Al-Anfaal • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER
﴿ إِن تَسْتَفْتِحُوا۟ فَقَدْ جَآءَكُمُ ٱلْفَتْحُ ۖ وَإِن تَنتَهُوا۟ فَهُوَ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۖ وَإِن تَعُودُوا۟ نَعُدْ وَلَن تُغْنِىَ عَنكُمْ فِئَتُكُمْ شَيْـًۭٔا وَلَوْ كَثُرَتْ وَأَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ﴾
“If you have been praying for victory, [O believers] - victory has now indeed come unto you. And if you abstain [from sinning], it will be for your own good; but if you revert to it, We shall revoke [Our promise of aid] - and never will your community be of any avail to you, however great its numbers: for, behold, God is [only] with those who believe!”
ایمان والوں کا متعین و مددگار اللہ عز اسمہ اللہ تعالیٰ کافروں سے فرما رہا ہے کہ تم یہ دعائیں کرتے تھے کہ ہم میں اور مسلمانوں میں اللہ تعالیٰ فیصلہ کر دے جو حق پر ہوا سے غالب کر دے اور اس کی مد فرمائے تو اب تمہاری یہ خواہش بھی پوری ہوگئی مسلمان بحکم الٰہی اپنے دشمنوں پر غالب آگئے۔ ابو جہل نے بدر والے دن کہا تھا کہ اے اللہ ہم میں سے جو رشتوں ناتوں کا توڑنے والا ہو اور غیر معروف چیز لے کر آیا ہو اسے توکل کی لڑائی میں شکست دے پس اللہ تعالیٰ نے یہی کیا اور یہ اور اس کا لشکر ہار گئے، مکہ سے نکلنے سے پہلے ان مشرکوں نے خانہ کعبہ کا غلاف پکڑ کر دعا کی تھی کہ الٰہی دونوں لشکروں میں سے تیرے نزدیک جو اعلیٰ ہو اور زیادہ بزرگ ہو اور زیادہ بہتری والا ہو تو اس کی مدد کر۔ پس اس آیت میں ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ لو اللہ کی مدد آگئی تمہارا کہا ہوا پورا ہوگیا۔ ہم نے اپنے نبی کو جو ہمارے نزدیک بزرگ، بہتر اور اعلیٰ تھے غالب کردیا۔ خود قرآن نے ان کی دعا نقل کی ہے کہ یہ کہتے تھے دعا (وَاِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ 32) 8۔ الانفال :32) ، الٰہی اگر یہ تیری جانب سے راست ہے تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور دردناک عذاب ہم پر لا۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر اب بھی تم اپنے کفر سے باز آجاؤ تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول کو نہ جھٹلاؤ تو دونوں جہان میں بھلائی پاؤ گے اور اگر پھر تم نے یہی کفر و گمراہی کو تو ہم بھی اسی طرح مسلمانوں کے ہاتھوں تمہیں پست کریں گے۔ اگر تم نے پھر اسی طرح فتح مانگی تو ہم پھر اپنے نیک بندوں پر اپنی مدد اتاریں گے لیکن اول قول قوی ہے۔ یاد رکھو گو تم سب کے سب مل کر چڑھائی کرو تمہاری تعداد کتنی ہی بڑھ جائے اپنے تمام لشکر جمع کرلو لیکن سب تدبیریں دھری کی دھری رہ جائیں گی۔ جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہو اسے کوئی مغلوب نہیں کرسکتا۔ ظاہر ہے کہ خالق کائنات مومنوں کے ساتھ ہے اس لئے کہ وہ اس کے رسول کے ساتھ ہیں۔