساقی کے ہاتھ میں بھی زیب دیں اور ان کی ہتھیلیوں پر بھلے معلوم ہوں اور ینے والوں کے حسب خواہش شراب طہور اس میں سما جائے جو نہ بچے نہ گھٹے۔ ان نایاب گلاسوں میں جو پاک خوش ذائقہ اور سرور والی بےنشے کی شراب انہیں ملے گی وہ جنت کی نہر سلسبیل کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی، اوپر گذر چکا ہے کہ نہر کا فور کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی تو مطلب یہ ہے کبھی اس ٹھنڈک والے سرد مزاج پانی سے کبھی اس نفیس گرم مزاج پانی سے تاکہ اعتدال قائم رہے، یہ ابرار لوگوں کا ذکر ہے اور خاص مقربین خالص اس نہر کا شربت پئیں گے، سلسبیل بقول عکرمہ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے کیونکہ وہ تیزی کے ساتھ مسلسل روانگی سے لہرایا چال بہہ رہا ہے، اس کا پانی بڑا ہلکا، نہایت شیریں، خوش ذائقہ اور خوش بو ہے جو آسانی سے پیا جائے اور ہضم اور جزو بدن ہوتا رہے۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی خوبصورت حسین نوخیز کم عمر لڑکے ان کی خدمت کے لئے کمر بستہ ہوں گے، یہ غلمان جنتی جس سن و سال میں ہوں گے اسی میں رہیں گے یہ نہیں کہ سن بڑھ کر صورت بگڑ جائے، نفیس پوشاکیں اور بیش قیمث جڑاؤ زیور پہنے بہ تعداد کثیر ادھر ادھر مختلف کاموں پر بٹے ہوئے ہوں گے جنہیں دوڑ بھاگ کر مستعدی اور چالاکی سے انجام دے رہے ہوں گے ایسا معلوم ہوگا گویا سفید آب دار موتی ادھر ادھر جنت میں بکھرے پڑے ہیں۔ حقیت میں اس سے زیادہ اچھی تشبیہ ان کے لئے کوئی اور نہ تھی کہ یہ صاحب جمال خوش خصال بوٹے سے قد والے سفید نورانی چہروں والے پاک صاف سجی ہوئی پوشاکیں پہنے زیور میں لدے اپنے مالک کی فرمانبرداری میں دوڑتے بھاگتے ادھر ادھر پھرتے ایسے بھلے معلوم ہوں گے سجے سجائے پر تکلف فرش پر سفید چمکیلے سچے موتی ادھر ادھر لڑھک رہے ہوں، حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں ہر ہر جنتی کے ایک ہزار خادم ہوں گے جو مختلف کام کاج میں لگے ہوئے ہوں گے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی تم جنت کی جس جگہ نظر ڈالو تمہیں نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت نظر آئے گی تم دیکھو گے کہ راحت و سرور نعمت و نور سے چپہ چپہ معمور ہے چناچہ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے آخر میں جو جہنم میں سے نکالا جائے گا اور جنت میں بھیجا جائے گا اس سے جناب باری تبارک و تعالیٰ فرمائے گا جا میں نے تجھے جنت میں وہ دیا جو مثل دنیا کے ہے، بلکہ اس سے بھی دس حصے زیادہ دیا، اور حضرت ابن عمر کی روایت سے وہ حدیث بھی پہلے گذر چکی ہے جس میں ہے کہ ادنیٰ جنتی کی ملکیت و ملک دو ہزار سال تک ہوگا ہر قریب و بعید کی چیز پر اس کی بیک نظر یکساں نگاہیں ہوں گی، یہ حال تو ہے ادنیٰ جنتی کا پھر سمجھ لو کہ اعلیٰ جنتی کا درجہ کیا ہوگا ؟ اور اس کی نعمتیں کیسی ہوں گی (اے اللہ اے بغیر ہماری دعا اور عمل کے ہمیں شیر مادر کے چشمے عنایت کرنے والے ہم بہ عاجزی و الحاج تیری پاک جناب میں عرض گذار ہیں کہ تو ہمارے مشتاق دل کے ارمان پورے کر اور ہمیں بھی جنت الفردوس نصیب فرما۔ گو ایسے اعمال نہ ہوں لیکن ایمان ہے کہ تیری رحمت اعمال پر ہی موقف نہیں، آمین۔ مترجم) طبرانی کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں وارد ہے کہ ایک حبشی دربار رسالت میں حاضر ہوا، آپ نے اسے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو جس بات کو سمجھنا ہو پوچھ لو اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ صورت، شکل، رنگ، روپ، نبوۃ و رسالت میں آپ کو ہم پر فضیلت دی گئی ہے اب یہ تو فرمایئے کہ اگر میں بھی ان چیزوں پر ایمان لاؤں جن پر آپ ایمان لائے ہیں اور جن پر آپ عمل کرتے ہیں اگر میں بھی اسی پر عمل کروں تو کیا جنت میں آپ کے ساتھ ہوسکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا ہاں قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سیاہ رنگ لوگوں کو جنت میں وہ سفید رنگ دیا جائے گا کہ ایک ہزار سال کے فاصلے سے دکھائی دے گا پھر حضور ﷺ نے فرمایا جو شخص لا الہ الا اللہ کہے اس کے لئے اللہ کے پاس عہد مقرر ہوجاتا ہے اور جو شخص سبحان اللہ وبحمدہ کہے اس کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں، تو ایک شخص نے کہا پھر یا رسول اللہ ﷺ ہم کیسے ہال ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا سنو ایک شخص اتنی نیکیاں لائے گا کہ اگر کسی بڑے پہاڑ پر رکھی جائیں تو اس پر بوجھل پڑیں لیکن پھر جو اللہ کی نعمتیں اس کے مقابل آئیں گی تو قریب ہوگا کہ سب فنا ہوجائیں مگر یہ اور بات ہے کہ رحمت رب توجہ فرمائے اس وقت یہ سورت ملکا کبیراً تک اتری اسی حبشی نے کہا کہ اے حضور جو کچھ آپ کی آنکھیں جنت میں دیکھیں گی کیا میری آنکھیں بھی دیکھیں گی ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں، بس وہ رونے لگا یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کرگئی حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اسے فن کیا ؓ پھر اہل جنت کے لباس کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ سبز ہرے رنگ کا مہین اور چمکدار ریشم ہوگا، سندس اعلیٰ درجہ کا خالص نرم ریشم جو بدن سے لگا ہوا ہوگا، اور استبرق عمدہ بیش بہا گراں قدر ریشم جس میں چمک دمک ہوگی جو اوپر پہنچایا جائے گا، ساتھ ہی چاندی کے کنگن ہاتھوں میں ہوں گے، یہ لباس ابرار کا ہے، اور مقربین خاص کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے (يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا ۭ وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ 23) 22۔ الحج :23) انہیں سونے کے کنگن ہیرے جڑے ہوئے پہنائے جائیں گے اور خاص نرم صاف ریشمی لباس ہوگا، ان ظاہری جسمانی استعمالی نعمتوں کے ساتھ ہی انہیں پرکیف، بالذت، سرور والی، پاک اور پاک کرنے والی شراب پلائے جائے گی جو تمام ظاہری باطنی برائی دور کر دے حسد کینہ بدخلقی غصہ وغیرہ سب دور کر دے، جیسے امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے مروی ہے کہ جب اہل جنت جنت کے دروازے پر پہنچیں گے تو انہیں دو نہریں نظر آئیں گی اور انہیں از خود خیال پیدا ہوگا ایک کا وہ پانی پئیں گے تو ان کے دلوں میں جب کچھ تھا سب دور ہوجائے گا دوسری میں غسل کریں گے جس سے چہرے ترو تازہ ہشاش بشاش ہوجائیں گے، ظاہری اور باطنی خوبی دونوں انہیں بدرجہ کمال حاصل ہوں گی جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ پھر ان سے ان کے دل خوش کرنے اور ان کی خوشی دوبالا کرنے کو بار بار کہا جائے گا تمہارے نیک اعمال کا بدلہ اور تمہاری بھلی کوشش کی قدر وانی ہے، جیسے اور جگہ ہے (كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْۗئًۢا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ 24) 69۔ الحاقة :24) دنیا میں جو اعمال تم نے کئے ان کی نیک جزا میں آج تم خوب لطیف و لذیذ بہ آرام و اطمینان کھاتے پیتے رہو، اور فرمان ہے ونودوا ان یلکم الجنتہ اور ئتموھا بما کنتم یعملون یعنی منادی کئے جائیں گے کہ ان جنتوں کا وارث تمہیں تمہارے نیک کردار کی بنا پر بنایا گیا ہے، یہاں بھی فرمایا ہے تمہاری سعی مشکور ہے تھوڑے عمل پر بہت اجر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان میں سے کرے آمین۔
عَيْنًا فِيهَا تُسَمَّىٰ سَلْسَبِيلًا
📘 دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی اہل جنت کی نعمت، راحت، ان کے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع، مزین، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکئے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے، سورة والصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گذر چکی ہے، وہیں یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ اتکا سے مراد لیٹنا ہے یا کہنیاں ٹکانا ہے یا چار زانو بیٹھنا ہے یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے، اور یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ ارائک چھپر کھٹوں کو کہتے ہیں، پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ وہاں نہ تو سورج کی تیز شععوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے کی بہت سرد ہوائیں انہیں ناگوار گذریں بلکہ بہار کا سا موسم ہر وقت اور ہمیشہ رہتا ہے گرمی سردی کے جھمیلوں سے الگ ہیں، جنتی درختوں کی شاخیں جھوم جھوم کر ان پر سایہ کئے ہوئے ہوں گی اور میوے ان سے بالکل قریب ہوں گے چاہے لیٹے لیٹے توڑ کر کھالیں، چاہے بیٹھے بیٹھے لے لیں چاہے کھڑے ہو کرلے لیں درختوں پر چڑھنے اور تکلیف کی کوئی حاجت نہیں پر میوے دار لچھے اور لدے ہوئے لچھے لٹک رہے ہیں توڑا اور کھالیا اگر کھڑے ہیں تو میوے اتنے اونچے ہیں بیٹھے تو قدرے جھک گئے لیٹے تو اور قریب آگئے، نہ تو کانٹوں کی رکاوٹ نہ دوری کی سردردی ہے، حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں جنت کی زمین چاندی کی ہے اور اس کی مٹی مشک خالص ہے اس کے درختوں کے تنے سونے چاندی کے ہیں ڈالیاں لولو زبر جد اور یاقوت کی ہیں، ان کے درمیان پتے اور پھل ہیں جن کے توڑنے میں کوئی وقت اور مشکل نہیں چاہ بیٹھے بیٹھے توڑ لو چاہو کھڑے کھڑے بلکہ اگر چاہیں لیٹے لیٹے ایک طرف خوش خرام، خوش دل، خوبصورت، با ادب، سلیقہ شعار، فرمانبردار خادم قسم قسم کے کھانے چاندی کی کشتیوں میں لگائے لئے کھڑے۔ دوسری جانب شراب طہور سے چھلکتے ہوئے بلوریں جام لئے ساقیان مہوش اشارے کے منتظر ہیں، یہ گلاس صفائی میں شیشے جیسے اور سفیدی میں چاندی جیسے ہوں گے، دراصل ہوں گے چاندی کے لیکن شیشے کی طرح شفاف ہوں گے کہ اندر کی چیز باہر سے نظر آئے، جنت کی تمام چیزوں کی یونہی سی برائے نام مشابہت دنیا کی چیزوں میں بھی پائی جاتی ہے لیکن ان چاندی کے بلوریں گلاسوں کی کوئی نظری نہیں ملتی، ہاں یہ یاد رہے کہ پہلے کے لفظ قواریر پر زبر تو اس لئے ہے کہ وہ کان کی خبر ہے اور دوسرے پر زبریا تو بدلیت کی بنا پر ہے یا تمیز کی بنا پر، پھر یہ جام نپے تلے ہوئے ہیں ساقی کے ہاتھ میں بھی زیب دیں اور ان کی ہتھیلیوں پر بھلے معلوم ہوں اور ینے والوں کے حسب خواہش شراب طہور اس میں سما جائے جو نہ بچے نہ گھٹے۔ ان نایاب گلاسوں میں جو پاک خوش ذائقہ اور سرور والی بےنشے کی شراب انہیں ملے گی وہ جنت کی نہر سلسبیل کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی، اوپر گذر چکا ہے کہ نہر کا فور کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی تو مطلب یہ ہے کبھی اس ٹھنڈک والے سرد مزاج پانی سے کبھی اس نفیس گرم مزاج پانی سے تاکہ اعتدال قائم رہے، یہ ابرار لوگوں کا ذکر ہے اور خاص مقربین خالص اس نہر کا شربت پئیں گے، سلسبیل بقول عکرمہ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے کیونکہ وہ تیزی کے ساتھ مسلسل روانگی سے لہرایا چال بہہ رہا ہے، اس کا پانی بڑا ہلکا، نہایت شیریں، خوش ذائقہ اور خوش بو ہے جو آسانی سے پیا جائے اور ہضم اور جزو بدن ہوتا رہے۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی خوبصورت حسین نوخیز کم عمر لڑکے ان کی خدمت کے لئے کمر بستہ ہوں گے، یہ غلمان جنتی جس سن و سال میں ہوں گے اسی میں رہیں گے یہ نہیں کہ سن بڑھ کر صورت بگڑ جائے، نفیس پوشاکیں اور بیش قیمث جڑاؤ زیور پہنے بہ تعداد کثیر ادھر ادھر مختلف کاموں پر بٹے ہوئے ہوں گے جنہیں دوڑ بھاگ کر مستعدی اور چالاکی سے انجام دے رہے ہوں گے ایسا معلوم ہوگا گویا سفید آب دار موتی ادھر ادھر جنت میں بکھرے پڑے ہیں۔ حقیت میں اس سے زیادہ اچھی تشبیہ ان کے لئے کوئی اور نہ تھی کہ یہ صاحب جمال خوش خصال بوٹے سے قد والے سفید نورانی چہروں والے پاک صاف سجی ہوئی پوشاکیں پہنے زیور میں لدے اپنے مالک کی فرمانبرداری میں دوڑتے بھاگتے ادھر ادھر پھرتے ایسے بھلے معلوم ہوں گے سجے سجائے پر تکلف فرش پر سفید چمکیلے سچے موتی ادھر ادھر لڑھک رہے ہوں، حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں ہر ہر جنتی کے ایک ہزار خادم ہوں گے جو مختلف کام کاج میں لگے ہوئے ہوں گے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی تم جنت کی جس جگہ نظر ڈالو تمہیں نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت نظر آئے گی تم دیکھو گے کہ راحت و سرور نعمت و نور سے چپہ چپہ معمور ہے چناچہ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے آخر میں جو جہنم میں سے نکالا جائے گا اور جنت میں بھیجا جائے گا اس سے جناب باری تبارک و تعالیٰ فرمائے گا جا میں نے تجھے جنت میں وہ دیا جو مثل دنیا کے ہے، بلکہ اس سے بھی دس حصے زیادہ دیا، اور حضرت ابن عمر کی روایت سے وہ حدیث بھی پہلے گذر چکی ہے جس میں ہے کہ ادنیٰ جنتی کی ملکیت و ملک دو ہزار سال تک ہوگا ہر قریب و بعید کی چیز پر اس کی بیک نظر یکساں نگاہیں ہوں گی، یہ حال تو ہے ادنیٰ جنتی کا پھر سمجھ لو کہ اعلیٰ جنتی کا درجہ کیا ہوگا ؟ اور اس کی نعمتیں کیسی ہوں گی (اے اللہ اے بغیر ہماری دعا اور عمل کے ہمیں شیر مادر کے چشمے عنایت کرنے والے ہم بہ عاجزی و الحاج تیری پاک جناب میں عرض گذار ہیں کہ تو ہمارے مشتاق دل کے ارمان پورے کر اور ہمیں بھی جنت الفردوس نصیب فرما۔ گو ایسے اعمال نہ ہوں لیکن ایمان ہے کہ تیری رحمت اعمال پر ہی موقف نہیں، آمین۔ مترجم) طبرانی کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں وارد ہے کہ ایک حبشی دربار رسالت میں حاضر ہوا، آپ نے اسے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو جس بات کو سمجھنا ہو پوچھ لو اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ صورت، شکل، رنگ، روپ، نبوۃ و رسالت میں آپ کو ہم پر فضیلت دی گئی ہے اب یہ تو فرمایئے کہ اگر میں بھی ان چیزوں پر ایمان لاؤں جن پر آپ ایمان لائے ہیں اور جن پر آپ عمل کرتے ہیں اگر میں بھی اسی پر عمل کروں تو کیا جنت میں آپ کے ساتھ ہوسکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا ہاں قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سیاہ رنگ لوگوں کو جنت میں وہ سفید رنگ دیا جائے گا کہ ایک ہزار سال کے فاصلے سے دکھائی دے گا پھر حضور ﷺ نے فرمایا جو شخص لا الہ الا اللہ کہے اس کے لئے اللہ کے پاس عہد مقرر ہوجاتا ہے اور جو شخص سبحان اللہ وبحمدہ کہے اس کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں، تو ایک شخص نے کہا پھر یا رسول اللہ ﷺ ہم کیسے ہال ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا سنو ایک شخص اتنی نیکیاں لائے گا کہ اگر کسی بڑے پہاڑ پر رکھی جائیں تو اس پر بوجھل پڑیں لیکن پھر جو اللہ کی نعمتیں اس کے مقابل آئیں گی تو قریب ہوگا کہ سب فنا ہوجائیں مگر یہ اور بات ہے کہ رحمت رب توجہ فرمائے اس وقت یہ سورت ملکا کبیراً تک اتری اسی حبشی نے کہا کہ اے حضور جو کچھ آپ کی آنکھیں جنت میں دیکھیں گی کیا میری آنکھیں بھی دیکھیں گی ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں، بس وہ رونے لگا یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کرگئی حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اسے فن کیا ؓ پھر اہل جنت کے لباس کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ سبز ہرے رنگ کا مہین اور چمکدار ریشم ہوگا، سندس اعلیٰ درجہ کا خالص نرم ریشم جو بدن سے لگا ہوا ہوگا، اور استبرق عمدہ بیش بہا گراں قدر ریشم جس میں چمک دمک ہوگی جو اوپر پہنچایا جائے گا، ساتھ ہی چاندی کے کنگن ہاتھوں میں ہوں گے، یہ لباس ابرار کا ہے، اور مقربین خاص کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے (يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا ۭ وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ 23) 22۔ الحج :23) انہیں سونے کے کنگن ہیرے جڑے ہوئے پہنائے جائیں گے اور خاص نرم صاف ریشمی لباس ہوگا، ان ظاہری جسمانی استعمالی نعمتوں کے ساتھ ہی انہیں پرکیف، بالذت، سرور والی، پاک اور پاک کرنے والی شراب پلائے جائے گی جو تمام ظاہری باطنی برائی دور کر دے حسد کینہ بدخلقی غصہ وغیرہ سب دور کر دے، جیسے امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے مروی ہے کہ جب اہل جنت جنت کے دروازے پر پہنچیں گے تو انہیں دو نہریں نظر آئیں گی اور انہیں از خود خیال پیدا ہوگا ایک کا وہ پانی پئیں گے تو ان کے دلوں میں جب کچھ تھا سب دور ہوجائے گا دوسری میں غسل کریں گے جس سے چہرے ترو تازہ ہشاش بشاش ہوجائیں گے، ظاہری اور باطنی خوبی دونوں انہیں بدرجہ کمال حاصل ہوں گی جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ پھر ان سے ان کے دل خوش کرنے اور ان کی خوشی دوبالا کرنے کو بار بار کہا جائے گا تمہارے نیک اعمال کا بدلہ اور تمہاری بھلی کوشش کی قدر وانی ہے، جیسے اور جگہ ہے (كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْۗئًۢا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ 24) 69۔ الحاقة :24) دنیا میں جو اعمال تم نے کئے ان کی نیک جزا میں آج تم خوب لطیف و لذیذ بہ آرام و اطمینان کھاتے پیتے رہو، اور فرمان ہے ونودوا ان یلکم الجنتہ اور ئتموھا بما کنتم یعملون یعنی منادی کئے جائیں گے کہ ان جنتوں کا وارث تمہیں تمہارے نیک کردار کی بنا پر بنایا گیا ہے، یہاں بھی فرمایا ہے تمہاری سعی مشکور ہے تھوڑے عمل پر بہت اجر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان میں سے کرے آمین۔
۞ وَيَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُخَلَّدُونَ إِذَا رَأَيْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَنْثُورًا
📘 دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی اہل جنت کی نعمت، راحت، ان کے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع، مزین، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکئے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے، سورة والصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گذر چکی ہے، وہیں یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ اتکا سے مراد لیٹنا ہے یا کہنیاں ٹکانا ہے یا چار زانو بیٹھنا ہے یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے، اور یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ ارائک چھپر کھٹوں کو کہتے ہیں، پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ وہاں نہ تو سورج کی تیز شععوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے کی بہت سرد ہوائیں انہیں ناگوار گذریں بلکہ بہار کا سا موسم ہر وقت اور ہمیشہ رہتا ہے گرمی سردی کے جھمیلوں سے الگ ہیں، جنتی درختوں کی شاخیں جھوم جھوم کر ان پر سایہ کئے ہوئے ہوں گی اور میوے ان سے بالکل قریب ہوں گے چاہے لیٹے لیٹے توڑ کر کھالیں، چاہے بیٹھے بیٹھے لے لیں چاہے کھڑے ہو کرلے لیں درختوں پر چڑھنے اور تکلیف کی کوئی حاجت نہیں پر میوے دار لچھے اور لدے ہوئے لچھے لٹک رہے ہیں توڑا اور کھالیا اگر کھڑے ہیں تو میوے اتنے اونچے ہیں بیٹھے تو قدرے جھک گئے لیٹے تو اور قریب آگئے، نہ تو کانٹوں کی رکاوٹ نہ دوری کی سردردی ہے، حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں جنت کی زمین چاندی کی ہے اور اس کی مٹی مشک خالص ہے اس کے درختوں کے تنے سونے چاندی کے ہیں ڈالیاں لولو زبر جد اور یاقوت کی ہیں، ان کے درمیان پتے اور پھل ہیں جن کے توڑنے میں کوئی وقت اور مشکل نہیں چاہ بیٹھے بیٹھے توڑ لو چاہو کھڑے کھڑے بلکہ اگر چاہیں لیٹے لیٹے ایک طرف خوش خرام، خوش دل، خوبصورت، با ادب، سلیقہ شعار، فرمانبردار خادم قسم قسم کے کھانے چاندی کی کشتیوں میں لگائے لئے کھڑے۔ دوسری جانب شراب طہور سے چھلکتے ہوئے بلوریں جام لئے ساقیان مہوش اشارے کے منتظر ہیں، یہ گلاس صفائی میں شیشے جیسے اور سفیدی میں چاندی جیسے ہوں گے، دراصل ہوں گے چاندی کے لیکن شیشے کی طرح شفاف ہوں گے کہ اندر کی چیز باہر سے نظر آئے، جنت کی تمام چیزوں کی یونہی سی برائے نام مشابہت دنیا کی چیزوں میں بھی پائی جاتی ہے لیکن ان چاندی کے بلوریں گلاسوں کی کوئی نظری نہیں ملتی، ہاں یہ یاد رہے کہ پہلے کے لفظ قواریر پر زبر تو اس لئے ہے کہ وہ کان کی خبر ہے اور دوسرے پر زبریا تو بدلیت کی بنا پر ہے یا تمیز کی بنا پر، پھر یہ جام نپے تلے ہوئے ہیں ساقی کے ہاتھ میں بھی زیب دیں اور ان کی ہتھیلیوں پر بھلے معلوم ہوں اور ینے والوں کے حسب خواہش شراب طہور اس میں سما جائے جو نہ بچے نہ گھٹے۔ ان نایاب گلاسوں میں جو پاک خوش ذائقہ اور سرور والی بےنشے کی شراب انہیں ملے گی وہ جنت کی نہر سلسبیل کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی، اوپر گذر چکا ہے کہ نہر کا فور کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی تو مطلب یہ ہے کبھی اس ٹھنڈک والے سرد مزاج پانی سے کبھی اس نفیس گرم مزاج پانی سے تاکہ اعتدال قائم رہے، یہ ابرار لوگوں کا ذکر ہے اور خاص مقربین خالص اس نہر کا شربت پئیں گے، سلسبیل بقول عکرمہ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے کیونکہ وہ تیزی کے ساتھ مسلسل روانگی سے لہرایا چال بہہ رہا ہے، اس کا پانی بڑا ہلکا، نہایت شیریں، خوش ذائقہ اور خوش بو ہے جو آسانی سے پیا جائے اور ہضم اور جزو بدن ہوتا رہے۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی خوبصورت حسین نوخیز کم عمر لڑکے ان کی خدمت کے لئے کمر بستہ ہوں گے، یہ غلمان جنتی جس سن و سال میں ہوں گے اسی میں رہیں گے یہ نہیں کہ سن بڑھ کر صورت بگڑ جائے، نفیس پوشاکیں اور بیش قیمث جڑاؤ زیور پہنے بہ تعداد کثیر ادھر ادھر مختلف کاموں پر بٹے ہوئے ہوں گے جنہیں دوڑ بھاگ کر مستعدی اور چالاکی سے انجام دے رہے ہوں گے ایسا معلوم ہوگا گویا سفید آب دار موتی ادھر ادھر جنت میں بکھرے پڑے ہیں۔ حقیت میں اس سے زیادہ اچھی تشبیہ ان کے لئے کوئی اور نہ تھی کہ یہ صاحب جمال خوش خصال بوٹے سے قد والے سفید نورانی چہروں والے پاک صاف سجی ہوئی پوشاکیں پہنے زیور میں لدے اپنے مالک کی فرمانبرداری میں دوڑتے بھاگتے ادھر ادھر پھرتے ایسے بھلے معلوم ہوں گے سجے سجائے پر تکلف فرش پر سفید چمکیلے سچے موتی ادھر ادھر لڑھک رہے ہوں، حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں ہر ہر جنتی کے ایک ہزار خادم ہوں گے جو مختلف کام کاج میں لگے ہوئے ہوں گے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی تم جنت کی جس جگہ نظر ڈالو تمہیں نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت نظر آئے گی تم دیکھو گے کہ راحت و سرور نعمت و نور سے چپہ چپہ معمور ہے چناچہ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے آخر میں جو جہنم میں سے نکالا جائے گا اور جنت میں بھیجا جائے گا اس سے جناب باری تبارک و تعالیٰ فرمائے گا جا میں نے تجھے جنت میں وہ دیا جو مثل دنیا کے ہے، بلکہ اس سے بھی دس حصے زیادہ دیا، اور حضرت ابن عمر کی روایت سے وہ حدیث بھی پہلے گذر چکی ہے جس میں ہے کہ ادنیٰ جنتی کی ملکیت و ملک دو ہزار سال تک ہوگا ہر قریب و بعید کی چیز پر اس کی بیک نظر یکساں نگاہیں ہوں گی، یہ حال تو ہے ادنیٰ جنتی کا پھر سمجھ لو کہ اعلیٰ جنتی کا درجہ کیا ہوگا ؟ اور اس کی نعمتیں کیسی ہوں گی (اے اللہ اے بغیر ہماری دعا اور عمل کے ہمیں شیر مادر کے چشمے عنایت کرنے والے ہم بہ عاجزی و الحاج تیری پاک جناب میں عرض گذار ہیں کہ تو ہمارے مشتاق دل کے ارمان پورے کر اور ہمیں بھی جنت الفردوس نصیب فرما۔ گو ایسے اعمال نہ ہوں لیکن ایمان ہے کہ تیری رحمت اعمال پر ہی موقف نہیں، آمین۔ مترجم) طبرانی کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں وارد ہے کہ ایک حبشی دربار رسالت میں حاضر ہوا، آپ نے اسے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو جس بات کو سمجھنا ہو پوچھ لو اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ صورت، شکل، رنگ، روپ، نبوۃ و رسالت میں آپ کو ہم پر فضیلت دی گئی ہے اب یہ تو فرمایئے کہ اگر میں بھی ان چیزوں پر ایمان لاؤں جن پر آپ ایمان لائے ہیں اور جن پر آپ عمل کرتے ہیں اگر میں بھی اسی پر عمل کروں تو کیا جنت میں آپ کے ساتھ ہوسکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا ہاں قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سیاہ رنگ لوگوں کو جنت میں وہ سفید رنگ دیا جائے گا کہ ایک ہزار سال کے فاصلے سے دکھائی دے گا پھر حضور ﷺ نے فرمایا جو شخص لا الہ الا اللہ کہے اس کے لئے اللہ کے پاس عہد مقرر ہوجاتا ہے اور جو شخص سبحان اللہ وبحمدہ کہے اس کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں، تو ایک شخص نے کہا پھر یا رسول اللہ ﷺ ہم کیسے ہال ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا سنو ایک شخص اتنی نیکیاں لائے گا کہ اگر کسی بڑے پہاڑ پر رکھی جائیں تو اس پر بوجھل پڑیں لیکن پھر جو اللہ کی نعمتیں اس کے مقابل آئیں گی تو قریب ہوگا کہ سب فنا ہوجائیں مگر یہ اور بات ہے کہ رحمت رب توجہ فرمائے اس وقت یہ سورت ملکا کبیراً تک اتری اسی حبشی نے کہا کہ اے حضور جو کچھ آپ کی آنکھیں جنت میں دیکھیں گی کیا میری آنکھیں بھی دیکھیں گی ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں، بس وہ رونے لگا یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کرگئی حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اسے فن کیا ؓ پھر اہل جنت کے لباس کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ سبز ہرے رنگ کا مہین اور چمکدار ریشم ہوگا، سندس اعلیٰ درجہ کا خالص نرم ریشم جو بدن سے لگا ہوا ہوگا، اور استبرق عمدہ بیش بہا گراں قدر ریشم جس میں چمک دمک ہوگی جو اوپر پہنچایا جائے گا، ساتھ ہی چاندی کے کنگن ہاتھوں میں ہوں گے، یہ لباس ابرار کا ہے، اور مقربین خاص کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے (يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا ۭ وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ 23) 22۔ الحج :23) انہیں سونے کے کنگن ہیرے جڑے ہوئے پہنائے جائیں گے اور خاص نرم صاف ریشمی لباس ہوگا، ان ظاہری جسمانی استعمالی نعمتوں کے ساتھ ہی انہیں پرکیف، بالذت، سرور والی، پاک اور پاک کرنے والی شراب پلائے جائے گی جو تمام ظاہری باطنی برائی دور کر دے حسد کینہ بدخلقی غصہ وغیرہ سب دور کر دے، جیسے امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے مروی ہے کہ جب اہل جنت جنت کے دروازے پر پہنچیں گے تو انہیں دو نہریں نظر آئیں گی اور انہیں از خود خیال پیدا ہوگا ایک کا وہ پانی پئیں گے تو ان کے دلوں میں جب کچھ تھا سب دور ہوجائے گا دوسری میں غسل کریں گے جس سے چہرے ترو تازہ ہشاش بشاش ہوجائیں گے، ظاہری اور باطنی خوبی دونوں انہیں بدرجہ کمال حاصل ہوں گی جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ پھر ان سے ان کے دل خوش کرنے اور ان کی خوشی دوبالا کرنے کو بار بار کہا جائے گا تمہارے نیک اعمال کا بدلہ اور تمہاری بھلی کوشش کی قدر وانی ہے، جیسے اور جگہ ہے (كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْۗئًۢا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ 24) 69۔ الحاقة :24) دنیا میں جو اعمال تم نے کئے ان کی نیک جزا میں آج تم خوب لطیف و لذیذ بہ آرام و اطمینان کھاتے پیتے رہو، اور فرمان ہے ونودوا ان یلکم الجنتہ اور ئتموھا بما کنتم یعملون یعنی منادی کئے جائیں گے کہ ان جنتوں کا وارث تمہیں تمہارے نیک کردار کی بنا پر بنایا گیا ہے، یہاں بھی فرمایا ہے تمہاری سعی مشکور ہے تھوڑے عمل پر بہت اجر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان میں سے کرے آمین۔
إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا
📘 اے انسان اپنے فرائض پہچان اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے انسان کو پیدا کیا حالانکہ اس سے پہلے ہوا پانی حقارت اور ضعف کی وجہ سے ایسی چیز نہ تھا کہ ذکر کیا جائے، اسے مرد و عورت کے ملے جلے پانی سے پیدا کیا اور عجب عجب تبدیلیوں کے بعد یہ موجودہ شکل و صورت اور ہئیت پر آیا، اسے ہم آزما رہے ہیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭوَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ ۙ) 67۔ الملک :2) تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے عمل کرنے والا کون ہے ؟ پس اس نے تمہیں کان اور آنکھیں عطا فرمائیں تاکہ اطاعت اور معصیت میں تمیز کرسکو۔ ہم نے اسے راہ دکھا دی خوب واضح اور صاف کر کے اپنا سیدھا راستہ اس پر کھول دیا، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَيْنٰهُمْ فَاسْتَــحَبُّوا الْعَمٰى عَلَي الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 17ۚ) 41۔ فصلت :17) یعنی ثمودیوں کو ہم نے ہدایت کی لیکن انہوں نے اندھے پن کو ہدایت پر ترجیح دی اور جگہ ہے آیت (وَهَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ 10ۚ) 90۔ البلد :10) ہم نے انسان کو دونوں راہیں دکھا دیں، یعنی بھلائی برائی کی، اس آیت کی تفسیر میں مجاہد ابو صالح ضحاک اور سدی سے مروی ہے کہ اسے ہم نے راہ دکھائی یعنی ماں کے پیٹ سے باہر آنے کی، لیکن یہ قول غریب ہے اور صحیح قول پہلا ہی ہے اور جمہور سے یہی منقول ہے شاکراً اور کفوراً کا نصب حال کی وجہ سے ذوالحال لا کی ضمیر ہے جو آیت (اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا) 76۔ الإنسان :3) میں ہے، یعنی وہ اس حالت میں یا تو شقی ہے یا سعید ہے، جیسے صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ ہر شخص صبح کے وقت اپنے نفس کی خریدوفروخت کرتا ہے یا تو اسے ہلاک کردیتا ہے یا آزاد کرا لیتا ہے، مسند احمد میں ہے کہ حضرت کعب بن عجرہ ؓ سے آپ نے فرمایا اللہ تجھے بیوقوفوں کی سرداری سے بچائے حضرت کعب نے کہا یا رسول اللہ ﷺ وہ کیا ہے ؟ فرمایا وہ میرے بعد کے سردار ہوں گے جو میری سنتوں پر نہ عمل کریں گے نہ میرے طریقوں پر چلیں گے پس جو لوگ ان کی جھوٹ کی تصدیق کریں اور ان کے ظلم کی امداد کریں وہ نہ میرے ہیں اور نہ میں ان کا ہوں یاد رکھو وہ میرے حوض کوثر پر بھی نہیں آسکتے اور جو ان کے جھوٹ کو سچا نہ کرے اور ان کے ظلموں میں ان کا مددگار نہ بنے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں یہ لوگ میرے حوض کوثر پر مجھے ملیں گے اے کعب روزہ ڈھال ہے اور صدقہ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے اور نماز قرب اللہ کا سبب ہے یا فرمایا کہ دلیل نجات ہے۔ اے کعب وہ گوشت پوست جنت میں نہیں جاسکتا وہ حرام سے پلا ہو وہ تو جہنم میں ہی جانے کے قابل ہے، اے کعب لوگ ہر صبح اپنے نفس کی خریدو فروخت کرتے ہیں کوئی تو اسے آزاد کرا لیتا ہے اور کوئی ہلاک کر گذرتا ہے، سورة روم کی آیت (فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ ڎ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 30ڎ) 30۔ الروم :30) کی تفسیر میں حضرت جابر کی روایت سے حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی گذر چکا ہے کہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ زبان چلنے لگتی ہے پھر یا تو شکر گذار بنتا ہے یا ناشکرا، مسند احمد کی اور حدیث میں ہے کہ جو نکلنے والا نکلتا ہے اس کے دروازے پر دو جھنڈے ہوتے ہیں ایک فرشتے کے ہاتھ میں دوسرا شیطان کے ہاتھ میں پس اگر وہ اس کام کے لئے نکلا جو اللہ کی مرضی کا ہے تو فرشتہ اپنا جھنڈا لئے ہوئے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور یہ واپسی تک فرشتے کے جھنڈے تلے ہی رہتا ہے اور اگر اللہ کی ناراضگی کے کام کے لئے نکلا ہے تو شیطان اپنا جھنڈا لگائے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور واپسی تک یہ شیطانی جھنڈے تلے رہتا ہے۔
وَإِذَا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرًا
📘 دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی اہل جنت کی نعمت، راحت، ان کے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع، مزین، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکئے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے، سورة والصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گذر چکی ہے، وہیں یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ اتکا سے مراد لیٹنا ہے یا کہنیاں ٹکانا ہے یا چار زانو بیٹھنا ہے یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے، اور یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ ارائک چھپر کھٹوں کو کہتے ہیں، پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ وہاں نہ تو سورج کی تیز شععوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے کی بہت سرد ہوائیں انہیں ناگوار گذریں بلکہ بہار کا سا موسم ہر وقت اور ہمیشہ رہتا ہے گرمی سردی کے جھمیلوں سے الگ ہیں، جنتی درختوں کی شاخیں جھوم جھوم کر ان پر سایہ کئے ہوئے ہوں گی اور میوے ان سے بالکل قریب ہوں گے چاہے لیٹے لیٹے توڑ کر کھالیں، چاہے بیٹھے بیٹھے لے لیں چاہے کھڑے ہو کرلے لیں درختوں پر چڑھنے اور تکلیف کی کوئی حاجت نہیں پر میوے دار لچھے اور لدے ہوئے لچھے لٹک رہے ہیں توڑا اور کھالیا اگر کھڑے ہیں تو میوے اتنے اونچے ہیں بیٹھے تو قدرے جھک گئے لیٹے تو اور قریب آگئے، نہ تو کانٹوں کی رکاوٹ نہ دوری کی سردردی ہے، حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں جنت کی زمین چاندی کی ہے اور اس کی مٹی مشک خالص ہے اس کے درختوں کے تنے سونے چاندی کے ہیں ڈالیاں لولو زبر جد اور یاقوت کی ہیں، ان کے درمیان پتے اور پھل ہیں جن کے توڑنے میں کوئی وقت اور مشکل نہیں چاہ بیٹھے بیٹھے توڑ لو چاہو کھڑے کھڑے بلکہ اگر چاہیں لیٹے لیٹے ایک طرف خوش خرام، خوش دل، خوبصورت، با ادب، سلیقہ شعار، فرمانبردار خادم قسم قسم کے کھانے چاندی کی کشتیوں میں لگائے لئے کھڑے۔ دوسری جانب شراب طہور سے چھلکتے ہوئے بلوریں جام لئے ساقیان مہوش اشارے کے منتظر ہیں، یہ گلاس صفائی میں شیشے جیسے اور سفیدی میں چاندی جیسے ہوں گے، دراصل ہوں گے چاندی کے لیکن شیشے کی طرح شفاف ہوں گے کہ اندر کی چیز باہر سے نظر آئے، جنت کی تمام چیزوں کی یونہی سی برائے نام مشابہت دنیا کی چیزوں میں بھی پائی جاتی ہے لیکن ان چاندی کے بلوریں گلاسوں کی کوئی نظری نہیں ملتی، ہاں یہ یاد رہے کہ پہلے کے لفظ قواریر پر زبر تو اس لئے ہے کہ وہ کان کی خبر ہے اور دوسرے پر زبریا تو بدلیت کی بنا پر ہے یا تمیز کی بنا پر، پھر یہ جام نپے تلے ہوئے ہیں ساقی کے ہاتھ میں بھی زیب دیں اور ان کی ہتھیلیوں پر بھلے معلوم ہوں اور ینے والوں کے حسب خواہش شراب طہور اس میں سما جائے جو نہ بچے نہ گھٹے۔ ان نایاب گلاسوں میں جو پاک خوش ذائقہ اور سرور والی بےنشے کی شراب انہیں ملے گی وہ جنت کی نہر سلسبیل کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی، اوپر گذر چکا ہے کہ نہر کا فور کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی تو مطلب یہ ہے کبھی اس ٹھنڈک والے سرد مزاج پانی سے کبھی اس نفیس گرم مزاج پانی سے تاکہ اعتدال قائم رہے، یہ ابرار لوگوں کا ذکر ہے اور خاص مقربین خالص اس نہر کا شربت پئیں گے، سلسبیل بقول عکرمہ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے کیونکہ وہ تیزی کے ساتھ مسلسل روانگی سے لہرایا چال بہہ رہا ہے، اس کا پانی بڑا ہلکا، نہایت شیریں، خوش ذائقہ اور خوش بو ہے جو آسانی سے پیا جائے اور ہضم اور جزو بدن ہوتا رہے۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی خوبصورت حسین نوخیز کم عمر لڑکے ان کی خدمت کے لئے کمر بستہ ہوں گے، یہ غلمان جنتی جس سن و سال میں ہوں گے اسی میں رہیں گے یہ نہیں کہ سن بڑھ کر صورت بگڑ جائے، نفیس پوشاکیں اور بیش قیمث جڑاؤ زیور پہنے بہ تعداد کثیر ادھر ادھر مختلف کاموں پر بٹے ہوئے ہوں گے جنہیں دوڑ بھاگ کر مستعدی اور چالاکی سے انجام دے رہے ہوں گے ایسا معلوم ہوگا گویا سفید آب دار موتی ادھر ادھر جنت میں بکھرے پڑے ہیں۔ حقیت میں اس سے زیادہ اچھی تشبیہ ان کے لئے کوئی اور نہ تھی کہ یہ صاحب جمال خوش خصال بوٹے سے قد والے سفید نورانی چہروں والے پاک صاف سجی ہوئی پوشاکیں پہنے زیور میں لدے اپنے مالک کی فرمانبرداری میں دوڑتے بھاگتے ادھر ادھر پھرتے ایسے بھلے معلوم ہوں گے سجے سجائے پر تکلف فرش پر سفید چمکیلے سچے موتی ادھر ادھر لڑھک رہے ہوں، حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں ہر ہر جنتی کے ایک ہزار خادم ہوں گے جو مختلف کام کاج میں لگے ہوئے ہوں گے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی تم جنت کی جس جگہ نظر ڈالو تمہیں نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت نظر آئے گی تم دیکھو گے کہ راحت و سرور نعمت و نور سے چپہ چپہ معمور ہے چناچہ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے آخر میں جو جہنم میں سے نکالا جائے گا اور جنت میں بھیجا جائے گا اس سے جناب باری تبارک و تعالیٰ فرمائے گا جا میں نے تجھے جنت میں وہ دیا جو مثل دنیا کے ہے، بلکہ اس سے بھی دس حصے زیادہ دیا، اور حضرت ابن عمر کی روایت سے وہ حدیث بھی پہلے گذر چکی ہے جس میں ہے کہ ادنیٰ جنتی کی ملکیت و ملک دو ہزار سال تک ہوگا ہر قریب و بعید کی چیز پر اس کی بیک نظر یکساں نگاہیں ہوں گی، یہ حال تو ہے ادنیٰ جنتی کا پھر سمجھ لو کہ اعلیٰ جنتی کا درجہ کیا ہوگا ؟ اور اس کی نعمتیں کیسی ہوں گی (اے اللہ اے بغیر ہماری دعا اور عمل کے ہمیں شیر مادر کے چشمے عنایت کرنے والے ہم بہ عاجزی و الحاج تیری پاک جناب میں عرض گذار ہیں کہ تو ہمارے مشتاق دل کے ارمان پورے کر اور ہمیں بھی جنت الفردوس نصیب فرما۔ گو ایسے اعمال نہ ہوں لیکن ایمان ہے کہ تیری رحمت اعمال پر ہی موقف نہیں، آمین۔ مترجم) طبرانی کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں وارد ہے کہ ایک حبشی دربار رسالت میں حاضر ہوا، آپ نے اسے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو جس بات کو سمجھنا ہو پوچھ لو اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ صورت، شکل، رنگ، روپ، نبوۃ و رسالت میں آپ کو ہم پر فضیلت دی گئی ہے اب یہ تو فرمایئے کہ اگر میں بھی ان چیزوں پر ایمان لاؤں جن پر آپ ایمان لائے ہیں اور جن پر آپ عمل کرتے ہیں اگر میں بھی اسی پر عمل کروں تو کیا جنت میں آپ کے ساتھ ہوسکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا ہاں قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سیاہ رنگ لوگوں کو جنت میں وہ سفید رنگ دیا جائے گا کہ ایک ہزار سال کے فاصلے سے دکھائی دے گا پھر حضور ﷺ نے فرمایا جو شخص لا الہ الا اللہ کہے اس کے لئے اللہ کے پاس عہد مقرر ہوجاتا ہے اور جو شخص سبحان اللہ وبحمدہ کہے اس کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں، تو ایک شخص نے کہا پھر یا رسول اللہ ﷺ ہم کیسے ہال ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا سنو ایک شخص اتنی نیکیاں لائے گا کہ اگر کسی بڑے پہاڑ پر رکھی جائیں تو اس پر بوجھل پڑیں لیکن پھر جو اللہ کی نعمتیں اس کے مقابل آئیں گی تو قریب ہوگا کہ سب فنا ہوجائیں مگر یہ اور بات ہے کہ رحمت رب توجہ فرمائے اس وقت یہ سورت ملکا کبیراً تک اتری اسی حبشی نے کہا کہ اے حضور جو کچھ آپ کی آنکھیں جنت میں دیکھیں گی کیا میری آنکھیں بھی دیکھیں گی ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں، بس وہ رونے لگا یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کرگئی حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اسے فن کیا ؓ پھر اہل جنت کے لباس کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ سبز ہرے رنگ کا مہین اور چمکدار ریشم ہوگا، سندس اعلیٰ درجہ کا خالص نرم ریشم جو بدن سے لگا ہوا ہوگا، اور استبرق عمدہ بیش بہا گراں قدر ریشم جس میں چمک دمک ہوگی جو اوپر پہنچایا جائے گا، ساتھ ہی چاندی کے کنگن ہاتھوں میں ہوں گے، یہ لباس ابرار کا ہے، اور مقربین خاص کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے (يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا ۭ وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ 23) 22۔ الحج :23) انہیں سونے کے کنگن ہیرے جڑے ہوئے پہنائے جائیں گے اور خاص نرم صاف ریشمی لباس ہوگا، ان ظاہری جسمانی استعمالی نعمتوں کے ساتھ ہی انہیں پرکیف، بالذت، سرور والی، پاک اور پاک کرنے والی شراب پلائے جائے گی جو تمام ظاہری باطنی برائی دور کر دے حسد کینہ بدخلقی غصہ وغیرہ سب دور کر دے، جیسے امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے مروی ہے کہ جب اہل جنت جنت کے دروازے پر پہنچیں گے تو انہیں دو نہریں نظر آئیں گی اور انہیں از خود خیال پیدا ہوگا ایک کا وہ پانی پئیں گے تو ان کے دلوں میں جب کچھ تھا سب دور ہوجائے گا دوسری میں غسل کریں گے جس سے چہرے ترو تازہ ہشاش بشاش ہوجائیں گے، ظاہری اور باطنی خوبی دونوں انہیں بدرجہ کمال حاصل ہوں گی جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ پھر ان سے ان کے دل خوش کرنے اور ان کی خوشی دوبالا کرنے کو بار بار کہا جائے گا تمہارے نیک اعمال کا بدلہ اور تمہاری بھلی کوشش کی قدر وانی ہے، جیسے اور جگہ ہے (كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْۗئًۢا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ 24) 69۔ الحاقة :24) دنیا میں جو اعمال تم نے کئے ان کی نیک جزا میں آج تم خوب لطیف و لذیذ بہ آرام و اطمینان کھاتے پیتے رہو، اور فرمان ہے ونودوا ان یلکم الجنتہ اور ئتموھا بما کنتم یعملون یعنی منادی کئے جائیں گے کہ ان جنتوں کا وارث تمہیں تمہارے نیک کردار کی بنا پر بنایا گیا ہے، یہاں بھی فرمایا ہے تمہاری سعی مشکور ہے تھوڑے عمل پر بہت اجر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان میں سے کرے آمین۔
عَالِيَهُمْ ثِيَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَإِسْتَبْرَقٌ ۖ وَحُلُّوا أَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ وَسَقَاهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا
📘 دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی اہل جنت کی نعمت، راحت، ان کے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع، مزین، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکئے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے، سورة والصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گذر چکی ہے، وہیں یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ اتکا سے مراد لیٹنا ہے یا کہنیاں ٹکانا ہے یا چار زانو بیٹھنا ہے یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے، اور یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ ارائک چھپر کھٹوں کو کہتے ہیں، پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ وہاں نہ تو سورج کی تیز شععوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے کی بہت سرد ہوائیں انہیں ناگوار گذریں بلکہ بہار کا سا موسم ہر وقت اور ہمیشہ رہتا ہے گرمی سردی کے جھمیلوں سے الگ ہیں، جنتی درختوں کی شاخیں جھوم جھوم کر ان پر سایہ کئے ہوئے ہوں گی اور میوے ان سے بالکل قریب ہوں گے چاہے لیٹے لیٹے توڑ کر کھالیں، چاہے بیٹھے بیٹھے لے لیں چاہے کھڑے ہو کرلے لیں درختوں پر چڑھنے اور تکلیف کی کوئی حاجت نہیں پر میوے دار لچھے اور لدے ہوئے لچھے لٹک رہے ہیں توڑا اور کھالیا اگر کھڑے ہیں تو میوے اتنے اونچے ہیں بیٹھے تو قدرے جھک گئے لیٹے تو اور قریب آگئے، نہ تو کانٹوں کی رکاوٹ نہ دوری کی سردردی ہے، حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں جنت کی زمین چاندی کی ہے اور اس کی مٹی مشک خالص ہے اس کے درختوں کے تنے سونے چاندی کے ہیں ڈالیاں لولو زبر جد اور یاقوت کی ہیں، ان کے درمیان پتے اور پھل ہیں جن کے توڑنے میں کوئی وقت اور مشکل نہیں چاہ بیٹھے بیٹھے توڑ لو چاہو کھڑے کھڑے بلکہ اگر چاہیں لیٹے لیٹے ایک طرف خوش خرام، خوش دل، خوبصورت، با ادب، سلیقہ شعار، فرمانبردار خادم قسم قسم کے کھانے چاندی کی کشتیوں میں لگائے لئے کھڑے۔ دوسری جانب شراب طہور سے چھلکتے ہوئے بلوریں جام لئے ساقیان مہوش اشارے کے منتظر ہیں، یہ گلاس صفائی میں شیشے جیسے اور سفیدی میں چاندی جیسے ہوں گے، دراصل ہوں گے چاندی کے لیکن شیشے کی طرح شفاف ہوں گے کہ اندر کی چیز باہر سے نظر آئے، جنت کی تمام چیزوں کی یونہی سی برائے نام مشابہت دنیا کی چیزوں میں بھی پائی جاتی ہے لیکن ان چاندی کے بلوریں گلاسوں کی کوئی نظری نہیں ملتی، ہاں یہ یاد رہے کہ پہلے کے لفظ قواریر پر زبر تو اس لئے ہے کہ وہ کان کی خبر ہے اور دوسرے پر زبریا تو بدلیت کی بنا پر ہے یا تمیز کی بنا پر، پھر یہ جام نپے تلے ہوئے ہیں ساقی کے ہاتھ میں بھی زیب دیں اور ان کی ہتھیلیوں پر بھلے معلوم ہوں اور ینے والوں کے حسب خواہش شراب طہور اس میں سما جائے جو نہ بچے نہ گھٹے۔ ان نایاب گلاسوں میں جو پاک خوش ذائقہ اور سرور والی بےنشے کی شراب انہیں ملے گی وہ جنت کی نہر سلسبیل کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی، اوپر گذر چکا ہے کہ نہر کا فور کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی تو مطلب یہ ہے کبھی اس ٹھنڈک والے سرد مزاج پانی سے کبھی اس نفیس گرم مزاج پانی سے تاکہ اعتدال قائم رہے، یہ ابرار لوگوں کا ذکر ہے اور خاص مقربین خالص اس نہر کا شربت پئیں گے، سلسبیل بقول عکرمہ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے کیونکہ وہ تیزی کے ساتھ مسلسل روانگی سے لہرایا چال بہہ رہا ہے، اس کا پانی بڑا ہلکا، نہایت شیریں، خوش ذائقہ اور خوش بو ہے جو آسانی سے پیا جائے اور ہضم اور جزو بدن ہوتا رہے۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی خوبصورت حسین نوخیز کم عمر لڑکے ان کی خدمت کے لئے کمر بستہ ہوں گے، یہ غلمان جنتی جس سن و سال میں ہوں گے اسی میں رہیں گے یہ نہیں کہ سن بڑھ کر صورت بگڑ جائے، نفیس پوشاکیں اور بیش قیمث جڑاؤ زیور پہنے بہ تعداد کثیر ادھر ادھر مختلف کاموں پر بٹے ہوئے ہوں گے جنہیں دوڑ بھاگ کر مستعدی اور چالاکی سے انجام دے رہے ہوں گے ایسا معلوم ہوگا گویا سفید آب دار موتی ادھر ادھر جنت میں بکھرے پڑے ہیں۔ حقیت میں اس سے زیادہ اچھی تشبیہ ان کے لئے کوئی اور نہ تھی کہ یہ صاحب جمال خوش خصال بوٹے سے قد والے سفید نورانی چہروں والے پاک صاف سجی ہوئی پوشاکیں پہنے زیور میں لدے اپنے مالک کی فرمانبرداری میں دوڑتے بھاگتے ادھر ادھر پھرتے ایسے بھلے معلوم ہوں گے سجے سجائے پر تکلف فرش پر سفید چمکیلے سچے موتی ادھر ادھر لڑھک رہے ہوں، حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں ہر ہر جنتی کے ایک ہزار خادم ہوں گے جو مختلف کام کاج میں لگے ہوئے ہوں گے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی تم جنت کی جس جگہ نظر ڈالو تمہیں نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت نظر آئے گی تم دیکھو گے کہ راحت و سرور نعمت و نور سے چپہ چپہ معمور ہے چناچہ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے آخر میں جو جہنم میں سے نکالا جائے گا اور جنت میں بھیجا جائے گا اس سے جناب باری تبارک و تعالیٰ فرمائے گا جا میں نے تجھے جنت میں وہ دیا جو مثل دنیا کے ہے، بلکہ اس سے بھی دس حصے زیادہ دیا، اور حضرت ابن عمر کی روایت سے وہ حدیث بھی پہلے گذر چکی ہے جس میں ہے کہ ادنیٰ جنتی کی ملکیت و ملک دو ہزار سال تک ہوگا ہر قریب و بعید کی چیز پر اس کی بیک نظر یکساں نگاہیں ہوں گی، یہ حال تو ہے ادنیٰ جنتی کا پھر سمجھ لو کہ اعلیٰ جنتی کا درجہ کیا ہوگا ؟ اور اس کی نعمتیں کیسی ہوں گی (اے اللہ اے بغیر ہماری دعا اور عمل کے ہمیں شیر مادر کے چشمے عنایت کرنے والے ہم بہ عاجزی و الحاج تیری پاک جناب میں عرض گذار ہیں کہ تو ہمارے مشتاق دل کے ارمان پورے کر اور ہمیں بھی جنت الفردوس نصیب فرما۔ گو ایسے اعمال نہ ہوں لیکن ایمان ہے کہ تیری رحمت اعمال پر ہی موقف نہیں، آمین۔ مترجم) طبرانی کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں وارد ہے کہ ایک حبشی دربار رسالت میں حاضر ہوا، آپ نے اسے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو جس بات کو سمجھنا ہو پوچھ لو اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ صورت، شکل، رنگ، روپ، نبوۃ و رسالت میں آپ کو ہم پر فضیلت دی گئی ہے اب یہ تو فرمایئے کہ اگر میں بھی ان چیزوں پر ایمان لاؤں جن پر آپ ایمان لائے ہیں اور جن پر آپ عمل کرتے ہیں اگر میں بھی اسی پر عمل کروں تو کیا جنت میں آپ کے ساتھ ہوسکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا ہاں قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سیاہ رنگ لوگوں کو جنت میں وہ سفید رنگ دیا جائے گا کہ ایک ہزار سال کے فاصلے سے دکھائی دے گا پھر حضور ﷺ نے فرمایا جو شخص لا الہ الا اللہ کہے اس کے لئے اللہ کے پاس عہد مقرر ہوجاتا ہے اور جو شخص سبحان اللہ وبحمدہ کہے اس کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں، تو ایک شخص نے کہا پھر یا رسول اللہ ﷺ ہم کیسے ہال ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا سنو ایک شخص اتنی نیکیاں لائے گا کہ اگر کسی بڑے پہاڑ پر رکھی جائیں تو اس پر بوجھل پڑیں لیکن پھر جو اللہ کی نعمتیں اس کے مقابل آئیں گی تو قریب ہوگا کہ سب فنا ہوجائیں مگر یہ اور بات ہے کہ رحمت رب توجہ فرمائے اس وقت یہ سورت ملکا کبیراً تک اتری اسی حبشی نے کہا کہ اے حضور جو کچھ آپ کی آنکھیں جنت میں دیکھیں گی کیا میری آنکھیں بھی دیکھیں گی ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں، بس وہ رونے لگا یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کرگئی حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اسے فن کیا ؓ پھر اہل جنت کے لباس کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ سبز ہرے رنگ کا مہین اور چمکدار ریشم ہوگا، سندس اعلیٰ درجہ کا خالص نرم ریشم جو بدن سے لگا ہوا ہوگا، اور استبرق عمدہ بیش بہا گراں قدر ریشم جس میں چمک دمک ہوگی جو اوپر پہنچایا جائے گا، ساتھ ہی چاندی کے کنگن ہاتھوں میں ہوں گے، یہ لباس ابرار کا ہے، اور مقربین خاص کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے (يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا ۭ وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ 23) 22۔ الحج :23) انہیں سونے کے کنگن ہیرے جڑے ہوئے پہنائے جائیں گے اور خاص نرم صاف ریشمی لباس ہوگا، ان ظاہری جسمانی استعمالی نعمتوں کے ساتھ ہی انہیں پرکیف، بالذت، سرور والی، پاک اور پاک کرنے والی شراب پلائے جائے گی جو تمام ظاہری باطنی برائی دور کر دے حسد کینہ بدخلقی غصہ وغیرہ سب دور کر دے، جیسے امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے مروی ہے کہ جب اہل جنت جنت کے دروازے پر پہنچیں گے تو انہیں دو نہریں نظر آئیں گی اور انہیں از خود خیال پیدا ہوگا ایک کا وہ پانی پئیں گے تو ان کے دلوں میں جب کچھ تھا سب دور ہوجائے گا دوسری میں غسل کریں گے جس سے چہرے ترو تازہ ہشاش بشاش ہوجائیں گے، ظاہری اور باطنی خوبی دونوں انہیں بدرجہ کمال حاصل ہوں گی جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ پھر ان سے ان کے دل خوش کرنے اور ان کی خوشی دوبالا کرنے کو بار بار کہا جائے گا تمہارے نیک اعمال کا بدلہ اور تمہاری بھلی کوشش کی قدر وانی ہے، جیسے اور جگہ ہے (كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْۗئًۢا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ 24) 69۔ الحاقة :24) دنیا میں جو اعمال تم نے کئے ان کی نیک جزا میں آج تم خوب لطیف و لذیذ بہ آرام و اطمینان کھاتے پیتے رہو، اور فرمان ہے ونودوا ان یلکم الجنتہ اور ئتموھا بما کنتم یعملون یعنی منادی کئے جائیں گے کہ ان جنتوں کا وارث تمہیں تمہارے نیک کردار کی بنا پر بنایا گیا ہے، یہاں بھی فرمایا ہے تمہاری سعی مشکور ہے تھوڑے عمل پر بہت اجر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان میں سے کرے آمین۔
إِنَّ هَٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاءً وَكَانَ سَعْيُكُمْ مَشْكُورًا
📘 دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی اہل جنت کی نعمت، راحت، ان کے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع، مزین، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکئے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے، سورة والصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گذر چکی ہے، وہیں یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ اتکا سے مراد لیٹنا ہے یا کہنیاں ٹکانا ہے یا چار زانو بیٹھنا ہے یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے، اور یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ ارائک چھپر کھٹوں کو کہتے ہیں، پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ وہاں نہ تو سورج کی تیز شععوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے کی بہت سرد ہوائیں انہیں ناگوار گذریں بلکہ بہار کا سا موسم ہر وقت اور ہمیشہ رہتا ہے گرمی سردی کے جھمیلوں سے الگ ہیں، جنتی درختوں کی شاخیں جھوم جھوم کر ان پر سایہ کئے ہوئے ہوں گی اور میوے ان سے بالکل قریب ہوں گے چاہے لیٹے لیٹے توڑ کر کھالیں، چاہے بیٹھے بیٹھے لے لیں چاہے کھڑے ہو کرلے لیں درختوں پر چڑھنے اور تکلیف کی کوئی حاجت نہیں پر میوے دار لچھے اور لدے ہوئے لچھے لٹک رہے ہیں توڑا اور کھالیا اگر کھڑے ہیں تو میوے اتنے اونچے ہیں بیٹھے تو قدرے جھک گئے لیٹے تو اور قریب آگئے، نہ تو کانٹوں کی رکاوٹ نہ دوری کی سردردی ہے، حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں جنت کی زمین چاندی کی ہے اور اس کی مٹی مشک خالص ہے اس کے درختوں کے تنے سونے چاندی کے ہیں ڈالیاں لولو زبر جد اور یاقوت کی ہیں، ان کے درمیان پتے اور پھل ہیں جن کے توڑنے میں کوئی وقت اور مشکل نہیں چاہ بیٹھے بیٹھے توڑ لو چاہو کھڑے کھڑے بلکہ اگر چاہیں لیٹے لیٹے ایک طرف خوش خرام، خوش دل، خوبصورت، با ادب، سلیقہ شعار، فرمانبردار خادم قسم قسم کے کھانے چاندی کی کشتیوں میں لگائے لئے کھڑے۔ دوسری جانب شراب طہور سے چھلکتے ہوئے بلوریں جام لئے ساقیان مہوش اشارے کے منتظر ہیں، یہ گلاس صفائی میں شیشے جیسے اور سفیدی میں چاندی جیسے ہوں گے، دراصل ہوں گے چاندی کے لیکن شیشے کی طرح شفاف ہوں گے کہ اندر کی چیز باہر سے نظر آئے، جنت کی تمام چیزوں کی یونہی سی برائے نام مشابہت دنیا کی چیزوں میں بھی پائی جاتی ہے لیکن ان چاندی کے بلوریں گلاسوں کی کوئی نظری نہیں ملتی، ہاں یہ یاد رہے کہ پہلے کے لفظ قواریر پر زبر تو اس لئے ہے کہ وہ کان کی خبر ہے اور دوسرے پر زبریا تو بدلیت کی بنا پر ہے یا تمیز کی بنا پر، پھر یہ جام نپے تلے ہوئے ہیں ساقی کے ہاتھ میں بھی زیب دیں اور ان کی ہتھیلیوں پر بھلے معلوم ہوں اور ینے والوں کے حسب خواہش شراب طہور اس میں سما جائے جو نہ بچے نہ گھٹے۔ ان نایاب گلاسوں میں جو پاک خوش ذائقہ اور سرور والی بےنشے کی شراب انہیں ملے گی وہ جنت کی نہر سلسبیل کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی، اوپر گذر چکا ہے کہ نہر کا فور کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی تو مطلب یہ ہے کبھی اس ٹھنڈک والے سرد مزاج پانی سے کبھی اس نفیس گرم مزاج پانی سے تاکہ اعتدال قائم رہے، یہ ابرار لوگوں کا ذکر ہے اور خاص مقربین خالص اس نہر کا شربت پئیں گے، سلسبیل بقول عکرمہ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے کیونکہ وہ تیزی کے ساتھ مسلسل روانگی سے لہرایا چال بہہ رہا ہے، اس کا پانی بڑا ہلکا، نہایت شیریں، خوش ذائقہ اور خوش بو ہے جو آسانی سے پیا جائے اور ہضم اور جزو بدن ہوتا رہے۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی خوبصورت حسین نوخیز کم عمر لڑکے ان کی خدمت کے لئے کمر بستہ ہوں گے، یہ غلمان جنتی جس سن و سال میں ہوں گے اسی میں رہیں گے یہ نہیں کہ سن بڑھ کر صورت بگڑ جائے، نفیس پوشاکیں اور بیش قیمث جڑاؤ زیور پہنے بہ تعداد کثیر ادھر ادھر مختلف کاموں پر بٹے ہوئے ہوں گے جنہیں دوڑ بھاگ کر مستعدی اور چالاکی سے انجام دے رہے ہوں گے ایسا معلوم ہوگا گویا سفید آب دار موتی ادھر ادھر جنت میں بکھرے پڑے ہیں۔ حقیت میں اس سے زیادہ اچھی تشبیہ ان کے لئے کوئی اور نہ تھی کہ یہ صاحب جمال خوش خصال بوٹے سے قد والے سفید نورانی چہروں والے پاک صاف سجی ہوئی پوشاکیں پہنے زیور میں لدے اپنے مالک کی فرمانبرداری میں دوڑتے بھاگتے ادھر ادھر پھرتے ایسے بھلے معلوم ہوں گے سجے سجائے پر تکلف فرش پر سفید چمکیلے سچے موتی ادھر ادھر لڑھک رہے ہوں، حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں ہر ہر جنتی کے ایک ہزار خادم ہوں گے جو مختلف کام کاج میں لگے ہوئے ہوں گے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی تم جنت کی جس جگہ نظر ڈالو تمہیں نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت نظر آئے گی تم دیکھو گے کہ راحت و سرور نعمت و نور سے چپہ چپہ معمور ہے چناچہ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے آخر میں جو جہنم میں سے نکالا جائے گا اور جنت میں بھیجا جائے گا اس سے جناب باری تبارک و تعالیٰ فرمائے گا جا میں نے تجھے جنت میں وہ دیا جو مثل دنیا کے ہے، بلکہ اس سے بھی دس حصے زیادہ دیا، اور حضرت ابن عمر کی روایت سے وہ حدیث بھی پہلے گذر چکی ہے جس میں ہے کہ ادنیٰ جنتی کی ملکیت و ملک دو ہزار سال تک ہوگا ہر قریب و بعید کی چیز پر اس کی بیک نظر یکساں نگاہیں ہوں گی، یہ حال تو ہے ادنیٰ جنتی کا پھر سمجھ لو کہ اعلیٰ جنتی کا درجہ کیا ہوگا ؟ اور اس کی نعمتیں کیسی ہوں گی (اے اللہ اے بغیر ہماری دعا اور عمل کے ہمیں شیر مادر کے چشمے عنایت کرنے والے ہم بہ عاجزی و الحاج تیری پاک جناب میں عرض گذار ہیں کہ تو ہمارے مشتاق دل کے ارمان پورے کر اور ہمیں بھی جنت الفردوس نصیب فرما۔ گو ایسے اعمال نہ ہوں لیکن ایمان ہے کہ تیری رحمت اعمال پر ہی موقف نہیں، آمین۔ مترجم) طبرانی کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں وارد ہے کہ ایک حبشی دربار رسالت میں حاضر ہوا، آپ نے اسے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو جس بات کو سمجھنا ہو پوچھ لو اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ صورت، شکل، رنگ، روپ، نبوۃ و رسالت میں آپ کو ہم پر فضیلت دی گئی ہے اب یہ تو فرمایئے کہ اگر میں بھی ان چیزوں پر ایمان لاؤں جن پر آپ ایمان لائے ہیں اور جن پر آپ عمل کرتے ہیں اگر میں بھی اسی پر عمل کروں تو کیا جنت میں آپ کے ساتھ ہوسکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا ہاں قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سیاہ رنگ لوگوں کو جنت میں وہ سفید رنگ دیا جائے گا کہ ایک ہزار سال کے فاصلے سے دکھائی دے گا پھر حضور ﷺ نے فرمایا جو شخص لا الہ الا اللہ کہے اس کے لئے اللہ کے پاس عہد مقرر ہوجاتا ہے اور جو شخص سبحان اللہ وبحمدہ کہے اس کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں، تو ایک شخص نے کہا پھر یا رسول اللہ ﷺ ہم کیسے ہال ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا سنو ایک شخص اتنی نیکیاں لائے گا کہ اگر کسی بڑے پہاڑ پر رکھی جائیں تو اس پر بوجھل پڑیں لیکن پھر جو اللہ کی نعمتیں اس کے مقابل آئیں گی تو قریب ہوگا کہ سب فنا ہوجائیں مگر یہ اور بات ہے کہ رحمت رب توجہ فرمائے اس وقت یہ سورت ملکا کبیراً تک اتری اسی حبشی نے کہا کہ اے حضور جو کچھ آپ کی آنکھیں جنت میں دیکھیں گی کیا میری آنکھیں بھی دیکھیں گی ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں، بس وہ رونے لگا یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کرگئی حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اسے فن کیا ؓ پھر اہل جنت کے لباس کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ سبز ہرے رنگ کا مہین اور چمکدار ریشم ہوگا، سندس اعلیٰ درجہ کا خالص نرم ریشم جو بدن سے لگا ہوا ہوگا، اور استبرق عمدہ بیش بہا گراں قدر ریشم جس میں چمک دمک ہوگی جو اوپر پہنچایا جائے گا، ساتھ ہی چاندی کے کنگن ہاتھوں میں ہوں گے، یہ لباس ابرار کا ہے، اور مقربین خاص کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے (يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا ۭ وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ 23) 22۔ الحج :23) انہیں سونے کے کنگن ہیرے جڑے ہوئے پہنائے جائیں گے اور خاص نرم صاف ریشمی لباس ہوگا، ان ظاہری جسمانی استعمالی نعمتوں کے ساتھ ہی انہیں پرکیف، بالذت، سرور والی، پاک اور پاک کرنے والی شراب پلائے جائے گی جو تمام ظاہری باطنی برائی دور کر دے حسد کینہ بدخلقی غصہ وغیرہ سب دور کر دے، جیسے امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے مروی ہے کہ جب اہل جنت جنت کے دروازے پر پہنچیں گے تو انہیں دو نہریں نظر آئیں گی اور انہیں از خود خیال پیدا ہوگا ایک کا وہ پانی پئیں گے تو ان کے دلوں میں جب کچھ تھا سب دور ہوجائے گا دوسری میں غسل کریں گے جس سے چہرے ترو تازہ ہشاش بشاش ہوجائیں گے، ظاہری اور باطنی خوبی دونوں انہیں بدرجہ کمال حاصل ہوں گی جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ پھر ان سے ان کے دل خوش کرنے اور ان کی خوشی دوبالا کرنے کو بار بار کہا جائے گا تمہارے نیک اعمال کا بدلہ اور تمہاری بھلی کوشش کی قدر وانی ہے، جیسے اور جگہ ہے (كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْۗئًۢا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ 24) 69۔ الحاقة :24) دنیا میں جو اعمال تم نے کئے ان کی نیک جزا میں آج تم خوب لطیف و لذیذ بہ آرام و اطمینان کھاتے پیتے رہو، اور فرمان ہے ونودوا ان یلکم الجنتہ اور ئتموھا بما کنتم یعملون یعنی منادی کئے جائیں گے کہ ان جنتوں کا وارث تمہیں تمہارے نیک کردار کی بنا پر بنایا گیا ہے، یہاں بھی فرمایا ہے تمہاری سعی مشکور ہے تھوڑے عمل پر بہت اجر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان میں سے کرے آمین۔
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ تَنْزِيلًا
📘 اللہ تعالیٰ اور محمد ﷺ کا باہم عہد و معاملات اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضا و قدر پر صابر شاکر رہو دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا رو و رعایت مایوسی اور تکان کے بغیر ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں، فاجر کہتے ہیں، بد اعمال عاصی کو اور کفور کہتے ہیں دل کے منکر کو، دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو، جیسے اور جگہ فرمایا آیت (وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ڰ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا 79) 17۔ الإسراء :79) ، رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا، سورة مزمل کے شروع میں فرمایا اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ۔ پھر کفار کو روکتا ہے کہ حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہوجانا عقلمندی کا کام نہیں پھر فرماتا ہے سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قومی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کردیں، یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کردیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کردیں۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ ۭوَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا01303) 4۔ النسآء :133) ، اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے، اور جگہ فرمایا اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں، پھر فرماتا ہے یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہوجائے، جیسے اور جگہ فرمان ہے آیت (وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ ۭوَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا 39) 4۔ النسآء :39) ، ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو قیامت کو مان لیتے۔ پھر فرمایا بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہوسکتی، اللہ علیم و حکیم ہے متقین ہدایت کو وہ ہدایت کی راہیں آسان کردیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کردیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت نامہ ہے۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بےراہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور ناانصافیوں سے ہی مخصوص ہیں، الحمد اللہ سورة انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تُطِعْ مِنْهُمْ آثِمًا أَوْ كَفُورًا
📘 اللہ تعالیٰ اور محمد ﷺ کا باہم عہد و معاملات اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضا و قدر پر صابر شاکر رہو دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا رو و رعایت مایوسی اور تکان کے بغیر ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں، فاجر کہتے ہیں، بد اعمال عاصی کو اور کفور کہتے ہیں دل کے منکر کو، دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو، جیسے اور جگہ فرمایا آیت (وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ڰ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا 79) 17۔ الإسراء :79) ، رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا، سورة مزمل کے شروع میں فرمایا اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ۔ پھر کفار کو روکتا ہے کہ حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہوجانا عقلمندی کا کام نہیں پھر فرماتا ہے سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قومی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کردیں، یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کردیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کردیں۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ ۭوَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا01303) 4۔ النسآء :133) ، اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے، اور جگہ فرمایا اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں، پھر فرماتا ہے یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہوجائے، جیسے اور جگہ فرمان ہے آیت (وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ ۭوَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا 39) 4۔ النسآء :39) ، ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو قیامت کو مان لیتے۔ پھر فرمایا بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہوسکتی، اللہ علیم و حکیم ہے متقین ہدایت کو وہ ہدایت کی راہیں آسان کردیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کردیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت نامہ ہے۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بےراہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور ناانصافیوں سے ہی مخصوص ہیں، الحمد اللہ سورة انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَأَصِيلًا
📘 اللہ تعالیٰ اور محمد ﷺ کا باہم عہد و معاملات اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضا و قدر پر صابر شاکر رہو دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا رو و رعایت مایوسی اور تکان کے بغیر ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں، فاجر کہتے ہیں، بد اعمال عاصی کو اور کفور کہتے ہیں دل کے منکر کو، دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو، جیسے اور جگہ فرمایا آیت (وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ڰ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا 79) 17۔ الإسراء :79) ، رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا، سورة مزمل کے شروع میں فرمایا اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ۔ پھر کفار کو روکتا ہے کہ حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہوجانا عقلمندی کا کام نہیں پھر فرماتا ہے سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قومی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کردیں، یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کردیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کردیں۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ ۭوَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا01303) 4۔ النسآء :133) ، اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے، اور جگہ فرمایا اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں، پھر فرماتا ہے یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہوجائے، جیسے اور جگہ فرمان ہے آیت (وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ ۭوَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا 39) 4۔ النسآء :39) ، ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو قیامت کو مان لیتے۔ پھر فرمایا بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہوسکتی، اللہ علیم و حکیم ہے متقین ہدایت کو وہ ہدایت کی راہیں آسان کردیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کردیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت نامہ ہے۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بےراہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور ناانصافیوں سے ہی مخصوص ہیں، الحمد اللہ سورة انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
وَمِنَ اللَّيْلِ فَاسْجُدْ لَهُ وَسَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيلًا
📘 اللہ تعالیٰ اور محمد ﷺ کا باہم عہد و معاملات اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضا و قدر پر صابر شاکر رہو دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا رو و رعایت مایوسی اور تکان کے بغیر ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں، فاجر کہتے ہیں، بد اعمال عاصی کو اور کفور کہتے ہیں دل کے منکر کو، دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو، جیسے اور جگہ فرمایا آیت (وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ڰ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا 79) 17۔ الإسراء :79) ، رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا، سورة مزمل کے شروع میں فرمایا اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ۔ پھر کفار کو روکتا ہے کہ حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہوجانا عقلمندی کا کام نہیں پھر فرماتا ہے سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قومی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کردیں، یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کردیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کردیں۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ ۭوَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا01303) 4۔ النسآء :133) ، اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے، اور جگہ فرمایا اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں، پھر فرماتا ہے یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہوجائے، جیسے اور جگہ فرمان ہے آیت (وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ ۭوَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا 39) 4۔ النسآء :39) ، ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو قیامت کو مان لیتے۔ پھر فرمایا بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہوسکتی، اللہ علیم و حکیم ہے متقین ہدایت کو وہ ہدایت کی راہیں آسان کردیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کردیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت نامہ ہے۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بےراہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور ناانصافیوں سے ہی مخصوص ہیں، الحمد اللہ سورة انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
إِنَّ هَٰؤُلَاءِ يُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ وَيَذَرُونَ وَرَاءَهُمْ يَوْمًا ثَقِيلًا
📘 اللہ تعالیٰ اور محمد ﷺ کا باہم عہد و معاملات اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضا و قدر پر صابر شاکر رہو دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا رو و رعایت مایوسی اور تکان کے بغیر ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں، فاجر کہتے ہیں، بد اعمال عاصی کو اور کفور کہتے ہیں دل کے منکر کو، دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو، جیسے اور جگہ فرمایا آیت (وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ڰ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا 79) 17۔ الإسراء :79) ، رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا، سورة مزمل کے شروع میں فرمایا اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ۔ پھر کفار کو روکتا ہے کہ حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہوجانا عقلمندی کا کام نہیں پھر فرماتا ہے سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قومی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کردیں، یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کردیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کردیں۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ ۭوَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا01303) 4۔ النسآء :133) ، اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے، اور جگہ فرمایا اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں، پھر فرماتا ہے یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہوجائے، جیسے اور جگہ فرمان ہے آیت (وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ ۭوَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا 39) 4۔ النسآء :39) ، ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو قیامت کو مان لیتے۔ پھر فرمایا بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہوسکتی، اللہ علیم و حکیم ہے متقین ہدایت کو وہ ہدایت کی راہیں آسان کردیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کردیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت نامہ ہے۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بےراہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور ناانصافیوں سے ہی مخصوص ہیں، الحمد اللہ سورة انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
نَحْنُ خَلَقْنَاهُمْ وَشَدَدْنَا أَسْرَهُمْ ۖ وَإِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَا أَمْثَالَهُمْ تَبْدِيلًا
📘 اللہ تعالیٰ اور محمد ﷺ کا باہم عہد و معاملات اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضا و قدر پر صابر شاکر رہو دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا رو و رعایت مایوسی اور تکان کے بغیر ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں، فاجر کہتے ہیں، بد اعمال عاصی کو اور کفور کہتے ہیں دل کے منکر کو، دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو، جیسے اور جگہ فرمایا آیت (وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ڰ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا 79) 17۔ الإسراء :79) ، رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا، سورة مزمل کے شروع میں فرمایا اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ۔ پھر کفار کو روکتا ہے کہ حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہوجانا عقلمندی کا کام نہیں پھر فرماتا ہے سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قومی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کردیں، یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کردیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کردیں۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ ۭوَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا01303) 4۔ النسآء :133) ، اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے، اور جگہ فرمایا اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں، پھر فرماتا ہے یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہوجائے، جیسے اور جگہ فرمان ہے آیت (وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ ۭوَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا 39) 4۔ النسآء :39) ، ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو قیامت کو مان لیتے۔ پھر فرمایا بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہوسکتی، اللہ علیم و حکیم ہے متقین ہدایت کو وہ ہدایت کی راہیں آسان کردیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کردیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت نامہ ہے۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بےراہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور ناانصافیوں سے ہی مخصوص ہیں، الحمد اللہ سورة انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
إِنَّ هَٰذِهِ تَذْكِرَةٌ ۖ فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِ سَبِيلًا
📘 اللہ تعالیٰ اور محمد ﷺ کا باہم عہد و معاملات اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضا و قدر پر صابر شاکر رہو دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا رو و رعایت مایوسی اور تکان کے بغیر ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں، فاجر کہتے ہیں، بد اعمال عاصی کو اور کفور کہتے ہیں دل کے منکر کو، دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو، جیسے اور جگہ فرمایا آیت (وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ڰ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا 79) 17۔ الإسراء :79) ، رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا، سورة مزمل کے شروع میں فرمایا اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ۔ پھر کفار کو روکتا ہے کہ حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہوجانا عقلمندی کا کام نہیں پھر فرماتا ہے سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قومی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کردیں، یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کردیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کردیں۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ ۭوَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا01303) 4۔ النسآء :133) ، اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے، اور جگہ فرمایا اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں، پھر فرماتا ہے یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہوجائے، جیسے اور جگہ فرمان ہے آیت (وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ ۭوَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا 39) 4۔ النسآء :39) ، ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو قیامت کو مان لیتے۔ پھر فرمایا بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہوسکتی، اللہ علیم و حکیم ہے متقین ہدایت کو وہ ہدایت کی راہیں آسان کردیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کردیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت نامہ ہے۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بےراہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور ناانصافیوں سے ہی مخصوص ہیں، الحمد اللہ سورة انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا
📘 اے انسان اپنے فرائض پہچان اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے انسان کو پیدا کیا حالانکہ اس سے پہلے ہوا پانی حقارت اور ضعف کی وجہ سے ایسی چیز نہ تھا کہ ذکر کیا جائے، اسے مرد و عورت کے ملے جلے پانی سے پیدا کیا اور عجب عجب تبدیلیوں کے بعد یہ موجودہ شکل و صورت اور ہئیت پر آیا، اسے ہم آزما رہے ہیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭوَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ ۙ) 67۔ الملک :2) تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے عمل کرنے والا کون ہے ؟ پس اس نے تمہیں کان اور آنکھیں عطا فرمائیں تاکہ اطاعت اور معصیت میں تمیز کرسکو۔ ہم نے اسے راہ دکھا دی خوب واضح اور صاف کر کے اپنا سیدھا راستہ اس پر کھول دیا، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَيْنٰهُمْ فَاسْتَــحَبُّوا الْعَمٰى عَلَي الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 17ۚ) 41۔ فصلت :17) یعنی ثمودیوں کو ہم نے ہدایت کی لیکن انہوں نے اندھے پن کو ہدایت پر ترجیح دی اور جگہ ہے آیت (وَهَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ 10ۚ) 90۔ البلد :10) ہم نے انسان کو دونوں راہیں دکھا دیں، یعنی بھلائی برائی کی، اس آیت کی تفسیر میں مجاہد ابو صالح ضحاک اور سدی سے مروی ہے کہ اسے ہم نے راہ دکھائی یعنی ماں کے پیٹ سے باہر آنے کی، لیکن یہ قول غریب ہے اور صحیح قول پہلا ہی ہے اور جمہور سے یہی منقول ہے شاکراً اور کفوراً کا نصب حال کی وجہ سے ذوالحال لا کی ضمیر ہے جو آیت (اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا) 76۔ الإنسان :3) میں ہے، یعنی وہ اس حالت میں یا تو شقی ہے یا سعید ہے، جیسے صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ ہر شخص صبح کے وقت اپنے نفس کی خریدوفروخت کرتا ہے یا تو اسے ہلاک کردیتا ہے یا آزاد کرا لیتا ہے، مسند احمد میں ہے کہ حضرت کعب بن عجرہ ؓ سے آپ نے فرمایا اللہ تجھے بیوقوفوں کی سرداری سے بچائے حضرت کعب نے کہا یا رسول اللہ ﷺ وہ کیا ہے ؟ فرمایا وہ میرے بعد کے سردار ہوں گے جو میری سنتوں پر نہ عمل کریں گے نہ میرے طریقوں پر چلیں گے پس جو لوگ ان کی جھوٹ کی تصدیق کریں اور ان کے ظلم کی امداد کریں وہ نہ میرے ہیں اور نہ میں ان کا ہوں یاد رکھو وہ میرے حوض کوثر پر بھی نہیں آسکتے اور جو ان کے جھوٹ کو سچا نہ کرے اور ان کے ظلموں میں ان کا مددگار نہ بنے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں یہ لوگ میرے حوض کوثر پر مجھے ملیں گے اے کعب روزہ ڈھال ہے اور صدقہ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے اور نماز قرب اللہ کا سبب ہے یا فرمایا کہ دلیل نجات ہے۔ اے کعب وہ گوشت پوست جنت میں نہیں جاسکتا وہ حرام سے پلا ہو وہ تو جہنم میں ہی جانے کے قابل ہے، اے کعب لوگ ہر صبح اپنے نفس کی خریدو فروخت کرتے ہیں کوئی تو اسے آزاد کرا لیتا ہے اور کوئی ہلاک کر گذرتا ہے، سورة روم کی آیت (فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ ڎ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 30ڎ) 30۔ الروم :30) کی تفسیر میں حضرت جابر کی روایت سے حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی گذر چکا ہے کہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ زبان چلنے لگتی ہے پھر یا تو شکر گذار بنتا ہے یا ناشکرا، مسند احمد کی اور حدیث میں ہے کہ جو نکلنے والا نکلتا ہے اس کے دروازے پر دو جھنڈے ہوتے ہیں ایک فرشتے کے ہاتھ میں دوسرا شیطان کے ہاتھ میں پس اگر وہ اس کام کے لئے نکلا جو اللہ کی مرضی کا ہے تو فرشتہ اپنا جھنڈا لئے ہوئے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور یہ واپسی تک فرشتے کے جھنڈے تلے ہی رہتا ہے اور اگر اللہ کی ناراضگی کے کام کے لئے نکلا ہے تو شیطان اپنا جھنڈا لگائے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور واپسی تک یہ شیطانی جھنڈے تلے رہتا ہے۔
وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا
📘 اللہ تعالیٰ اور محمد ﷺ کا باہم عہد و معاملات اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضا و قدر پر صابر شاکر رہو دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا رو و رعایت مایوسی اور تکان کے بغیر ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں، فاجر کہتے ہیں، بد اعمال عاصی کو اور کفور کہتے ہیں دل کے منکر کو، دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو، جیسے اور جگہ فرمایا آیت (وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ڰ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا 79) 17۔ الإسراء :79) ، رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا، سورة مزمل کے شروع میں فرمایا اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ۔ پھر کفار کو روکتا ہے کہ حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہوجانا عقلمندی کا کام نہیں پھر فرماتا ہے سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قومی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کردیں، یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کردیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کردیں۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ ۭوَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا01303) 4۔ النسآء :133) ، اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے، اور جگہ فرمایا اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں، پھر فرماتا ہے یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہوجائے، جیسے اور جگہ فرمان ہے آیت (وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ ۭوَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا 39) 4۔ النسآء :39) ، ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو قیامت کو مان لیتے۔ پھر فرمایا بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہوسکتی، اللہ علیم و حکیم ہے متقین ہدایت کو وہ ہدایت کی راہیں آسان کردیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کردیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت نامہ ہے۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بےراہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور ناانصافیوں سے ہی مخصوص ہیں، الحمد اللہ سورة انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
يُدْخِلُ مَنْ يَشَاءُ فِي رَحْمَتِهِ ۚ وَالظَّالِمِينَ أَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا
📘 اللہ تعالیٰ اور محمد ﷺ کا باہم عہد و معاملات اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضا و قدر پر صابر شاکر رہو دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا رو و رعایت مایوسی اور تکان کے بغیر ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں، فاجر کہتے ہیں، بد اعمال عاصی کو اور کفور کہتے ہیں دل کے منکر کو، دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو، جیسے اور جگہ فرمایا آیت (وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ڰ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا 79) 17۔ الإسراء :79) ، رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا، سورة مزمل کے شروع میں فرمایا اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ۔ پھر کفار کو روکتا ہے کہ حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہوجانا عقلمندی کا کام نہیں پھر فرماتا ہے سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قومی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کردیں، یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کردیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کردیں۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ ۭوَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا01303) 4۔ النسآء :133) ، اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے، اور جگہ فرمایا اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں، پھر فرماتا ہے یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہوجائے، جیسے اور جگہ فرمان ہے آیت (وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ ۭوَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا 39) 4۔ النسآء :39) ، ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو قیامت کو مان لیتے۔ پھر فرمایا بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہوسکتی، اللہ علیم و حکیم ہے متقین ہدایت کو وہ ہدایت کی راہیں آسان کردیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کردیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت نامہ ہے۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بےراہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور ناانصافیوں سے ہی مخصوص ہیں، الحمد اللہ سورة انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ سَلَاسِلَ وَأَغْلَالًا وَسَعِيرًا
📘 زنجیریں طوق اور شعلے یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لئے زنجیریں طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے، جیسے اور جگہ ہے اذالاغلال فی اعنافھم والسلاسل یسحبون فی الحمیم ثم فی النار یسجرون جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ حمیم میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے، ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کا فور نامی نہر کے پانی کا ہوگا، ذائقہ بھی اعلیٰ ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کا فور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو، کا فور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لئے یہاں اسے " ب " سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر عیناً پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کا فور کے ہے یا یہ ٹھیک کا فور ہی ہے اور عیناً کا زبر یشرب کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی، تفجیر کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت حتی تفجرلنا میں اور فجرنا خلالھما میں۔ پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کرلیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔ حدیث میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے۔ امام بخاری نے اسے امام مالک کی روایت سے بیان فرمایا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑجائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے، استطار کے معنی ہی ہیں پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکو کار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور لا کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی باوجود طعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے واتی المال علی حبہ یعنی مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں اور فرمان ہے لن تنالوالبر حتی تنفقوا مما تحبون یعنی تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کرسکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو، حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ حضرت صفیہ نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آگیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں حضرت عبد اللہ نے فرمایا یہ سب اسی کو دے دو ، چناچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آگیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ حضرت صفیہ نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چناچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گے (بیہقی) اور صحیح حدیث میں ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں مال کی محبت امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے، یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔ یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں ؟ اس کا مفصل بیان پہلے گذر چکا ہے، قیدی کی نسبت حضرت سعید وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن ابن عباس وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ حضور ﷺ نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب کو فرمایا تھا کہ ان کا اکرام کرو چناچہ کھانے پینے میں صحابہ خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر ؒ بہ سبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفیٰ ﷺ کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو۔ یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کردیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہوجائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہوجائیں، حضرت سعید ؒ فرماتے ہیں اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو تنگ و تاریک اور طول طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بےکسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی، حضرت ابن عباس سے عبوس کے معنی تنگی والا اور قمطریر کے معنی طویل طویل مروی ہے، عکرمہ فرماتے ہیں کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہوگا، مجاہد فرماتے ہیں ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا، حضرت سعید اور حضرت قتادہ کا قول ہے کہ بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہوجائے گی، ابن زید فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہوگا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول حضرت ابن عباس کا ہے ؓ ، قمطریر کے لغوی معنی امام ابن جریر نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے اور جگہ ہے وجوہ یومئذ مستفرۃ ضاحکتہ مستبشرہ اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے، یہ ظار ہے کہ جب دل مسرور ہوگا تو چہرہ کھلا ہوا ہوگا، حضرت کعب بن مالک کی لمبی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے، حضرت عائشہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور کھڑے مبرک کی رگیں چمک رہی تھیں، الخ۔ پھر فرماتا ہے ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا، ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی کے سامنے اس سورت کی کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلا برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کردیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
إِنَّ الْأَبْرَارَ يَشْرَبُونَ مِنْ كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا
📘 زنجیریں طوق اور شعلے یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لئے زنجیریں طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے، جیسے اور جگہ ہے اذالاغلال فی اعنافھم والسلاسل یسحبون فی الحمیم ثم فی النار یسجرون جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ حمیم میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے، ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کا فور نامی نہر کے پانی کا ہوگا، ذائقہ بھی اعلیٰ ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کا فور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو، کا فور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لئے یہاں اسے " ب " سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر عیناً پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کا فور کے ہے یا یہ ٹھیک کا فور ہی ہے اور عیناً کا زبر یشرب کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی، تفجیر کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت حتی تفجرلنا میں اور فجرنا خلالھما میں۔ پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کرلیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔ حدیث میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے۔ امام بخاری نے اسے امام مالک کی روایت سے بیان فرمایا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑجائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے، استطار کے معنی ہی ہیں پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکو کار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور لا کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی باوجود طعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے واتی المال علی حبہ یعنی مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں اور فرمان ہے لن تنالوالبر حتی تنفقوا مما تحبون یعنی تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کرسکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو، حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ حضرت صفیہ نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آگیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں حضرت عبد اللہ نے فرمایا یہ سب اسی کو دے دو ، چناچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آگیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ حضرت صفیہ نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چناچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گے (بیہقی) اور صحیح حدیث میں ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں مال کی محبت امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے، یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔ یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں ؟ اس کا مفصل بیان پہلے گذر چکا ہے، قیدی کی نسبت حضرت سعید وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن ابن عباس وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ حضور ﷺ نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب کو فرمایا تھا کہ ان کا اکرام کرو چناچہ کھانے پینے میں صحابہ خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر ؒ بہ سبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفیٰ ﷺ کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو۔ یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کردیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہوجائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہوجائیں، حضرت سعید ؒ فرماتے ہیں اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو تنگ و تاریک اور طول طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بےکسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی، حضرت ابن عباس سے عبوس کے معنی تنگی والا اور قمطریر کے معنی طویل طویل مروی ہے، عکرمہ فرماتے ہیں کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہوگا، مجاہد فرماتے ہیں ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا، حضرت سعید اور حضرت قتادہ کا قول ہے کہ بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہوجائے گی، ابن زید فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہوگا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول حضرت ابن عباس کا ہے ؓ ، قمطریر کے لغوی معنی امام ابن جریر نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے اور جگہ ہے وجوہ یومئذ مستفرۃ ضاحکتہ مستبشرہ اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے، یہ ظار ہے کہ جب دل مسرور ہوگا تو چہرہ کھلا ہوا ہوگا، حضرت کعب بن مالک کی لمبی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے، حضرت عائشہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور کھڑے مبرک کی رگیں چمک رہی تھیں، الخ۔ پھر فرماتا ہے ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا، ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی کے سامنے اس سورت کی کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلا برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کردیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللَّهِ يُفَجِّرُونَهَا تَفْجِيرًا
📘 زنجیریں طوق اور شعلے یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لئے زنجیریں طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے، جیسے اور جگہ ہے اذالاغلال فی اعنافھم والسلاسل یسحبون فی الحمیم ثم فی النار یسجرون جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ حمیم میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے، ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کا فور نامی نہر کے پانی کا ہوگا، ذائقہ بھی اعلیٰ ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کا فور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو، کا فور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لئے یہاں اسے " ب " سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر عیناً پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کا فور کے ہے یا یہ ٹھیک کا فور ہی ہے اور عیناً کا زبر یشرب کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی، تفجیر کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت حتی تفجرلنا میں اور فجرنا خلالھما میں۔ پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کرلیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔ حدیث میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے۔ امام بخاری نے اسے امام مالک کی روایت سے بیان فرمایا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑجائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے، استطار کے معنی ہی ہیں پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکو کار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور لا کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی باوجود طعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے واتی المال علی حبہ یعنی مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں اور فرمان ہے لن تنالوالبر حتی تنفقوا مما تحبون یعنی تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کرسکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو، حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ حضرت صفیہ نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آگیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں حضرت عبد اللہ نے فرمایا یہ سب اسی کو دے دو ، چناچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آگیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ حضرت صفیہ نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چناچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گے (بیہقی) اور صحیح حدیث میں ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں مال کی محبت امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے، یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔ یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں ؟ اس کا مفصل بیان پہلے گذر چکا ہے، قیدی کی نسبت حضرت سعید وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن ابن عباس وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ حضور ﷺ نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب کو فرمایا تھا کہ ان کا اکرام کرو چناچہ کھانے پینے میں صحابہ خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر ؒ بہ سبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفیٰ ﷺ کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو۔ یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کردیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہوجائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہوجائیں، حضرت سعید ؒ فرماتے ہیں اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو تنگ و تاریک اور طول طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بےکسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی، حضرت ابن عباس سے عبوس کے معنی تنگی والا اور قمطریر کے معنی طویل طویل مروی ہے، عکرمہ فرماتے ہیں کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہوگا، مجاہد فرماتے ہیں ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا، حضرت سعید اور حضرت قتادہ کا قول ہے کہ بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہوجائے گی، ابن زید فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہوگا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول حضرت ابن عباس کا ہے ؓ ، قمطریر کے لغوی معنی امام ابن جریر نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے اور جگہ ہے وجوہ یومئذ مستفرۃ ضاحکتہ مستبشرہ اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے، یہ ظار ہے کہ جب دل مسرور ہوگا تو چہرہ کھلا ہوا ہوگا، حضرت کعب بن مالک کی لمبی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے، حضرت عائشہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور کھڑے مبرک کی رگیں چمک رہی تھیں، الخ۔ پھر فرماتا ہے ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا، ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی کے سامنے اس سورت کی کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلا برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کردیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
يُوفُونَ بِالنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيرًا
📘 زنجیریں طوق اور شعلے یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لئے زنجیریں طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے، جیسے اور جگہ ہے اذالاغلال فی اعنافھم والسلاسل یسحبون فی الحمیم ثم فی النار یسجرون جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ حمیم میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے، ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کا فور نامی نہر کے پانی کا ہوگا، ذائقہ بھی اعلیٰ ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کا فور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو، کا فور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لئے یہاں اسے " ب " سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر عیناً پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کا فور کے ہے یا یہ ٹھیک کا فور ہی ہے اور عیناً کا زبر یشرب کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی، تفجیر کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت حتی تفجرلنا میں اور فجرنا خلالھما میں۔ پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کرلیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔ حدیث میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے۔ امام بخاری نے اسے امام مالک کی روایت سے بیان فرمایا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑجائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے، استطار کے معنی ہی ہیں پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکو کار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور لا کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی باوجود طعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے واتی المال علی حبہ یعنی مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں اور فرمان ہے لن تنالوالبر حتی تنفقوا مما تحبون یعنی تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کرسکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو، حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ حضرت صفیہ نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آگیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں حضرت عبد اللہ نے فرمایا یہ سب اسی کو دے دو ، چناچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آگیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ حضرت صفیہ نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چناچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گے (بیہقی) اور صحیح حدیث میں ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں مال کی محبت امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے، یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔ یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں ؟ اس کا مفصل بیان پہلے گذر چکا ہے، قیدی کی نسبت حضرت سعید وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن ابن عباس وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ حضور ﷺ نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب کو فرمایا تھا کہ ان کا اکرام کرو چناچہ کھانے پینے میں صحابہ خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر ؒ بہ سبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفیٰ ﷺ کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو۔ یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کردیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہوجائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہوجائیں، حضرت سعید ؒ فرماتے ہیں اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو تنگ و تاریک اور طول طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بےکسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی، حضرت ابن عباس سے عبوس کے معنی تنگی والا اور قمطریر کے معنی طویل طویل مروی ہے، عکرمہ فرماتے ہیں کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہوگا، مجاہد فرماتے ہیں ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا، حضرت سعید اور حضرت قتادہ کا قول ہے کہ بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہوجائے گی، ابن زید فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہوگا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول حضرت ابن عباس کا ہے ؓ ، قمطریر کے لغوی معنی امام ابن جریر نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے اور جگہ ہے وجوہ یومئذ مستفرۃ ضاحکتہ مستبشرہ اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے، یہ ظار ہے کہ جب دل مسرور ہوگا تو چہرہ کھلا ہوا ہوگا، حضرت کعب بن مالک کی لمبی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے، حضرت عائشہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور کھڑے مبرک کی رگیں چمک رہی تھیں، الخ۔ پھر فرماتا ہے ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا، ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی کے سامنے اس سورت کی کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلا برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کردیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا
📘 زنجیریں طوق اور شعلے یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لئے زنجیریں طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے، جیسے اور جگہ ہے اذالاغلال فی اعنافھم والسلاسل یسحبون فی الحمیم ثم فی النار یسجرون جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ حمیم میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے، ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کا فور نامی نہر کے پانی کا ہوگا، ذائقہ بھی اعلیٰ ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کا فور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو، کا فور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لئے یہاں اسے " ب " سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر عیناً پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کا فور کے ہے یا یہ ٹھیک کا فور ہی ہے اور عیناً کا زبر یشرب کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی، تفجیر کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت حتی تفجرلنا میں اور فجرنا خلالھما میں۔ پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کرلیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔ حدیث میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے۔ امام بخاری نے اسے امام مالک کی روایت سے بیان فرمایا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑجائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے، استطار کے معنی ہی ہیں پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکو کار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور لا کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی باوجود طعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے واتی المال علی حبہ یعنی مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں اور فرمان ہے لن تنالوالبر حتی تنفقوا مما تحبون یعنی تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کرسکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو، حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ حضرت صفیہ نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آگیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں حضرت عبد اللہ نے فرمایا یہ سب اسی کو دے دو ، چناچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آگیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ حضرت صفیہ نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چناچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گے (بیہقی) اور صحیح حدیث میں ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں مال کی محبت امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے، یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔ یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں ؟ اس کا مفصل بیان پہلے گذر چکا ہے، قیدی کی نسبت حضرت سعید وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن ابن عباس وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ حضور ﷺ نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب کو فرمایا تھا کہ ان کا اکرام کرو چناچہ کھانے پینے میں صحابہ خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر ؒ بہ سبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفیٰ ﷺ کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو۔ یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کردیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہوجائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہوجائیں، حضرت سعید ؒ فرماتے ہیں اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو تنگ و تاریک اور طول طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بےکسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی، حضرت ابن عباس سے عبوس کے معنی تنگی والا اور قمطریر کے معنی طویل طویل مروی ہے، عکرمہ فرماتے ہیں کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہوگا، مجاہد فرماتے ہیں ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا، حضرت سعید اور حضرت قتادہ کا قول ہے کہ بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہوجائے گی، ابن زید فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہوگا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول حضرت ابن عباس کا ہے ؓ ، قمطریر کے لغوی معنی امام ابن جریر نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے اور جگہ ہے وجوہ یومئذ مستفرۃ ضاحکتہ مستبشرہ اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے، یہ ظار ہے کہ جب دل مسرور ہوگا تو چہرہ کھلا ہوا ہوگا، حضرت کعب بن مالک کی لمبی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے، حضرت عائشہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور کھڑے مبرک کی رگیں چمک رہی تھیں، الخ۔ پھر فرماتا ہے ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا، ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی کے سامنے اس سورت کی کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلا برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کردیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا
📘 زنجیریں طوق اور شعلے یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لئے زنجیریں طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے، جیسے اور جگہ ہے اذالاغلال فی اعنافھم والسلاسل یسحبون فی الحمیم ثم فی النار یسجرون جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ حمیم میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے، ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کا فور نامی نہر کے پانی کا ہوگا، ذائقہ بھی اعلیٰ ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کا فور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو، کا فور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لئے یہاں اسے " ب " سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر عیناً پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کا فور کے ہے یا یہ ٹھیک کا فور ہی ہے اور عیناً کا زبر یشرب کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی، تفجیر کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت حتی تفجرلنا میں اور فجرنا خلالھما میں۔ پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کرلیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔ حدیث میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے۔ امام بخاری نے اسے امام مالک کی روایت سے بیان فرمایا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑجائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے، استطار کے معنی ہی ہیں پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکو کار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور لا کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی باوجود طعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے واتی المال علی حبہ یعنی مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں اور فرمان ہے لن تنالوالبر حتی تنفقوا مما تحبون یعنی تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کرسکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو، حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ حضرت صفیہ نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آگیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں حضرت عبد اللہ نے فرمایا یہ سب اسی کو دے دو ، چناچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آگیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ حضرت صفیہ نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چناچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گے (بیہقی) اور صحیح حدیث میں ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں مال کی محبت امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے، یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔ یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں ؟ اس کا مفصل بیان پہلے گذر چکا ہے، قیدی کی نسبت حضرت سعید وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن ابن عباس وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ حضور ﷺ نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب کو فرمایا تھا کہ ان کا اکرام کرو چناچہ کھانے پینے میں صحابہ خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر ؒ بہ سبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفیٰ ﷺ کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو۔ یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کردیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہوجائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہوجائیں، حضرت سعید ؒ فرماتے ہیں اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو تنگ و تاریک اور طول طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بےکسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی، حضرت ابن عباس سے عبوس کے معنی تنگی والا اور قمطریر کے معنی طویل طویل مروی ہے، عکرمہ فرماتے ہیں کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہوگا، مجاہد فرماتے ہیں ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا، حضرت سعید اور حضرت قتادہ کا قول ہے کہ بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہوجائے گی، ابن زید فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہوگا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول حضرت ابن عباس کا ہے ؓ ، قمطریر کے لغوی معنی امام ابن جریر نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے اور جگہ ہے وجوہ یومئذ مستفرۃ ضاحکتہ مستبشرہ اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے، یہ ظار ہے کہ جب دل مسرور ہوگا تو چہرہ کھلا ہوا ہوگا، حضرت کعب بن مالک کی لمبی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے، حضرت عائشہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور کھڑے مبرک کی رگیں چمک رہی تھیں، الخ۔ پھر فرماتا ہے ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا، ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی کے سامنے اس سورت کی کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلا برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کردیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔