At-Tawba • UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER
﴿ لَوْ كَانَ عَرَضًۭا قَرِيبًۭا وَسَفَرًۭا قَاصِدًۭا لَّٱتَّبَعُوكَ وَلَٰكِنۢ بَعُدَتْ عَلَيْهِمُ ٱلشُّقَّةُ ۚ وَسَيَحْلِفُونَ بِٱللَّهِ لَوِ ٱسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ يُهْلِكُونَ أَنفُسَهُمْ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُمْ لَكَٰذِبُونَ ﴾
“Had there been [a prospect of] immediate gain, and an easy journey, they would certainly have followed thee, [O Prophet:] but the distance was too great for them. And yet, [after your return, O believers,] they will swear by God, "Had we been able to do so, we would certainly have set out with you!" - [and by thus falsely swearing] they will be destroying their own selves: for God knows indeed that they are lying!”
عیار لوگوں کو بےنقاب کردو جو لوگ غزوہ تبوک میں جانے سے رہ گئے تھے اور اس کے بعد حضور ﷺ کے پاس آ کر اپنے جھوٹے اور بناوٹی عذر پیش کرنے لگے تھے۔ انہیں اس آیت میں ڈانٹا جا رہا ہے کہ دراصل انہیں کوئی معذوری نہ تھی اگر کوئی انسان غنیمت اور قریب کا سفر ہوتا تو یہ ساتھ ہو لیتے لیکن شام تک کے لمبے سفر نے ان کے گھٹنے توڑ دیئے اور مشقت کے خیال نے ان کے ایمان کمزور کردیئے۔ اب یہ آ کر جھوٹی قسمیں کھا کھا کر اللہ کے رسول ﷺ کو دھوکہ دے رہے ہیں کہ اگر کوئی عذر نہ ہوتا تو بھلا ہم شرف ہم رکابی چھوڑنے والے تھے ؟ ہم تو جان و دل سے آپ کے قدموں میں حاضر ہوجاتے اللہ فرماتا ہے ان کے جھوٹ کا مجھے علم ہے انہوں نے تو اپنے آپ کو غارت کردیا۔